Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

نہ خوف اور نہ غم (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 676 - Mudassir Jamal Taunsavi - Na Khauf Na Gham

نہ خوف اور نہ غم

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 676)

قیامت کے دن بہت سے خوش نصیب ایسے ہوں گے جنہیں کوئی خوف اور کوئی غم نہ ہوگا، اور یہ بات بالکل یقینی ہے کیوں کہ قرآن کریم کی کئی آیات میں یہ حقیقت بیان کر دی گئی ہے، اور ظاہر سی بات ہے کہ قرآن کریم کا بیان سوفیصد سچ ہے ، اس کتاب کی شان ہی یہ ہے کہ: ’’باطل نہ تو اس کے سامنے سے آسکتا ہے اور نہ ہی پیچھے سے ، یہ کتاب تو سراپا حکمت اور سراپا تعریف ذات کی طرف سے نازل کردہ ہے۔‘‘

یہ خوش نصیب وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی کرتے ہیں۔ یہاں بات بڑھانے سے پہلے ایک واقعہ یاد آگیا۔

ایک جنگل میں دو میاں بیوی اکیلے رہتے تھے، ان کی چھوٹی سی جھونپڑی تھی اور اسی میں وہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ انہیں زندگی سے کوئی شکوہ نہیں تھا کیوں کہ انہیں روزمرہ کی ضروریات اور بھوک مٹانے کے لیے کھانے کا بندو بست حاصل ہوجاتا تھا، اورکسی کے سامنے سوال کی ذلت اُٹھانے کی نوبت نہیں آتی تھی۔

ایک دن رات کے وقت بارش برس رہی تھی اور یہ دونوں میاں بیوی اپنی جھونپڑی میں بیٹھے آگ سینک رہے تھے۔ اتنے میں انہیں باہر گھوڑوں کی آواز سنائی دی۔ بابا جی باہر نکلے تو دیکھا کہ دو آدمی ہیں اور الگ الگ گھوڑے پر سوار ہیں۔ انہوںنے باباجی سے کھانے کا پتہ کیا۔

 باباجی نے فوراً انہیں اندر بلایا اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ ہمارے مہمان ہیں ان کے لیے بکری ذبح کرو اور اسے پکا کر ان کے کھانے کا بندوبست کردو۔

مہمانوں نے اندازہ لگایا کہ ان کے پاس یہی ایک بکری ہے تو انہوں نے باباجی سے کہا کہ اسے مت ذبح کریں مگر باباجی نے انکار کردیا اور بیوی بھی فرماں بردار بن کر چلی گئی اور کچھ دیر بعد وہ بکری ذبح کرکے اور اسے کا گوشت بھون کر مہمانوں کی خدمت میں پیش کردیا۔ مہمانوں نے اس سخت سرد موسم وہ کھانا کھایا اور شب وہاں گزار کر صبح صبح ان کا شکراداء کرتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوگئے اور ساتھ یہ بھی کہہ گئے کہ جب کبھی شہر آنا ہو تو ہمارا کسی سے پوچھ لینا اور ہمیں ضرور مل لینا۔

کچھ وقت گزرا تو باباجی شہر گئے اور ان دونوں آدمیوں کا پتہ معلوم کیا تو وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک وہاں کا بادشاہ ہے اور ایک اس کا وزیر۔ یہ سن کر وہ وہاں سے واپس چلا آیا یہ سوچ کر کہ مخلوق سے مدد کیوں مانگیں؟ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

چنانچہ جب گھر واپس پہنچا تو بیوی کو صورت حال بتادی ، بیوی بھی سعادت مند تھی وہ بہت خوش ہوئی کہ اچھا ہوا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد برقرار رکھا۔

اسی حالت میں مزید کچھ دن گزرے تو ایک رات سخت آندھی چلی ، جس سے ان کا خیمہ اکھڑ گیا، اور سب سامان بکھر گیا۔ دونوں میاں بیوی نے مشکل سے پہلے اپنا سامان سنبھالا اور پھر وہ دیہاتی شخص اپنے خیمے کو مضبوط گاڑنے کے لیے زمین میں ایک جگہ کھدائی کرنے لگا۔ کھدائی کرتے کرتے اچانک وہاں انہیں ایک بڑا خزانہ مل گیا، جو سونے اور چاندی سے بھرا ہوا تھا، یہ سب دیکھ کر وہ شخص اور اس کی بیوی اور بچے سب بہت خوش ہوئے۔

صبح ہوئی تو انہوں نے وہ خزانہ بیچ کر اس سے حاصل ہونے والے رقم سے شہری آبادی کے قریب زمین خریدی اور وہاں بڑا سا محل بنوایا۔ جب بادشاہ کو پتہ چلا کہ اس اس طرح کوئی شخص بڑا محل بنوا رہا ہے تواس نے اپنا ایک کارندہ بھیجا کہ جاوپتہ کروکہ یہ محل کون تعمیر کرارہا ہے ؟

کارندہ واپس آیا اور بادشاہ کو بتایا کہ اس اس طرح کا ایک دیہاتی ہے جو پہلے جنگل میں رہتا تھا اور اب وہی یہ محل تعمیرکرارہا ہے۔ بادشاہ اور اس کا وزیر وہ محل دیکھنے اور اس دیہاتی کو ملنے وہاں گئے تو جب دیہاتی نے انہیں دیکھا تو پہچان لیا اور ان کی ملاقات سے بہت خوش ہوا۔

بادشاہ نے پوچھا: تم نے ہمارے پاس کوئی چکر ہی نہیں لگایا؟

دیہاتی نے بتایا کہ: میں آیا تھا مگر میں یہ نہیں جانتا تھا کہ آپ بادشاہ ہیں، لیکن پھر بھی میں نے مناسب نہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر مخلوق پر بھروسہ کروں۔ چنانچہ جب میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا تو اس نے مجھے اپنے فضل سے خوب غنی بنادیا۔

جب بادشاہ نے یہ قصہ سنا تو بہت خوش ہوا، اس دیہاتی کو اپنے مقربین میں شامل کرلیا اور کہا کہ مجھے بھی آج ایسا سبق حاصل ہوا ہے جسے میں کبھی بھی بھلا نہیں سکوں گا۔

٭…٭…٭

بات ہو رہی تھی ان کی جنہیں آخرت میں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی غم۔ قرآن کریم کی آیات سے پتہ چلتا کہ جنہیں یہ سعادت حاصل ہوگی ان کی صفات درج ذیل ہیں:

اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی کرنا

اللہ تعالیٰ پر، آخرت کے دن پر ایمان رکھنا

نیک اعمال کرنا

ایمان کے ساتھ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری میں جھکا دینا

اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنا اور پھر اس نہ تو احسان جتلانا اور نہ ہی مال دینے کی وجہ سے کسی کو ستانا

اللہ تعالیٰ کی راہ میں شب و روز ، علانیہ بھی اور ظاہراً بھی خوب مال خرچ کرنا

نمازقائم رکھنا اور زکوۃ ادا کرتے رہنا

اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہادت پانا

تقویٰ اختیار کرنا اور اپنی حالت سدھارتے رہنا

ایمان لانا اور پھر اُس پر ثابت قدم رہنا

یہ تمام باتیں وہ ہیں جو مختلف قرآنی آیات میں بیان ہوئی ہیں، اوران کے ساتھ صراحت کی گئی ہے کہ ان صفات والوں پر قیامت کے دن کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی کوئی غم ہوگا، حالانکہ قیامت کا دن بہت ہی ہولناک ہے، اس دن پر کی ہیبت سے بچے بھی بوڑھے جائیں، نوجوان اونٹنیاں اپنے حمل گرادیں، مائیں اپنے بچوں کو بھول جائیں، والدین اولاد سے اور بھائی بھائی سے اوپرا بن چکا ہوگا، ایسے میں اگر کسی کو ایسی حالت میسر ہو کہ وہ خوف اور غم سے آزاد ہو تو یقینا یہ بہت ہی قابل رشک ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online