Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سلام ہو آپ پر! (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 482 - Mudassir Jamal Taunsavi - Salam ho Aap per

سلام ہو آپ پر!

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 482)

اسلام اورکفر دو الگ الگ حقیقتیں ہیں، جو محض فرضی چیز نہیں بلکہ اعتقادی اورعملی ہر سطح پر ان کا ایک وجود ہے، اوران میں سے ہر حقیقت کے ساتھ متصف افراد بھی موجودہیں جس سے دو طبقے وجود میں آتے ہیں:

مسلمان

کافر

جس طرح اسلام اور کفر میں یکجائی اوربرابری نہیں ہوسکتی بلکہ ہرایک دوسرے کے خاتمے اورنقصان کو چاہتا ہے بالکل اسی طرح ان سے متصف دونوں طبقات میں بھی برابری نہیں ہوسکتی اوران میں سے ہر ایک دوسرے طبقے کے خاتمے اور نقصان کے لیے کوشاں رہتا ہے ۔ بقول علامہ اقبال:

 ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی

یہ سب اللہ تعالی کی طرف سے ایک آزمائش ہے، کون سے حق سے وفاداربنتا ہے اوراس کے لیے سب کچھ قربان کرسکتا ہے اورکون باطل کا وفاداربنتا ہے اوراس پرمرمٹتا ہے۔ سورہ محمد(ﷺ) میں بتایا گیا:

’’اگر اللہ تعالی چاہتے تو ان(کفار) سے خود ہی بدلہ لے لیتے لیکن اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کے ذریعے تمہارا امتحان لینا چاہتے ہیں(اورامتحان کانتیجہ پہلے سے بتادیتے ہیں کہ) جو اللہ تعالی کی راہ میں مارے گئے تو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا، جلدی انہیں راہ دِکھائے گا اوران کا حال درست کردے گا اورانہیں اس جنت میںداخل کرے جس کی پہچان انہیں کرادی ہے۔ چنانچہ اے ایمان والو! تم اللہ تعالی کے (دین کے) مددگار بنو گے تو اللہ تعالی تمہاری مدد فرمائے گا اورتمہیں ثابت قدمی دے گا اورجو کفر اختیارکئے ہوئے ہیں ان کے لیے بربادی ہے اور اللہ تعالی ان کے اعمال برباد کردے گا‘‘

سبحان اللہ! کتنی عجیب بات ارشادفرمائی کہ: اہل ایمان قتل بھی ہوجائیں تو ان کا عمل ضائع نہیں ہوتا اور کافر زندہ بھی رہیں تو انہیں بتایاجارہا ہے کہ ان کے لیے بربادی ہے اوران کے اعمال ضائع ہوں گے… کیا اتنی واضح ہدایات بھی سمجھنا مشکل ہے؟

کشمیر کی صورت حال کچھ اس سے مختلف ہے؟ وہاں یہی مسلمانوں اورمشرکوں کا بیچ ہی تو معرکہ جاری ہے، وہاں یہی اسلام اورشرک کی بالادستی پر تو لڑائی ہے، اور سلام ہے اہل کشمیر کو جو ہرقربانی دینے کے باوجود نہ اسلام سے دستبردار ہوئے اورنہ شرک کی بالادستی قبول کرنے پر آمادہ ہوئے۔

پاکستانی قوم بلکہ تقریباپوری دنیا میں کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی کے اظہار کے لیے ۵فروری کو یکجہتی کشمیر کے عنوان سے مختلف اسلوب اختیار کئے جاتے ہیں۔ جس میں اس بات کا واضح پیغام ہوتا ہے کہ ہم نے کشمیریوں کو بھلایا نہیں، انہیں تنہا نہیں چھوڑا، ہم ان کے ساتھ ہیں، ان کا دکھ درد ہمارا اپنا دکھ درد ہے، ان کی آزادی کے لیے کوشش کرنا ہمارا اپنا فرض ہے، ان کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے کوشاں ہونا ہماری بھی ذمہ داری ہے۔

اس سال ’’مجلس شہداء جموں وکشمیر‘‘ کے تحت، امیرالمجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعودازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کی دعاوں اور توجہات سے کراچی میں ’’آزادی کشمیر کانفرنس‘‘ کے عنوان سے ایک ایسا پُرشوکت اورایمان پرور اجتما ع ہوا کہ اہل ایمان اوراہل جہاد کا انگ انگ اللہ تعالی کے شکر میں ڈوب گیا۔ بیس، پچیس ہزار کا مجمع نعرہائے تکبیر اورنعرہائے جہاد بلند کرتا رہا، کراچی شہر دم بخود تھا کہ یہ سب کچھ کیاہوگیا؟ کیسے ہوگیا؟ اور پھر ایک ایسے وقت میں یہ سب کچھ ہوا تو کیسے ہوا؟ کیا یہ کشمیریوں سے بے انتہا محبت کی کرامت ہے؟ کیا یہ جہاد کی معجزانہ قوت کا اظہار ہے؟ کیا یہ اللہ والوں کے اخلاص کی برکت ہے؟

ہاں! یہ سب باتیں درست ہیں،انہیں کشمیریوں سے بے پناہ محبت ہے اورصرف انہی سے نہیں ، ہرمظلوم مسلمان کا انہیں غم ہے، وہ ہر مظلوم مسلمان کے ساتھ ہو جارح کافروں کے خلاف لڑنا فرض عین سمجھتے ہیں، وہ جہاد کو اللہ تعالی کا بیان فرمودہ محکم فرض سمجھتے ہیں، وہ جہاد کی حقیقت کو سمجھتے ہیں، وہ جہاد کے مقاصد سے باخبر ہیں، وہ جہادسے مخلص اورباوفا ہیں،وہ اس جہاد کو عام جنگ نہیں اللہ تعالی کی عبادت سمجھتے ہیں، جس کے کرنے سے اللہ تعالی کی رضاملتی ہے اورجس سے جی چرانے والوں کو منافق کہاجاتا ہے، اوروہ اللہ والوں کے دامن سے بھی مضبوطی کے ساتھ وابستہ ہیں کہ ’’صراط مستقیم‘‘ انہی سے وابستگی کے ساتھ میسر آتی ہے۔ ایسے میں اگر ان کی دیوانہ وار محنت نے ایک کھلی کرامت دِکھادی تو اس میں تعجب کیا؟

آج تو ضرورت ہی ایسے دیوانوں کی ہے کہ کفر سے گھبراتے نہ ہوں، جو کفرکی طاقتوں کے گُن نہ گاتے ہوں، جنہیں یہ پورا یقین ہو کہ اللہ تعالی کے نزدیک دنیا مچھر کے برابر بھی نہیں تو اس دنیا کے لیے اپنا ایمان کیوں بیچا جائے؟ ان کافروں کو خوش کرنے کے لیے اللہ تعالی کو ناراض کیوں کیاجائے؟

اگر امریکیوں کے آگے گردن جھکانے سے موت رُک سکتی تو سوچاجاسکتا تھا، اگرانڈیا کے مشرکوں کے سامنے ذلیل ہونے سے موت کا دروازہ بند ہوسکتا تو شاید کچھ سوچاجاسکتا اگرچہ ذلت خود ایک موت ہے  بلکہ بڑی دردناک موت ہے، مگر موت تو اٹل ہے، وہ جہاد پرجانے والوں کو پکڑتی نہیں اور جہاد سے بھاگنے والوں کو معاف نہیں کرتی، اس کا وقت مقرر ہے، وہ وقت گھر میں آجائے تو ماں باپ اوربہن بھائی اوراولادو بیوی بھی نہیں بچاسکتی اور اگر وہ وقت نہ آیا ہو تو گولیوں کی گھن گرج اور دشمنوں کے نرغے میں مرغل بسمل کی طرح تڑپتے ہوئے بھی وہ موت نہیں آتی۔

قرآن کو دیکھئے ! پانچویں پارے میں قتال فی سبیل اللہ کا حکم دیا، خوب ترغیب دی، خوب جوش دلایا، خوب غیرت دلائی اور پھر یہ وسوسہ بھی دور کیا کہ اللہ کے بندو! اگر موت کے ڈر سے قتال سے دوربھاگو تو کیا موت نہ آئے گی؟ وہ تو مضبوط قلعوں میں محفوظ ہوجانے والوں کو بھی دبوچ لیتی ہے۔ پھر موت کے ڈر سے جہاد وقتال سے روگردانی کا کیا مطلب؟

کراچی کا یہ اجتماع دعوت جہاد کی تاریخ کا ایک اہم ترین سنگ میل ہے، کراچی کے کارکنان نے جس دلجمعی، ہمت، شجاعت، بہادری، جذبہ جہاد، اور اخلاص کے ساتھ اس اجتماع کی شاندار تیاری،تمام شعبہ جات کے ذمہ داران و کارکنان نے باہمی اتفاق اور اخوت کے ساتھ جس انداز سے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایاوہ اپنی مثال آپ ہے۔

ایسے وقت میں جب یہ تصور بھی مشکل ہے کہ جہادکی بات کی جائے مگر انہوں نے کراچی کی شاہراوں پر جہادی پرچم لہرائے، دعوت جہاد دیتے قدم آدم سے بڑے پینافلیکسز بڑے بڑے مشہور چوکوں پر آویزاں کئے گئے۔ دعوت جہاد کے لیے وسیع میدان منتخب کیاگیا، اس کے چاروں کونوں کر دعوت جہاد سے بھرپور پوسٹرز سے سجایاگیا، پُرامن طریقے سے تمام مراحل طئے کئے گئے، کسی لسانیت پرستی یافرقہ واریت کی بجائے خالص دین کی دعوت اور آزادی کشمیر کے بارے میں بات کی گئی ، امریکہ کی غلامی کے بجائے ایک اللہ تعالی کی غلامی اور رسول اللہﷺ کی فرماں برادی کو ترجیح دینے کا عہد وپیمان کیا گیا۔

اپنی تمام دینی خدمات کے مفصل طور پر متعارف کرانے کے لیے ملٹی میڈیا کے ذریعے ایک بڑی سکرین پر مفصل وزٹ کرایا گیا۔ امیرالمجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالی کی درجنوں کتابوں اور سینکڑوں دعوتی کسیٹس فراہم کرنے کا عمدہ انتظام تھااور تمام ہی شرکاء نے انتہائی شوق اوردلچسپی کے ساتھ انہیں حاصل کرکے جہاد اوردعوت جہاد سے اپنی مثالی محبت کا ثبوت دیا۔

اللہ تعالی اس کانفرنس کو قبول فرمائے، اس کے تمام منتظمین خاص کر کراچی کے منتظم بھائی محمد ریحان اور بھائی محمد عارف اوران کے تمام رفقاء ومعاونین کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔ اللہ تعالی ایسے دعوتی اجتماعات کے دائرہ کار کو مزید وسعت اور قوت عطافرمائے۔ اس بار جنہوںنے ایسا روح پرور ماحول فراہم کیاانہیں اوران کی قیادت کو بھرپور سلام…تمام کشمیریوں کی طرف سے بھی اورتمام ان کے ہمدرد مسلمانوں کی طرف سے بھی!!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor