Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مساجدآباد کیجئے! (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 481 - Mudassir Jamal Taunsavi - Masajid Aabad kijiye

مساجدآباد کیجئے!

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 481)

مسجد مسلمانوں کا ایک روحانی اوردینی مرکز ہے، جو شخص مسجد سے جس قدر لگاؤ رکھتا ہے اسی قدر اُسے روحانی بالیدگی اورسکون نصیب ہوتا ہے، اس کی روحانی نشوو نما جاری رہتی ہے اوریہی روحانی تربیت اس کے ظاہرکو بھی نورسے آراستہ کردیتی ہے۔

ایک حدیث مبارک میں بیان ہوا ہے کہ:

احب البلاد الی اللّٰہ مساجدھا

اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب جگہ اُس کی مسجدیں ہیں۔( صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ)

مسجد کا لغوی معنی ہے سجدے کی جگہ اور سجدہ سب سے افضل عبادت نماز کا ایک اہم ترین رُکن ہے، اب ظاہر ہے کہ جس جگہ افضل ترین عبادت اداء کی جائے اورجہاں رب تعالیٰ کی عظمت وکبریائی کا اعتراف کرتے ہوئے انسان اپنی جبینِ نیاز کو جھکا دے تو یقینا وہ جگہ دیگر مقامات کے مقابلے میں امتیازوخصوصیت حاصل کرلیتی ہے۔

مسجد میں فرشتوں کی صحبت اوران کے پاکیزہ اخلاق کاپرتونصیب ہوتا ہے،جو شخص جس قدر مسجد کے آداب کالحاظ رکھتا ہے، وہاں روحانی تربیت لینے کی نیت رکھتا ہے تو اسی قدر وہ اس چشمۂ فیض سے سیراب ہوتا ہے ۔

حضرات صحابہ کرام اوراکابرامت پر یہ حقیقت بالکل روزِ روشن کی طرح آشکارا تھی اس لیے ان کے ہاںمساجد کو نیک اعمال سے آباد رکھنااورزیادہ تروقت مسجد میں گزارناہی اچھا لگتا تھا، وہ خود بھی اس پر عمل پیرا ہوتے تھے اوراپنے اولاد کو بھی اس کی تربیت دیتے تھے۔

مشہور صحابی حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ایک بار اپنے بیٹے سے ارشاد فرمایا:

یابنی! لیکن المسجد بیتک، فانی سمعت رسول اللّٰہﷺ یقول:المساجد بیوت المتقین، فمن یکن المسجد بیتہ یضمن لہ الروح والرحمۃ و الجواز علی الصراط الی الجنۃ

میرے پیارے بیٹے! یوں لگنا چاہئے کہ مسجد تمہارا گھر ہے کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: مسجدیں متقی لوگوں کا گھر ہیں، چنانچہ جس شخص کے لیے مسجد گھر کادرجہ اختیار کرلیتی ہے تو اسے آرام ، سکون ،رحمت اور پل صراط پر کامیابی سے گزرکر جنت میں پہنچ جانے کی ضمانت دیدی جاتی ہے

مسجد کو گھربنالینے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں رہائش اختیار کرلی جائے بلکہ مقصود یہ ہے کہ جس طرح انسان کو گھر میں ایک خاص قسم کا آرام اورسکون محسوس ہوتا ہے اورضروری کاموں سے فراغت کے بعد انسان پہلی ترجیح گھر کو ہی دیتا ہے تو اسی طرح انسان کی یہ کیفیت بن جائے کہ اسے مسجد میں روحانی آرام وسکون محسوس ہواور ضروری کاموں کے علاوہ اسے زیادہ تروقت مسجد میں گزارنامحبوب بن جائے، یوں جب وہ زیادہ تر وقت مسجد میں نیک اعمال کرتے ہوئے گزارے گا تو گویا اس نے مسجد کو اپنا گھر بنالیا۔

اس سے واضح ہوا کہ مسلمان کا مسجد سے تعلق محض فرائض کی ادائیگی تک محدودنہ رہنا چاہئے بلکہ فرائض کی ادائیگی کے اوقات کے علاوہ بھی مسجد کو قرآن کریم کی تلاوت، ذکر ومناجات اور دیگر نیک اعمال سے آباد رکھا جائے جو حقیقی مسلمان کی اصل شان ہے اوراس کے تقوی کا تقاضا ہے۔

مسجد میں عبادت کے لیے جانا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قدر محبوب عمل ہے کہ ہربار اسے خاص اجرعطاء فرماتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشادفرمایا:

من غدا الی المسجد او راح الی المسجد اعد اللّٰہ لہ فی الجنۃ نزلا کلما غدا او راح

جو شخص صبح مسجد کی طرف جاتا ہے یاشام کو تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں خاص اکرام تیار کراتے ہیں اورایسا ہربار ہوتا ہے یعنی جب جب بھی وہ صبح یا شام مسجد کی طرف جائے گاتواس کے لیے یہ عزت افزائی کا سامان تیار کردیا جاتا ہے۔

حضرت سعید بن مسیب جو مشہور تابعی ہیں ، بڑے اونچے درجے کے فقیہ ومحدث اور مقتدائے دین تھے۔ ان کا فرمان ہے کہ:

’’اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے مسجد کے ستون کی حیثیت رکھتے ہیں، فرشتے اُن کے ہم نشین ہوتے ہیں، اگروہ کبھی اُن کو نہ پائیں تو تلاش کرتے ہیں، اگر وہ بیمار ہوجائیں تو یہ فرشتے ان کی تیمارداری کرتے ہیں اوراگر وہ کسی حاجت وضرورت سے پریشان ہوں تویہ فرشتے اُن کی مدد کرتے ہیں‘‘

فرشتوں کی یہ صحبت ومعیت اوران کے پاکیزہ انفاس کی خوشبوئیں اُسی خوش بخت انسان کو ملتی ہیں جو ان فرشتوں کے ساتھ وقت بِتاتا ہے، اورعبادات وپاکیزہ ماحول کے اعتبار سے فرشتوں کی مشابہت اختیارکرتا ہے کیوں کہ فرشتے خود بھی پاک ہیں اوران کاکام محض اطاعت ہے، وہ گناہوں سے دور ہوتے ہیں، چنانچہ مسجد میں زیادہ وقت گزارنے والا بھی پاکیزہ ماحول میں رہتا ہے، بہت سے گناہوں سے بچ جاتا ہے اور عبادت میں مشغول رہتا ہے تو یوں یک گونہ اسے فرشتوں کی مشابہت حاصل ہوتی ہے تب یہ فرشتے ہی اس کے دوست بن جاتے ہیں اورجن مواقع پر دوست کام آنے چاہئیں یہ فرشتے اللہ تعالی کی اجازت سے اس کے کام آتے ہیں۔

مسجد میں وقت گزارنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اگر انسان عبادت نہ بھی کرے تب بھی وہ اُن بہت سارے گناہوں سے خودبخود بچ جاتا ہے جو باہر اورخاص کربازار وغیرہ میںوقت گزارنے کی وجہ سے انسان کو چمٹ جاتے ہیں۔ حضرت عبدالرحمن بن معقل فرماتے ہیں کہ:

کنانتحدث ان المسجد حصن حصین من الشیطان

’’ہم اس بات کوباہم بیان کیا کرتے تھے کہ شیطان سے بچاؤ کے لیے مضبوط ترین قلعہ مسجد ہے‘‘

مسجد سے باہر کے ماحول میں بدنظری، بدکلامی ، غیبت، فریب، فضول یاوہ گوئی، گالم گلوچ، وغیرہ جیسے بُرے افعال ہمارے معاشرے کی روٹین بن چکے ہیں، جبکہ مسجد میں وقت بتانے سے یقینا ان گناہوں سے بچاؤ ہو جاتا ہے۔

مسجد اس دنیا میں اللہ تعالی کا گھر کہلاتی ہے، کیوں کہ وہ اللہ تعالی کی عبادت کاخاص محور ومرکز ہے، چنانچہ جو شخص دنیا میں مسجد سے دل لگاتا ہے تو اللہ تعالی اسے قیامت کے دن اپنے عرش کا سایہ نصیب فرمائیں گے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کو یہ بات تحریر فرمائی تھی کہ:

ان فی ظل العرش رجلاقلبہ معلق فی المساجد من حبھا

’’بلاشبہ عرش کے سائے میں ایک وہ نوجوان بھی ہوگا جس کا دل مساجد کی محبت کی وجہ سے ان کے ساتھ اَٹکا رہتا ہے‘‘

اسی سے ملتی جلتی بات حضرت عمررضی اللہ عنہ نے بھی ارشاد فرمائی ہے کہ:

المساجد بیوت اللّٰہ فی الارض و حق علی المزور ان یکرم زائرہ

’’مسجدیں زمین پر اللہ تعالی کاگھر ہیں اور ہر گھر والے پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھر آنے والے کااکرام کرے۔‘‘

مسجدیں مسلمانوں کی تعلیمی درسگاہیں بھی ہیں، آج بھی اگرچہ دینی مدارس وجود میں آچکے ہیں لیکن جمعہ کے خطبات اور علماء کرام کے درس قرآن یا درس حدیث کے عنوان سے اب بھی تعلیمی سلسلے جاری رہتے ہیں، ان تعلیمی حلقوں میں شرکت ایک بڑے اجر وثواب کا عمل ہے۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے تو یہاں تک روایت ہے کہ انہو ں نے فرمایا:

مامن رجل یغدو الی المسجد لخیر یتعلمہ او یعلمہ الا کتب لہ اجرمجاہد لاینقلب الاغانما

’’جو شخص بھی مسجد کی طرف خیرکی کوئی بات سیکھنے یا سکھانے جاتا ہے تو اس کے لیے غنیمت حاصل کرنے والے مجاہد کااجر لکھاجاتا ہے‘‘

یہ بھی واضح رہنا چاہے کہ مسجد میں جانا عبادت کی غرض سے ہوناچاہے، سیرسپاٹے کے لیے جانا کوئی حیثیت نہیں رکھتاجیسا کہ آج کل بہت سے لوگ بہت سی مساجد میں محض ایک تفریح گاہ کی حیثیت سے جاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اسے وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ:

من توضأ فاحسن الوضوء ثم اتی المسجد لیصلی فیہ کان زائراللّٰہ وحق علی المزوران یکرم زائرہ

’’جو شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد میں نماز پڑھنے کی غرض سے اس کی طرف روانہ ہوتو وہ اللہ تعالی کی زیارت کرنے والا شمار ہوگا اور میزبان پر اپنے مہمان زائر کااکرام تو ضروری ہوتا ہے‘‘

نوٹ:مضمون میں موجود تمام روایات مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الزہد ، باب ماجاء فی لزوم المساجد سے ماخوذ ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor