Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

یہ وبال کیوں؟ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 475 - Mudassir Jamal Taunsavi - Ye wabal kiyon

یہ وبال کیوں؟

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 475)

اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ نصیب فرمائیں۔ آمین

دنیا وآخرت میں کامیابی کا ضامن دین ہے، اس دین کی صحیح سمجھ انتہائی ضروری ہے، کیوں کہ ہر عمل کی بنیاد علم ہے، اگر علم صحیح ہوتو عمل بھی درست ہوتا ہے اوراگر علم فاسد ہو، ناقص ہو، تو عمل بھی فاسدہوجاتا ہے۔ اسی لیے علم نافع کی دعاکرنا سنت نبوی ہے۔

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ فجر کی نماز کے بعد یہ دعاء مانگا کرتے تھے:

اللہم انی اسئلک علما نافعا، ورزقا طیبا و عملا صالحا

اے اللہ! میں آپ سے نفع بخش علم، پاکیزہ روزی اور نیک عمل کا سوال کرتا ہوں

یوں تو دین کے ہر معاملے میں صحیح علم کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اجتماعی معاملات میں اور خاص کر جہاد کے بارے میں صحیح علم بہت زیادہ ضروری ہے، کیوں کہ انفرادی اعمال میں کمی وبیشی کا نفع ونقصان بھی انفرادی سطح تک محدود رہتا ہے لیکن اجتماعی معاملات میں اور جہاد کے نام پر جو کچھ کیا جاتا ہے اس کا اثر ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری قوم اورپورا معاشرہ اس سے متاثر ہوتا ہے اس لیے اس بارے میں شرعی احکامات کی رعایت رکھنا اوربھی زیادہ ضروری ہوجاتا ہے۔

عصرحاضر میں دیکھا جائے توآج جو بھی خون ریزی، قتل وغارت اور ظلم وتشدد کا بھیانک ماحول بناہوا ہے اس کی بنیادی وجہ شرعی احکامات سے دوری ہے، علم صحیح سے محرومی ہے، بس یوں سمجھئے کہ ایک جہالت کا راج ہے اور اس جہالت کے اندھیروں سے انتقام کی آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں، جو کہیں ریاست کی رٹ اور امریکی جنگ کا پارٹنرہونے کے نام پر بے گناہوں کو جلا رہے ہیں تو کہیں جہاد کے نام پر اپنے انتقام کی آگ بجھانے کے نام پر بے گناہوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ایک طرف تو یہ عملی بے راہ روی ہے جو صحیح شرعی علم نہ ہونے سے پیدا ہورہی ہے جبکہ دوسری جانب بہت سے لوگ جان بوجھ کر یا انجانے میں غلط واقعات کی صورت میں صحیح اور شرعی معاملات کو بھی بگاڑناشروع کردیتے ہیں۔

اب اسی پشاور واقعے کو دیکھ لیجئے کہ جس کی حمایت کسی بھی درجے میں نہیں کی جاسکتی اورنہ ہی پاکستان کے کسی بھی سلیم العقل انسان نے اس کی تائید کی ہے!

لیکن اس واقعے کی آڑ میں دین بیزار طبقہ جس طرح دینی مدارس کو نشانہ بنارہا ہے، مدارس کے طلبہ پر الزامات کی جو بوچھاڑ کی جارہی ہے، مساجد کے خلاف سینوں میں چھپا بغض باہر نکالاجارہاہے، جہاد کے خلاف جو گزگز لمبی زبانین نکال کر اس اہم ترین شرعی فریضے کا مذاق اڑایا جارہاہے تو کیا کوئی بھی سلیم العقل انسان اس غلط طرز عمل کی تائید کرسکتا ہے؟ مگر صورتحال ایسی بن چکی ہے کہ شرعی علم سے محرومی عام ہے، عوام الناس کو صبح وشام جو میڈیا رہنمائی فراہم کررہا ہے وہ بنیادی طور پر دین سے آزاد اورمغربی وامریکی مفادات کا محافظ ہے، کافروں کے لیے بھاری شرعی احکامات کے خلاف جو غلیظ زبان وہ چاہتے ہیں یہ اسی کی ہمنوائی کرتے ہیں، جب صورتحال یہ ہو تو کس طرح امن وامان کی امید کی جاسکتی ہے۔

قرآن کریم کی چند آیات سے اس بارے میں رہنمائی لیتے ہیں، وہی علم کا سرچشمہ ہے اوراسی سے ہدایت ملتی ہے،  وہیں سے پتہ چلے گا کہ یہ حالات کیسے پیدا ہوتے ہیں؟ اورکیوں کر ان حالات سے نکلا جاسکتا ہے؟؟

سورۃ المائدہ میں اللہ تعالی نے امت محمدیہ سے کچھ عہد لئے ہیں اوران عہود کی یاددھانی بھی کرائی ہے۔ بعدازاں اللہ تعالیٰ نے یہودونصاری کا تذکرہ کیا ہے اوربتایا ہے کہ ہم نے ان سے بھی عہد لئے تھے مگر انہوںنے وہ عہد پورے نہ کئے تو ہم نے انہیں اس کی سزادی ، یہ تمام باتیں ذکر کرکے امت محمدیہ کو یہ پیغام دیا گیا کہ اگر تم بھی دینی عہد کو پورا نہ کروگے تو اسی طرح کے وبال کا تم کو سامنا کرنا ہوگا۔

لیجئے پہلے اُن آیات کا ترجمہ ملاحظہ کیجئے:

’’اور اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیاتھا اورہم نے ان میں سے بارہ سردار مقرر کئے اوراللہ نے کہا: میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نماز کی پابندی کروگے، اورزکوۃ دیتے رہو گے اورمیرے سب رسولوں پر ایمان لاوگے اوران کی مددکروگے اوراللہ کو اچھے طور پر قرض دیتے رہوگے تو میں ضرور تمہارے گناہ تم سے دورکردوں گا اورتمہیں باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں پھر جوکوئی تم میں سے اس کے بعد کافر ہوا وہ  بے شک سیدھے راستے سے گمراہ ہوا۔

پھران کی عہد شکنی کے باعث ہم نے ان پر لعنت کی اوران کے دلوں کوسخت کردیاوہ لوگ کلام کو اس کے موقع محل سے بدلتے ہیں اوراس نصیحت سے نفع اٹھانا بھول گئے جو انہیں کی گئی تھی اورتو ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی خیانت پر اطلاع پاتا رہے گاسوائے ان کے تھوڑے افراد کے، پس انہیں معاف کراوردرگزر کر۔ بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

اور جو لوگ اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں ان سے بھی ہم نے عہد لیا تھا پھر وہ اس نصیحت سے نفع اٹھانا بھول گئے جوانہیں کی گئی تھی پھر ہم نے ان کے درمیان ایک دوسرے سے دشمنی اوربغض قیامت تک کیلئے ڈال دیا اوراللہ ان کا کیا ہواانہیں جِتلادے گا‘‘ (سورۃ المائدہ:۱۲تا۱۴)

ان آیات سے معلوم ہوا کہ جب یہود ونصاریٰ نے اللہ تعالی کے دینی عہد کو پورا نہ کیا تو ان پر جووبال مسلط ہوا اس میں درج ذیل باتیں شامل تھیں:

اللہ تعالی کی لعنت

دلوں کی سختی

کلام اللہ میں تحریف

احکام شرعیہ سے روگردانی

باہم عدوات

باہم بغض

اب اسی کے ساتھ نبی کریمﷺ کی ایک حدیث بھی سن لیجئے۔ایک طویل حدیث میں یہ مضمون بیان فرمایاگیا ہے کہ:

’’ جب مسلمانوں کے حکمران کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ کو معطل کردیں تو اللہ تعالی انہیں کے درمیان جنگ وجدال پیدا کردیتے ہیں‘‘(الترغیب والترہیب)

اس لیے خلاصہ یہی ہے کہ امن وامان لانا ہے تو وہ طاقت سے نہیں، شریعت کی تابع داری سے آئے گااور اس کے لیے ضروری ہے کہ حکام وقت اور پالیسی ساز اداروں کو مل بیٹھ کر پورے اخلاص اور دیانت داری کے ساتھ اپنے معاملات کاجائزہ لے کر انہیں شریعت کے تابع کرنا ہوگا، اگر ایسا کرلیاگیا تو یہ امن کی جانب پہلا اورموثرترین قدم ثابت ہوگا ورنہ حالات کو جس رُخ پر چلایا جارہاہے اور جو انتقام کا کھیل کھیل جارہا ہے اس سے سوائے بدامنی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ اللہ تعالی کا اٹل فیصلہ ہے جو اس نے اپنی لازوال سچی کتاب میں بتادیاہے۔ روشنی کے اس مرکز سے دور ہوکر اوراسے پس پشت ڈال کر نہ ہی کوئی مسلم حکومت کامیاب ہوسکتی ہے اورنہ ہی کوئی مسلم گروہ!!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor