Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین …میدان جہاد میں (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 498 - Mudassir Jamal Taunsavi - Khawateen maindan e jihad mein

خواتین …میدان جہاد میں

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 498)

جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو مردوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے اسی طرح عورتوں کے لئے بھی …

اس لئے عورتوں کو قرآن مجید کا صحیح علم دلانا یہ مسلمان مردوں پر ضروری بھی ہے اور بڑی فضیلت کی چیز بھی ہے…اور خاص طور پر ان شرعی احکام کا علم دلانا جس پر کفار کی طرف سے مسلسل شکوک و شبہات پھیلائے جا رہے ہیں۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ کے بارے میں سب سے زیادہ گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ اور یہ پروپیگنڈہ کرنے والے کافروں میں مردو عورت دونوں طرح کا طبقہ شامل ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ مسلمان مردوں کو بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں جہاد فی سبیل اللہ کے احکام سمجھائیں جائیں اور اسی طرح مسلمان عورتوں کو بھی۔ تاکہ ایمان کی سلامتی بھی رہے اور کفار کے پروپیگنڈے کو بھی ناکام بنایا جائے۔اسی نظریے کو سامنے رکھ کر امیر المجاہدین حضرت مولنا محمدمسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کے زیر اہتمام مردو خواتین کے لئے باقاعدہ دورات تفسیر کا انعقاد کیا گیا اور ان کا تیسرا مرحلہ کامیابی سے جاری و ساری ہے۔

ذیل کا مضمون کا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ 

جب سے اس دنیا میں اسلامی تہذیب و تمدن کی خوشبو پھیلیتو دنیا کے باغ میں ایک خوش کن بہار آئی  جس میں عورت کا کردار ایک نیا اور خوشگوار رنگ دکھا رہا تھا۔عورت کو دنیا نے جس نگاہ سے دیکھا وہ مختلف جگہوں میں مختلف رہی لیکن جو عزت اور مقام عورت کو اسلام نے دیا ہے وہ نہ تو قومی تاریخ میں ملتی ہے اور نہ ہی دنیا کی مذہبی تاریخ میں۔اسلام نے صرف عورت کے حقوق ہی نہیں مقرر کر دئیے بلکہ انکو مردوں کے برابردرجہ دے کر مکمل انسانیت قرار دیا ہے صحیح بخاری میں ہے:

مرد اپنے اہل کا راعی بنایا گیا اور اس سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا اور عورت شوہر کے گھر کی راعیہ ہے اس سے اس کے متعلق باز پرس ہو گی۔

اس بنا پر اسلام میں جو عورت کی قدرو منزلت قائم ہوئی ہے وہ نتائج کے لحاظ سے بھی دیگر تمام اقوام و مذاہب سے بالکل مختلف ہے۔

تمام دنیا اپنی قومی تاریخ پر ناز کرتی ہے لیکن اگر ان سے سوال کیا جائے انکی ان کوششوں میں صنف نازک کا کتنا حصہ ہے تو ہر طرف خاموشی چھا جاتی ہے بس کہیں کوئی  نام نظر آتا ہے ایسے ہی اگر قومی تاریخ کو چھوڑ کر مذہبی تاریخ کی طرف آئیں تو اسکے اوراق بھی صنف نازک کے عظیم کارناموں سے خالی ہیںلیکن اسلام نے جن پردہ نشینوں کو اپنی آغوش میں پناہ دی ہے انہوں نے دنیا میں بڑے بڑے عظیم الشان کام انجام دیئے ہیںمذہبی خدمات میں سب سے اہم خدمت جہاد ہے۔

 ام عمارۃ ایک مشہور صحابیہ تھیں غزوۂ اُحد میں شریک تھیں جب تک مسلمان فتح یاب رہے مشک میں پانی بھر کر لوگوں کو پلا رہی تھیں لیکن جب مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں اور سینہ سپر ہو گئیں.حضرت ام عمارہ اُحد کے بعد بیعت رضوان،خیبر اور فتح مکہ میں بھی شریک ہوئی۔

حضرت ابو بکر کے دور میں جو جنگ یمامہ جھوٹے مدعیان نبوت مسلمہ کذاب سے ہوئی اس میں اپنے بیٹے کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے اس پا مردی سے مقابلہ کیا کہ بارہ زخم آئے اور ایک ہاتھ کٹ گیا۔

 غزوہ اُحد میں ام المؤمنین حضرت عائشہ اپنے ہاتھ سے مشک بھر بھر کر زخمی سپاہیوں کو پانی پلاتی تھیں انکے ساتھ ام سلیم، ام سلیط دو اور صحابیہ بھی اس خدمت میں شامل تھیں۔(صحیح بخاری)

آج کی اس نازک مزاج صنف کو تو تھوڑا سا زخم دیکھ کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں نہ لیکن ہمارے اسلاف نے ایسے کارنامے رقم کیے ہیں جو اسلام کے چہرے کو ایک خاص جلا بخشنے کا باعث بنے ہیں۔

ربیع بنت معوذ اور دوسری عورتوں نے شہداء اور مجروحین کو میدان جنگ سے اُٹھا کر مدینہ لانے کی خدمات انجام دیں۔ (صحیح بخاری کتاب الطب)

ام رفیدؓ صحابیہ کا ایک خیمہ تھا جس میں وہ زخمیوں کی مرحم پٹی کرتی تھیں۔ (سنن ابی داوؤد)

ام زیاد اشجعیہ اور دوسری پانچ خواتین نے غزوہ خیبر میں چرخہ کات کر مسلمانوں کو مدد دی وہ میدان سے تیر اٹھا کر لاتی اور مجاہدین کو ستو گھول کر پلاتی تھیں۔ (صحیح مسلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ نے غزوہ خندق میں نہایت بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک یہودی جو کے مستورات کے قلعے میں داخل ہوا تھا اسکی گردن اتار کر پھینک دی جس سے کسی کو اس قلعے کی طرف آنے کی جرأت نہ ہوئی۔

حضرت ام عطیہ نے سات غزاوات میں صحابہ کے لیے کھانا پکایا تھا۔ (مسلم کتاب الجھاد باب النساء الغازیات)

اسلام جو مکہ او مدینہ کی سرحدوں سے نکل کر روم ایران شام جیسی سپر پاور سلطنتوں کو تہ و تیغ کرتا ہوا آگے بڑھتا رہا یقیناً ان فتوحات کا سہرا ان بہادر عورتوں کے سر ہے جنہوں نے ماں. ہونے کی حیثیت سے جوان بیٹوں کو خود میدان کارزار کی طرف رخصت کیااور بہنوں نے بھائیوں کو خود تیار کر کے روانہ کیا اور تاریخ میں ایسی سہاگن بھی ملتی ہیں کہ جس نے صدا جہاد پر اپنے شوہر کو شب عروسی کے بعد ہی قتال کو روانہ کر دیا….. بہادر مسلمان عورتوں نے دفاع اسلام کی خاطر خود بھی میدانوں کا رخ کیا اور مجاہدین اسلام کو جوش دلانے کے لیے جہادی اشعار کہے .جب مسلمانوں نے دمشق کا محاصرہ چھوڑ کر اجنادین کی طرف رخ کیا تو اہل دمشق نے پیچھے سے حملہ کر دیا اور اتفاق سے قیصر روم نے دمشق کی امداد کے لئے جو فوجیں بھیجیں تھیں وہ بھی آ پہنچی اور آگے سے حملہ کر دیا اس سے مسلمانوں میں بد حواسی پھیل گئی عورتوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا خولہ بنت ازور نے کہا ا’’بہنو! کیا تم یہ گوارہ کر سکتی ہو کہ مشرکین دمشق کے قبضہ میں آ جاؤ کیا تم عرب کی شجاعت کے دامن میں داغ لگانا چاہتی ہو اس سے تو مر جانا بہتر ہے ان چند فقروں نے آگ لگا دی اور عورتیں خیموں کی چوبیں لے کر باقاعدہ ہاتھ باندھ کر صفوں میں آگے بڑھیں اور دفعتا تیس لاشیں گرا دیں۔

جنگ یرموک میں جب مسلمان چالیس ہزار کے لشکر سے دو لاکھ رومیوں کے مقابلے میں آئے تو رومیوں کے زور دار حملوں سے لخم و جذام کے قبیلے جو عیساؤوں کے ماتحت رہے بھاگ کھڑے ہوئے اور رومی تعاقب کرتے عورتوں تک پہنچ گئے جس سے عورتوں کے غصے کی انتہا نہ رہی فوراً خیموں سے باہر آئیں اور اس زور سے حملہ کیا کہ رومیوں کا سیلاب رک گیا۔(طبری)

ضرار بن ازور کی بہن خولہ یہ شعر پڑھ کر مسلمانوں کو غیرت دلا رہی تھیں:

اے پاک دامن عورتوں کو چھوڑ کر بھی بھاگنے والو تم موت اور تیر کے نشانہ نہ بنو۔ (اسدالغابہ)

جنگ قادسیہ میں اسلام کی مشہور شاعرہ خنساء اپنے چاروں بیٹوں کے ساتھ شریک تھیں اس بہادر عورت نے اپنے بیٹوں کو یو جوش دلایا۔

پیارے بیٹو!تم اپنی خواہش سے مسلمان ہو اور تم نے ہجرت کی وحدہ لا شریک کی قسم تم جس طرح ایک ماں کی اولاد ہو ایک باپ کے بھی بیٹے ہومیں نے تمھارے باپ کے ساتھ خیانت نہیں کی اور نہ ہی تمھارے مامؤں کو ذلیل کیا ہے جو ثواب اللہ نے کافروں سے لڑنے میں رکھا ہے تم اسے خوب جانتے ہو دنیا فانی اور آخرت ہمیشہ رہنے والی صبح جنگ چھڑتے ہی خنساء کے چاروں بیٹے دشمن پر جھپٹ پڑے اور بڑی بہادری سے لڑ کر شہید ہوئے۔

اسلام کی سربلندی کی خاطر قربانیاں دینے والی یہ عظیم عورتیں بلا شبہ داد و تحسین کے قابل ہیں لیکن کیا آجکی مسلمہ عورت نے دین اسلام کے غلبہ کی خاطر کچھ کیا کہ نہیں۔

یہی نازک مزاج صنف جو خود کو مجبور اور بے بس تصور کرتی ہے کیا اسے اسلام کی اجنبیت کے اس دور میں اسلام کے ماننے والے مجبور مقہور مسلم نظر نہیں آتے جو ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں یا پھر اس نازک دل کی مالکہ کو گستاخ رسول بھول چکے ہیں۔

عورت کی کمزوری اور اس بے حسی کی سب سے بڑی وجہ اسکی بے صبری اور دین سے دوری ہے.قوت برداشت،بردباری اور تحمل ناپید ہے چونکہ دین سے دوری ہے اس لئے یہ گھر کے کام بھی بوجھ سمجھ کر کرتی ہے غلبہ اسلام کی خاطر نہ قربانیاں دینے کا شوق ہے اور نہ ہی سوچ اگر ہم اسوۂ صحابیہ کو دیکیھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کیسے وہ خواتین اپنے گھروں کو خود سنبھالتی آج کی عورت اتنی سہولیات اور آسانیوں کے باوجود کام تھوڑا کر کے ڈھنڈورہ زیادہ پیٹتی ہیں۔

حضرت اسماء بنت ابی بکر خود گھوڑے کو چارہ ڈالتیں اور خود چھوہارے کی گھٹلیاں چن کر تین فرلانگ سے سر پر لاد کر لاتیں۔

ٹی وی اور نیٹ نے اتنا مصروف کر دیا ہے کہ جسمانی طور پر خود کو  مضبود بنانے کی طرف بالکل بھی توجہ نہیں دی جاتی خصوصا پریگنیسی کے دوران بہت زیادہ ریسٹ کے چکر میں بستر تک محدود ہو کر سست روی کا شکار ہوتی ہیں جسکی وجہ سے تھوڑی تکلیف بھی بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے ایسی مائیں کس طرح بہادر اور نڈرنسلوں کی ضامن ہو سکتی ہیں۔

اس وقت ضرورت ہے آج کی عورت کو خود کو مضوط بنانے کی جو معاذو معوذ رافع بن خدیجہ جیسی نسلوں کو پروان چڑھانے کا ذریعہ بنے.ایسی مائیں جو اس چمن کی آبیاری اپنے لہو سے کریں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor