Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

رحمت… شفاعت (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 474 - Mudassir Jamal Taunsavi - Rahmat Shafaat

رحمت… شفاعت

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 474)

محبت ایک فطری جذبہ ہے، جو انسانی طبیعت میں خاص طور سے ودیعت رکھا گیا ہے، یہ جذبہ ہر انسان میں موجود ہوتا ہے اورہر انسان اس جذبے سے کام لیتا بھی ہے۔ جس سے محبت کی جاتی ہے اس کا تذکرہ بھی زیادہ کیا جاتا ہے، اُس کی یاد میں لطف ملتا ہے، اس کی نشانیاں دیکھ کر تسکین ملتی ہے، اس پر فدا ہونا دل کی ایک خواہش بن جاتی ہے، اس سے ملاقات کی تمنا امنگ بن کر ہمت بندھاتی ہے، اس کے بارے میں غیرت بھی بے حد ہوتی ہے، اس کے برخلاف بات ہرگز گوارا نہیں کی جاتی۔ یہ سب کیفیات محبت کے ساتھ اس طرح لازمی طور سے جڑی ہوئی ہیں جس طرح سورج کے ساتھ روشنی، آگ کے ساتھ حرارت، پانی کے ساتھ ٹھنڈک اورجس طرح پھول کے ساتھ خوشبو۔

پھر یہ محبت مختلف چیزوں کے ساتھ جڑتی ہے، اس کے اسباب بھی مختلف ہوتے ہیں۔ کہیں یہ محبت جمادات کے پاس جا کر ٹھکانہ بناتی ہے، کہیں حیوانات کے ساتھ اسے سکون ملتا ہے اور کہیں انسانوں میں جا کر گھربناتی ہے، پھر کہیں حسن وجمال دیکھ کر یہ فریفتگی اورمحبت پیدا ہوتی ہے، کہیں کوئی علمی یا عملی کمال دیکھ کر اس سے محبت کی جاتی ہے اور کہیں احسان کنندہ کے طرز عمل سے متاثر ہوکر احسان شناسی کا فرض نبھاتے ہوئے اس کی عقیدت ومحبت دل میں اُتر جاتی ہے۔

لیکن سب سے اعلیٰ وارفع محبت وہ ہے جو اپنے حقیقی خالق ومالک کے ساتھ کی جائے اور اسی کے ذیل میں وہ تمام محبتیں بھی اعلی وارفع بن جاتی ہیں جو اس کی فرماں برداری میں کی جائیں۔ انہی میں سے ایک محبت وہ ہے جو ہر مسلمان کے دل میں اپنے نبی کے میں بارے میں موجود ہوتی ہے۔

جناب محمد مصطفی احمد مجتبیٰﷺ کے ساتھ محبت ہر مسلمان کا سرمایہ ہے، اس کا قیمتی جوہر ہے، خواہ وہ مسلمان امیر ہو یا غریب، بادشاہ ہو یا فقیر، عالم ہو یا عامی، کالا ہو یا گورا، جس کے دل میں ایمان کی حلاوت کا ایک ذرہ موجود ہے وہ جناب محمد رسول اللہﷺ کی محبت سے سرشار رہتا ہے، یہی محبت اسے کفروشرک کی گندگی سے نفرت دلائے رکھتی ہے، یہی محبت اسے ایمان کی قدر وقیمت سمجھاتی ہے، یہی محبت اسے دنیا کی رنگینیوں میں رہتے ہوئے آخرت سے غافل نہیں ہونے دیتی، یہی محبت اسے لے کر چلتی ہے، یہی محبت اسے اپنے خالق ومالک تک پہنچاتی ہے اور اس کے دین وایمان کی بچاتی ہے ۔ بقول علامہ بوصیریؒ :

دعا الی اللّٰہ فالمستمسکون بہ

مستمسکون بحبل غیر منفصم

اُنہوںنے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا، چنانچہ جس نے ان کا دامن تھام لیا، جو اُن سے وابستہ ہوگیا ، جو ان پر ایمان لے آیا، تو سمجھ لو کہ اُس نے ایسی رسّی کو تھام لیا ہے جو ٹوٹ نہیں سکتی اور وہ رسی اُسے ایمان کی سلامتی کے ساتھ اللہ تعالیٰ تک پہنچادے گی۔

فاق النبیین فی خَلق وفی خُلق

ولم یدانوہ فی علم ولا کرم

ہمارے نبیﷺ اپنے اخلاق اوراپنی خصائل وشمائل میں دیگر تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے فوقیت حاصل کرچکے ہیں، اور اللہ تعالی نے انہیں جو علم وبزرگی نصیب فرمائی ہے کوئی اور نبی اس کے قریب نہیں پہنچ سکتا۔

فھو الذی تم معناہ وصورتہ

ثم اصطفاہ حبیبا باریٔ النسم

ہمارے نبیﷺ ہی وہ عالی مرتبہ شخص ہیں جو اپنے ظاہری حسن وجمال اورباطنی اخلاق وکمالات میں حدکمال کو پہنچے ہوئے ہیں، چنانچہ خلّاقِ عالَم رب العالمین نے انہیں محبوبیت کبریٰ کے مقام پر فائز فرما دیا ہے۔

لاطیب یعدل تربا ضم اعظمہ

طوبیٰ لمنتشق منہ و ملتثم

وہ مٹی جو حضوراقدسﷺ کے جسم مبارک کو چھورہی ہے اس کی خوشبو سے بڑھ کر کوئی خوشبو نہیں، چنانچہ بڑے خوش نصیب اورمبارک ہیں وہ جنہوںنے اُس خاکِ اقدس کو سونگھا اورآنکھوں سے لگایا۔

نبی کریمﷺ کی محبت دلوں میں راسخ کرنے کے لیے چند باتوں کا اہتمام کرلیاجائے تو اس سے بے حد فوائد حاصل ہوتے ہیں اور اگر اپنے بچوں میں اس جذبہ کو راسخ کرنا ہوتو بھی ان باتوں کا اہتمام اسے بہت موثر بنادے گا۔

ّ(۱) نبی کریمﷺ کے بلند مرتبہ عظیم الشان مقام کی معرفت۔ قرآن وحدیث میں نبی کریمﷺ کے مقام کو بڑی تفصیل اورشان کے ساتھ بیان کیا گیاہے، آپ کے فضائل وکمالات باربار گنوائے اوریاد دلائے گئے ہیں، مختلف پیرایوں میں آپ کی عظمت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اب جوانسان جس قدر اخلاص اورمحبت کے ساتھ ان باتوں کو پڑھے گا، سمجھے گااوراس میں غور وفکر کرے گا تو لامحالہ اس کے دل میں بے پناہ محبت پیدا ہوگی، اوروہ ایسی شعوری محبت ہو گی جو اس کے شعور پر چھائی ہوئی تمام محبتوں کو مغلوب بنادے گی۔

یہ تفصیلی مطالعہ اس کے رگ وپئے میں حضور کی محبت کا جذبہ رواں کردے گا، تب صبح وشام وہ انسان، حضورﷺ کی یادوں میں مگن رہے گا، اس کے خیالات کا محور حضورﷺ کی ذات گرامی ہوگی، اس کی زبان آپ کے تذکرے سے تروتازہ رہے گی اور جوں جوں اس پر آپﷺ کے کمالات واضح ہوتے جائیں گے اسی قدر وہ آپ پر مزید فداء ہوتا جائے گا اوربزبان حال یہ کہے گا:

کوئی حد ہی نہیں شاید محبت کے فسانے

سنائے جارہا ہے جس کو جتنا یاد ہوتا ہے

(۲)نبی کریمﷺ نے یہ دین اسلام جو سب سے بڑی نعمت ہے کہ اسی پر آخرت کی کامیابی کا مدار ہے، پہنچانے میں جو تکالیف برداشت کیں اور جس ہمدردی اورغم خواری کے ساتھ تمام مصائب سہہ کر امت کی خیرخواہی فرماتے رہے اس کا تصور کیا جائے۔ حضورﷺ نے دین کی دعوت میں جو مشقتیں برداشت کیں انہیں غور سے پڑھا اورسنا جائے تب آپ کی محبت دلوں میں نئی روشنی جگادے گی۔

آپﷺ کے غزوات کا مطالعہ کیاجائے، تاکہ دلوں میںیہ بات راسخ ہوکہ وہ اللہ تعالی کی محبوب ہستی کس لئے میدان جنگ میں اپنی جان لئے سینہ سپر ہے؟ آخر کس لئے اس کامل ومکمل ہستی نے اپنے پیاروں کی لاشوں کے ٹکڑے کروائے؟ آخر کس لئے وہ عظیم الشان پیغمبر اپنے جسم مبارک کو لہو لہان کروادیتے ہیں؟ وہ کیوں سخت وگرم موسموں کی سختیوں کو ہنسی خوشی سہہ جاتے ہیں؟ تب نظر آئے گا کہ وہ یہ سب کچھ اس امت کے لیے کرتے، ان کی یہ تکلیفیں اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ امت کے لیے یہ سب کچھ برداشت کیا۔

کوئی صرف غزوہ احد کے حالات کو ایک بار دل کی گہرائی اوریکسوئی کے ساتھ پڑھ لے پھر دیکھ لے کہ اس کے دل پر کیا گزرتی ہے؟ تو کیا ایسے کریم محسن نبی پر سب کچھ نچھاور کرنے پر دِل خودبخود آمادہ نہیں ہوگا؟ کوئی ان کے بارے میں غیرت بیدار نہ ہوگی؟ پھر کیا ان کے خلاف کچھ گواراہوجائے گا؟

(۳) نبی کریمﷺ کے دنیوی اورخاص کر اُخروی احسانات کو یاد کیاجائے۔ آپ کی شفاعت کبریٰ کو یاد کیاجائے۔ وہ قیامت کا سخت ترین دن جب تمام نبی ’’نفسی نفسی‘‘ کہہ کر اللہ تعالی کے سامنے شفاعت سے گریز کریں گے تو ہمارے نبی جناب سرورکونین محمد مصطفیﷺ ہی ’’اَنَا لَہَا‘‘یعنی ہاں یہ کام تو میں ہی کروں گا، کہہ کر آگے بڑھیں گے ۔ اُس دن جسے حضورﷺ کی شفاعت نصیب ہوگئی وہ بڑا ہی خوش نصیب ہوگا۔ یہ شفاعت نبوی ایک بہت بڑا سہارا ہے، تمام انسانوں کے لیے، پوری امت مسلمہ کے لیے اور خاص کر امت کے گناہ گاروں کے لیے ۔

شفاعت کی بات آئی تو لیجئے نبی کریمﷺ کے بتلائی ہوئی وہ تین باتیں بھی سن لیں جن کی برکت سے آپ کی شفاعت نصیب ہوگی:

(۱) دل کے اخلاص کے ساتھ کلمہ طیبہ پڑھنا (۲) اذان کے بعد نبی کریمﷺ کے لیے وسیلہ کی دعاء کرنا (۳) صبح وشام دس دس بار درود شریف پڑھنا۔

اب وہ تینوں احادیث بھی پڑھ لیں جن میں یہ خوشخبری موجود ہے:

نبی کریمﷺ نے ارشادفرمایا: قیامت کے دن میری شفاعت کے لحاظ سے سب سے زیادہ سعادت مند انسان وہ ہوگا جس نے دل کے اخلاص کے ساتھ ’’ لاالہ الا اللّٰہ‘‘ کہا۔ (مسلم)

نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اذان کے بعد میرے لیے اللہ تعالی سے وسیلہ مانگے تو وہ میری شفاعت کی مستحق قراردیدیا جاتا ہے۔ (یاد رہے کہ اذان کے بعد جو مسنون دعاء پڑھی جاتی ہے وہ وسیلے کے سوال پر مشتمل ہوتی ہے اس لیے اس دعا کا اہتمام کرنا چاہئے)۔ (ترمذی)

نبی کریمﷺ نے ارشادفرمایا: جو شخص صبح و شام دس دس بار مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لئے میری شفاعت پکی ہوجاتی ہے۔ (الترغیب)

سبحان اللہ! اتنی بڑی نعمت اورخوش خبری کا حصول اس قدرآسان؟ ہاں! اللہ تعالی کی رحمت بہت وسیع اوربے پایاں ہے اس کی کوئی حد نہیں، کلمہ توحید کی برکت سے وہ کچھ مل جاتا ہے جس کا بظاہر تصور بھی ممکن نہیں ہوتا۔ بقول شاعر:

رحمت کا ہے دروازہ کھلا

مانگ ارے مانگ

دیتا ہے کرم اُن کا صدا

مانگ ارے مانگ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor