یکجہتی ٔکشمیر (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 679 - Mudassir Jamal Taunsavi - Yak Jehti Kashmir

یکجہتی ٔکشمیر

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 679)

یکجہتی کامطلب ہے : ایک ہونا، ہم قدم ہونا، کندھے سے کندھا ملا کر رکھنا، ایک قوم ہونے کا ثبوت دینا، ایک نظریے پر متفق ہونے کااظہار کرنا۔

تو پھر ہم اہل کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیوں نہ کریں؟

کیا ہمارا اور اُن کا نظریہ ایک نہیں ہے؟

کیا وہ بھی لاالہ الا اللہ کی بنیاد پر ہمارے ساتھ ایک ہی رشتے میں منسلک نہیں ہیں؟

کیا وہ بھی ہندو مسلم دوقومی نظریے کے امین نہیں ہیں؟

کیا پاکستان بھی اسی دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم نہیں کیا گیا ؟

کیا اس پاکستان کے لیے لاکھوں شہداء نے جو قربانیاں دیں، وہ سب اسی ملِّی آزادی کی خاطر نہیں تھیں؟

کیا تمام اکابر تحریک پاکستان نے اسی ملی آزادی اوردوقومی نظریے کی بنیاد پر تحریک کو پروان نہیں چڑھایا تھا؟

کیاتحریک پاکستان کے اکابر اس نظریے سے دستبردار ہو کر اس آزادی کی منزل تک پہنچ سکتے تھے؟

کیا انہوںنے اسی نظریے کے تحت قوم مسلم کو یکجا نہیں کیا تھا؟

اگر یہ سب کچھ حقیقت ہے تو پھر کشمیر کو اس نظریے پر قائم ہونے کے باوجود کیوں کر اکیلا کیاجاسکتا ہے؟

کیا کشمیر سے دستبرداری ، دوسرے لفظوں میں نظریہ پاکستان سے دستبرداری کے مترادف نہیں ہے؟

کیا سیاسی، اور قانونی بنیادوںپر بھی کشمیر کو متنازع خطہ تسلیم نہیں کیا گیا؟

اگر اسے متنازع خطہ تسلیم کیاگیا ہے اور خود کشمیری بھی ہندوستان کے ماتحت رہنے پر کسی صورت راضی نہیں ہیں توپھر ان کی ہر ممکن مدد کرنا ہمارا فرض نہیں ہے؟

جی ہاں! بالکل فرض ہے، اور اہم ترین فرائض میں سے ہے

 جان قربان کرنے والے جانباز اس مشن میں کتنے سچے ثابت ہوئے ہیں کہ انہوں نے جان کی بازی لگا کر اس تحریک کو پروان چڑھایا ہے اورقدم قدم پر بھارتی فوج اور ان گائے کے پجاریوں کی ناک کو خاک آلودکیا، اور اُن کے عزائم کو مٹی میں ملایا

بھارت نے ہر حربہ آزما لیا

اس نے جیلیں بھر دیں

ٹارچر سیلوں کی دیواریں خون سے رنگین کرڈالیں

نوجوان کشمیریوں کو اُن اپاہج بنانے کی ہر مہم اپنائی

سفید باریش بوڑھوں پر لاٹھی چارج کرکے انہیں لہولہان کیا

اسلحے کے زور پر درندگی کی انتہاء کرتے ہوے باعزت ماؤں کو سڑکوں پر گھسیٹ کر بے آبروکیا گیا

باپردہ مسلمان بہنوں کے ساتھ بے حیائی والے سلوک روارکھے گئے

بچوں کو اُن کی ماؤں کے سامنے قتل کیا گیا

ان مظلوم کشمیریوں کے گھر اُن کی آنکھوں کے سامنے بارود سے اُڑائے جاتے ہیں

ان کی کھیتیوں کو جان بوجھ کر روندا اور برباد کیا جاتا ہے

ان کے حریت قائدین کو ہر وقت کسی نہ کسی بہانے نظر بند رکھ کر بے دست وپا بنایا جاتا ہے

آخر وہ یہ سب کچھ کیوں برداشت کرر ہے ہیں؟

جی ہاں! اپنی حریت کے لیے، اپنی عزت و ناموس کے لیے

اپنی غیرت وایمان کے تحفظ و بقاء کے لیے

……

بتائیے کیا آپ اپنے گھر کو حفاظت کے لیے تالے نہیں لگاتے ہیں؟

کیا آپ اپنی د کان کی حفاظت کابندوبست نہیں کرتے؟

کیا آپ کی گاڑی چوری ہوجائے تو آپ قانونی چارہ جوئی کے علاوہ بھی ہر ممکن چارہ جوئی نہیں کرتے؟

کیاآپ اپنے کسی نقصان پر سامنے والے سے لڑنے بھڑنے والے نہیں بنتے؟

کیا آپ کسی مشکل میں پھنسنے کے وقت اپنے تعلق داروں سے ممکنہ تعاون اور ہمدردی کی امید نہیں رکھتے؟

یقینا ان سب سوالوں کے جواب ’’ہاں‘‘ میں ہوں گے تو پھر اہل کشمیر کو ان کے ان حقوق پر قائم رہنے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟

اہل کشمیر کو اپنے دینی و ایمانی اور اخلاقی و سیاسی اور زمینی حقوق کے تحفظ و سلامتی کے لیے ہر ممکن کوشش بروئے کار لانے پر مطعون کرنا کیوں کر درست ہوگا؟

وہ اگر ایمانی اخوت کے ناطے کسی سے تعاون کی امید رکھتے ہیں اور پھر کچھ اہل ایمان ان کے تعاون کے لیے کمربستہ بھی ہوجاتے ہیں تو انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنا کر کس کو خوش کیا جاتا ہے؟

آپ کا ہر وہ بول جس سے اہل کشمیر اوران کے معاونین کی حوصلہ شکنی ہوتی ہو تو خود سوچیے کہ پھر اس سے جس فریق کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے وہ کون ہے؟ تو کیا آپ اس پر راضی ہیں کہ آپ مشرکین کی حوصلہ افزائی کرنے والے بنیں؟

پانچ فروری یوم یکجہتیٔ کشمیر اسی حوصلہ افزائی کے لیے اور اس کے اظہار کے طور پر منایاجاتا ہے۔ اس تحریک میں عملاً شریک قافلے بھی اس دن بھرپور یکجہتی کا اظہار کرنے والے ہیں، آپ کے قریب جہاں بھی یہ موجود ہوں اور آپ تک ان کی دعوت پہنچے توآپ ضرور ان کے کارواں میں شریک ہوں۔ جانباز تو ہر لمحہ اس تحریک میں کردار اداء کررہے ہیں مگر ہمارے لیے ایسے مواقع غنیمت ہوتے ہیں اور یہ مواقع بار بار بھی نہیں ملتے۔

٭…٭…٭