Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

گلشنِ سعدی کا نیا پھول (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 684 - Mudassir Jamal Taunsavi - Gulshan e Saadi ka Naya Phool

گلشنِ سعدی کا نیا پھول

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 684)

یہ گلشنِ سعدی کا نیا پھول ہے ،جس کی مہک حضرت سیدنا ابوایوب اَنصاری رضی اللہ عنہ کے مبارک اور مشکبو تذکرے سے شروع ہوتی ہے۔

یہ جہادی قلم سے نکلنے والے وہ مضامین ہیں جن میں اِخلاص کا نور بھی ہے اور سچائی کی رنگت بھی۔

یہ ایک صاحبِ دل کی آواز ہے جس میں ایمان سے لبریز شخصیات کا سبق آموز تذکرہ بھی ہے اور حوادث زمانہ میں دینی رہنمائی بھی۔

یہ امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر( حفظہ اللہ تعالیٰ من کل سوء و مکروہ)کی طرف سے امت کے لیے ایک نیا تحفہ ہے ،جس میں اُمید کا سامان بھی ہے اور استقامت کا پیغام بھی۔

اسی لیے اس کتاب کا نام بھی یہی ہے:

’’اُمید اور اِستقامت‘‘

یہ دونوں چیزیں جڑ جائیں ، اور کسی انسان کو یہ دونوں نعمتیں نصیب ہوجائیں تواس کی خوش بختی کے کیا کہنے!!

اُمید کیا ہے؟ اِیمان کی علامت… اسی لیے کہاگیا ہے: اللہ تعالیٰ کی رحمت سے وہی لوگ مایوس ہوتے ہیں جو کافر ہوں۔

اہل ایمان کو دیکھئے! حالات اتنے سخت ہوئے کہ کلیجے منہ کو آگئے ، زمین باوجود اس قدر کشادگی کے اُن پر تنگ ہوگئی، مگر وہ مایوس نہیں ہوئے، ان کی اللہ تعالیٰ سے امید اور حسن ظن قائم رہا۔ حضرت حسن بصریؒ فرماگئے: مومن اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھتا ہے اسی لیے وہ ہر حال میں خود کو نیکیوں میں لگائے رکھتا ہے اور منافق اللہ تعالیٰ سے بدگمان ہوتا ہے اسی لیے وہ گناہ کرتا چلا جاتا ہے۔

یہ اُمید ہی تو تھی کہ مشرکین غار کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں، اگر صرف اپنی نظریں نیچے کو پاؤں کی طرف جھکالیں تو اُن کا مطلوب اُن کے نظروں کے سامنے ہوجائے، مگر اس حالت میں بھی کہا جارہا ہے: لاتحزن ان اللہ معنا…غم مت کرو، یقین رکھو کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ یہ اُمید ہے، اُمید کا یقین ہے، یقین بھرے اُمید کی روشنی ہے، جو دشمن کے سر پر پہنچ جانے کے باوجود بھی اللہ سے غافل نہیں ہونے دیتا، اور امید کا رشتہ برقرار رہتا ہے۔

اور اِستقامت کیا ہے؟ ایمان کی دلیل… اسی لیے کہا گیا: جو لوگ اللہ کو اپنا رب کہہ کر اس پر ڈٹ جاتے ہیں، تو ان پر فرشتے اُترتے ہیں۔

ایک صحابی نے کہا مجھے کچھ وصیت کردیجئے: فرمایا گیا: کہہ دو کہ میرا رب اللہ ہے، پھر اسی پر قائم رہو۔

خود اللہ کے نبیﷺ سے کہا گیا: تم کہہ دو کہ میں اللہ پر ایمان لایا، اور پھر اس پر استقامت سے قائم رہو۔

حضرت طالوت کا تین سو تیرہ کا قلیل سا لشکر ہے، سامنے جالوت کا ہزاروں کا سرتاپا اسلحے سے لدا ہوا لشکر ہے، ایسے میں جن کے دِل میں امید کا چراغ روشن تھا تو مایوسی اُن کے قریب بھی نہیں پھٹکی ، اس لیے اللہ سے مانگا تو صبرمانگا: رَبَّنَا اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا… اے ہمارے رب! ہم پر صبر اُنڈیل دیجیے۔

 یعنی ہمارے سینوں کو صبر سے بھر دیجیے اور استقامت دے کر ہمارے قدموں کو جما دیجیے۔

٭…٭…٭

آپ جب اس کتاب کا پہلا مضمون دیکھیں گے تو آپ کے دل سے مایوسی کے تمام بادل چھٹ جائیں گے۔ مثال کے لیے یہ دیکھئے چند سطور :

’’اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت ہوحضرت سیدناابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ان کا اسم گرامی ہے خالد بن زید الخزرجی النجاری سلام اللہ علیہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ورضی اللہ عنہ وارضاہ

اللہ تعالیٰ ہماری آج کی اس مجلس اور اس کالم کو قبول فرما کر اس کا ثواب حضرت سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو عطاء فرمائیاور ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ ہم سب کو مرتے دم تک دین اسلام اور جہاد فی سبیل اللہ پر استقامت عطاء فرمائے۔‘‘

جن کے دل میں امید اور استقامت رچ بس جائے تو ان کی زندگی تو زندگی موت بھی عجیب سبق دے جاتی ہے۔ آج ایک طرف وہ ہیں جو زندگی میں بھی جہاد سے کتراتے ہیں اور دوسری طرف وہ خوش بخت تھے جن کا جنازہ بھی جہاد میں شریک رہا۔ دیکھئے اسی کتاب کے پہلے مضمون کی یہ عبارت:

 ’’تاریخ کے صفحات ایک اور منظر کی عکس بندی کر رہے ہیں مسلمانوں کا ایک لشکر رومیوں کے ساتھ جہاد کرنے جا رہا ہے لشکر میں گھوڑے، اونٹ اور مجاہدین تو ہوتے ہی تھے مگر آج ایک اور چیز بھی ہے جی ہاں!ایک جنازہ ہے، ہاں! ایک جنازہ بھی لشکر کے کندھوں پر ہے اور مجاہدین اسے نہایت احترام سے اُٹھا کر آگے بڑھ رہے ہیں یہاں تک کہ وہ قسطنطنیہ کی دیوار تک پہنچ گئے آگے دشمنوں کا لشکر اور اس کے مورچے تھے یہاں قبر کھودی گئی اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا دراصل وہ راستے ہی میں انتقال فرما چکے تھے مگر وصیت کر گئے تھے کہ میرے جنازے کو بھی جہاد میں ساتھ ساتھ لے جانا گویا کہ یوں فرمایا کہ میں نے حضرت آقا مدنیﷺ سے اسلام اور جہاد کی بیعت کی ہے میرا بڑھاپا مجھے جہاد سے نہیں روک سکا تو میں چاہتا ہوں کہ میری موت بھی مجھے جہاد سے نہ روک سکے پس جہاں تک لشکر جا سکتا ہو وہاں تک میرا جنازہ لے جایا جائے اور مجھے وہاں دفن کیا جائے استقامت کا یہ مینارجب قسطنطنیہ کی دیوار کے پاس نصب ہوا تو پورے تُرک خطے میں اسلام اور جہاد کی لہر دوڑ گئی لوگوں نے اس قبر سے نور اٹھتے دیکھا رومی وہاں جمع ہو کر بارش کے لئے دعاء کرتے تھے اور پھر یہ پورا خطہ اسلام میں داخل ہو گیا۔ سلام ہو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ پربے شمار سلام سلام اللہ علیہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ رضی اللہ عنہ واَرضاہ‘‘

٭…٭…٭

امید کے ساتھ استقامت بھی ضروری ہے، عمل سے دور ہو کر ہاتھ باندھ کر بیٹھ جانا اور خالی امید باندھ لینا درست نہیں ہے ۔ اب استقامت کا درس کہاں سے لیں؟ سنئے اس کا جواب بھی اسی نئے تحفے میں موجود ہے:

’’غزوہ بدر نے ہمیں سکھایا کہ اگر تمہیں شاندار فتح مل جائے ،مال غنیمت کے انبار مل جائیں تب اس مال کے جھگڑے اور مصروفیت میں گم نہ ہو جاؤ بلکہ ایمان اور جہاد پر لگے رہو، ڈٹے رہو۔

غزوہ احد نے ہمیں سکھایا کہ اگر تمہیں ظاہری شکست پہنچے اور تم غموں اور زخموں سے چور چور ہو جاو تب مایوسی اور کمزوری میں نہ ڈوب جاو بلکہ ایمان اور جہاد پر لگے رہو، ڈٹے رہو۔

غزوہ احزاب نے ہمیں سکھایا کہاگر ساری کفریہ طاقتیں اور منافقین متحد ہو کر تم پر اندر اور باہر سے حملہ آور ہو جائیں توخوف ، بزدلی اور پستی میں نہ گرو بلکہ ایمان اور جہاد پر لگے رہو ، ڈٹے رہو۔

 غزوہ حدیبیہ نے ہمیں سکھایا کہ جب تمہارے منصوبے اُلٹ جائیں اور حالات تمہاری سمجھ سے بالاتر ہو جائیں تو شک، تردداور بے یقینی میں نہ لڑھک جاؤ بلکہ ایمان اور جہاد پر لگے رہو، ڈٹے رہو۔

 اور غزوہ تبوک نے ہمیں سکھایا کہ سفر جتنا لمبا ہو،منزل جتنی دور ہو، نقصانات جتنے زیادہ ہوں تو تھکاوٹ، اُکتاہٹ اور بے چینی میں نہ پھنسو بلکہ ایمان اور جہاد پر لگے رہو، ڈٹے رہو۔

یا اللہ! ہم سب کو ایمان اور جہاد پرا ستقامت عطاء فرما

’’یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلیٰ دِیْنِکَ‘‘

اور اسی کے ساتھ استقامت کے لیے یہ سب سے بہترین نسخہ بھی دیکھ لیں، جو اسی تحفے میں درج کیا گیا ہے:

’’ کلمہ طیبہ استقامت کا سب سے بڑا نسخہ ہے یہ عجیب نکتہ ہے کہ کلمے پر استقامت ، کلمے کے ذریعے نصیب ہوتی ہے کلمہ طیبہ قول ثابت ہے یہ دلوں کو مضبوط کرنے اور قدموں کو جمانے والا وظیفہ ہے یہ کلمہ انسان کے دل کوعرش سے جوڑتا ہے اور عرش کے فیض کو دل تک پہنچاتا ہے الحمد للہ جماعت میں جب سے کلمہ طیبہ کی دعوت اور مہم ایک خاص انداز سے جاری ہوئی ہے ترقی اور استقامت کے عجیب عجیب حالات سامنے آ رہے ہیں الحمد للہ لاکھوں مسلمان اس دعوت کی برکت سے کلمہ طیبہ کاکثرت سے ورد کرنے والے بن گئے ہیں وہ ایک دوسرے کو کلمہ طیبہ سناتے اور سمجھاتے ہیںاور کلمہ طیبہ کی برکت سیدین کے ہر کام میں ترقی اور استقامت پاتے ہیں کلمہ طیبہ ہی سب سے بڑی نعمت اور سب سے بنیادی اور ضروری نعمت ہیکلمہ طیبہ کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہے اور کلمہ طیبہ پر استقامت ہی ہر مسلمان کی سب سے بڑی فکر ہونی چاہیے کلمہ طیبہ پر یہ استقامت کلمہ طیبہ کے ذریعے مل سکتی ہے اس کلمہ کو یقین سے پڑھیں اس کو سمجھیں، اس میں غور کریں، اس کا کثرت سے وردکریں اس کلمہ کو محسوس کریںاس کی قوت اور نور کو محسوس کریںاس کلمہ کی دعوت دیں،

 اس کلمہ کو مشرق و مغرب تک پہنچائیں اس کلمہ کی بلندی کے لئے قتال کریںاس کلمہ کے تقاضوں کو پورا کریں اور اس کلمہ سے ہمیشہ کی پکی یاری لگائیں‘‘

اسی امید اور استقامت کا سبق لیے یہ نیا تحفہ آپ کی خدمت میں حاضر ہے، اسے حاصل کریں، خود مطالعہ کریں، دوستوں کو ہدیہ دیں، دین پر چلنے الے اس سے روشنی لیں، مایوسی کا شکار افراد اس سے رہنمائی لیں اور استقامت کے خواہش مند اسے مشعل راہ بنائیں۔ ناامیدی ختم کریں اور استقامت کے ساتھ گامزن رہیں ۔ یہی حسن خاتمہ کا بہترین راستہ ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor