Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اچھا گُمان (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 693 - Mudassir Jamal Taunsavi - Maarif e Namaz

اچھا گُمان

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 693)

اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے ساتھ اچھا گمان رکھنے کا حکم دیا ہے، اور حق بھی یہی ہے کہ جو ذات ’’رب العالمین‘‘ہو، ’’ارحم الراحمین‘‘ ہو اُس کے ساتھ بھی اگر اچھا گمان نہیں رکھا جائے گا تواور کس کے ساتھ اچھا گمان رکھا جائے گا؟؟اللہ تعالیٰ نے ہی ہمیں وجود کی نعمت دی، پھر اسی نے ہمیں ہمارے وجود کی تمام ضروریات بھی دیں، پھر اُسی کی دی ہوئی نعمتوں سے ہمارا وجود باقی ہے، اوراس کے ازلی علم و ارادے سے جس وقت ہمارے لیے زندگی مقدر تھی وہ ہمیں ملی اور اُسی کے ازلی علم و ارادے سے جس وقت ہمارے لیے موت مقدر ہوگی وہ آجائے گی، اسے نہ تو کوئی موخر کرکے ہماری عمر بڑھا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اُسے مقدم کرکے ہماری زندگی گھٹا سکتا ہے۔ وہ ہمارا کریم رب ہے۔ اب دیکھیے اس نے اپنے فضل سے ہمیں رمضان مبارک نصیب فرمادیا ، اس پر جتنا بھی شکر اداء کیا جائے کم ہے۔

ورنہ دُنیا میں کتنے کافر بھی موجود ہیں اور دنیا ان کی سطوت و شوکت سے کانپتی بھی ہے مگر ان کی یہ حالت کس قدر قابل رحم اور افسوس ناک ہے کہ رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہونے کے باوجود وہ اس سے محروم ہیں!!اور اِدھر آپ دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے خیر کے کتنے دروازے کھول رکھے ہیں!

آپ نماز پڑھیں، کیا کسی نے آپ سے یہ نعمت چھینی ؟ یا کوئی اس نعمت کو آپ سے چھین سکتا ہے؟

آپ اللہ تعالیٰ کا ذکرکریں، اُس کی یاد میں ڈوب جائیں، کیا کسی نے آپ سے یہ نعمت چھینی؟ یا کوئی اسے آپ سے چھین سکتا ہے؟

آپ کا دِل ’’اللہ، اللہ‘‘ کرتا رہے تو آپ کو کسی بات کا کیا غم؟ آپ جیل میں ہوں یا ریل میں، گھر میں ہوں یا بازار میں، تنہائی میں ہوں یا مجلس میں، خوشی میں ہوں یا غمی میں، سفر میں ہوں یا قیام کی حالت میں، اگر آپ نے خود اپنے دل کو اللہ کی یاد میں لگا رکھا ہے تو کون اسے چھین سکتا ہے؟ بلکہ یہ تو وہ نعمت ہوتی ہے کہ آپ کے دشمنوں کو اس کا پتہ بھی نہیں چل سکتا، اور جب آپ کے دشمنوں کو اس کا پتہ بھی نہیں چل سکتا تووہ اسے چھین کہاں سکیں گے؟

یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی نہیں تو اور کیا ہے ؟ کہ کافر آپ دشمن،مشرک آپ کے دشمن، شیطان آپ کا دشمن، منافق آپ کے دشمن، خواہش پرست نفس آپ کا دشمن مگر یہ سب مل کر رمضان کو نہیں روک سکے۔ اب اختیار کی باگ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

روزہ آپ نے خود رکھنا ہے

تروایح اور رات کا قیام آپ نے خود کرنا ہے

نمازوں کا اہتمام آپ نے خود کرنا ہے

نمازیں خشوع و خضوع سے آپ نے خود اداء کرنی ہیں

قرآن کریم کی تلاوت آپ نے خود کرنی ہے۔ اگر حافظ ہیں تو زبانی شروع رہیں، حافظ نہیں اور قرآن مجید تک رسائی موجود ہے تو قرآن کریم کھول کر تلاوت کر لیں اور اگر یہ بھی نہیں تو جتنی دو چار سورتیں یاد ہیں انہیں کو دھراتے رہیں، نفل نماز میں ایک ہی سورت کو بار بار جتنی مرتبہ چاہیں پڑھ سکتے ہیں، اس طرح وقت کا کافی حصہ تلاوت اور نماز دونوں میں مشغول ہوجائے گا، اور کئی نیکیوں کا ثواب یکجاہوجائے گا۔

نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اس ماہ میں کلمہ طیبہ: لا الہ الا اللہ اور استغفار کی کثرت کرو۔ اب آپ دیکھیے کہ آپ کی زبان سلامت ہے، آپ کا دل سلامت ہے، آپ کے ہوش سلامت ہیں تو آدھا گھنٹہ بیٹھ جائیے اور چار پانچ ہزار مرتبہ کلمہ طیبہ: لا الہ الا اللہ سے اپنے ظاہر و باطن کو منور کرتے رہیے۔ اسی طرح اتنا ہی وقت نکالیے اور استغفار سے اپنے صیحفۂ اعمال کو پاک کیجیے۔

اسی طرح نبی کریمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے پناہ مانگو۔ اب خود بتائیے کہ کیا ان دوباتوں سے ہمیں امریکہ روک سکتا ہے؟ کیااقوام متحدہ ان پر پابندی لگاسکتی ہے؟ آپ کہیں بھی کسی بھی وقت ہو چاہیں تو اپنی زبان ہلالیں اور چاہیں تویہ بھی نہ کریں بس دل ہی دل میں اللہ سے مانگنا شروع کردیںکہ یارب! مجھے جنت عطاکردیجئے اور مجھے جہنم سے بچالیجیے۔ بس یہ دعاء مانگتے رہیے، مانگتے رہیے، جب تک آپ خود نہ تھک جائیں تب تک کوئی دعاء کی یہ عظیم نعمت آپ سے نہیں چھین سکتا۔

الغرض کہ آپ اپنا بھرپور جائزہ لیں تو اپنے چہار جانب اللہ تعالیٰ کی بے پناہ نعمتیں موجود نظر آئیں گی، اور جب نعمتیں ہی نعمتیں ہیں تو پھر مایوسی کی کیا بات؟ فتنے سے بھرے اس زمانے میں ہمیں رمضان مل گیا اب بھی ہم اللہ تعالیٰ سے حسن ظن نہ رکھیں تو کیا کریں؟

پھر یہ بھی تو دیکھیں کہ ہمیں جو رمضان ملا ، اُس میں اللہ تعالیٰ نے کوئی کمی نہیں کی، اس کے فضائل میں کوئی کمی نہیں کی، اس رمضان کی جو اہمیت دوراول میں تھی وہی اہمیت آج بھی ہے، اس کیے جانے والے نیک اعمال کی جو فضیلت دورِاول میں تھی وہی آج ہے، اس کے گھنٹوں، ہفتوں اور دِنوں کی گنتی کا جو دورانیہ دورِ اول میں تھا، آج بھی وہی ہے۔ آج بھی دن چوبیس گھنٹے کا ہی ہے، ہفتہ سات دنوں کا ہی ہے، اور مہینہ انتیس یا تیس کا ہی ہوتا ہے۔

اندازہ لگائیے کہ رب تعالیٰ کی رحمت بھرپور برس رہی ہے، اگر کمی ہوتی ہے تو وہ ہماری طرف سے ہوتی ہے، اس لیے ہم اپنی کمی دور کریں، اور اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ اچھا گمان رکھیں، یہی ہر خوشی کا راز ہے، اور یہی کامیابی کا راز ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor