Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ساہیوال سانحہ …افسوسناک واقعہ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 678 - Mudassir Jamal Taunsavi - Sahiwal Saneha

ساہیوال سانحہ …افسوسناک واقعہ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 678)

اِسلام انصاف اور حق کا دین ہے اور ظلم سے ہر سطح پر منع کرتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں انسانی جان کو جس قدر تکریم اور عزت کا مقام حاصل ہے وہ شاید اور کسی بھی مذہب میں نہیں ہے۔ اسلام میں کسی انسانی جان کی قدر و قیمت اور حرمت کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے بغیر کسی وجہ کے ایک فرد کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیاہے۔ اﷲتعالیٰ نے تکریم انسانیت کے حوالے سے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا:

مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا.

جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔(المائدۃ، 5: 32)

اس آیت مبارکہ میں انسانی جان کی حرمت کا مطلقاً ذکر کیا گیا ہے جس میں عورت یا مرد، چھوٹے بڑے، امیر و غریب حتی کہ مسلم اور غیر مسلم کسی کی تخصیص نہیں کی گئی۔ مدعا یہ ہے کہ قرآن نے کسی بھی انسان کو بلاوجہ قتل کرنے کی نہ صرف سخت ممانعت فرمائی ہے بلکہ اسے پوری انسانیت کا قتل ٹھہرایا ہے۔

اور اسی کے تحفظ کے لیے قصاص کا قانون متعین کیا ہے تاکہ کوئی بھی کسی ناحق جان لینے سے پہلے سوبار سوچے اور اسے یہ احساس رہے کہ اگر اس نے ایسا کیا تو بدلے میں خود اسی کی جان لے لی جائے گی اور جب کسی کو اپنی جان کے جانے کا خوف ہوگا تو پھر وہ کسی اور کی جان لینے سے بہرحال گریز کرے گا۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مومن کی حرمت و عظمت مقام کو کعبے کی حرمت سے زیادہ محترم قرار دیا ہے۔ امام ابن ماجہ سے مروی حدیثِ مبارک کے الفاظ اور ترجمہ ملاحظہ ہو:

عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَطُوفُ بِالْکَعْبَۃِ، وَیَقُولُ: مَا أَطْیَبَکِ وَأَطْیَبَ رِیحَکِ، مَا أَعْظَمَکِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَکِ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، لَحُرْمَۃُ الْمُوْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اﷲِ حُرْمَۃً مِنْکِ مَالِہِ وَدَمِہِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِہِ إِلَّا خَیْرًا.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲعنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔(ابن ماجہ)

سانحہ ساہیوال اس ملک کا ایک اور بڑا سانحہ ہے۔ دن دہاڑے بڑی بے دردی سے چار معصوموں کو قتل کر دیا گیا۔ دو خاندان اجڑ گئے اور افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک حکومت کے لہجے میں سردمہری باقی ہے۔ یہ ظلم و بربریت کی داستان نئی نہیں ہے بلکہ ا س سے پہلے بھی جامعہ حفصہ اور ماڈل ٹاؤن میں بھی یوں ہی قتل وغارت برپا کی گئی تھی ۔ انکوائری ہوئی، کمیشن بیٹھے مگر کوئی کسی منطقی انجام کو نہ پہنچا۔ کسی اہلکار کو سزا نہ ہوئی اور یوں یہ سلسلہ نہ جانے کب تک چلے گا۔ سانحہ ساہیوال بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اللہ کرے کہ اس میں قاتلوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے ، اللہ کرے کہ ان بچوں کو انصاف ملے جن کے والدین کو انہی کی آنکھوں کے سامنے درجنوں گولیو ں سے بھون ڈالا گیا۔

موجودہ دور اہل ایمان کے لیے آزمائشوں، ابتلاآت اور امتحانات کا دور ہے۔ ہر طلوع ہونے والی صبح اپنے ساتھ نئے نئے فتنے لے کر آتی ہے اور ہر رات اپنے پیچھے لاتعداد فتنوں کے اثرات و نقوش چھوڑ جاتی ہے۔ یہ پر آشوب ماحول اور پر فتن ساعتیں صاحبان ایمان کے لیے کچھ نامانوس اور اوپری ہر گز نہیں، کیوں کہ آج سے چودہ سو برس پیش تر ہی ہمارے پیارے نبی، جناب نبی کریم، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو ان باتوں کی خبر دے دی تھی ۔ حضرات علمائے کرام فرماتے ہیں کہ قرب قیامت کی چھوٹی چھوٹی علامات پوری ہوچکی ہیں۔ اب صرف بڑی نشانیاں باقی ہیں۔

احادیث مبارکہ میں جناب نبی کریم، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانے کی جو متعدد نشانیاں بتائی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ قتل و قتال بہت عام ہوجائے گا۔ آج ہم کھلی آنکھوں اس امر کا مشاہدہ کررہے ہیں کہ معاشرے سے امن و امان عنقا ہے۔ کسی کی جان، مال، عزت اور آبرو محفوظ نہیں۔ہر شخص غیر محفوظ ہے۔امیر ہو یا غریب، افسر ہو یا نوکر،خواص ہوں یا عوام، حد یہ کہ عالم ہو یا عامی، کسی کو جان کی امان حاصل نہیں ہے۔ ہر طرف عدم تحفظ کی فضا عام ہے۔ ہر کوئی اس خوف کاشکار ہے کہ کوئی اندھی گولی اس کی زندگی کا چراغ گل نہ کردے۔ انسانی جان پانی سے زیادہ سستی ہوچکی ہے۔ ذاتی و نفسانی مفادات کے لیے دوسرے انسان کی جان لے لینا سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا۔ حالاں کہ قرآن و حدیث کا سرسری مطالعہ بھی کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک انسان کی جان بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور جو اس معاملے میں اللہ کی بتائی گئی حد کو پامال کرتا ہے، اس کے لیے عنداللہ ذلت و رسوائی کا طوق تیار ہے۔

ذیل میں اسی حوالے سے قرآن مجید کی چند آیات اور احادیث مبارکہ سپرد قرطاس کی جارہی ہیں، تاکہ اس گناہ کی قباحت و شناعت سے واقفیت حاصل کی جاسکے اور کتاب و سنت کے آئینے میں انسانی جان کی حرمت و عزت کو سمجھا جاسکے۔

قرآن مجید میں اللہ رب العالمین ارشاد فرماتے ہیں:

وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن یَقْتُلَ مُؤْمِناً إِلاَّ خَطأً (نساء  ۹۵)

ترجمہ: کسی مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرے الّا یہ کہ غلطی سے ایسا ہوجائے۔

جو شخص کسی مسلمان کو ناحق قتل کرے۔ اس کی سزا کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:  اورجو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا اور اللہ نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (سورۃ النساء ۹۳)

جب کہ سورۃ الانعام میں ارشاد ربانی ہے: (ان سے) کہو کہ: آؤ! میں تمہیں پڑھ کر سناؤں کہ تمہارے پروردگار نے (درحقیقت) تم پر کون سی باتیں حرام کی ہیں۔ وہ یہ ہیں: اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیں گے اور ان کو بھی۔ اور بے حیائی کے کاموں کے پاس بھی نہ پھٹکو، چاہے وہ بے حیائی کھلی ہوئی ہو یا چھپی ہوئی اور جس جان کو اللہ نے حرمت عطا کی ہے اسے کسی برحق وجہ کے بغیر قتل نہ کرو، لوگو! یہ ہیں وہ باتیں جن کی اللہ نے تاکید کی ہے، تاکہ تمہیں کچھ سمجھ آئے۔ (آسان ترجمہ قرآن)

درج بالا آیات مبارکہ سے واضح ہوا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو قصداً و عمداً قتل نہیں کرسکتا اور جو کوئی کسی مسلمان کو ارادۃً قتل کرے تو اس کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ کسی بھی انسانی جان کو، جس کی حرمت دلائل شرعیہ سے ثابت ہو، ختم کرنا حرام ہے۔

٭ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں کہ اللہ کے ساتھ شرک کیا جائے۔ کسی انسان کو (ناحق) قتل کیا جائے اور والدین کی نافرمانی کی جائے اور جھوٹ بولا جائے۔ (بخاری)

٭حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہر معصیت وبرائی (کے مرتکب) کو اللہ تعالیٰ معاف فرمادیں گے، سوائے اس شخص کے جو حالت شرک و کفر میں مرا یا وہ مسلمان ،جو کسی دوسرے مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کردے۔ (ابو داؤد)

٭حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بروز محشر مقتول (اپنے قاتل) کو لے کر آئے گا، اس حالت میں کہ اس (قاتل) کی پیشانی اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہوں گے۔ اور مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا۔ وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! اس نے مجھے قتل کیا تھا۔ (یہ کہتا ہوا) اسے عرش کے پاس لاکھڑا کرے گا۔

٭حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پوری دنیا کا ختم ہوجانا اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک مسلمان کو ناحق قتل کرنے سے زیادہ حقیر ہے۔ (نسائی)

٭حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اسے قتل کرنا کفر ۔ (بخاری)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن بیت اللہ کو دیکھا اور اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا: اے کعبہ! تم بہت عظمت والے ہو اور تمہاری حرمت بھی بہت بڑی ہے۔ (لیکن) ایک مومن و مسلمان (کی جان) اللہ رب العالمین کے ہاں تم سے زیادہ محترم و مکرم ہے۔ (نضرۃ النعیم)

ان احادیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کسی کو بلاجواز قتل کرنے والا پورے سماج اورمعاشرے پر ظلم وزیادتی کرتا ہے۔ وہ معاشرے کو انارکی کی طرف لے جاتا ہے۔اس حوالے سے ریاست کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنے چاہیے۔ دہشت گردی اور فرقہ واریت کے نام پر جو خوفناک قوانین ہیں انہیں بدلنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ آگ بہت دور تک پھیلے گی اور امن و امان کو نیست و نابود کر دے گی۔

اب وقت آچکا ہے کہ لازمی طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شرعی احکامات اور شرعی قوانین تک محددود کیا جائے تاکہ وہ اس انتہائی حد کو کراس نہ کر سکیں جس سے معصوم لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کو خطرات لاحق ہوں۔ ظلم کا خاتمہ تبھی ممکن ہوگا جب شرعی تعلیم عام کی جائے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے ورنہ مال ودولت اور تمغے و انعام کی حرص میں ایسے سانحات نہیں روکے جاسکیں گے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor