Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

کھیل یا بربادی ؟ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 496 - Mudassir Jamal Taunsavi - Khail ya Barbadi

کھیل یا بربادی ؟

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 496)

اسلام نے جائز تفریح اور ذہنی و جسمانی ورزش پر پابندی عائد نہیں کی بلکہ بعض تفریحات اور جسمانی وذہنی کھیل کود کی حوصلہ افزائی کی ہے اور مختلف طریقوں سے اس کی تاکیدکی ہے۔ اس لیے یہ سمجھنا تو کسی طرح بھی درست نہ ہوگا کہ اسلامی تعلیمات اور اس پر عمل پیرا مسلمان تفریح اور کھیل کود کے دشمن اور مخالف ہیں۔ البتہ اسی کے ساتھ یہ بھی اسلام نے واضح کردیا ہے کہ اگر کوئی کھیل دینی اور دنیوی نقصان کا باعث بن رہا ہوتواس کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہوگی کہ اس پر پابندی عائد کرے ۔ جب شریعت نے رمضان میں مسافر کے لیے روزہ چھوڑنے کی گنجائش رکھ دی تاکہ وہ تنگی میں مبتلا نہ ہو، سفر کی وجہ سے نماز میں قصر کا حکم دیدیا گیا جو کہ عبادات ہیں بلکہ اہم عبادات میں سے ہیں تو سوچنا چاہئے کہ جب کوئی محض جائز تفریح اُمت مسلمہ کے دین اور دنیا کی بربادی کا سبب بن رہی ہو اور کھلی آنکھوں اس کا مشاہدہ ہورہا ہو تواسلام اس کو کس طرح برداشت کرسکتا ہے؟؟

آج دنیا میں عموماً اور پاکستان میں خصوصاً کرکٹ نامی کھیل کو جس طرح سرمایہ داروں اور حکومتوں کی سرپرستی میں پروان چڑھایا جارہا ہے اور اس کھیل پر جو بے پناہ وقت،صلاحیت، دینی ذمہ داریاں، دنیوی اسباب ضائع کیے جارہے ہیں وہ کس سے مخفی ہیں؟؟ جس قوم کے لوگ بھوک سے مررہے ہیں، نوجوان ملازمت نہ ہونے کی وجہ سے خود کشی کررہے ہیں، جہاں کی مائیں اپنے بچوں کی پروروش نہ کرپانے کی وجہ سے خود سوزی کررہی ہیں، جہاں بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے لوگ مررہے ہیں، جہاں ہر شہر میں بھکاریوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں وہاں کروڑوں روپے اس کرکٹ پر پھونک دیئے جاتے ہیں اور جو آمدن اس میں حاصل بھی ہوتی ہے تو وہ صرف چند سرمایہ داروں کی جیب میں جاتی ہے تو وہاں اس کرکٹ کو ’’کھیل‘‘ نہیں بلکہ ’’بربادی‘‘ کا نام ہی دیا جاسکتا ہے۔ اسی بارے میں دردِ دل سے لکھی گئی ہنسی مزاح پیدا کرتی ایک فکر انگیز تحریرکی سطور ملاحظہ فرمائیں جو آج سے کئی سال پہلے انڈین جیل کی سلاخوں کے پس پردہ امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالی نے تحریر فرمائیں تھیں جو ایک اعتبار سے متاع گم شدہ کی دستیاب بھی ہے۔

’’کرکٹ کا نشہ چرس اور ہیروئن کے نشے سے کچھ کم نہیں ہے۔سفید ریش بزرگ ہوں یا نابالغ بچے،جو بھی کرکٹ کے نشے میں مبتلا ہو جائے اس کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔

چھٹی نہیں یہ ظالم منہ سے لگی ہوئی

اور تو اور بہت سارے علمائ،طلباء اور مجاہدین بھی اس موذی مرض میں مبتلا ہیں۔کرکٹ کے یہ متوالے اور دیوانے کئی طرح کے ہیں۔ چونکہ یہ کسی اچھے خاصے انسان کو پاگل بنا دیتی ہے اس لئے کرکٹ کے شوقین یعنی پاگلوں کی کئی اقسام ہیں:

پاگل نمبر(۱):یہ وہ لوگ ہیں جو اسٹیڈیم میں جا کر کرکٹ دیکھتے ہیں، ان کا پہلا نمبر اس لئے ہے کہ یہ لوگ ایک ایسی چیز کی خاطر جس میں دین و دنیا کا کوئی نفع نہیں ہے،اپنا وقت اور سرمایہ دونوں لگاتے ہیں اور اس جدید گلی ڈنڈے کی خاطر گھنٹوں کی تھکاوٹ برداشت کرتے ہیں اور شام کو خسر الدنیا والٓاخرۃ کی عملی تصویر بن کر خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں۔

پاگل نمبر (۲): یہ وہ لوگ ہیں جو اسٹیڈیم  کے باہر اونچی عمارتوں سے یا درختوں سے جھانک کر میچ دیکھتے ہیں ۔ان کو دوسرا نمبر اس لئے ملا ہے کہ انہوں نے کم از کم ٹکٹ کے پیسے تو بچائے۔

پاگل نمبر (۳): یہ وہ لوگ ہیں جو ٹیلی ویژن پر میچ دیکھتے ہیں،ان کو تیسرا نمبر اس لئے ملا ہے کہ یہ لوگ پہلی اور دوسری اقسام کے لوگوں کی بنسبت کم پیسہ خرچ کرتے ہیں اور کم تھکتے ہیں جبکہ گناہ کمانے میں یہ لوگ پہلے نمبر والوں سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔

پاگل نمبر (۴): یہ وہ لوگ ہیں جو ریڈیو پر مکمل میچ سنتے ہیں اور ایسی چیز پر اُچھلتے کودتے یا پریشان ہوتے ہیں جس میں نہ دین کا فائدہ ہے نہ دنیا کا۔اور نہ کوئی جسمانی یا ذہنی تفریح ہے اور نہ اس میں ان کا کچھ دخل ہے۔

پاگل نمبر (۵): یہ وہ لوگ ہیں جو ریڈیو پر مکمل میچ تو نہیں سنتے البتہ کبھی کبھار ریڈیو کھول کر یا آنے جانے والے لوگوں سے اسکور معلوم کرتے ہیں اور ان کی روح بھی کرکٹ میں اٹکی رہتی ہے۔

یہ پانچ اقسام تو بکثرت پائی جاتی ہیں جبکہ کرکٹ کے ہاتھوں پاگل ہونے والوں کی اور کئی اقسام ہیں: مثلاً وہ لوگ جو مسجدوں میں جا کر میچ جیتنے کی دعائیں کرتے ہیں اور اس فتنہ پرور لہو و لعب کی خاطر اللہ کے حضور سجدے کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو جیتنے پر مٹھائیاں بانٹتے ہیں اور ہارنے پر سوگ مناتے ہیں۔اسی طرح وہ لوگ جو کرکٹ پر جوا کھیلتے ہیں ۔یہ سٹے باز اب اس قدر طاقتور ہو گئے ہیں کہ بعض کھلاڑیوں کو خرید لیتے ہیں۔تہاڑ جیل میں ہمارے ساتھ ایک بین الاقوامی مجرم ببلو شری واستو تھا جو جیل میں بیٹھ کرکٹ پر سٹے بازی کرتا اور بتاتا تھا کہ پاکستان کے فلاں فلاں کھلاڑی پیسے لے کر میچ کا فیصلہ کرتے ہیں اور فلاں ملک کے فلاں فلاں کھلاڑی۔ ہم نے جب تحقیق کی تو بات سچ نکلی۔تب ہمیں کرکٹ کے عاشقوں پر مزید ترس آیا کہ وہ ان لوگوں کی ہار جیت پر مرتے جیتے ہیں جو پہلے سے بکے ہوئے ہوتے ہیں اور میچ سے پہلے اس کا فیصلہ کر چکے ہوتے ہیں۔

کیا اس میں کوئی فائدہ ہے؟

یہ تو تھا کرکٹ کے عاشقوں اور پاگلوں کا مختصر تعارف۔ اب آئیے کرکٹ کے اصل چہرے کی طرف۔ مگر اس سے پہلے کہ کرکٹ کے نقصانات پر ایک نظر ڈالی جائے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ کرکٹ کا کوئی فائدہ بھی ہے یا نہیں؟ اگر آپ گھنٹوں اس مسئلہ پر غور کریں اور ہر پہلو سے جائزہ لیں تب بھی آپ کو یہ کہنا پڑے گا کہ کرکٹ کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ دینی نہ دنیاوی،ذہنی نہ جسمانی، معاشی نہ معاشرتی، داخلی نہ خارجی،اقتصادی نہ سیاسی۔

اس میں شک نہیں کہ کرکٹ کے چند کھلاڑی خوب پیسہ کما لیتے ہیں اور غیر ملکی لڑکیوں سے شادیاں کر لیتے ہیں اور ان کے گھر فلمی اداکاراؤں کے فون آنے لگتے ہیں اور کالج کی لڑکیاں ان کے آٹو گراف لینے کے لئے مرتی ہیں لیکن کیا ایک مسلمان کے لئے یہ سب مفید ہے؟ جو پیسہ ان بیچاروں کو ملتا ہے اگر اس کی حقیقت معلوم ہو جائے تو ایک مسلمان مردار کھانا گوارا کر لے گا مگر اس پیسے کو قبول نہیں کرے گا، جبکہ باقی تمام چیزیں بھی دنیا و آخرت کی تباہی اور مسلمانوں کے اجتماعی ماحول کے لئے خود کشی کے مترادف ہیں اور غالباً اسی وجہ سے مسلمانوں کو اس کھیل میں زیادہ ملوث کیا جا رہا ہے اور غیر ملکی کمپنیاں بڑھ چڑھ کر مسلمانوں کے ممالک میں کرکٹ کے فروغ کے لئے کام کر رہی ہیں۔

آپ اگر سارا دن کرکٹ دیکھنے یا سننے والے سے پوچھیں کہ آج آپ نے اپنی زندگی کے آٹھ گھنٹے جس کام پر لگائے ہیں اس میں آپ کو کیا فائدہ ملا؟ وہ جواب دے گا کہ آج تو بڑا مزہ آیا یا کہے گا کہ آج تو بڑا افسوس ہوا۔ آہ! ایک مسلمان جس کے کندھے پر پوری دنیا میں اسلام کے غلبے کی ذمہ داری اور ذاتی طور پر آخرت کی تیاری کا بوجھ ہے صرف مزے یا افسوس کی خاطر کتنا وقت اور کتنا سرمایہ تباہ کر رہا ہے؟اور تو اور پاکستان اور ہندوستان کے کرکٹ میچ کی وجہ سے ہندوستان میں مسلم کش فسادات بھڑک اٹھتے ہیں اور کئی قیمتی جانیں اور کئی عصمتیں مسلمانوں سے چھین لی جاتی ہیں۔ ہاں! یہ سب کچھ اس پاکستانی ٹیم کی خاطر ہوتا ہے جس کے کھلاڑی ہندوستان آ کر رات کو کسی فائیو سٹار ہوٹل کے ڈانس ہال میں ہندو لڑکیوں کے ساتھ ناچنا نہیں بھولتے، مگر ہندوستان کے مسلمان کرکٹ کے جنون میں انہی کھلاڑیوں کے لئے مساجد میں دعائیں کرتے ہیں اور ان کے جیتنے پر اتنی خوشی مناتے ہیں کہ اس کی وجہ سے فسادات بھڑک اٹھتے ہیں اور کئی مسلمان شہید کر دیے جاتے ہیں۔

کرکٹ کے نقصانات:

یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ کرکٹ میں مسلمانوں کے لئے کوئی فائدہ نہیں البتہ نقصانات اتنے زیادہ ہیں کہ انہیں تفصیل سے لکھا جائے تو ایک پوری کتاب بن سکتی ہے۔ اسی کرکٹ کی وجہ سے مسلمانوں میں بے مقصدیت حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔لاکھوں لوگ صبح شام ٹی وی سے چپکے رہتے ہیں ،کروڑوں اربوں روپے کا سرمایہ تباہ ہوتا ہے، دفاتر میں کام متاثر ہوتا ہے، تعلیمی مصروفیت درہم برہم ہو جاتی ہے،مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے والوں کو کھلم کھلا موقع مل جاتا ہے اور وہ ٹی وی اور دوسرے ذرائع سے اپنا کام آسانی سے کر جاتے ہیں۔ نمازیوں کی نمازیں ضائع ہوتیں ہیں، رمضان المبارک میں روزے دار ذکر و تلاوت سے محروم رہ جاتا ہے۔

یہ سب نقصانات اٹھا کر شام کو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان ہار گیا، تب ہر طرف افسوس اور اداسی پھیل جاتی ہے۔اگر کبھی پاکستان جیت جاتا ہے تو ہلڑ بازی ہوتی ہے مگر اس جیت سے نہ تو پاکستان کی سرحدیں مضبوط ہوتی ہیں نہ مسئلہ کشمیر حل ہوتا ہے،نہ غیر ملکی قرضہ ادا ہوتا ہے اور نہ امریکا کی غلامی سے نجات ملتی ہے؟ پھر اس جیت کا کیا فائدہ؟پھر یہ کیسی خوشیاں؟ ہاں یہ جیت مزید تباہیاں لاتی ہے۔ ہمارے بے رنگ کھلاڑی بیرون ملکوں سے گندے فیشن اور بدبودار تہذیب کے جراثیم ہمارے ملک میں لے آتے ہیں،سگریٹ کمپنیاں ان کھلاڑیوں کو استعمال کر کے نوجوانوں کے پھیپڑوں میں زہریلا دھواں بھرتی ہیں۔انگریزی لباس کی کمپنیاں ان کھلاڑیوں کے ذریعے سے اپنے کپڑے بیچ کر ہمارے نوجوانوں کو بے بنیاد لفافہ بناتی ہیں۔

آہ! وہ مسلمان قوم جس کے شہسواروں کی جولان گاہ پورا عالَم تھا، آج کفر کے نیچے سسک رہا ہے۔بوسنیا کے بعد کوسوو کے مسلمان اپنے بھائیوں کے خون میں غوطے لگا رہے ہیں اور دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔کشمیر تقریباً تباہ ہو چکا ہے،عمومی طور پر مسلمان ذلت و رسوائی کا شکار ہیں۔ان دردناک حالات میں کرکٹ جیسے فتنہ پرور ،فضول اور تباہ کن کھیل پر مسلمان نوجوان کی زندگی اور سرمایہ تباہ ہو رہا ہے اور ہم اصل ہار جیت کو بھول کر گیند بلے کی ہار جیت میں مست ہو چکے ہیں۔یقیناً ہمارا دشمن اس بیوقوفی پر ہنستا ہو گا اور خوشی کے قہقہے لگاتا ہو گا ۔

اے مسلمانو! کرکٹ اب اسلامی ممالک کے اعصاب پر چھا چکا ہے۔خدارا اس کی حوصلہ شکنی کرو اور خود کو اس حقیر گلی ڈنڈے سے آزاد کرواؤ۔

اے مجاہد! تجھے کیا ہو گیا تو کافر عورتوں کے ساتھ ناچنے والے کھلاڑیوں پر مر رہا ہے اور ان کی ہار جیت پر کان لگائے بیٹھا ہے؟ خدارا اپنے مقام کو سمجھ۔ یہ تماش بین لڑکے تو تیرے قدموں کی دھول کے برابر بھی نہیں پھر تو ان کی خاطر کیوں اپنا وقت ضائع کر رہا ہے؟

اے مجاہد! تیرے ہاتھ میں گیند بلا دیکھ کر دشمن خوش ہوں گے، پھینک دے ان حقیر چیزوں کو، ہاں پھینک دے۔ تیرے ہاتھ میں تو صرف اسلحہ اچھا لگتا ہے ۔ کرکٹ نے تیری قوم کو غفلت میں مبتلا کر رکھا ہے اس لئے تو کرکٹ کو اپنا دشمن سمجھ اور نہایت حقارت کے ساتھ اسے بھلا دے اور چھوڑ دے۔

اے مسلمانو! کرکٹ سے توبہ کرو، کیونکہ تمہاری دلچسپی ہی نے اس خرابی کو شہہ دی ہے۔ پس جو شخص کرکٹ کو شہہ دے گا وہ ان تمام گناہوں میں شریک ہو گا جو کرکٹ کے ذریعہ پھیل رہے ہیں۔‘‘ (روزنِ زنداں سے:ص۱۹۲)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor