Bismillah

681

۹تا۱۵ جمادی الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۵تا۲۱ فروری۲۰۱۹ء

اظہار یکجہتی یا عملی یکجہتی (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 432 - Mudassir Jamal Taunsavi - Izhar-e-Yakjehti ya amli yakjehti

اظہار یکجہتی یا عملی یکجہتی؟

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 432)

تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، خواہ کوئی مشرق ومغرب کا رہنے والا ہو یا شمال وجنوب کا، کوئی مسلمانوں کے علاقے میں رہتا ہو یا کافروں کے علاقے میں، اس کے باوجود بہر حال سب مسلمان بھائی ہیں اور بھائیوں کے ساتھ اِظہارِ یکجہتی کرنا ایک شریف اور باکردار قوم کی پہچان ہے۔

 

اظہاریکجہتی کا مطلب ہے کہ:’’ ہم اپنی خوشیوں اور غموں میں ایک ساتھ شریک ہوں گے، آپ کی خوشی ہماری خوشی ہوگی اورآپ کا غم ہمارا غم ہوگا، جو مسائل درپیش ہوں گے ان سے ہم اکٹھے نمٹیں گے، دوستی اور دشمنی کے جو معیار ہوں گے وہ ایک طرح کے ہوں گے‘‘

ہم مسلمانانِ پاکستان گزشتہ تین دہائیوں سے 5فروری کے دن مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ اسی طرح کی یکجہتی کا اظہار کرنے کا دن ’’منا‘‘ رہے ہیں، ان تین دہائیوں میں شاید ہی کوئی ایسا موقع آیا ہو کہ اس ’’رسم‘‘ میں تعطل کی نوبت آئی ہو، حتیٰ کہ اس دن کو مزید موثر بنانے کے لیے سرکاری سطح پر تعطیل کا اعلان بھی کیا گیا، ہمدردی اور یکجہتی کے اظہار کے لیے یہ کاوشیں اپنی جگہ درست تھیں اوراگر انہیں اسی سمت مزید عمدہ اورموثر طریقے سے آگے بڑھایاجاتا تو کئی وجہ نہیں کہ آج ہم کشمیر پالیسی کے حوالے سے کئی اہم منازل طے کرچکے ہوتے مگر افسوس اس بات کا ہو ہے کہ ہمارا کشمیر کے ساتھ تعلق اتنی طویل مدت میں محض ایک دن کے اظہار یکجہتی سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ حالانکہ ’’اظہار یکجہتی‘‘ کرتے وقت ہمیں یہ بھی تو ضرور غور کرنا چاہئے تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہرآنے والے وقت میں کشمیر کی آزادی کا خواب پورا ہونے کے بجائے مزید طویل ہی ہوتا جارہا ہے؟

اُدھر بھارت نے نہایت ہوشیاری اورمکاری کے ساتھ اس معاملے میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے اور اب یہ بات واضح ہوچکی ہے دنیا پر بھارت کے موقف کی قوت ظاہر ہورہی ہے اور اندرونِ خانہ عالمی دنیا بھارت کے ساتھ ہوچکی ہے اور پاکستان اس معاملے میں کہیں دور تنہا ہوچکا ہے اور اہل کشمیر اُسی طرح بھارتی مظالم کی چکی میں پِس رہے ہیں۔ اس وقت جنہیں’’عالمی دنیا‘‘ اور ’’عالمی ادارے‘‘ کہا جاتا ہے وہ تو ویسے ہی دوغلے کردار کے مالک ہیں، ان کا کام عالم کفر کو نوازنا اور عالم اسلام کو نقصان سے دوچار کرنا ہے۔ اندازہ کرلیں کہ اس عالمی دنیا نے کس طرح چالاکی اور قوت سے انڈونیشیا کو توڑ کر مشرقی تیمور اور سوڈان کو توڑ کر جنوبی سوڈان بنا ڈالے کیونکہ ان ممالک میں معاملہ مسلمانوں کے ملکوں کو توڑنے اور عیسائی ریاستیں بنانے کا تھاجبکہ کشمیر کا معاملہ اس کے برعکس ہے اور اسی لیے یہاں کے مسلمان اب بھی اپنی آزادی کیلئے تڑپ رہے ہیں،اور کوئی بھی انہیں آزادی دینے اور دِلوانے کے لئے تیار نہیں۔ ان سب حالات میں کیا پاکستان کا کوئی قصور نہیں؟ یقینا اس پہلو کو اجاگر کرنا ہوگا اور کہاں کہاں پاکستان ارباب اختیار نے ٹھوکر کھائی ہے اس کی نشاندھی کرنا ہوگی اورپھر ان غلطیوں سے جان چھڑا کر درست راستے پر چلنا ہوگا تبھی اس حوالے سے ہمارے قدم آگے بڑھیں گے ورنہ تو یہ پسپائی کا سفر ہمیں کہیں کا بھی نہ رہنے دے گا۔ کشمیر کے معاملے میں پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم اور شرمناک موڑ اس وقت آیا جب ملک پر مسلط آمر وظالم پرویز مشرف نے امریکہ کی صلیبی جنگ میں صف اول کا اتحادی بننے کا فیصلہ کیا۔ اس فرنٹ لائن اتحادی بننے کے نتیجے میں ایک طرف تو ہمیں 100ارب ڈالر سے زائد کی معاشی تباہی کاسامنا ہوا تو دوسری جانب50ہزار سے زائد پاکستانی شہری، فورسز، اہلکار و افسران اور کئی بے گناہ جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے لیکن اس سب کے باوجود وہ آمرصاحب امریکہ سے یہ تک نہ منوا سکے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عالمی سطح پر ہمارے حق میں کوئی کردار ادا کرتا۔ اگر اس نے عالمی طاقتوں کے ہاتھوں استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ اپنے مسائل حل کروانے کی سعی کی ہوتی توبھی شاید آج صورتحال یہ نہ ہوتی مگر اب تو ہمارا سارا معاملہ ہی الٹا ہے۔ ایک طرف تو فرنٹ لائن اتحادی بن کر امریکہ کی وجہ سے اپنے ملک کو ہم نے خود تباہ کیا اور وہ ہمارے ہی خلاف بھارت میں جا کر اڈے بنا رہا ہے اور ہمیں گھیرنے میں مصروف ہے۔ امریکہ اوراس کے ساتھی ممالک کو ہم نے اپنا اتحادی باور کیا لیکن انہوں نے ہمیں کبھی اتحادی نہیں مانا اور وہ بھارت کے ساتھ جا کر پینگیں ڈالتے رہے۔ اس وقت امریکہ پاکستان کو چار اطراف سے زبردست طریقے سے گھیرنے کیلئے مصروف عمل ہے اور افغانستان کے بعد اب کشمیر سمیت بھارت کے کئی علاقوں پر پاکستانی سرحد سے قریب تر اڈے بنائے جائیں گے۔ یہ سب کچھ بھارت اپنی مجبوری اور مرضی دونوں کے ساتھ کر رہا ہے کیونکہ اس پر خوف سوار ہے کہ افغانستان میں امریکہ سمیت اس کے تمام اتحادیوں کو شکست دینے والے اب لامحالہ کشمیر کا رخ کریں گے جس کا وہ اعلان بھی کر چکے ہیں تو اسی کے تدارک و علاج کیلئے بھارت نے امریکہ کو اپنے ہاں باقاعدہ اڈے دینے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ امریکہ نے اس حوالے سے پاکستان سے اڈے لینے کی کوشش کی تھی لیکن جب اسے یہاں سے انکار ہوا تو وہ سیدھا بھارت جا پہنچا۔ ان سنگین حالات میں ضروری ہے کہ پاکستان اپنی امریکہ کے ساتھ حالیہ پالیسیوں پر نہ صرف نظرثانی کرے بلکہ فوراً ان غلط اور تباہ کن پالیسیوں سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرے، اب تک ہم نے بہت نقصان اٹھا لیا ہے اب وقت ہے کہ ہم اسے چھوڑ کر خود سے مخلص ہوجائیں۔

یہاں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ کشمیر کی تحریک کا یہ زوال اچانک اورخواہ مخواہ نہیں ہوا بلکہ دشمن کی عیاری اوراپنوں کی غداری سے ایسا ہوا ہے کیوں کہ اس تحریک پر ایک وقت وہ بھی آیاکہ کشمیری مجاہدین نے بھارتی فوج کو تگنی کا ناچ ناچنے پر مجبور کردیا تھا اور مجاہدین کے فدائی حملوں سے بھارت سخت بوکھلاہٹ کاشکارہوچکاتھا، بھارتی آرمی چیف سے لیکر سول حکمرانوں تک سبھی کی زبانوں سے یہ باتیں نکل رہی تھیں کہ فدائی حملوں کاہمارے پاس کوئی توڑ نہیں ہے، جوشخص جان ہتھیلی پررکھ کرمرنے کیلئے تیارہوجائے دنیا کی کوئی قوت اس کاراستہ نہیں روک سکتی۔ انڈین آرمی کے آفیسران کی بے بسی دیکھ کرعام بھارتی فوجی سخت خوفزدہ تھے اوربھارتی فوج میں خودکشیوں کارحجان پہلے سے کئی گنابڑھ چکاتھا بھارت کے اندر سے بھی آوازیں بلند ہورہی تھیں کہ حکومت کسی طرح کشمیر سے جان چھڑائے، آخرکب تک ہندوقوم اپنے نوجوانوں کی لاشیں اپنے ہاتھوں سے جلانے کاسلسلہ جاری رکھے گی۔یہ وہ دن تھے جب ایک بارپھر تحریک آزادی کشمیر اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی تھی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اپنے جوبن پرتھی کہ امریکہ میں نائن الیون کا واقعہ ہوا اور سابق صدر پرویز مشرف ایک ٹیلیفون کال پرسرنڈر کر گئے۔ کشمیر کی تحریک جہاد کو دہشت گردی سے تعبیر کرنے لگے ،نہتے کشمیریوں کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا گیا، شہداء واسیران کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور بھارت و امریکہ کے دباؤ پرکشمیری جہادی تنظیموں پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ انڈیا بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کی آڑ میں لاکھوں کی تعداد میں فوج پاکستانی بارڈر پر لے کر آیا تو سابق جرنیل نے ایسے ایسے اقدامات کئے کہ جن کا ماضی میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کنٹرول لائن پریکطرفہ سیز فائر کردیا گیا، اعلان اسلام آباد پر دستخط کئے گئے اور بھارت سے یکطرفہ دوستی اور باہمی اعتماد سازی کے نام پر ملکی و قومی خود مختاری اور وقار کی دھجیاں اڑا دی گئیں اور پھر یہ سلسلہ رُکا نہیں بلکہ اب حال ہی میں اسی لاکھوں مسلمانوں کے قاتل انڈیاکے ساتھ دوستی نبھاتے ہوئے تجارت کیلئے واہگہ بارڈر کو چوبیس گھنٹے کیلئے کھول دیا گیا اور بھارت سے اپنے ہی دریاؤں کی پیدا کردہ بجلی خریدنے کے معاہدات کئے جانے لگے لیکن پاکستانی حکمرانوں کی اس قدر بھارت نوازی کے باوجود کشمیری مسلمانوں کی اہل پاکستان سے محبت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ وہ اب بھی پاکستان کے ساتھ رہناچاہتے ہیں، اب بھی یوم پاکستان پر کشمیر کی گلیوں میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے، اور بھارت کے ساتھ اپنی دشمنی اورلاتعلقی کا کھل کر اعلان کیا جاتا ہے۔

بھارت نے چھیاسٹھ برسوں میں ہر ممکن طریقہ سے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو سرد کرنے اور کچلنے کی کوشش کی ہے مگر اس میں کامیاب نہیں ہو سکا بھارتی فوج نے ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا ،ہزاروں کشمیری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی،بچوں و بوڑھوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ہزاروں کشمیری نوجوان ابھی تک بھارتی جیلوں میں پڑ ے ہیں۔کشمیر کا کوئی ایسا گھر نہیں جس کا کوئی فرد شہید نہ ہوا ہو یا وہ کسی اور انداز میں بھارتی فوج کے ظلم و بربریت کا نشانہ نہ بنا ہو لیکن اس کے باوجود کشمیری مسلمانوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ بھارت طاقت و قوت کے بل بوتے پرکشمیری مسلمانوں کو غلام بناکر رکھنا چاہتا ہے۔ تاریخ گواہ کے کشمیری قوم 66 برس سے عزم و استقلال کا پہاڑ بن کر بھارت کے ظلم و تشدد کو برداشت کر رہی ہے مگر ان کی بھارت سے نفرت کی شدت میں اضافہ ہی ہوا ہے کوئی کمی نہیں آئی۔ لیکن مقام غور ہمارے لیے ہے اور ہمارے حکمرانوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اگر آپ ان کشمیریوں کی اخلاقی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں توپھر یہ کوئی اخلاق نہیں ہے کہ آپ کشمیری مسلمانوں کے حق میں دو چار بیانات دے کر خاموش ہو جائیں اور انہیں بھارت کے چنگل میں پھنسا ہوا چھوڑ دیں۔ امریکہ کی اس خطہ میں آمد کے بعد بھارت نے بہت فائدے اٹھا لئے امریکی اور نیٹو افواج کی واپسی کی خبروں کی وجہ سے انڈیا کی عسکری و سیاسی قیادت بہت زیادہ پریشان دکھائی دیتی ہے بھارت کوامریکہ کی سرپرستی میں اس خطہ کی سپر پاور بننے کے خواب بکھرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں اس کی آٹھ لاکھ فوج خود بھارت کے لئے بہت بڑا بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ان حالات میں کہ جب مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی ایک بار پھر اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی حکمران کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کشمیریوں کی محرومیوں کا ازالہ کریں اور مضبوط و مستحکم کشمیر پالیسی ترتیب دیں۔ ہمیں یہ تاریخ پڑھ لینی چاہئے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات خوشگوار اور دوستانہ رکھنا دیوانے کا خواب اور ناممکن عمل ہے۔ آپ چاہے جو مرضی کر لیں، بھارت وہ سانپ ہے کہ جو صرف کاٹے گا۔ اس کی 67سالہ تاریخ گواہ ہے۔ اب ہمیں ماضی کو بھلا کر نہیں بلکہ اس سے سبق سیکھ کر اس سے آگے بڑھنا چاہئے۔ محض کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے سالانہ بیانات اور نعروں سے بات نہیں بنے گی۔ جس طرح کشمیری قربانیاں پیش کر کے تاریخ عالم بدل چکے ہیں ہمیں انداز میں ان کا ساتھ دینا چاہئے۔ 67سالہ تاریخ میں ان پر بھارت نے کون سا ظلم نہیں ڈھایا لیکن آج بھی چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔ ایسی بہادر، جرات مند، دلیر اور استقامت دکھانے والی قوم کہیں دور دور تک نظر نہیں آتی۔ تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی ناموافق نظر آئیں ایک وقت آتا ہے کہ قربانیاں دینے والے اور استقامت دکھانے والے بالآخر کامیاب ہو جاتے ہیں۔ افغانستان میں امریکہ اور اس کے 45 اتحادیوں کی شکست تو ہمارے سامنے ہے، جس کے بعد ہمیں کوئی شک یا تردد نہیں ہونا چاہئے۔ ہمیں یقین ہے کہ کشمیری قوم نے جس جذبہ حریت کا 67سال میں مظاہرہ کیا ہے کہ اس سے ان کی آزادی کی منزل ہر صورت نزدیک تر اور یقینی ہے، اوراب جو کشمیر کے اندر سے مضبوط تحریک کھڑی ہوئی ہے اور افضل گورو شہید کی شہادت کے بعد کشمیری قوم کے دلوں میں بھارت کے لیے نفرت کی جو آگ بھڑکی ہے اس کے شعلے دن بدن تیز ہورہے ہیں، بھارت کو ان شعلوں کی تپش محسوس ہونا شروع ہو چکی ہے ، الغرض کشمیری قوم کے قدم اپنی منزل کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں ، اب ہم فیصلہ کریں کہ ماضی کے غدار ڈکٹیٹر کی طرح ان مظلوموں کی پیٹھ میں چھرا گھو نپنا ہے یا ہم نے ان کی پشت پناہی کرتے ہوئے اسلامی اخوت اور اظہار یکجہتی کا سچا نمونہ دکھا نا ہے؟یا پھر صرف دوغلی اقوام متحدہ کے سہارے رہنا ہے؟ ویسے مظفر وارثی نے اس بارے میں کیا ہی خوب حقیقت کشا بات کہہ دی ہے:

آگ اور خون کے دریا میں ہے غلطاں کشمیر

اورکنارے پہ کھڑا ہنستا ہے عالم کا ضمیر

روندے جاتے ہیں بڑی دھوم سے انسانی حقوق

کوئی بھی بھارتی اندھوں سے نہ چھینے شمشیر

حقِ آزادی یو این او سے  طلب کرتے ہیں

یو این او ہی کی تو پہنائی ہوئی ہے زنجیر

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online