Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

وہ حقائق جو بھلادیئے گئے! (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 435 - Mudassir Jamal Taunsavi - wo haqiq jo bhula deye gaye

وہ حقائق جو بھلادیئے گئے!

قش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 435)

ایک شخص دودھ فروخت کرتا اوراس دودھ میں بہت زیادہ پانی بھی ملادیا کرتا، اس شخص کا بیٹا اپنے باپ کو روکتا بھی تھا کہ دودھ میں پانی نہ ڈالا کریں لیکن وہ باپ اپنے بیٹے کی بات نہ مانتا، معاملہ اسی طرح چلتا رہا، اتفاق سے کچھ دنوں بعد وہاں زوردارسیلاب آیااور اس بستی کا سب کچھ بہاکر لے گیا، تب اس بیٹے نے اپنے باپ سے کہا: ابا جان! آپ دودھ میں پانی ملاتے رہے ، ملاتے رہے یہاں تک کہ وہ جمع ہوتے ہوتے ایک سیلاب بن گیا اوراب ہمارا سب کچھ بہا کر لے گیا۔

بظاہر ایسا ہی کچھ اس وقت ہمارے مسلم ممالک کے اندر ہو رہا ہے، ہمارے حکمرانوں نے جب سے کفاراورخاص کر یہود ونصاریٰ اور مشرکین کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانا شروع کیں اوران کے ساتھ

اپنے اپنے تمام معاملات میں معاونت اورمشاورت کا سلسلہ شروع کیا بلکہ ان سے ڈکٹیشن لیتے ہوئے ان کے تابع فرماں ہوئے تو آہستہ آہستہ اُن کی دلدل میں ایسا پھنسے کہ اب نکلنا بھی چاہئیں تو مزید دھنستے چلے جاتے ہیں۔ اسلام نے مسلم حکومتوں کو اس بات سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے کہ وہ غیرمسلموں کے ساتھ دوستی اورمحبت کا تعلق قائم نہ کریں اوراپنے سیاسی، معاشی، عسکری اوردیگر امور میں نہ انہیں اپنا راز دار بنائیں اورنہ ہی انہیں اپنا مشیرومعاون بنائیں، کیوں کہ یہ کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے اوراگر شاذو نادر کوئی ایک فرد ایسا ہو بھی تو اس کی بنیاد پر پوری ملت کفریہ کو بہرحال مسلمانوں کا دوست اورخیرخواہ قرار نہیں دیاجاسکتا۔

مگر آج ’’گلوبل ویلیج‘‘کے نام پر مسلم حکومتیں کفریہ طاقتوں کی گود میں جابیٹھتی ہیں، ان کے ساتھ اپنے نہایت نازک معاملات شیٔر کرتے ہیں، انہیں اپنا مشیر بناتے ہیں، اپنا رازداربناتے ہیں، ان سے ڈکٹیشن لیتے ہیں، ان کے لیے مداخلت کے دروازے کھلے رکھتے ہیں، اسی وجہ سے آج بہت سے مسلم ممالک میں کفریہ طاقتوں کی مداخلت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہاں موجود مسلم حکومتیں محض کٹھ پتلی حکومت بن کر رہ گئی ہیں، پھر چونکہ ان حکومتوں اوران کے دیگر اداروں کا سارا دارومدار اسی بیرونی آشیرباد پر قائم ہوتا ہے تو یہ انہی کے مفادات کو مقدم رکھتی ہیں اور انہی سے وفاداری کو نبھاتی ہیں، چاہے اس کے لیے مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک روارکھنا پڑے اس سے گریز نہیں کرتے۔ یہ مسلم معاشرے کا ایک بڑا لمیہ ہے کہ مسلم قوم کے دل سے کفر کی نفرت بالکل نکل چکی ہے اوراسی کی وجہ سے کفار کے ساتھ دوستی کے بے مہابا تعلقات قائم کرنے میں کوئی خوف محسوس نہیں کیا جاتا اور نہ ہی اس معاملے میں آخرت کے کسی نقصان کا تصور کیا جاتا ہے ، بس ایک ہی بات مدنظر رکھی جاتی ہے کہ دنیا کے چار دن جیسے کیسے بھی ہوں عیش وعشرت کے ساتھ گزرجائیں ، چاہے اس دوران کسی بھی قسم کے کفار کے ساتھ تعلقات قائم کرنا پڑیں ، وہ تعلقات قائم کر لیے جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ دنیا حق اورباطل کی آماجگاہ ہے اوریہاں انسان کو بھیجنے کا مقصد اس کی یہ آزمائش ہے کہ کون حق قبول کرتا ہے اورباطل سے اپنا رشتہ توڑ لیتا ہے اوردوسری طرف کون ایسا ہے جو باطل پرتو جما رہتا ہے اورحق سے گریزاں رہتا ہے۔ اس لیے جو لوگ حق اورباطل کاملاپ کرنا چاہتے ہیں وہ بہت بڑی غلطی میں ہیں، حق اورباطل کبھی بھی ایک نہیں ہو سکتے، جس طرح دن اوررات جداجدا ہیں، خوشبو اوربدبو الگ الگ ہیں، اگ اورپانی میں جو فرق ہے اس سے کہیں بڑا فرق اور تضاد حق اورباطل میں ہے، جو حق ہے وہ کبھی باطل نہیں ہوسکتا اورجو باطل ہے وہ کبھی حق نہیں ہوسکتا۔

اس لیے یہاں چند اصول ذہن میں رکھ لینا نہایت ضروری ہے:

پہلی بات تویہ ہے کہ حق صرف ایک ہی ہے اورباطل کے کئی روپ ہیں، حق صرف اسلام ہے، اسلام کے علاوہ جتنے بھی مذاہب اورادیان ہیں وہ سب باطل ہیں، اوراسلام وہ آخری دین ہے جو حضرت محمدﷺ لے کر آئے، اب قیامت تک حق اسی دین اوراسی نبی کے ساتھ وابستہ ہے، اس دین اوراس عظیم نبی کے علاوہ کہیں بھی حق نہیں ہے اورجو لوگ اس دین اوراس عظیم نبی کوچھوڑ کر کہیں اورحق تلاش کرنے کی کوشش کریں گے وہ ناکام ہی رہیں گے۔ چنانچہ جو لوگ آج اسلام اورکفرکی سرحدیں ختم کرنا چاہتے ہیں اوراسلام اوردیگر مذاہب کو ایک کرنا چاہتے ہیںجیسا کہ ’’بین الاقوامی مذہبی ہم آہنگی‘‘ کے نام سے اس وقت ایک شور برپا کیا جاتا ہے تو یہ محض ایک دھوکہ اورفراڈ ہے جو مسلم قوم کے ساتھ کیا جارہا ہے ۔

نبی کریمﷺ نے فرمادیا ہے: ’’قسم اُس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اس امت کا جو بھی فرد میرا پیغام نبوت ورسالت سنے خواہ وہ یہودی ہو یا عیسائی ، پھر بھی وہ مجھ پر ایمان لائے  بغیر مرجائے تو وہ یقینا جہنمی ہوگا‘‘۔ (مسلم شریف)

کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج انہی عیسائیوں اور یہودیوں کے در پر امت مسلمہ کو جھکانے اوران کا غلام بنانے کی بھرپورکوشش کی جارہی ہے جن کے بارے میں جہنمی ہونے کا فیصلہ کئی صدیاں قبل سنایا جاچکا ہے۔ کیا ایسوں کے پیچھے چل کر مسلمانوں کو بھی اپنی آخرت برباد کردینی چاہیئے؟

دوسری اہم بات یہ بھی ہمارے ذہنوں سے نکل چکی ہے کہ محبت اوردوستی کا تعلق صرف مسلمانوں سے ہونا چاہئے بلکہ یہ تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے سے محبت اور ہمدردی رکھیں جبکہ اس کے برعکس یہ ضروری ہے کہ کفار سے نہ تو دوستی رکھیں اور نہ ہی انہیں اپنا راز دار بنائیں۔

قرآن کریم میں واضح طور پر ارشاد ہے: ’’اور جو لوگ کافر ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، چنانچہ اگرتم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بڑافتنہ اورفساد برپا ہوجائے گا‘‘۔ (الانفال:۷۳)

مطلب یہ ہے کہ اگر مسلمان صرف مسلمانوں کو اپنا دوست نہیں بنائیں گے بلکہ کافروں کو بھی اپنا دوست بنا لیں گے تو حق اورباطل مشتبہ ہوجائے گا، لوگوں میں حق اورباطل کی تمیز ختم ہوجائے گی، عوام الناس کی نظروں میں حق کی بالادستی اورباطل کی تباہ کاریاں اورباطل کی سیاہ کاریاں اوجھل ہوجائیں گی اوروہ حق اورباطل کو ایک چیز سمجھنے لگ جائیں گے۔ جیسا کہ عصرحاضر میں مسلم معاشروں میں پھیلے ہوئے کفریہ شعائر کا اعلانیہ ظہور اورمسلمانوں کی طرف سے اس پر فخر ومباہات کاطرز عمل شاہد ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

تیسری اہم بات یہ بھی ہے کہ عزت صرف اورصرف اللہ تعالی، اس کے رسول اور اہل ایمان کے لیے ہے، جبکہ اس کے برعکس کفار کے لیئے ذلت اورپستی اورناکامی ونامرادی ہے۔ کیوں کہ کافراپنے کفرکی وجہ سے خود ہی اپنے آپ کو ذلیل کر لیتا ہے اورکسی عزت کا مستحق نہیں رہتا۔ سورہ محمد کا آغازدیکھئے کس طرح انوکھے اور پُرشکوہ انداز سے ہورہا ہے:

 ’’وہ لوگ جنہوں نے کفرکیا اوردوسروں کو بھی اللہ تعالی کی راہ (یعنی اسلام) سے روکا تو اللہ تعالی نے ان کے اعمال بے کار کردیئے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اورنیک اعمال کیے اوراس چیز پر بھی ایمان لائے جو محمدﷺ پر نازل کی گئی اوروہی ان کے رب کی طرف سے حق ہے تو اللہ تعالی ان کی برائیوں کو مٹادے گا اوران کے حال کودرست کردے گا‘‘۔ (سورہ محمد)

الغرض: کفار کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرکے اسلام اورکفر کی سرحدیں جس طرح ڈھائی گئیں اب یہ کفریہ سیلاب ہمارے معاشرے کو تباہ وبرباد کرتا چلاجارہا ہے اوراب اس کا ایک ہی علاج ہے کہ کفر کی ہر رسم ورواج اورہر کفریہ نشان کو مٹادیا جائے۔ اس کے لیے سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ اسلام کی بے پناہ محبت اورکفرکی بے پناہ نفرت اپنے دل میں پیدا کی جائے یہاں تک اسلام کی ہرچیز ہمیں اپنی جان ومال سے زیادہ محبوب ہونے لگے اورکفر کی ہر رسم سے ہمیں انتہاء درجے کی نفرت ہونے لگ جائے !

٭…٭…٭

باوجودیکہ مسلم قوم اسلامی تعلیمات سے بہت دور ہوچکی ہے لیکن اسلام بہرحال حق دین اورسچا مذہب ہے اس لیے باوجود اپنوں کی بے وفائی کے یہ دین روزبروز پھیلتا جارہا ہے اور لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا رہا ہے۔ یہ رپورٹ ملاحظہ کیجئے!

’’مغربی ممالک میں لوگ تیزی سے اسلام قبول کرنے لگے ہیں، صرف برطانیہ میں ایک لاکھ ایسے لوگ موجود ہیں جو پرانا مذہب چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوچکے ہیں۔ ویلز یونیورسٹی کے محقق کیون بروس کے مطابق ہر سال 5200 افراد دائرہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ برطانوی جریدے اکانومسٹ نے داڑھی کی تصویر والے ٹائٹل شائع کرکے سوال اٹھایا کہ کتنے ہیں جو اسلام سے متاثر ہوئے؟ جریدے کے مطابق اسلام قبول کرنے والوں میں زیادہ تر وہ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ قابل ذکر وقت گزارا اور وہ ان سے متاثر ہوئے۔ برطانوی ماڈل کارلے واٹس جو اسلام قبول کرچکی ہیں، کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں نسلی امتیاز اور اخلاقی اقدار کے فقدان کی وجہ سے لوگ اسلام جیسے امن پسند مذہب کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق جو لوگ ایک دوسرے کیساتھ ملکر رہنا چاہتے ہیں وہ بھی مذہب اسلام سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اسلام قبول کرنیوالوں میں قیدیوں کی بھی بڑی تعداد ہوتی ہے کیونکہ دوران قید انہیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اپنے مسائل کا حل انہیں اسلامی تعلیمات میں نظر آتا ہے تو وہ بھی اسلام کی جانب راغب ہو جاتے ہیں۔جبکہ بہت سے لوگ اس لئے اسلام کی طرف مائل ہو رہے ہیں کہ وہ برطانوی معاشرے میں پھیلی بے راہ روی اور فحاشی سے تنگ آچکے ہیں۔جریدے کے مطابق اسلام قبول کرنے میں جیلیں موثر جگہ ثابت ہورہی ہیں جبکہ اس صورت حال سے مغربی حلقے تشویش کا شکار ہیں کہ جیل میں اسلام قبول کرنے والے زیادہ ’’بنیاد پرست‘‘ ہیں، تاہم مسلمانوں سے متاثرہ حلقے کا موقف ہے کہ اسلام کا نظم و ضبط اور ساخت انہیں ذاتی زندگی کے مسائل سے نمٹنے میں مدد کرتی ہے۔یادرہے کہ ذکر کردہ تعداد اصل زمینی حقائق سے بہت کم ہے کیوں کہ انگلینڈ اور ویلز میں مردم شماری کے دوران شہریوں سے ان کے ماضی کے مذہب کے بارے سوال نہیں کیا جاتا اور برطانوی مساجد بھی نومسلم کا کوئی ریکارڈ مرتب نہیں کرتیں۔ کچھ نومسلم اپنے خاندان اور دوستوں کے ردعمل کی وجہ سے تبدیلی مذہب کو خفیہ رکھتے ہیں۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو جو لوگ اسلام قبول کررہے ہیں ان کی اصل تعداد دستیاب شدہ معلومات سے کہیں زیادہ ہے‘‘۔

اس میں عبرت کا بڑا سامان ہے اُن نام نہاد مسلم دانشوروں کے لیے جو مسلمانوں کی ترقی میں خود اسلام کی سیاسی یامعاشی ومعاشرتی تعلیمات کو رکاوٹ سمجھتے ہیں، اسلام تو ہراعتبار سے ایک کامل دین ہے اورفطرت کے عین مطابق ہے، اوراسلام کا ہرروز پھیلتا ہوا دائرہ اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online