Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حسبنا (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 484 - Mudassir Jamal Taunsavi - Hasbuna

حسبنا

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 484)

’’ہمیں اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے‘‘

کارساز کا مطلب ہے: کام بنانے والا

جی ہاں! جب کسی انسان پر ایسے حالات آجائیں کہ اُسے اپنے تمام کام بگڑتے ہوئے نظر آئیں، اوروہ اُن حالات میں یہ پکار لگادے کہ:

حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل

 تو اُس وقت اللہ تعالیٰ کی ذات ان بگڑے ہوئے حالات کو ایسے درست بنا دیتی ہے کہ پھر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ دیکھئے!

نمروذ نے تمام حالات کو اپنے کنٹرول میں لیا ہواتھا، پوری سلطنت اس کے ساتھ تھی، ماحول میں کوئی بھی اس کا مخالف نہیں تھا، تمام اراکین سلطنت اس کی حمایت کررہے تھے، ایسے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اُس نے پوری تیاری کے ساتھ ’’ختم‘‘ کرنے کے لیے آگ میں ڈالا تو انہوں نے ’’اُسی‘‘ کارساز ذات کو پکارا جس کا پیارا نام ہے: اللہ

قرآن مجید بتلاتا ہے کہ انہوں نے یہی کہا:

حسبنا اللّٰہ و نعم الوکیل

اس توکل اورایمان وعقیدے پر انہیں یہ نقد اِنعام ملا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس آگ کو یہ حکم دیدیا گیا:

یانارکونی برداو سلاما علی ابراہیم

اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی ہوجا اورسلامتی بن جا

دیکھئے! وہ کام جو بظاہر بگڑ چکاتھا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھ سے معاملہ نکل چکا تھا، زمین پر بظاہر کوئی بھی حمایتی نظر نہیں آرہا تھا اوراگر کوئی تھا تو اُس میں بھی اس کام کو بنانے کی طاقت اور سکت نہیں تھی، تب انہوںنے بھی اللہ تعالی کی طرف ہی رجوع کیااوراللہ تعالی نے اپنی قدرت سے اُن کا کام بنادیا۔

بات آگے بڑھانے سے قبل اس نکتے کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ تو کہا کہ: اللہ تعالی مجھے کافی ہے اوروہی بہتر کام بنانے والا ہے‘‘ مگر انہوں نے کوئی خاص شرط نہیں رکھی ۔ مثلاًیہ کہ مجھے یہ لوگ آگ میں ڈال ہی نہ سکیں، یا یہ کہ یہ آگ فوراً بُجھ جائے وغیرہ، بلکہ انہوںنے جب یہ کہہ دیا کہ اللہ تعالی بہتر کام بنانے والے ہیں تو اب وہ ذات باری تعالی کام کو کس انداز سے بناتے ہیں؟ اورہمارے لئے کون سی صورت بہتر ہے؟ یہ اللہ تعالی ہی بہتر جانتے ہیں تو اس کافیصلہ بھی اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا چاہئے کہ اوراتنا یقین رکھنا چاہئے کہ : اللہ تعالی بہتر کام بنانے والے ہیں، تو وہ یقینا کام بہتر ہی بنائیں گے ، اس لیے ہمیں اس پر پورا بھروسہ رکھنا چاہئے اوراس پر کوئی خاص طریقہ اور خاص شرط نہیں رکھنی چاہئے ۔

اب یہاں دیکھئے ! اللہ تعالی اس پر بھی قادر تھے کہ ایسی صورت پیدا کردیتے کہ وہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال ہی نہ سکتے، اسی طرح اللہ تعالی اس پر بھی قادرتھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالے جانے سے پہلے وہ آگ ہی بجھادیتے، اسی طرح اس پربھی قادر تھے کہ جونہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا اُسی وقت وہ آگ بجھادی جاتی مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ اسی جلتی آگ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ڈالے گئے اوراللہ تعالیٰ نے اسی جلتی آگ کو اُن کے لیے سامانِ راحت بنادیا۔

معلوم ہوا آزمائش تو آتی ہے، اورجب آزمائش آئے تو یہ نہ کہاجائے کاش! ایسا ہوا ہی نہ ہوتا، کیوں کہ یہ تو اللہ تعالی کی تقدیر پر رضامندی کے خلاف ہے ، بلکہ اُس وقت درست طرز عمل یہ ہے کہ صبر کے ساتھ اُس آزمائش کا سامناکیا جائے اوراللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھا جائے تب آپ دیکھیں گے کہ اُسی آزمائش میں کس طرح اللہ تعالیٰ آپ کے لیے نکلنے کی راہیں بنادیتے ہیں جنہیں دیکھ کر آپ بلاشبہ دوبارہ یہی کہنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ:

حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل

اب اسی طاقت ور کلمے کی تاثیر کا دوسرا قرآنی واقعہ ملاحظہ کریں!

حضرات صحابہ کرام جس وقت زخموں سے چور تھے، بہت سے کبارصحابہ شہید ہوچکے تھے، خود نبی کریمﷺ شدید زخمی تھی، دشمن اگرچہ شکست کھا کر بھاگ چکا تھا لیکن مسلمان بھی ظاہری طور پر ٹوٹ چکے تھے۔ ایسے میں کفار نے مسلمانوں کو دبانے کی خاطر یہ شوشہ چھوڑا کہ ہمارے لشکر دوبارہ تمہارے خلاف متحدہوچکے ہیں اور پہلے سے بڑی قوت کے ساتھ جمع ہوچکے ہیں، اس لیے تمہیں چاہئے کہ تم ہم سے ڈر جاؤ ، تب حضرات صحابہ کرام نے اُن بگڑے ہوئے حالات میں یہی کلمہ دُھرایا:

حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل

ہمیں تو اللہ تعالیٰ کافی ہے اوروہ بہترین کارساز ہے

یہ کہہ کر وہ حضرات اُس آزمائش سے فرار نہیں ہوئے بلکہ جو آزمائش آچکی تھی صبر کے ساتھ اُس کا سامنا کیا، تب وہ دشمن سامنے آنے کی جراء ت ہی نہ کر سکے مسلمانوں نے جو سفر کیاوہ ان کے لیے کئی حوالوں سے مفید بن گیا کہ لڑائی کی نوبت نہ آئی اورمسلمانوں نے اس سفر میں تجارتی معاملات کئے، یوں کئی منافع اکٹھے ہوگئے :

(۱) دشمن پر رُعب طاری ہوگیا

(۲) مسلمانوں کی سلامتی نصیب ہوئی

(۳) تجارتی منافع حاصل ہوئے

(۴) اوراللہ تعالیٰ کی فرماں برادری کا اعزاز بھی کامل درجے میں نصیب ہوگیا

 اسی لئے قرآن کریم نے بتلایا ہے کہ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسے کا اعلان کیا تو :

فانقلبوا بنعمۃ من اللہ وفضل لم یمسسھم سوء واتبعوا رضوان اللّٰہ و اللّٰہ ذوفضل عظیم(آل عمران:۱۷۴)

پھر مسلمان اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹ آئے ،انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچی اور اللہ کی مرضی کے تابع ہوئے اور اللہ بڑے فضل والا ہے

آزمائش کے وقت خوف پیدا ہوتا ہے اور یہ خوف کچھ تو فطری ہوتا ہے اور کچھ شیطان کی طرف سے بھی ہوتا ہے، بلکہ شیطان اُس فطری خوف میں ملاوٹ کر کے بزدلی پید اکرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی واضح نشاندہی کی اوراس کے خوف سے متاثر ہونے کے بجائے اپنی ذات کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا۔ ارشادفرمایا:

یہ شیطان ہے جو (تمہیں) اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ پس تم ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرواگر تم ایمان دار ہو!(آل عمران:۱۷۵)

معلوم ہوا کہ ایک دل میں دو خوف جمع نہیں ہوتے: اگر شیطان کے اثر سے اس کے دوستوں یعنی: کافروں، مشرکوں اورمنافقوں وظالموں کاخوف دل میں بیٹھ جائے تو اللہ تعالیٰ کا خوف نکل جاتا ہے اوراگر دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف بیٹھ جائے تو پھر شیطان کے دوستوں کاخوف نکل جاتا ہے اوریہی ایمان کی علامت ہے اس لیے کہا گیا: اگر ایمان دار ہوتو اللہ تعالیٰ سے ڈرو!

اس لئے جب بھی آزمائش آئے تو انسان کو تین کام کرنے چاہئیں:

بزدل ،عاجز اوربے کار ہوکر نہ بیٹھ جائے

حکمت وبصیرت کو کام میں لائے

حسبی اللہ ونعم الوکیل کا وِرد جاری رکھے

یہ تین ہدایات ہمیں حدیث مبارک سے معلوم ہوتی ہیں۔ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے:

اللہ تعالیٰ ، کم ہمتی اور ہاتھ پر ہاتھ دھرکر بیٹھ جانے پرملامت کرتے ہیں، بلکہ تمہیں چاہئے کہ سمجھداری اورحکمت وبصیرت کو لازم پکڑو اور جب کوئی معاملہ تم پر غالب آجائے(یعنی تمہارے بس سے باہر ہوجائے) تو پھر یوں کہو: حسبی اللہ ونعم الوکیل۔ (ابوداؤد)

اسی لیے امام نسائی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس دعاء کے اوپر یہ عنوان قائم کیا ہے:

مایقول اذا خاف قوما؟

یعنی: جب کسی سے خوف محسوس ہوتو کیا پڑھنا چاہئے؟

کسی نے خوب کہا ہے کہ: جب تم کسی جرم سے پاک ہواورحقیقت کے اظہار پر قادرنہ ہو یاحقیقت پر توجہ دینے پر کوئی تیار ہی نہ ہوتو مایوس مت ہوجاؤ بلکہ دل سے اس کلمہ کا وردکرو:

حسبی اللّٰہ ونعم الوکیل

مجھے اللہ تعالیٰ کافی ہے اوروہ بہترین کارساز ہے!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor