Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

عزت…مگر کس کیلئے؟ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 478 - Mudassir Jamal Taunsavi - Izzat magar kissk liye

عزت…مگر کس کیلئے؟

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 478)

’’اللہ تعالیٰ ہی کے لیے تو ہے عزت، اوراس کے رسول کے لئے اور ایمان والوں کے لئے، لیکن پھر بھی منافقین نہیں سمجھ پاتے‘‘

یہ قرآن کریم کی ایک آیت مبارکہ کا مضمون ہے، جس میں وضاحت کے ساتھ اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ کفار اورمنافقین کے لیے کوئی عزت نہیں، اورنہ ہی وہ عزت کی حقیقت کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اسی لیے وہ یہ بھی نہیں جان سکتے کہ حقیقی معزز کون لوگ ہیں؟ خاص طور سے منافقین تواس بارے میں بہت بڑے دھوکے میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ہی منافقت کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ کفار کی ظاہری اور عارضی شان و شوکت دیکھ کر اسی کو عزت سمجھ لیتے ہیں اورپھر ان سے اپنی عزت کی بھیک مانگنے کے لئے اہل ایمان سے مخلصانہ رشتہ توڑ کر کفار کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں۔ چنانچہ منافقین کو ڈانٹتے ہوئے کہا گیا ہے:

ایبتغون عندھم العزۃ؟ فان العزۃ للہ جمیعا

کیا یہ لوگ اُن کافروں کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں؟ حالانکہ طے شدہ بات یہ ہے کہ ساری کی ساری عزت تو صرف اللہ تعالی ہی کے لئے ہے!!

اچھا یہاں ایک اور بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ عزت ایک ایسی چیز ہے کی جسے دنیا کا ہر انسان چاہتا ہے، مومن بھی عزت چاہتا ہے اورمنافقین وکفار بھی عزت کے خواہش مندہوتے ہیں، لیکن عزت ہے کیا؟ اورملتی کسے ہے؟ اس بارے میں اہل ایمان کا گروہ ایک طرف ہے اورمنافقین وکفار کا گروہ دوسری طرف، چنانچہ ہرفریق اپنے طور پر اس کا جوجواب حاصل کرتا ہے تو اسی پرعمل کرتا ہے۔پھر فرق یہاں پیداہوتاہے کہ اہل ایمان تو اس سارے معاملے کو وحی الہی کی روشنی میں دیکھتے، پڑھتے اورسنتے سمجھتے ہیں جس سے انہیں درست رہنمائی مل جاتی ہے جبکہ منافقین اورکفار محض ظاہری حالات دیکھ کر اس کافیصلہ کرتے ہیں جس سے وہ خود بھی دھوکے میں جاپڑتے ہیں اوردوسروں کو بھی دھوکہ دیتے ہیں۔

عربی زبان میں عزت کے متعدد معانی ہیں: قوت وشوکت، غلبہ و اقتدار، اور ارجمندی…اور عزیز وہ ذات کہلاتی ہے جس میں یہ صفات اپنی حقیقت وماہیت، وسعت وجامعیت اور کمال ذاتی کے لحاظ سے پائی جائیں اورایسی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، اسی لئے قرآن وسنت نے بتایا کہ ’’العزیزجل جلالہ‘‘اللہ تعالی کے اسمائِ حسنیٰ میں سے ہے، جن کے بارے میں اہل ایمان کو صاف صاف کہہ دیاگیا ہے:

’’اللہ تعالی ہی کے لئے ہیں اچھے اچھے نام، چنانچہ اُس کو انہی ناموں سے پکارا کرو، اوراُن لوگوں کی رَوِش چھوڑ دو جو اُس کے ناموں میں کجروی اختیار کرتے ہیں‘‘(القرآن)

الغرض حقیقی، کامل اورذاتی عزت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، وہ جسے چاہے عزت عطاء کردے کوئی اسے پوچھ نہیں سکتا اوروہ جسے چاہئے عزت سے محروم کرکے ذلیل کردے کوئی اس کے اس فیصلے پرلب کشائی نہیں کرسکتا۔ حقیقی شان وشوکت کامالک بھی وہی ہے اور حقیقی اقتدار بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے، جب ایسا ہے تو اب یہ بھی طئے ہوا کہ وہ جس کو عزت، شان وشوکت اورغلبہ دے گا وہی معزز کہلائے گااوروہ جس کو اس سے محروم کردے تو اسے کوئی بھی عزت نہیں دے سکتا۔

اہل دنیا کی کم عقلی یہ ہے کہ انہوں نے زرومال، قوت وتعدادکی کثرت کا نام عزت رکھاہوا ہے اور یہ ایک ایسابت ہے جو اہل دنیا کو سب سے زیادہ پیارا ہے، حتیٰ کہ اسی پر اپنے ایمان کو بھی خوشی خوشی قربان کردیتے ہیں۔

اس کے برعکس ایمان والوں کو یہ بتایا گیاکہ عزت کامالک اللہ تعالی ہے اوراس کے فیصلہ یہ ہے کہ اس نے یہ عزت اپنے رسولوں اورایمان والوں کو دی ہے، جب تک اہل ایمان ، اپنے ایمان پر قائم ہیں کوئی ان سے یہ عزت نہیں چھین سکتااورپھر آخرت میں تو اس کا ایسا ظہور ہوگا کہ سب منافقین اورکفارکی آنکھیں پھٹ جائیں گی اوروہ اس پر بے حد پچھتائیں گے مگر وہاں کی پشیمانی ان کے کچھ کام نہ آئے گی۔

آئیے اب دیکھتے ہیں کہ عزت حاصل کرنے کے لیے کن بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے؟

(۱)ایمان کامل، یعنی اس بات پر پختہ یقین کہ عزت کا مالک اللہ تعالی ہے، اس کے سوا کوئی عزت کامالک نہیں ہے، صرف وہی عزت کا سرچشمہ ہے، اسی کی فرماں برداری سے عزت ملے گی، اس کی نافرمانی سے کبھی بھی عزت نہیں مل سکتی۔ جب بھی کفارومنافقین کی عارضی شان وشوکت اورغلبہ واقتدار پریشانی کا باعث بنے تو دل سے پکار کرکہہ دیں:

’’اے اللہ! اے بادشاہت کے مالک! تو جسے چاہے باداشاہت دیدے اور جس سے چاہے بادشاہت چھین لے، اور توجسے چاہے عزت دیدے اورجسے چاہے ذلیل کردے، خیر کے سارے خزانے آپ ہی کے پاس ہیں اور آپ ہی ہر چیز پرقادر ہیں!‘‘(سورہ آل عمران)

(۲)یقین کامل اس بات کا کہ ظالموں، کافروں اورمنافقوں کو جوظاہری عزت حاصل ہے وہ بہت جلد زوال کاشکار ہوجائے گا، وہ حقیقی عزت نہیں ہے، اوروہ عزت ان کے لیے بھلائی کاسبب نہیں ہے بلکہ وہ تو خود ان کے لیے بھی آزمائش ہے اورفتنہ کاشکار ہوجانے والوں کے لئے بھی آزمائش ہے۔ قرآن کریم نے بتایا ہے:

’’ان کفار نے اللہ تعالی کے ماسوا اپنے معبود بنارکھے ہیں تاکہ انہیں عزت مل جائے، حالانکہ ہرگز ایسا نہ ہوگا، (بلکہ) عن قریب یہ کفار ان کی عبادت سے انکار کریں گے اوران کے مخالف ہوجائیں گے‘‘(سورہ مریم)

حضرت شعیب علیہ السلام کے واقعے میں دیکھیں کہ ان کی قوم کو بھی اسی ظاہری شان وشوکت نے دھوکے میں ڈال دیاتھا اورکہنے لگے تھے:

’’اے شعیب! تم جوباتیں کہتے ہوہم ان میں سے اکثر کو کچھ نہیں سمجھتے، ہم تو تمہیں اپنے میں بہت ہی کمزور دیکھتے ہیں، اب اگر تمہاری برادری نہ ہوتی تو ہم تمہیں پتھر مارمار کر ختم کرچکے ہوتے،(کیوں کہ) ہماری نظر میں تمہاری کوئی عزت نہیں ہے‘‘

یہاں قوم کا یہی تو گھمنڈ تھا کہ حضرت شعیب علیہ السلام اکیلے ہیں، اور اگر ان کے کچھ فرماں بردار ہیں بھی تو وہ تعداد میں بہت ہی تھوڑے ہیں، اس کے برعکس ہماری تعداد بھی زیادہ ہے، معیشت وسیاست پر بھی ہمارا کنٹرول ہے، تو ہم ہی عزت والے ہوئے ۔

اس کے جواب میں پھر حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں یاددِلایا:

’’اے میری قوم! کیا تم پر میری برادری کا خوف اللہ تعالیٰ سے زیادہ ہے؟اور(شاید اسی لئے) تم نے اسے پسِ پشت ڈال دیا ہے؟ یقین سے جان لو! کہ تمہارے تمام کرتوت میرے رب کی گرفت میں ہیں! ‘‘

(۳)اس بات پرپوری طرح شرح صدر کہ دینِ اسلام کے ساتھ جڑے رہنے میں ہی عزت ہے اوراس سے کٹ جانے میں سوائے ذلت کے اورکچھ ہاتھ نہیں آتا، حالات جیسے بھی ہوں، انجام کار تمہارا ہی بول بالا ہوگا۔ اس لیے کہا گیا:

سستی مت دِکھاؤ اور غم زدہ ہوکر دل نہ ہارو! اگر تم ایمان والے ہوتوتم ہی بلند مرتبہ پاؤ رہو گے!

یادہے کہ یہ آیت اس وقت اتری جب مسلمان غزوہ احد کا تازہ صدمہ اُٹھائے ہوئے تھے؟ یہ پیغام تھا کہ حالات کا رُخ یکساں نہیں رہتا، پھر یہ دنیا تو ہے ہی آزمائش کی جگہ اوریہ آزمائش تو اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس دنیا میں آخری سانس بھی باقی ہے ، اس لیے ہر حال میں ہمیشہ یہی سوچنا کہ اگر ایمان سلامت ہے تو بلندمرتبہ تمہارا ہی ہے ، اس لیے کبھی بھی سست نہ بن جانا اورکبھی بھی غم زدہ ہوکر دل ہار نہ بیٹھنا کیوں کہ جو غم کوسینے سے لگاکر ہمت ہاربیٹھے وہ منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔

اس کے برعکس یہ بھی واضح کیاگیا کہ کفار کی آج کی عزت سے دھوکہ نہ کھاؤ، ان کایہ انجام دیکھو کہ جب اسے جہنم کا دردناک اوردائمی عذاب چکھایاجائے گا تو کہا جائے گا:چکھ!(اس عذاب کا مزا) تو بڑاعزت والا اورسردار آدمی ہے!

بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ بات انہیں عاردلانے کے لیے کہی جائے گی کہ تو دنیا میں بڑی عزت اور سرداری والا بنتاتھا اب اس عذاب کا مزا چکھ اوردیکھ کہ تیری وہ عزت اورسرداری کہاں گئی؟ اورکیا وہ عزت اور سرداری اب تیرے کچھ کام آسکتی ہے؟

(۴) کفارکے عیش وعشرت اورآزادانہ گھومنے پھرنے سے دھوکہ مت کھائیے۔ قرآن کریم نے بڑی سختی کے ساتھ اس دھوکے سے بچنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا ہے:

’’اے نبی! ان کافروں کا دنیا کے ملکوں میں گھومنا پھرنا تم کو دھوکے میں مبتلا نہ کردے، یہ تو تھوڑا سافائدہ ہے ، پھراِن کا ٹھکانہ دوزخ ہے اوروہ بہت ہی بُراٹھکانہ ہے‘‘ (سورہ آل عمران)

اگرچہ بظاہر خطاب نبی کریمﷺ سے ہے، حالانکہ ان کے بارے میں تو یہ خطرہ نہیں تھا کہ وہ ایسے کسی دھوکے میں مبتلاہوں گے ، اس لیے اصولی طور پر یہ خطاب امت کے لیے ہے اورکسی کو تنبیہ کرنے کا یہ عمدہ اور موثر ترین طریقہ ہے۔

اس لیے ایک حقیقی مومن کو صرف حقیقی عزت پر نظر رکھنی چاہئے اوردنیوی شان وشوکت رکھنے والے کافروں اوران کے چمچہ گیروں سے کچھ مرعوب نہ ہونا چاہئے۔ اصحاب حکمت لوگوں کا کہنا ہے کہ: اگر تم لافانی عزت چاہتے ہو تو فانی عزت سے دھوکہ نہ کھاؤ، اللہ تعالی نے آسمان وزمین کی تخلیق سے پہلے یہ فیصلہ فرمادیا ہے کہ جو بھی اس کی اطاعت کرے گا وہی عزت مندہوگا اورجوکوئی اس کی نافرمانی کرے گا وہ ضرور ذلیل ہوگا، چنانچہ اُس نے عزت کو طاعت کے ساتھ اورذلت کو معصیت کے ساتھ ایسے جوڑ دیا ہے جیسے آگ کے ساتھ جلانے کو لازم کیا ہے۔ پس جو اس کی اطاعت نہیں کرتا اس کے لئے کوئی عزت نہیں ہے اورجو اس کی اطاعت کرتا ہے اس کے لیے کوئی ذلت نہیں، کوئی ذلت نہیں!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor