Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خزانۂ رحمت (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 480 - Mudassir Jamal Taunsavi - Khazan e Rahmat

خزانۂ رحمت

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 480)

خطیب بغدادی نے ایک جگہ لکھا کہ :’’ درود شریف کثرت سے پڑھنے میں جو امتیاز محدثین کرام کو حاصل ہے وہ اورکسی کو حاصل نہیں اوراسی سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ قیامت کے روز نبی کریمﷺ کا سب سے زیادہ قرب بھی انہی کو حاصل ہوگا جیسا کہ ایک حدیث مبارک میں اس کو بیان کیا گیا ہے‘‘۔

اس پر علامہ سلیمان مالکی نے یہ عجیب بات لکھی ہے کہ : خطیب بغدادی کی یہ بات خاص علماء کے لحاظ سے درست ہوسکتی ہے ورنہ غیر علماء میں صوفیاکرام اورمحبین رسول کی ایک ایسی جماعت بھی موجود ہے جن کا فرائض کے علاوہ مشغلہ ہی درود شریف پڑھنا ہے۔ یعنی وہ ایسے عشاق ہیں جو اسلامی فرائض اداء کرنے کے بعد کسی اوروظیفے وغیرہ میں مشغول نہیں ہوتے بلکہ ان کا تمام ترمشغلہ اورمستقل وظیفہ صرف ایک ہے اوروہ ہے: درود شریف!

اس کی وجہ ایک تو انتہاء درجے کی محبتِ رسولﷺ ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے بعد اگرکسی کے سب سے زیادہ احسانات ہیں تو وہ جناب نبی کریمﷺ کی ذات گرامی قدر ہے، اوردوسری ایک وجہ وہ حدیث ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ:

’’ قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے قریب وہ ہو گا جو سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجنے والا ہو گا۔‘‘ [رواہ الترمذی]

اوریہ بات واضح ہے کہ قیامت کے دن رسول اللہﷺ کے قرب سے بڑھ کر کیا ہوسکتا ہے؟؟

اللہ تعالیٰ کا بے حد احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایمان کی دولت سے نوازا اور جناب رسول اللہﷺ کی امت میں پیدا فرمایا اور آپﷺ پر درود شریف پڑھ کر بے بہاخزانوں تک پہنچنے کا راستہ عنایت فرمایا۔ الحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات

درود شریف تو بلاشبہ رحمتوں، برکتوں اورمغفرتوں کاخزانہ ہے۔ فقط ایک مرتبہ درود شریف پڑھنے پر اللہ تعالیٰ کی دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اُس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔‘‘ [ مسلم : ۸۰۴]

ایک مرتبہ درود شریف پڑھنے پر دس گناہ معاف ہوتے ہیں اور دس درجات بلند کردیے جاتے ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اُس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اُس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے اور اُس کے دس درجات بلند کردیتا ہے۔‘‘

درود شریف کثرت سے پڑھا جائے تو پریشانیوں سے نجات ملتی ہے۔ حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک مرتبہ رسول اللہﷺ سے عرض کیا:

’’اے اللہ کے رسول ! میں آپ پر زیادہ درود پڑھتا ہوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے کہ میں آپ پر کتنا درود پڑھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَا شِئتَ، جتنا چاہو۔ میں نے کہا : چوتھائی حصہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَا شِئتَ ، فَاِن زِدتَّ فَہْوَ خَیرلَّک،جتنا چاہواور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا : آدھا حصہ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَا شِئتَ ، فَاِن زِدتَّ فَہْوَ خَیرلَّک جتنا چاہو اور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا : دو تہائی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَا شِئتَ ، فَاِن زِدتَّ فَہْوَ خَیرلَّکجتنا چاہو اور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔میں نے کہا : میں آپ پر درود ہی پڑھتا رہوں تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تب تمہیں تمہاری پریشانی سے بچا لیا جائے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔

ایک دوسری روایت میں ہے :تمھیں اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت کی پریشانیوں سے بچا لے گا۔‘‘ [ ترمذی : ۷۵۴۲ ]

اگرچہ چند مکروہ اوقات کو چھوڑ کر باقی ہر وقت درود شریف پڑھا جاسکتا ہے لیکن کچھ مواقع خاص ہیں ان میں درود شریف پڑھنا مسنون ہے ، جس کی وجہ سے اس درود شریف کی قدروقیمت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان میں سے کچھ تو مشہور ہیں، جبکہ کچھ دیگر اہم مواقع درج ذیل ہیں :

 دعا سے پہلے:

 حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے ہوئے سنا ، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’اِس نے جلد بازی کی ہے۔ پھر آپ نے اُسے بلایا اور فرمایا :تم میں سے کوئی شخص جب نماز پڑھ لے تو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف وثنا بیان کرے ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے ، اس کے بعد جو چاہے اللہ تعالیٰ سے مانگے۔‘‘ [ ابو داود : ۱۸۴۱ ]

 اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :

 ’’بے شک دعا آسمان اور زمین کے درمیان رُکی رہتی ہے اور کوئی دعا اوپر نہیں جاتی یہاں تک کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں۔‘‘ [ ترمذی : ۶۸۴]

تذکرۂ رسول کے وقت:

 جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جائے تو ذکرکرنے اور سننے والے دونوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا چاہیے۔

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :’’اُس آدمی کی ناک خاک میں ملے جس کے پاس میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا۔‘ ‘[ترمذی : ۵۴۵۳]

 نیز ارشاد فرمایا :’’ بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘ [ ترمذی : ۶۴۵۳]

 اذان کے بعد:

 ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :’’جب تم مؤذن کو سنو تو تم بھی اسی طرح کہو جیسے وہ کہے ، پھر مجھ پر درود بھیجو ، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اُس پر دس مرتبہ رحمتیں بھیجتا ہے۔‘‘ [مسلم: ۴۸۳]

  مسجد میں داخل ہوتے اور اس سے نکلتے ہوئے:

 مسجد میں داخل ہوتے اور اس سے نکلتے ہوئے بھی، بسم اللہ پڑھنے کے بعد درود شریف اور پھر مسنون دعا پڑھنی چاہیے۔‘[ السنن الکبری للنسائی ]

  جمعہ کے روز:

 حضرت اوس بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی بعض خصوصیات ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا :

 ’’ تم اس (جمعہ کے) دن مجھ پر زیادہ درود بھیجا کرو ، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ (قبر میںآپ کا جسدِ اطہر ) تو بوسیدہ ہو جائے گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر یہ بات حرام کردی ہے کہ وہ انبیا کے جسموں کو کھائے۔‘‘ [ ابو داود :۷۴۰۱ ]

صبح وشام:

 حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جو آدمی صبح کے وقت دس مرتبہ اور شام کے وقت دس مرتبہ مجھ پر درود بھیجتا ہے ، اسے قیامت کے دن میری شفاعت نصیب ہو گی۔‘‘ (الترغیب والترہیب)

 درود شریف پڑھنے کے فوائد:

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ نے ’’جلاء الافہام ‘‘ کے نام سے درود شریف کے فضائل ومسائل پر ایک جامع کتاب تحریرکی ہے، اس کتاب کے آخر میں درود شریف پڑھنے کے سوکے قریب فوائد ذکر کئے ہیں ، ان میں سے چند اہم فوائد پیش خدمت ہیں :

  درود شریف پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ درود شریف پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کی دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔دس گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔دس درجات بلند کردیے جاتے ہیں۔دعاسے پہلے درود شریف پڑھنے سے دعا کی قبولیت کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اذان کے بعد کی مسنون دعا سے پہلے درود شریف پڑھا جائے تو قیامت کے روز آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہوگی۔درود شریف کثرت سے پڑھنے سے پریشانیاں ٹل جاتی ہیں۔ قیامت کے روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب نصیب ہو گا۔ درود شریف پڑھنے سے مجلس بابرکت ہو جاتی ہے۔جب انسان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجتا ہے تواللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اس کی تعریف کرتا ہے۔ درود شریف پڑھنے والے شخص کی عمر اس کے عمل اور رزق میں برکت آتی ہے۔ درود شریف کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ درود شریف پڑھنے سے دل کو ترو تازگی اور زندگی ملتی ہے۔

اگر ان تمام فوائد کوحاصل کرنا ہے اوریقینا ہرمسلمان حاصل کرنا چاہے گا تو دیر کس بات کی؟ رحمت کایہ خزانہ تو آپ کے پاس ہے ہی، بس اس کوکام میں لائیے اوراپنے اوقات کو ضائع کرنے کے بجائے درود شریف پڑھنے میں خرچ کیجئے ،آج کا بویاکل قیامت کو جب سامنے آئے گا تب پتہ چلے گا یہ نعمت کتنی بڑی تھی؟؟ اوراس میں رحمت کے کیسے کیسے خزانے پوشیدہ تھے۔ اورہاں یہ بھی یاد رہے کہ درود شریف جس کا آغاز ہی اللہ تعالی کے پاک نام سے ہوتا ہے ایک اعتبار سے ذکر بھی ہے اورکہنے والے نے کیا خوب کہا ہے:

ذکر کن، ذکر، تاترا جان است

پاکی دل زذکرِ رحمان است

جب تک جان میں ایک زندگی باقی ہے بس ذکر کرتے رہو، کیوں کہ دل کی پاکی تو اللہ تعالی کے ذکر سے ہی وابستہ ہے!

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor