Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

انوکھی فتح اورانوکھا جشن (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 476 - Mudassir Jamal Taunsavi - Anokhi Fatah Anokha Jashan

انوکھی فتح اورانوکھا جشن

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 476)

آپ کو ایک نئی فتح کی خبر ملی؟

انوکھی اورتاریخی فتح، مثالی اور حیرت انگیزفتح، ایک ایسی فتح کہ اس کے فاتحین اس پر جتنا بھی فخر کریں کم ہے…

ان کے تو وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسی شاندار فتوحات انہیں ملیں گی…

وہ جو منصوبے بنا کر میدان میں اترے تھے اس سے انہیں پوری امید تھی کہ وہ ضرورفاتح بنیں گے لیکن وہ فتح کس قسم کی ہوگی؟

اس کے لئے انہوں نے جو اندازے مقرر کئے تھے وہ سب غلط ثابت ہوئے…

جوتاریخیں طے کی تھیں وہ سب اتھل پتھل ہوگئیں…

جنگ جوں ہی بڑھتی گئی اس فتح کے آثار روشن ہوتے گئے…

اوریہ عجیب فتح کے آثار تھے کہ جسے فاتح خود چھپانا چاہتے تھے…

شاید وہ یہ چاہتے تھے کہ کہیں ہماری فتح کی خبر باہر نہ چلی جائے…

خوامخواہ یا تو دیگر ممالک والے ڈرنے لگیں گے…

یا اس فتح پر ہمیں جو اعزاز ملے گاوہ ہمارے قد کاٹھ سے بڑا ہوگا…

اوراس عزت افزائی کو سنبھالنا ہمارے بس سے باہر ہوگا…

واہ! بھئی واہ!

ایسے بہادر، دلیر، نڈراور عزت سے کوسوں دور فوجی لشکر یقینا آپ نے کبھی دیکھے اورسنے نہ ہوں گے…

یہ لشکر اگرچہ بزدل نہیں تھے، ڈرپوک نہیں تھے، گھبرانے والے بھی نہیں تھے…

بس ایک دوسرے کے تعاون کا شوق اتنا تھا کہ ایک نہتے ملک پر …

حملہ کرنے کا ارادہ ہوا تو نیوولڈآرڈر کے علمبردار امریکہ کے ساتھ …

اس کا ہاتھ بٹانے کے لیے چل پڑے…

صرف ایک دوملک نہیں…

پورے کے پورے پچاس ملکوں کے لشکر ساتھ ہولئے …

انہوںنے سوچا کہ جب اتنا بڑا ملک امریکہ حملہ کرنے جارہا ہے…

تو ظاہر ہے کہ سب کچھ سنبھال تو وہی لے گا

ایسے میں کیوںنہ ہم انگلی کٹا کر اس عزت افزائی میں شریک ہوجائیں…

جو ویت نام کے بعد ایک بار پھر امریکہ کے مقدر میں آنے والی ہے…

چنانچہ چل پڑے، جنگ شروع ہوگئی، فتح کی تاریخیں بھی بتادی گئیں…

کہ زیادہ وقت کی بات نہیں، بس چند مہینوں کا کھیل ہے…

یوں گئے اور یوں آئے…

مگر جب مقابلہ شروع ہوا تو پتہ چلا کہ مدّ مقابل اگرچہ نہتا ہے…

لیکن بہت سخت جان ہے، اس کو پہچاننا بھی مشکل اوراس کے وار سے بچنا تو بہت ہی مشکل…

چنانچہ سخت پلاننگ شروع کردی گئی کہ کس طرح اپنی فتح کا اعلان کیا جائے؟

کس طرح دنیا کو بتایا جائے کہ ہم فاتح ہیں؟

اگرچہ اس فتح کے اعلان کی ترتیب بناتے ہوئے تیرہ سال کاطویل اورخوفناک عرصہ لگ گیا

مگر جس نوعیت کی بڑی فتح کا اعلان کرنا اس کی تیاری میں اگرتیرہ سال کا عرصہ بیت گیا تو کیا ہوا؟ بظاہر یہ کوئی اتنالمباعرصہ نہیں ہے جس پر کوئی اعتراض کیا جائے…

چنانچہ تیرہ سال پورے ہونے کے بعد بالآخر وہ عظیم الشان دن آن پہنچا…

جب پچاس ملکوں کو افواج پر مشتمل اتحاد نیٹو نے اپنی فتح کا اعلان کرنا تھا…

پوری دنیا انتظار میں تھی کہ دیکھئے اس کے لیے کتنا بڑا جشن بپا کیا جاتا ہے؟ جس لشکر میں صرف پچاس ملکوں کی افواج شامل ہیں تواس کی فتح کے جشن میں ان پچاس ملکوں کی بھرپور نمائندگی کے ساتھ نجانے دیگر کتنے ممالک اس جشن میں شریک ہوں گے؟

اور خود اُن پچاس ملکوں میں بھی نہ معلوم کتنے بڑے بڑے جشن منعقد ہوں گے؟

یہی سب کچھ دنیا سوچ رہی تھی کہ اچانک اطلاع ملی:

’’افغان جنگ میں شریک نیٹو نے اپنے تیرہ سالہ مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہوئے اپنی فتح کی تقریب ایک نہایت ہی خفیہ مقام پر انتہائی محدود پیمانے پر نہایت خاموشی کے ساتھ منعقد کی‘‘

کیسے؟ ہوئی نہ یہ سب سے انوکھی اورمثالی فتح؟

تیرہ سالہ جنگ جیتنے کی فتح کا جشن ہے اور دیکھو کیسی دھوم دھام سے منایا گیا؟

پُراسرار طریقے سے تاکہ مدمقابل مجاہدین کو پتہ نہ چل جائے ورنہ وہ بیچارے خوامخواہ حسد کاشکار ہوجائیں گے اور پھر حسد میں آکر انہوں نے کچھ کرنے کی ٹھان لی تو کون انہیں روک پائے گا؟

یوں اچھی خاصی عزت مفت میں خاک میں مل جائے گی، اس لیے اعلان بھی آہستہ آواز سے کیاگیا تاکہ لوگوں کی نیند میں خلل نہ آئے اور مقام بھی خفیہ رکھا گیا تاکہ کوئی ’’مجاہد‘‘ ان کی رنگین مزاجیوں کو ’’لہورنگ‘‘ نہ بنادے…

الحمد للہ!

ایک بار پھر کفر ہار گیا، اسلام جیت گیا، کفار شکت کھاگئے اوراہل اسلام کا غلبہ دنیا نے دیکھ لیا، جس کو وہ وقت یاد ہوجب امریکہ اورنیٹو افغانستان پر حملہ کرنے کے لیے پرتول رہے تھے تو اسے یقینا یہ یاد ہوگا کہ وہ کس طرح دندناتے ہوئے اور پوری دنیا کو روندتے ہوئے آرہے تھے مگر آج فتح کا اعلان کس طرح ہورہا ہے؟ تو سوچئے یہ کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ ہاں! یہ ان فدائیوں اورجانبازوں کی مثالی قربانیوں کا ثمر ہے جنہوں نے ذلت پر عزت کو ترجیح دی، جنہوں نے بے غیرتی پر غیرت کو ترجیح دی، جنہوں نے دنیوی عیش وعشرت پر فداء کاری اور جانثاری کوترجیح دی، جو دین کے لیے جان قربان کر نے والے تھے، جنہوں نے ہر مخالفت مول لی لیکن کفر کے فتنے کو قبول نہیں کیا، ہاں! وہ ایسے خفیہ طریقے سے اس کافر انہ اتحاد کا پیچھا کرتے اوراسے ناکوں چنے چبواتے رہے جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ وہ فاتح کہلوا کر بھی شرمندہ ہیں اور وہ جانثار جان قربان کرکے بھی خوش ہیں ، ان کے رفقاء خوش ہیں…

اللہ تعالیٰ کا شکر کہ اس نے ہمیں غم کے ان حالات میں یہ خوشی نصیب فرمائی، ہاں کافروں کی ذلت ورسوائی اوراہل ایمان کی کامیابی پر خوش ہونا ایمان کی علامت ہے اورہم اس علامت کو ظاہر کرنا اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں!

بلاشک اہل ایمان کی تو یہ حالت ہوتی ہے :

جہاں میں اہل ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں

اِدھر ڈوبے ، اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے، اِدھر نکلے

اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب بھی اسلام دشمنوں نے مسلمانوں پر یورش کی ہے تو آخر کارغلبہ حق والوں کا ہی ہوا ہے اور یہ منظر سامنے آیا ہے:

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دباؤ گے

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor