Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اُسوہ حسنہ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 477 - Mudassir Jamal Taunsavi - Uswa Hasana

اُسوہ حسنہ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 477)

ایک دائمی حقیقت جس پر نہ صرف پوری اسلامی تاریخ بلکہ پوری انسانی تاریخ شاہد عدل ہے:

من کان للّٰہ کان اللّٰہ لہ

جو اللہ تعالیٰ کا ہوجاتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کے معاون و مددگار ہوتے ہیں۔

ایک داعیٔ حق کے لیے یہی حقیقت سب سے بڑا سہارا ہوتی ہے۔ کون انسان ہے جس پر اس دنیا میں کوئی آزمائش نہیں آتی؟ یہ ہو ہی نہیں سکتا، کیوں کہ اس دنیا کا نام ہی دارالابتلاء ہے، یہ آزمائش کی جگہ ہے، یہاں ہر شخص ایک امتحان گاہ میں ہے، ہر دعوے پر دلیل طلب کی جاتی ہے، مختلف حالات و واقعات سے انسان کو پَرکھا جاتا ہے، جس طرح سونار کھرے اورکھوٹے کی پہچان کے لیے آگ کی بھٹّی جلاتا ہے، پھر اس میں سونے کو جلاتا ہے تاکہ خالص سونا اورکھوٹ ملاوٹ الگ الگ ہو جائیں، اسی طرح اس دنیا میں بھی کھرے اورکھوٹے کی پہچان کے لیے آزمائش کی چکی سے گزارا جاتا ہے اورمسلسل گزارا جاتا ہے کیوں کہ اس دنیا میں جب تک ایک سانس بھی باقی ہے تب تک امتحان جاری رہتا ہے۔

خاتم الانبیاء جناب سرورکونینﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کے لیے اُسوہ حسنہ بنایامگر ساتھ یہ اشارہ بھی کردیا کہ اس اسوہ حسنہ سے فائدہ وہی لوگ اٹھائیں گے جو :

یرجوا اللّٰہ والیوم الآخر(اللہ تعالی

اورآخرت کے دن کی امید رکھتے ہوں گے

یعنی: جو لوگ اللہ تعالی کی رضا کو ترجیح دیں گے، جو اللہ تعالی کے احکامات کو مقدم رکھیں گے، جو اللہ تعالی کی فرماں برداری پر قائم رہیں گے، جن کے نزدیک دنیا کی زندگی محض ایک عارضی قیام گاہ اورامتحان کی جگہ ہے اورجو آخرت کے دن پر پورا یقین رکھتے ہیں، انہیں اس بات کا پورا ادراک ہے کہ آخرت برحق ہے، وہاں اللہ تعالی کے سامنے پیشی ہوگی، وہاں ہرچیز کاحساب وکتاب ہوگا، وہاں کوئی نیکی یا برائی چھپ نہیں سکے گی، وہ انصاف کا دن ہوگا، وہاں تمام انسانیت جمع ہوگی، وہاں کی رسوائی سب سے بڑی رسوائی ہوگی اوروہاں کی کامیابی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ چنانچہ جو لوگ اس یقین کو دل میں اتار لیں گے وہی اس دنیا کی آزمائشوں سے کامیاب گزریں گے اوران کے لیے سب سے بہترین نمونہ خود اللہ تعالی کے محبوب ترین رسول جناب محمدمصطفیﷺ کی حیات طیبہ ہے۔

اُن کی زندگی پر ایک نظر ڈالو، تمہیں ہرجگہ ایک امتحان نظر آئے گا۔ وہ پیدا ہوئے تو آزمائش کا سلسلہ جاری ہوا، امتحانات شروع ہوئے، مشکلات کا سامنا ہوا، جب تک نبوت نہ ملی تھی تب تک دنیوی آزمائشیں آتی رہیں، پیدائش سے پہلے والد وفات پاچکے تھے، والدہ محترمہ سفر میں تھیں، چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو دادامحترم جو بے حد محبت فرمانے والے تھے، قوم کے سردار تھے وہ وفات پاگئے، جس چچا نے سرپرستی کی ان کے خلوص ومحبت میں توکوئی کمی نہ تھی لیکن ان کے مالی حالات بہر حال کمزورتھے،ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام اورمحنت کرنا پڑی، عرب کے عام رواج کے مطابق بکریاں چرائیں، تجارتی اسفار کے لیے اپنے وطن اور قوم قبیلے کو چھوڑ کر جانا پڑا۔

پھر جب نبوت ملی تو ایک نئی آزمائش شروع ہوگئی، دعوت دین کا آوازہ بلند کیا تو اپنے ہی سب سے پہلے مارنے کو دوڑ پڑے، اپنے ہی سب سے پہلے بددعائیں دینے لگے، وہ جو کل تک صادق وامین کہتے تھے آج فسادی کا لیبل لگانے لگے، وہ جو کل تک بے پناہ محبت کرتے تھے آج سامنے آتا دیکھ کر راستہ بدلنے لگے۔ آہ کیسا دلدوز منظر ہوگا کہ اپنوں میں رہ کر بھی آپﷺ اجنبی بن چکے تھے!!

کوہِ صفا پر کیا جانے والا وہ اعلان کس کو یاد نہیں؟ جب نبی کریمﷺ کے سامنے سب نے آپ کی صداقت وامانت کا اعتراف کر لیا، تب آپ نے ایمان اورکامیابی کی دعوت دی تو کیا جواب ملا؟ چلو اب لہب کی بدبختی کہ وہ تو صریحا بدزبانی پر اترآیا اوراس کی وبال بھی ہمیشہ کے لیے اس کے گلے پڑ گیا لیکن کیا کسی اورنے ساتھ دیا؟ کسی ایک نے اس موقع پر آپ کی بات مان لی؟ حالانکہ سبھی نے آپ کی عظمت کا اقرار کیا تھامگر جب شیطان اورنفس اور خاندانی رسم ورواج حق کے مقابل میں رکاوٹ بنتاہے تو ایسا ہی ہوتا ہے جس کا نظارہ کوہِ صفا پر ہونے والے اعلان کے وقت ہوا۔

مکہ مکرمہ کے پہاڑاوروہاں کے بازار سب اس آزمائش کے گواہ ہیں، ان کے سامنے یہ مناظر پیش آئے ہیں، اورایسے ایسے مناظر کہ بیان کرتے ہوئے بھی زبان لرزتی اورلکھتے ہوئے ہاتھ کانپتے ہیں۔

طائف کی وادی میں جو کچھ پیش آیاوہ کس کومعلوم نہیں؟ مگر اس درد کو محسوس کرنا بہت مشکل ہے، اس کیفیت کاادراک بہت ناممکن ہے، ہم میں سے کون ہے جسے اس کی قوم اورقبیلے نے دھتکار دیا ہو؟ پھر جن سے کچھ امید ہوانہوںنے بھی نہ صرف دھتکارا ہوبلکہ اوباشوں کو پیچھے لگادیاہو، انہوں نے پتھر مار مار جسم مبارک لہولہان کردیا، خون رِس رِس کر جوتوں میں جمع ہوتا گیا تو چلنا مشکل ہوگیا… آہ کیسا درد اٹھایا ہوگا ہمارے نبی نے؟اس موقع پر آپ کی جو دعاء منقول ہے اس کا ایک ایک لفظ درد کی پوری کہانی سنا رہا ہے ۔ دیکھئے وہ الفاظ کیا تھے:

ترجمہ:’’ اے اللہ!میں آپ ہی کے سامنے اپنی کمزوری، کم مائیگی، اورلوگوں کی اذیت رسانی کی شکایت کرتا ہوں۔ اے سب سے زیادہ رحم فرمانے والے! آپ ہی تو کمزوروں کے رب ہیں، آپ ہی میرے رب ہیں۔ آپ مجھے کس کے حوالے فرمارہے ہیں؟ ایسے دوروالے آدمی کے حوالے جو مجھ پر غضب ناک ہوتا ہے؟ یا کسی ایسے دشمن کے حوالے جسے آپ نے میرے معاملات کا مالک بنادیا ہے؟ ہاں اگر آپ مجھ سے ناراض نہیں ہیں تو پھر مجھے کچھ پروا نہیں ہے۔ ہاں البتہ آپ کی عافیت میرے لیے بڑی وسعت والی ہے۔ میں آپ کے چہرے کے اس نور کی پناہ میں آتا ہوں جس سے اندھیرے روشن ہوجاتے ہیں اوردنیا وآخرت کے کام سنور جاتے ہیں ، آپ مجھ پر اپنا غضب نازل نہ فرمائے اورنہ ہی مجھ سے ناراض ہوجائیے… آپ کی ہی کی توفیق اورمدد سے گناہوں سے بچاجاتا ہے اورنیکیوں کی ہمت ہوتی ہے‘‘

پھر کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کو زندگی کے آخری لمحات میں کون سا دردسہنا پڑا؟ حضرت زید بن ثابتؓ کا نام آپ نے سناہوگا؟ جی ! یہ وہ عظیم صحابی ہیں جنہیں رسول اللہﷺ نے اپنا منہ بولا بیٹا بنایاتھا، یہ وہ واحد صحابی ہیں جن کا باقاعدہ نام قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے، آپﷺ کو ان سے بے حد محبت تھی، اپنے اہل بیت کی طرح ان سے الفت ومحبت کا معاملہ فرماتے تھے، مگر جس وقت حضورﷺ کی وفات کا سال تھاتو ان کی شہادت کا صدمہ اوردکھ آپ کو دیکھنا پڑا، ان کی شہادت کوئی معمولی شہادت نہ تھی، اندازہ لگائیں کہ بالکل آخری وقت میں حضورﷺ نے جو وصیت کی تھیں اس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ حضرت زید کے صاحزادے حضرت اسامہ کی قیادت میں جو لشکر میں نے ترتیب دیا ہے جو اپنے والد کے قاتلوں سے جا کر انتقام لے گا اسے بہر حال روانہ کیا جائے ، توکیا ایسی توجہ کسی معمولی بات کی وجہ سے ہوگی؟ نہیں آپ ﷺ کو ان سے بے حد محبت تھی اسی محبت کا یہ ایک اظہار تھا کہ ان کے قاتلوں سے انتقام لینے کے لیے باقاعدہ لشکر ترتیب دیا اوراس لشکر کی قیادت ان کے صاحبزادے کو سونپی حالانکہ وہ اس وقت دیگر کبار صحابہ کرام کے مقابلے میں بہت چھوٹے تھے، مگر اس کے باوجود حضورﷺ نے اس لشکر کی امارت انہی کے سپردکی۔

اس لیے دعوتِ حق سے جڑنے والو! آزمائش سے گھبرانا اورحق سے ہاتھ دھولینا سچے لوگوں کی نشانی نہیں، سب سے بڑے سچے انسان جناب رسول کریمﷺ تھے اوران کے صحابہ اس امت کے لیے ایک مثالی رہنما ہیں، ان کی زندگیوں سے روشنی لینے کی ضرورت ہے، وہ کس طرح حق پر ڈٹ جانیو الے انسان تھے؟ مصائب آتے ہیں اورباربار آتے ہیں، پوری زندگی آتے رہتے ہیں، مگر ان سے استقامت اوراللہ تعالی کی مدد سے سلامت گزرجانا ہی اصل کامیابی ہے۔

آج دیکھ لو!کفر کے علم بردار نہیں تھکے، وہ اپنی تحریک سے باز نہیں آئے، اسلام کو مٹانے کے لیے وہ سب کچھ کررہے ہیں، جہاد کانام ونشان مٹانے کے لیے اربوں کھربوں ڈالرخرچ کر رہے اورپوری دنیا میں اپنے فوجی اورایجنٹس بھیج رہے ہیں تو پھر مسلمان کیوں کمزور ہو؟

سنو! قرآن کیا کہتا ہے:

’’اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو انہیں بھی ویسے ہی تکلیف پہنچی ہے جیسا کہ تمہیں پہنچی ہے ، (مگریہ ایک اساسی فرق ہے کہ) تم اللہ تعالیٰ سے جو امید رکھتے ہو وہ کافر اس کی کوئی امید نہیں رکھتے‘‘

ایک بات اچھی طرح یادکرلیں کہ جو لوگ جہاد کومحض ایک جنگ سمجھتے ہیں اوراسے دنیاوی جنگوں کے زایہ نظر سے دیکھتے ہیں وہ کبھی بھی نہ تو خود جہاد کرسکتے ہیں اورنہ ہی جہاد کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں، اس راہ میں کامیاب وہی ہوگا جو جہاد کو ایک عبادت سمجھے گا، جو جہاد کو ایمان کاحصہ سمجھے گا…

جس کے نزدیک جہاد اسلام کی کوہان اوربلند ترین چوٹی ہے وہ اس سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوسکتا اورنہ ہی کفر کے سامنے ذلت ورسوائی اختیاکر سکتا ہے۔

شدید ترین خوف، اور سخت ترین بھوک کی حالت میں جہادی خندقیں کھودتے نبی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ:

’’تمہارے لیے رسول اللہ(ﷺ) کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے (اوراس سے استفادہ وہی کرے گا) جو اللہ تعالی اورآخرت کے دن پر پورا یقین رکھتا ہے‘‘

جس نے اللہ تعالی اورآخرت کے دن کی پیشی کو بھلادیا وہ پھر خوف اوربھوک کی حالت میں جہاد پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا، ثابت قدم وہی رہے گا جو’’ اسوہ حسنہ ‘‘ کو سمجھے گا، دل میں بسائے گا اوردل کی خوشی سے اس پر عمل پیرا ہوگا،تب ایک دن آزمائش کے بادل چھٹ جائیں گے اوریہ سرخرو ہوکر رب تعالی کی بارگاہ میں پیش ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب کے صاحبزادے جناب زکی کیفی مرحوم نے کیا ہی خوب حقیقت بیان کی ہے:

زمانہ منقلب ہے،اِنقلاب آیا ہی کرتے ہیں

اندھیرے رات کو کچھ دیر، تو چھایا ہی کرتے ہیں

سکھادیتی ہے قدرت، جن کو اندازِجہاں بانی

وہ ہر اُلجھی ہوئی گتھی کو، سلجھایا ہی کرتے ہیں

مرے مذہب میں کیفی، جرم ہے اِحساسِ مایوسی

مسلماں داستاں عظمت کی، دہرایا ہی کرتے ہیں

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor