Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

روہنگیامسلم مہاجرین کی بے بسی اور عالم اسلام کی بے حسی (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 497 - Mudassir Jamal Taunsavi - Rohangia muslim muhajireen ki bebasi

روہنگیا مسلم مہاجرین کی بے بسی اور عالم اسلام کی بے حسی

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 497)

امت مسلمہ جن بڑے درد ناک المیوں کا شکار ہے ان میں برما کے مظلوم مسلمان(جوعلاقے میں روہنگیا نسل کے مسلما کہلاتے ہیں) بھی شامل ہیں بلکہ ان کے حالات کی نوعیت کچھ ایسی بن چکی ہے کہ انہیں مظلوم ترین کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اپنے وطن میں بدھ مت مذہب کے پیروکاروں نے ان پر زندگی تنگ کررکھی ہے تو دوسری طرف حالت یہ ہے کہ جو مسلمان ان مظالم سے تنگ آکر ہجرت کررہے ہیں تو کوئی بھی ان کو پناہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ سب ہی انہیں اپنی سرحدوں سے دور دھتکاررہے ہیں اور یوں وہ مہاجرین سمندری لہروں کے بیچوں بیچ موت کی آغوش میں جارہے ہیں۔ ابھی حال ہی مختلف ذرائع ابلاغ سے ان کی دردناک کہانیاں سامنے آرہی ہیں جسے سن اورپڑھ کر دل غم سے ڈوب جاتا ہے اور امت مسلمہ کی بے بسی پر رونا آتا ہے اور ساتھ ہی مسلم حکومتوں کے رویے پر بے حد افسوس ہوتا ہے۔

ذرائع ابلاغ کی چیدہ چیدہ رپورٹس ملاحظہ کریں کہ وہ مہاجرین کس طرح کسمپرسی کی حالت میں موت کے منہ میں جارہے ہیں اوران کی اجتماعی قبریں بن رہی ہیں جن میں سے کچھ کا تو سراغ مل رہا ہے اور نہ معلوم کتنے کہاں کہاں بے بسی کی موت مارے گئے ہوں گے۔

ملائیشیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی علاقے میں تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب مشتبہ تارکین وطن کی 139 اجتماعی قبریں ملی ہیں۔قومی پولیس کے سربراہ خالد ابو بکر کا کہنا ہے کہ یہ قبریں انسانی سمگلنگ کے 28 کیمپوں میں 11 سے 23 مئی کے درمیان چلائی جانے والی مہم کے نتیجے میں ملی ہیں اور کچھ قبروں میں ایک سے زیادہ لاشیں بھی ہو سکتی ہیں۔یہ قبریں تھائی سرحد کے قریب ملنے والے انسانی سمگلنگ کے کیمپ اور درجنوں کم گہری قبروں کے پاس ملی ہیں۔اس سے قبل تھائی لینڈ میں قبروں کی دریافت کے بعد حکام نے اپنے علاقوں میں ان راستوں پر خاص مہم چلائی تھی جنھیں سمگلر تارکین وطن کو لے جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اس مہم کی وجہ سے سمگلروں کو اپنے راستے بدلنے پڑے اور ملائیشیا جانے کے شوقین تارکین وطن کو وہ سمندر کے راستے لے گئے لیکن ہزاروں افراد سمندر میں پھنس کر رہ گئے جنہیں کوئی بھی ملک لینے کو تیار نہیں تھا۔مسٹر خالد نے اخباری نمائندوں کو بتایا: 11 سے 23 مئی تک جاری رہنے والی مہم کے دوران ہم نے 139 ایسے مقامات تلاش کیے جو قبریں ہو سکتی ہیں۔‘تھائی لینڈ میں جو قبریں ملی ہیں ان سے یہ قبریں سینکڑوں میٹر کے فاصلے پر ہیں۔قبروں کی دریافت کے بعد انھوں نے کہا کہ سب سے بڑے کیمپ میں ممکنہ طور پر 300 تک افراد مقیم تھے۔انھوں نے کہا:ہمارے افسروں پر مشتمل پہلی ٹیم آج صبح اس علاقے میں پہنچ گئی ہے جہاں وہ قبرکشائی کرے گی۔‘حکام اس بات کی بھی یقین دہانی کرنے کی کوشش کریں گے کہ آیا یہ قبریں انسانی سمگلنگ کے شکار لوگوں کی ہیں۔تھائی لینڈ کے اس روٹ سے بھی بہت قبریں ملی تھیں جہاں سے انسانی سمگلر برما سے جانیں بچا کر بھاگنے والے روہنجیا مسلمانوں کو لے کر جاتے تھے لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ملائیشیا میں اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہوں۔

اس سے قبل ملائیشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق نے کہا کہ انھیں ’ملائیشیا کی سرزمین پر قبریں پائے جانے پر گہری تشویش ہے جو کہ مبینہ طور پر انسانوں کی سمگلنگ سے متعلق ہیں۔‘انھوں نے اپنے فیس بک پیج اور ٹوئٹر پر اس کے ذمے دار افراد کو تلاش کرنے کا عہد کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی خصوصی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تھائی لینڈ کی بعض پوری کی پوری برادریاں سمگلروں کی مدد کرتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ تھائی لینڈ کے انسانی سمگلروں کے نیٹ ورک دوسرے سمگلروں سے تارکینِ وطن سے بھری پوری کی پوری کشیاں خرید کر انھیں اس وقت تک جنگلوں میں چھپائے رکھتے تھے جب تک ان کے خاندان تاوان ادا نہیں کرتے۔ خیال ہے کہ ہجرت کرنے والے کئی لوگ یہاں بیماریوں اور بھوک سے ہلاک ہو گئے تھے۔ہر سال ہزاروں لوگ تھائی لینڈ کے ذریعے غیر قانونی طور پر ملائیشیا لے جائے جاتے ہیں۔

ایک صاحب نے یہ بات بالکل درست لکھی ہے کہ گیارہ لاکھ کی آبادی پر مشتمل روہنگیا مسلمانوں کو اگر اس دنیا میں سب سے مظلوم اقلیت کے طور پر دیکھا جائے تو غلط نہ ہوگا ان میں سے تقریباً 8 لاکھ روہنگیا مسلمان برما کے علاقے "اراکان" میں رہتے ہیں۔ برمائی حکومت روہنگیا مسلمانوں کو اپنا شہری نہیں مانتی بلکہ آج تک یہ مسلمان برما میں تارکین وطن کے طور پر زندگی گزار رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہاں کے بدھ پرست مختلف طریقوں سے مسلمانوں پر ظلم ڈھاتے آئے ہیں۔ بے گناہ نوجوانوں کا قتل عام ہو یا نوجوان لڑکیوں کی عصمت دری، معصوم مسلمان بچوں کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال کر بدھ پرستوں کا ناچ ہو یا روہنگیا مسلمانوں کے گھروں کو راکھ کا ڈھیر بنانا یہ سب برمی حکومت کی مدد اور رضا مندی سے ہوتا رہا اور انہیں معاشی، معاشرتی، سیاسی اور سماجی طور پر تنہا کر دیا گیا۔ ان مظالم سے تنگ آکر بہت سے روہنگیا مسلمانوں نے بنگلہ دیش، چین اور تھائی لینڈ کی طرف ہجرت شروع کر دی لیکن افسوس کے ساتھ وہاں بھی ان بیچارے معصوم لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ ہوا بلکہ تھائی لینڈ کی حکومت نے ان مہاجرین کو فوج کے حوالے کر دیا جنہوں نے تمام مسلمانوں کے ہاتھ باندھ کر انہیں بغیر انجن کے کشتیوں میں سوار کرکے بیچ سمندر میں چھوڑ دیا وہیں تمام مسلمان سمندر کی بے رحم لہروں کا شکار ہو گئے۔

برمی مسلمانوں پر ظلم کی داستان بہت پرانی ہے۔ ابھی تین سال قبل 28 مئی 2012 پیش آنے والے مسلم کش فسادات میں تو یہ سب حدیں عبور کر گئی جب چند بدھ پرستوں نے روہنگیا مسلمان عورتوں سے قیمتی اشیاء لوٹ کر انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں انہیں قتل کر دیا اس واقعہ نے مسلمانوں کو اشتعال دلا دیا جس سے مسلمانوں اور بدھ پرستوں کے درمیان نئے فسادات نے جنم لے لیا۔ مسلمانوں کی تعداد کم ہونے کے باعث بدھ پرستوں نے مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ فسادات روکنے کے لیے آنے والی فوج اور پولیس نے بھی بدھ پرستوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ چند سو مہاجرین جو چند دن پہلے بنگلہ دیش کی سرحد پار کرنے میں کامیاب ہوئے ان کے مطابق برمن فوج اور پولیس مسلمانوں کے گاؤں میں داخل ہوتی ہے نوجوانوں کو قطار میں کھڑا کرکے گولیاں مارتی ہے جبکہ نوجوان لڑکیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد زندہ جلا دیتی ہے۔ بعد میں پورے گاؤں کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ مسلمانوں کے اس قتل عام پر جہاں عالمی طاقتیں خاموش ہیں وہیں اسلامی ممالک نے بھی چپ کا روزہ رکھ لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اُن فسادات میں 28650 مسلمانوں کو شہید کیا گیا جبکہ 12000 سے زائد افراد لاپتہ اور 80 ہزار مسلمان بے گھر ہو کر سڑکوں پر اپنی جان بچاتے بھٹکتے رہے ہیں۔ مساجد کو شہید اور قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی۔

برما کے مسلمانوں پر ظلم آج سے نہیں ہو رہا بلکہ جب بھی بدھ پرست لوگوں کو موقع ملتا ہے وہ مسلمانوں کو بے دردی سے موت کی نیند سلا دیتے ہیں۔ اس سارے ظلم و ستم پر جہاں ساری عالمی طاقتیں خاموش ہیں وہیں بشمول پاکستان 50 سے زائد مسلمان ممالک نے بھی چپ کا روزہ رکھ لیا ہے۔ مسلم امہ کی اسی خاموشی نے کفار کو اتنی شہ دے رکھی ہے کہ وہ جب چاہیں جہاں چاہیں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ پھینکیں پھر وہ عراق ہو یا فلسطین، کشمیر، چیچنیا، افغانستان، پاکستان کے قبائلی علاقے یا اب برما اگر اسلامی ممالک نے اس واقعہ پر یک زبان اور قلب ہو کر سخت موقت نہ اپنایا تو مسلمان اسی طرح مرتا رہے گا اور دنیا تماشہ دیکھتی رہے گی۔

یہ تو اللہ تعالی جزائے خیر دے ترکی کے مسلم حکمرانوں کو کہ انہوں نے بہر حال ان مشکل حالات میں ایک حدتک اپنے وسائل بروئے کار لاکر ان مظلوموں کے دکھوں پر مرہم رکھنے کی کامیاب کوشش کی۔ خود اہم ترین سرکاری عہدیدار اور قائدین ان کی مدد کو پہنچے مگر فقط ایک مسلم ملک کے حکمرانوں سے کیا ہوتا ہے؟ کاش تمام مسلم ممالک مل کر ان مظلوموں کی دادرسی کرتے، انہیں مشترکہ منصوبہ بندی سے محفوظ پناہ گاہ دیتے، انہیں علاج معالجے کی سہولیات بہم پہنچائی جاتیں، اورانہیں اپنی زندگی ازسرنوشروع کرنے کا حوصلہ دیا جاتا مگر

وائے ناکامی! متاع کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor