Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

صبر، ثابت قدمی اور نصرت (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 689 - Mudassir Jamal Taunsavi - Sabar Sabit Qadmi aur Nusrat

صبر، ثابت قدمی اور نصرت

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 689)

ہمیں زندگی اللہ تعالیٰ نے دی ہے اور جب تک وہ ہم سے یہ زندگی لینے کا فیصلہ نہ کرے تو کون ہم سے اسے چھین سکتا ہے؟

ہمیں جسم و جان اللہ تعالیٰ نے دیے ہیں اور جب تک وہ ہم سے یہ لے لینے کا فیصلہ نہ کرے تو کون ہم سے اسے چھین سکتا ہے؟

ہمیں مال و متاع اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور جب تک وہ ہم سے یہ سب کچھ واپس لینے کا فیصلہ نہ کرے تو کون ہم سے اسے چھین سکتا ہے؟

ہمیں صحت و تندرستی ، آسائش و رہائش اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے ہیں تو جب تک وہ انہیں ہم سے لے لینے کا فیصلہ نہ کرے تو کوئی ہے جو اس کے مقابلے میں یہ چیزیں ہم سے چھین سکے؟

جب تک اللہ تعالیٰ کے ارادے کے مطابق ہم نے اس زمین کے اوپر وقت گزارنا ہے تو کون ہے جو ہمیں زمین کے نیچے دفن کرسکے؟

یہ ہمارا عقیدہ بھی ہے اور یہی سچی حقیقت بھی ہے کہ:

و ما بکم من نعمۃ فمن اللّٰہ

تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے تو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے!

پھر اُس کے ماسوا کسی اور سے کیا گھبرانا؟

اُس کے ماسوا جو بھی ہے وہ بے بس ہے، عاجز ہے، محتاج ہے، اور اگر ایمان و دین سے محروم ہوتو ملعون اور مذموم بھی ہے۔

اگر آپ کے پاس ایمان کی دولت ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ ہے تو پھر کسی اور میں کیا ہمت ہوسکتی ہے کہ وہ آپ سے یہ نعمت چھین لے؟

جہاد فرض ہونے کے بعد خاص طور پر مسلمانوں پر سخت ترین آزمائش آتی تھیں اور یہ کوئی نئی آزمائشیں بھی نہ تھیں بلکہ اہل ایمان کے لیے اول دن سے آزمائش اور سختیوں کا جودو رشروع ہواتھا، اسی کا ایک تسلسل تھااگرچہ مدینہ منورہ کی شکل میں ایک پُرامن ٹھکانہ مل جانے کی صورت میں بعض آزمائشوں کا سلسلہ ختم ہوچکا تھا لیکن مختلف اوقات میں مختلف قبیلوں کے خلاف جہاد کی شکل میں آزمائش کا مرحلہ شروع ہوچکا تھا۔ آزمائش ایک دو مرتبہ کی ہوتو بہت سے لوگ برداشت کر ہی لیتے ہیں لیکن اگریہ آزمائش کا سلسلہ زندگی بھر قدم بقدم ساتھ چلے تو پھر صبر و استقامت اختیار کرنا بہت ہی مشکل ہوجاتا ہے، اسی لیے مدینہ منورہ کے کافی حد تک پُرسکون ماحول کے باوجود جب جہاد کی فرضیت کی آزمائش سامنے آئی تو کئی منافقین پھٹ پڑے اور ان کا نفاق اُبل کر سامنے آگیا، اور وہ (معاذ اللہ)خود نبی کریم(فداہ نفسی و مالی)ﷺ اور مسلمانوں کو ہی ان سختیوں کا ذمہ دار قرار دینے لگے، تب قرآن کریم نازل ہو کر حقیقت بتلاتا ہے اور یہی حقیقت اہل ایمان کا عقیدہ ہوتی ہے:

قل کل من عند اللّٰہ،فمال ھؤلاء القوم لایفقھون حدیثا

آپ کہہ دیجیے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے، تو ان لوگوں کو کیا ہوگیا کہ کوئی بھی بات سمجھتے ہی نہیں ہیں!!

یعنی جب ہر انسان اچھی طرح سمجھتا ہے کہ دنیا میں میرا آنا میری مرضی کے مطابق نہیں ہے، اوریہ بات اس چیز کی کھلی اور روشن ترین دلیل ہے کہ انسان بذات خود ایک محتاج مخلوق ہے اور اس سے بالا کوئی اور ذات ہے جو کامل قدرت اور کامل اختیار والی ہے اور سب کچھ اسی کی قدرت کے تحت اور اسی کے اختیار کا پابند ہے تو لامحالہ انسان پر تنگی یا آسائش کی جو بھی حالت آتی ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ارادے ، اختیار اور اجازت سے ہوتی ہے، اس کے ارادے، اس کے اختیار اور اس کی اجازت کے بغیر تو کئی پتہ بھی نہیں ہِل سکتا، پھر بھلااُس کے اِرادے، اُس کے اختیار اور اُس کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کی جان کیوں کر لے سکتا ہے؟

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اخلاص کی برکت سے ان کے دل و دماغ میں چونکہ یہ عقیدہ اور یہ حقیقت راسخ اور مضبوط ہوچکی تھی، اس لیے وہ ایسے مواقع پر کسی کو طعنے دینے کے بجائے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے تھے، اور ان کی زبان ان کے دل کی ترجمان بن کر یہ کہتی تھی:

حسبنا اللّٰہ و نعم الوکیل

’’ہمیں تو اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے، اور وہی بہترین کارساز ہے‘‘

جو یہ سمجھتا ہے کہ حالات موافق ہوں تو پھر ہم اپنے نصب العین کو پاسکتے ہیں اور حالات مخالف ہوں تو پھر اپنا نصب العین حاصل نہیں ہوسکتا، یہ غلط سوچ ہے، یہ سوچ ایمان اور یقین سے لگا نہیں کھاتی،یہ توکل اور ایمان و توحید کے مناسب سوچ نہیں ہے، کیوں کہ اس سوچ میں حالات کے اُتار چڑھاؤ کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ماتحت دیکھنے کے بجائے انسانوں کی قدرت و اختیار کے ماتحت دیکھا جارہا ہے، حالانکہ قرآن کریم بار بار سمجھاتا ہے:

ان اللّٰہ علی کل شیء قدیر

’’یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے‘‘

سیدنا طالوت علیہ السلام کے لشکر نے جب اپنے سے کئی گنا بڑا لشکر دیکھا تو کیا مانگا؟

’’اے ہمارے رب! ہم پر صبر اُنڈیل دیجیے، اور ہمارے قدم جمادیجیے، اور کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرمادیجیے‘‘

غور کرنے کی بات ہے کہ انہوں نے یہ نہیں مانگا کہ:

اے اللہ! ہماری تعداد بڑھا دے

اے اللہ! ہمارے وسائل بڑھادے

اے اللہ! ہمیں اس جنگ سے بچالے

اے اللہ! صلح و صفائی کا کوئی راستہ دیدے

بلکہ : صبر، ثابت قدمی اور کافروں پر نصرت اور غلبہ کی دعاء مانگی

معلوم یہ ہوا کہ اس موقع پر ایمان والوں کا شیوہ یہی ہوتا ہے کہ وہ صبر، ثابت قدمی اور کافروں پر غلبہ مانگتے ہیں۔

صبر کسے کہتے ہیں؟ تو یاد ریکھیے کہ یہاں صبر سے مراد دل کی مضبوطی اور دل کی ہمت ہے، کیوں کہ اگر دِل ہی مضبوط اور باہمت نہ ہو تو انسان کے پاؤں اگر مضبوط زنجیر سے بھی باندھ کر میدان میں کھڑا کردیاجائے تو وہ دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکے گا، اس لیے انہوں نے سب سے پہلی چیز صبر مانگا، دل کی مضبوطی اور دل کی ہمت مانگی، اگر دل ہی کانپنے لگے تو چاہے ایٹم بم براہ راست کسی کے ہاتھ میں ہی کیوں نہ ہو وہ اس سے نہ تو اپنا کوئی بچاؤ کر پائے گااور نہ ہی دشمن کا کوئی نقصان۔

پھر دوسری چیز ثابت قدمی مانگی، کیوں کہ جب دل مضبوط ہوجائے تو پاؤں بھی میدان میں جم جاتے ہیں، ذہن بھی پُرسکون ہوجاتا ہے، اور پھر ایسا ہی پُرسکون دماغ اور ہمت و مضبوطی والا دِل میدان جہاد میں بھاگنے کا نہیں سوچتا بلکہ دشمن پر نت نئے طریقوں سے وار کرنے کی تدبیریں سوچتا ہے، اور اسی سبب سے وہ کافروں کے مقابلے میں تعداد کی قلت کے باوجود اُن پر کامیاب ترین وار کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور یہ چیز دشمن کی بڑی سے بڑی طاقت کو بھی کمزور بنادیتی ہے۔

تیسری چیز کافروں پر غلبہ اورن کے مقابلے میں نصرت مانگی گئی، معلوم ہوا کہ کافروں پر غلبہ پانا مطلوب ہے، تبھی تو دعاء مانگی گئی، اور یہ غلبہ پانا محمود بھی ہے تبھی تو وقت کے نبی اور وقت کے اولیاء نے یہ دعاء مانگی، اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں اہل ایمان کا کافروں پر غلبہ محمود نہ ہوتا تو وہ نبی اور وقت کے اولیاء اللہ تعالیٰ سے یہ چیز نہ مانگتے۔

کاش کہ کافروں کے سامنے صبح و شام صفائی دینے کی فکر رکھنے والے مسلمان اس قرآنی واقعے اور قرآنی دعاء سے سبق لیں اور دیکھیں کہ ایسے مواقع پر کیا مانگا جاتاہے؟ اور کون سا راستہ اختیار کیا جاتا ہے؟ ظاہر ہے کہ جب دعاء صبر و ثابت قدمی اور کافروں پر غلبے کی مانگنی ہے تو پھر اسباب بھی اسی کے بنانے ہوں گے اور راستہ بھی اسی منزل تک پہنچانے والا چننا ہوگا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor