Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ہدایت کے چراغ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 683 - Mudassir Jamal Taunsavi - Hidayat k Chiragh

ہدایت کے چراغ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 683)

اس امت کو اللہ تعالیٰ نے جن جلیل القدر عظیم شخصیات سے نوازا ہے اور جن کا وجود اس امت کے لیے باعث خیر بھی بنا اور باعث فخر بھی ، اُن میں سے ایک جلیل القدر تابعی حضرت سیدنا حسن بصریؒ ہیں۔ نبی کریمﷺ کے اس فرمان میں شامل ہیں:

’’بہترین زمانہ، میرا زمانہ ہے، پھر وہ زمانہ جو اس کے بعد ہوگا اور پھر وہ جواس کے بعد ہوگا‘‘

اس میں ایک زمانہ ’’تابعین‘‘ کا زمانہ ہے اور یہ بہت بڑی بات ہے کہ اس کے بہترین ہونے کی پیشین گوئی خود نبی کریمﷺ فرماچکے تھے۔

سیدنا حسن بصریؒ کے والد محترم کا نام ابو الحسن یسار تھا، جو کہ جلیل القدر صحابی حضرت زید بن ثابت انصاری کے غلام تھے، جب کہ آپ کی والدہ محترمہ ، ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں، اور جب کبھی بھی حضرت ام سلمہؓ ان کی والدہ کو باہر کسی کام پر بھیجتیں تو خود ان کے بیٹے حسن کو سنبھال لیتیں، اور انہیں اپنا مبارک دودھ پلا کر بہلاتیں، اس طرح گویا کہ بچپن سے ہی آپ کو امت کی ماں، حضرت ام سلمہ کی تربیتی آغوش میسر آگئی اور گھرانۂ نبوت کی برکات نے اس وقت انہیں سیراب کرنا شروع کردیا جب کہ شعور کی زندگی بھی شروع نہ ہوئی تھی، اور اس طرح اس وقت سعادت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا جب کہ وہ خود بھی سعادت کو جانتے نہ ہوں گے۔ بقول شاعر:

اتانی ھواھا قبل ان اعرف الھوی

فصادف قلبی خالیا فتمکنا

’’اُن کی محبت و الفت اس وقت میرے پاس آئی جب کہ میں محبت و الفت کو جانتا بھی نہ تھا، لیکن جب اس نے میرے دل کو خالی پایا تو اس میں ٹھکانہ بنالیا‘‘

اسی لیے علمائے امت کہتے ہیں کہ سیدنا حسن بصریؒ سے جو علم و حکمت کے چشمے جاری ہوئے اس کا ایک بڑا سبب یہی مبارک دودھ تھا جو انہوں نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہؓ سے پیا تھا۔

پھرمعاملہ صرف حضرت ام سلمہؓ کا نہ تھا بلکہ اس برکت سے تمام ہی ازواج مطہرات کے گھر ان کی آمد و رفت اور کھیل کودجاری رہتا، خود کہتے ہیں کہ: حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں، میں ازواج مطہرات کے گھروں میں جاتا رہتا تھااور (کھیل کے طور پر) اُن کے گھروں کی چھت کو ہاتھ لگانے کی کوشش کیا کرتا تھا۔

آپ کی والدہ محترمہ آپ کی تربیت کے لیے آپ کو بعض کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس لے جاتیں اور ان سے ان کے حق میں دعاء کراتیں۔ چنانچہ جب انہیں حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاتیں تو وہ انہیں یہ دعاء دیا کرتے تھے:

’’اے اللہ! اس بچے کو دین کا فقیہ بنا، اور لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا فرما‘‘(البدایہ والنہایہ)

جس وقت حضرت سیدنا عثمان کی شہادت ہوئی توان کی عمر چودہ سال تھی۔ اس عمر میں کبار صحابہ کرام اور ازواج مطہرات کے ماحول میں رہتے ہوئے انہوں نے ان حضرات کی صحبت سے دین کا کتنا علم حاصل کیا ہوگا، ان کی صحبت سے کیسے آداب سیکھے ہوں گے اور ازواج مطہرات کے گھر میں آمد و رفت کی وجہ سے نبی کریمﷺ کے مبارک آثار کو بچشم خود دیکھا ہوگا ، یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں، اور یہی وہ سعادتیں تھیں جس نے انہیں اپنے ہم عصر تابعین میں ایک ممتاز ترین مقام عطاء کردیا تھا۔

عبادت کا شوق اس قدرتھا کہ رات کا اکثر حصہ نماز میں گزار تے، اوردن کے اوقات کو روزہ میں گزارنے کے عادی تھے چنانچہ ہر ہفتے میں سوموار اور جمعرات ، ہر مہینے میں ایام بیض اوراشہر حرم کے روزے رکھنے کا عام معمول تھا۔

جہاد کے لیے طویل ترین سفر کی صعوبت بھی برداشت کی۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: اے ابوسعید! کیا آپ نے کبھی جہاد میں حصہ لیا ہے؟ تو فرمایا: ہاں! حضرت عبدالرحمن بن سمرۃ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل کے جہاد میں شریک ہوا تھا۔

بلند پایہ فقیہ اور عبادت گزار صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ جہاد میں شرکت کا ایک سبب یہ تھا کہ وہ نڈر اور بہادر مسلمان تھے۔ چنانچہ ہشام بن حسان کہتے ہیں:کان الحسن اشجع اھل زمانہ (سیر الاعلام للذہبی) حضرت حسن بصری اپنے زمانہ کے بہادر ترین لوگوں میں سے تھے۔

جہاد کسی کے بھی خلاف ہومسلمان بڑے شوق اور رغبت سے اس میں شریک ہوتے ہیں مگر مشرکین کے خلاف جہاد ہو تو مسلمانوں کے جذبات کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ حضرت حسن بصریؒ کے ساتھ بھی تھا۔

جعفر بن سلیمان کہتے ہیں کہ: مہلب بن ابی صفرہ جب مشرکین کے خلاف لشکرکشی کرتے تو حضرت حسن بصریؒ ان کے لشکر میں ان گھڑ سواروں میں شامل ہوتے تھے جو سب سے آگے بڑھ کر ان مشرکین پر حملہ آور ہوتے تھے۔ (تاریخ یعقوب بن سفیان فسوی)

آپ کے علمی مقام و مرتبہ کا یہ عالَم تھا کہ ایک مرتبہ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا تو فرمایا: تم مولانا حسن کی صحبت اور مجلس کو لازم پکڑو، اوران سے مسائل پوچھا کرو۔ لوگوں نے کہا: حضرت! ہم آپ سے مسائل پوچھتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ تم حسن بصری سے پوچھو! حضرت انس بن مالکؓ نے فرمایا: بات یہ ہے کہ مسائل ہم نے بھی سنے اور انہوں نے بھی، مگر جس قدر انہوں نے یاد رکھے ہیں اُس قدر ہم نے یاد نہیں رکھے۔ (طبقات ابن سعد)

حضرت قتادہ بن دعامہ فرمایا کرتے تھے: حضرت حسن بصریؒ حلال و حرام کے مسائل جاننے میں سب سے بڑے عالم ہیں۔

رسول کریمﷺ سے محبت کا یہ عالَم تھا کہ جب بھی وہ حدیث سنتے یا بیان کرتے جس میں کھجور کے تنے کا نبی کریمﷺ کے فراق اور جدائی میں رونے کا ذکر ہے تو خود بھی روپڑتے اور لوگوں سے بھی کہتے: ارے اللہ کے بندو! یہ ایک کھجور کا تنا رسول اللہﷺ کا اتنا مشتاق ہے تو تم لوگوں کو چاہئے کہ تم رسول اللہﷺ سے ملاقات کے اس سے بھی زیادہ مشتاق بنو۔ (سیر الاعلام للذہبی)

جس وقت ان کے زمانے میں حجاج بن یوسف وغیرہ جیسے بادشاہوں کے متعلق مختلف مسلح تحریکات چلیں تو سیدنا حسن بصریؒ اُن سے الگ تھلگ رہے، اور جب کوئی ان سے اس بارے میں پوچھتا کہ کس کا ساتھ دیا جائے ؟ تو فرماتے : کسی کا ساتھ نہ دیا جائے، پھر جب کسی نے مزید تفتیش کے لیے صراحتاً پوچھا کہ امیر المومنین کابھی نہیں؟ تو فرمایا :ہاں اس کا بھی نہیں( کیوں کہ حضرت حسن بصریؒ اسے مسلمانوں کی باہمی جنگ اور فتنہ سمجھ رہے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ وہ مسلمانوں کے بیچ لگی اس آگ کو مزید دہکائیں)

اب ظاہر ہے کہ ظالم بادشاہ کے لیے ایسا بے ضرر موقف بھی ناقابل برداشت ہوتا ہے اس لیے حجاج بن یوسف نے کئی مرتبہ انہیں پکڑنے کی کوشش کی، مگر ہر مرتبہ ناکام ہوا۔ اسی عرصے میں دو سال تک حضرت حسن بصریؒ علی بن زید بن جدعان کے گھر میں روپوش رہے۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر)

آپ کے نصیحت بھرے اقوال بھی باکمال ہیں۔ چند اقوال ملاحظہ کیجیے:

 ’’جب تم کسی کو دنیا داری میں آگے بڑھتا اور مقابلہ کرتے دیکھو تو تم آخرت سدھارنے اور سنوارنے میں آگے بڑھنے کی کوششوں میں لگ جاؤ‘‘

’’جو شخص بھی دراہم و دینار کو عزت دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ خود اس کو ذلت میں ڈال دیتے ہیں‘‘

’’بندہ اس وقت تک خیر پر رہے گاجب تک اس کا ہر کام بھی اللہ کے لیے ہو اور ہر بول بھی اللہ کے لیے ہو‘‘

حضرت سیدنا حسن بصریؒ کی ایک جامع دعاء کا تحفہ بھی دیکھ لیجیے:

اَللّٰہُمَّ طَہِّرْ قُلُوْبَنَا مِنَ الشِّرْکِ وَ الْکِبَرِ وَ النِّفَاقِ وَ الرِّیَائِ وَ السُّمْعَۃَ وَ الرِّیْبَۃِ وَ الشَّکِّ فِی دِیْنِکَ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قُلُوْبَنَا عَلٰی دِیْنِکَ وَ اجْعَلْ دِیْنَنَا الإْسْلامَ الْقَیِّمَ (طبقات ابن سعد)

’’اے اللہ! ہمارے دلوں کو شرک سے، تکبر سے، نفاق سے، ریاء کاری سے، سناوے سے، آپ کے دین میں شک سے پاک فرمادیجیے۔ اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دل کو اپنے دین پر جمادیجئے اور سیدھے و مضبوط دینِ اسلام کو ہمارا دین بنادیجئے‘‘

حضرت سیدنا حسن بصریؒ کی زندگی کے یہ مبارک حالات اور ان کی زندگی کے یہ مبارک نقوش ہمارے لیے اور تمام اہل ایمان کے لیے ایک مشعل ہیں، ہدایت کا ایک چراغ ہیں، جس کی روشنی میں ہم اپنی زندگی کی مشکلات دور کرسکتے ہیں اور ان کی روشنی میں اپنے زمانے کے اہل علم اور اہل حق کو بھی پہچان سکتے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor