Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

افغانستان کا منظر نامہ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 433 - Mudassir Jamal Taunsavi - Afghanistan ka manzar nama

افغانستان کا منظر نامہ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 433)

افغانستان کی سرزمین سے ایک بار پھر وقت کا فرعون اپنا بوریا بستر لپیٹ کر ذلت کے ساتھ واپس جانے کی تیاری کررہا ہے اور افغانستان کے پہاڑوں اورکہساروں سے یہ صدا بلند ہورہی ہے:

افغان باقی، کہسار باقی

الحکم للہ، الملک للہ

 

اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی چونکہ اس وقت عالمی طور پر اپنا ایک اثر ورسوخ رکھتے ہیں اس لیے وہ اس شکست کو ڈھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرپارہے بلکہ ان کی بھرپور کوشش ہے کہ اپنے فریق مقابل مجاہدین اسلام کو جس طرح بھی کوئی نقصان پہنچایا جاسکتا ہو اس سے گریز نہ کیا جائے اوراسی کے ساتھ یہ بھی ہمسایہ ممالک میں میں بھی کوئی ایسی قوت مضبوط نہ ہوجس امارت اسلامیہ افغانستان کے لیے ہمدردی کے جذبات رکھتی ہو۔ امریکہ اس وقت اپنی شکست پر پردہ ڈالنے کے لیے مختلف مکارانہ پینترے بدل رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں امارت اسلامیہ افغانستان کے مجاہدین کو فی الوقت کابل میں قائم پھس پھسی اور محض کٹھ پتلی کرزئی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کا ڈھنڈورا پیٹا گیااور کہا یہ گیا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ افغانستان میں اگر اس طرح مذاکرات سے امن آ سکتا ہے تو ہم اسے قبول کرنے کو تیار ہیں، حالانکہ اس قسم کی باتیں محض دھوکہ اورفریب ہیں، ان میں کوئی بھی صداقت یا افغانستان کے مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی کا کوئی عنصر شامل نہیں ہے۔ اسی لیے امارت اسلامیہ نے ان کی اس سازش اور دوغلے پن کو بروقت آشکارا کرتے ہوئے جو پیغام جاری کیا ہے، اُس سے اصل حقیقت سے اچھی طرح پردہ اٹھ جاتا ہے۔ امارت اسلامیہ افغانستان کے ترجمان کے بیان کا خلاصہ یوں ہے: ’’افغانستان میں استعماری افواج کیخلاف حالیہ دنوں میں چندمسلسل تابڑ توڑ حملوں کے بعدہفتے کے دن (2014-01-18)  کابل میں امریکہ اورجارح ممالک کے اعلیٰ عہدیداروں پرفدائی حملہ ہوا،جس کے نتیجے میں متعدداستعماری اپنے اعمال کی سزابھگت گئے،تب امریکہ مجبورہوا،جس نے امارت اسلامیہ کوتجویزپیش کی کہ کابل انتظامیہ سے امن مذاکرات کریں، ہتھیارپھینک دیں،گویااس طرح امریکہ یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ امریکی استعمارافغانستان کے روشن مستقبل کیلیے مصروف عمل ہے؟ لیکن بیان میں’’ سیاہ گرد‘‘کے حالیہ وحشت کے بارے میں کچھ نہیں کہاگیا؟

ہم امریکی مطالبے کی پرزورتردیدکرتے ہیں، امریکہ واضح حقائق پرچشم پوشی کرناچاہتاہے اورافغانستان میں مسائل کی اصل جڑ سے کنارہ کشی کرتاہے، ہمارے ملک کاعظیم مسئلہ امریکی جارحیت اوراس سے رونماہونیوالاوحشت زدہ ماحول ہے،جوگذشتہ بارہ سال سے ہماری مظلوم عوام کوستارہاہے،اسی طرح امریکہ اپنے ان شہریوں کو جوہماری سرزمین اوردین کے دشمن ہیں اوریہاں استعماری اہداف کی حصول میں مصروف ہیں،انہیں ہماری ملک کی تعمیرنوکے اراکین کے طور پر متعارف کروانا چاہتا ہے۔

اگرامریکہ صحیح معنوں میں افغانستان میں امن وسکون کیلیے سرگرم عمل ہے،توسب سے پہلے ہماری سرزمین سے جارح فوجوں کومکمل طورپرنکال لے، افغانوں کو اپنے ارادروں اوراعتماد پرچھوڑدیں۔

اگرامریکہ مزید جنگ اورقبضہ گیری پرمصرہے،توہماری جانب سے بھی مزیدتابڑتوڑحملوں کاانتظارکرے، امارت اسلامیہ کی اپنے رب،اپنی عوام اورسرزمین کے حوالے سے بہت سی ذمہ داریاں ہیں،جنہیں سرانجام دینے میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریگی۔جب تک تمام غاصبوں کوملک سے بھگایانہ گیاہو،ملک میں اپنے عوام کی مرضی کیمطابق اسلامی حاکمیت قائم نہ کی گئی ہو اوراپنے دوعظیم جہاد کے شہداء کے ارمانوں کوپورا نہ کیاگیاہو،اس وقت تک ہم سے ہتھیارڈالنے کی اُمیدنہ کریں،بلکہ اپنی غلط پالیسیوں اوراستعماری اہداف کی تبدیلی پرکام کریں۔‘‘

علاوہ ازیں چونکہ اس سال امریکی افواج کے انخلاء کا اعلان کیا گیا ہے تو دوسری طرف اس خطرے کے پیش نظر کہ کہیں دوبارہ کابل حکومت پر امارت اسلامیہ کا جھنڈا لہرانے نہ لگ جائے تو اس کے تدارک بلکہ اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے انتخابات کا ڈھونگ رچایا جارہا ہے اور وہ لوگ افغان قوم پر مسلط کیے جارہے ہیں جن کا سوائے امریکی کاسہ لیسی کے اور کوئی کردار نہیں ہے۔ اس انتخابات میں کون کون حصہ لے رہا ہے؟ تو اس کی تفصیل میں ہمیں جانے کی ضرورت نہیں البتہ کچھ نام اوران کا کردار جاننا کافی ہے تاکہ اس ڈرامے کی اصل حقیقت واضح ہوجائے۔ اس حوالے سے میڈیا پر جورپورٹ آئی ہے اس کے یہ چند جملے ملاحظہ کریں:’’افغانستان میں پانچ اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔اس الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والا امیدوار موجودہ کٹھ پتلی صدر حامد کرزئی کی جگہ لے گا کیوں کہ صدرحامد کرزئی قانوناً تیسری مرتبہ اس عہدے کے لیے انتخاب میں حصہ لینے کا اہل نہیں رہا۔یہ انتخاب ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اس سال کے اختتام تک افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کو ملک چھوڑنا ہے اور انھیں افغانستان میں قومی سکیورٹی فورسز کی استعداد کا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدارتی الیکشن افغان فوج کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہوں گے کیونکہ اس انتخاب کے امیدواروں میں جنگی سردار اور 1990 کی دہائی کی خانہ جنگی میں حصہ لینے والے سابق گوریلا رہنما بھی شامل ہیں۔افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال اب بھی قابلِ اطمینان نہیں اور ہفتے کو ہی مسلح افراد کے حملے میں سابق وزیرِ خارجہ اور صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کے دو ساتھی ہلاک ہوئے ہیں۔عبداللہ عبداللہ عبداللہ 2009 کے صدارتی الیکشن میں حامد کرزئی کے قریب ترین حریف رہے تھے۔افغان ٹی وی کے مطابق ان دونوں افراد کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جو وہ انتخابی دفتر سے نکلے ہی تھے۔عبداللہ عبداللہ کے ترجمان سید فضل سنگ چرخی نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہویے کہا کہ’انتخابی مہم کے آغاز پر اس قسم کا واقعہ بری علامت ہے۔ اب یا تو سکیورٹی فورسز انتخابی مہم کے دوران تحفظ دینے کی اہل نہیں یا وہ اپنی ذمہ داری پوری دلجمعی سے ادا نہیں کر رہیں۔خیال رہے کہ عبداللہ عبداللہ وہ واحد صدارتی امیدوار ہے جس نے امریکہ کے ساتھ سکیورٹی کے دوطرفہ معاہدے کی علی الاعلان حمایت کی ہے۔اس معاہدے کے تحت ہزاروں امریکی فوجی 2014 میں انخلا کے بعد بھی افغانستان میں رہ سکیں گے اور تربیتی امور کے علاوہ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی معاونت کریں گے۔‘‘

اس رپورٹ میں جس عبداللہ عبد اللہ نامی شخص کا کو صدارتی امیدوار بتایا گیا ہے اس کے زندگی غلامی اور سیاہ کارناموں سے بھری پڑی ہے، یہ محض ایک امریکی مہرہ ہے، جس کامقصد امریکی مفادات کو محفوظ بنانا اور پروان چڑھانا ہے، جیسا کہ خود رپورٹ کے الفاظ سے نمایاں ہے کہ یہ واحد رہنما ہے جو افغانستان میں امریکی افواج کو موجود دیکھنا چاہتا ہے اور ’’انسداددہشت گردی‘‘ کے نام پر مزید ’’دہشت گردی‘‘ کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

گزشتہ دنوں میں امریکہ نے اپنا رعب اور اپنی جھوٹی فتح ظاہر کرنے کے لیے امارت اسلامیہ افغانستان کے بعض مجاہدین کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا اعلان کیا مقصد یہ تھا کہ اس طرح مجاہدین پر دباؤ بڑھ جائے گا اوردنیا پر ہماری برتری بھی واضح ہو جائے گی لیکن اصل حقیقت اس کے برعکس ہے، امریکہ تو خود ہی مجاہدین سے خوف زدہ ہے، ان کے فوجی افغانستان میں موت کے منہ میں پھنس چکے ہیں اور وہ جلد از جلد وہاں سے فرار ہونے کی کوششیں کررہے ہیں۔ امریکہ کے اس اقدام کو مجاہدین نے کتنا سنجیدہ لیا ہے یہ ان کے ایک بیان سے واضح ہوجاتا ہے جو امارت اسلامیہ کی طرف سے جاری کیا گیا ہے، اس اعلان میں کہا گیا ہے کہ: ’’بدھ کے روز۵فروری کوامریکی استعمارنے اعلان کیاکہ امارت اسلامیہ سے منسلک تین مجاہدین یحی حقانی،مولوی سید اور محمدعمرزدران کوبلیک لسٹ میں شامل کردیاگیاہے۔ہم امریکہ کی اس غیرمؤثرنمائشی پابندی کی مذمت کیساتھ ساتھ اسے فوجی میدان میں امریکی شکست اورناکامی کی سب سے واضح مثال تصورکرتے ہیں۔کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ امارت اسلامیہ سے منسلک مجاہدین کاامریکہ کیساتھ کسی قسم کے تجارتی تعلقات ہیں اورنہ ہی امریکی سودی بینکوں میں ان کے اکاؤنٹس ہیں،جن پراس نوعیت کی نمائشی پابندیاں اثرڈال سکتی ہیں۔حقیقت یہ ہیکہ افغانستان میں امریکی فوجی میدان میں شکست کھا چکی ہے اوراب اپنی فوجی شکست کاازالہ کرنے کے لیے اس نوعیت کا بے اہمیت پروپیگنڈہ کرواناچاہتاہے۔شکست خوردہ امریکیوں کوسمجھناچاہیے کہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین اس نوعیت کی پابندیاں اپنے لیے قابل فخرسمجھتے ہیں اور جن مجاہدین کے ناموں کوچندبرس قبل امریکہ نے بلیک لسٹ میں شامل کیا تھا،انہوں نے استعمارکیخلاف ہرکسی سے بہترین فوجی کاکرداراداکیااوردشمن کوفوجی میدان میں شدیددھچکہ دیاہے۔ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیںکہ اس طرح کی پابندیاں ہمارے مجاہدین کے جہادی عزائم اورسرگرمیوں پرکسی قسم کا اثرنہیں ڈال سکتیں، بلکہ مزید ان کے جہادی حوصلے اورثبات کا سبب بنتی ہیں۔آخرمیں اس بات کی یادآوری بھی ضروری ہے کہ تینوں مجاہدین افغانستان کے خوست اورپکتیکاصوبوں کے رہائشی ہیں، اور وہ اطلاعات بے بنیادہیںجن میں بعض کوپاکستانی شہری بتائے گئے تھے۔‘‘

جوں جوں امریکی افواج کے افغانستان سے نکلنے کے دن قریب ہوتے جارہے ہیں تو اسی رفتار سے کٹھ پتلی حکومت کے سرکاری اورفوجی اہلکار اس کا ساتھ چھوڑتے ہوئے امارت اسلامیہ کے ساتھ منسلک ہورہے ہیں کیوں کہ زمینی حقائق اسی رخ پر جارہے ہیں۔ اس حوالے صرف گزشتہ ماہ جنوری میں کتنی پیش رفت ہوئی ہے؟ یہ بات اس ایک خبر سے نمایاں ہوجاتی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ :’’کٹھ پتلی انتظامیہ کے 268 سیکورٹی اہلکاروں نے ملک کے مختلف صوبوں میں امارت اسلامیہ کے دعوت وارشادکمیشن کے کارکنوں کی دعوت کولبیک کہتے ہوئے مجاہدین کے سامنے ہتھیارڈال دیے۔تفصیل کیمطابق ماہ جنوری میں کابل انتظامیہ کے268 فوجیوں،پولیس اہلکاروں،مقامی جنگجوؤں اوردیگرمحکموں سے منسلک اہلکارحقائق کاادراک کرتے ہوئے امارت اسلامیہ کی مخالفت سے دستبردارہوکرمجاہدین سے آملے۔‘‘

یہ افغانستان میں جاری حالات کا ایک نقشہ ہے، اور اس نقشے سے جو تصویر بن رہی ہے وہ بھی آہستہ آہستہ واضح ہوتی چلی جارہی ہے، کون فاتح ہے اور کون شکست خوردہ؟ کون ذلیل ورسوا ہوا اور کون استقامت کی چٹان بن کر ڈٹ رہے؟ یہ حقیقت کھلی آنکھوں بہت جلد نظر آنے والی ہے ۔ بالکل ایسا ہی ایک نقشہ بننے چلا ہے جسے ایک شاعر نے یوں تعبیر کیا ہے:

ہر جابر وقت سمجھتا ہے محکم ہے مری تدبیر بہت

پھر وقت اسے بتلاتا ہے تھی کند تری شمشیر بہت

دشمن سے کہو اپنا ترکش چاہے تو دوبارہ بھر لائے

اس سمت ہزاروں سینے ہیں اس سمت اگر ہیں تیر بہت

خون شہدا کی تابانی ہر لمحہ فزوں تر ہوتی ہے

جو رنگ وفا سے بنتی ہے ہوتی ہے حسیں تصویر بہت

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor