Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مغفرت کی طرف! (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 499 - Mudassir Jamal Taunsavi - Maghfirat ki Taraf

مغفرت کی طرف!

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 499)

اللہ تعالیٰ نے مغفرت کی طرف بلایا ہے

بار بار بلایا ہے

زور دے کر بلایاہے

مختلف طریقوں سے بلایا ہے

دنیاکی بہترین نعمتیں دینے کا وعدہ کرکے بلایا ہے

آخرت کی کامیابی اور اپنی رضامندی دینے کا اعلان کرکے بلایا ہے

روحانی فوائد بتلا کر بلایا ہے

جسمانی صحت وتندرستی کے سامان بتلاکر بلایا ہے

اپنی رحمت کا شوق دے کر بلایا ہے

مغفرت کو اپنی اونچی نعمت بتا کر بلایا ہے

پھر اللہ تعالیٰ کے آخری نبی، ہمارے محبوب، سروردوجہاںﷺ نے بھی اپنی امت کو مغفرت اور استغفارکی طرف بلایا ہے

خود اللہ تعالیٰ کے نبی سروردوجہاںﷺ نے استغفار کرکے دِکھایا ہے

استغفار کے کئی الفاظ سِکھائے ہیں

مختصر الفاظ بھی سکھائے تاکہ ہر شخص آسانی سے انہیں یاد کر سکے

طویل دعائیں بھی سکھائی ہیں تاکہ باذوق اہل ایمان روح پرور ایمانی جذبات کے استغفار میں مگن ہو کر مغفرت مانگتے رہیں

اسی لیے اب جو بھی اللہ تعالیٰ کا محبوب بندہ بنتا ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی طرف بلاتا ہے، استغفار کی دعوت دیتا ہے

جو بھی نبی کریمﷺ کی سچا امتی اور سچا وارث بنتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی طرف بلاتا ہے، استغفار کی دعوت دیتا ہے اور خود بھی اِستغفار کرکے دکھاتا ہے

وہ صرف اپنی ذات کے لیے مغفرت کا حریص نہیں ہوتابلکہ وہ چاہتا ہے کہ ہر مسلمان سچی توبہ کی طرف آجائے، ہر مجاہد دل سے مغفرت مانگنے والا بن جائے

جس کے دل میں جس قدر اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظمت اور اپنے عجز واِنکسار کا احساس پیدا ہوتا ہے وہ اسی قدر زیادہ توبہ واستغفار کی طرف متوجہ ہوتا ہے

جب اللہ تبارک وتعالیٰ کے نبی ایک مجلس میں ستر بار اور بعض اوقات سوبار استغفار کیا کرتے تھے تو ہم جیسے امتیوں کو اس کی کس قدر ضرورت ہوگی؟

اللہ کے نبی چونکہ ’’عبدیت‘‘ کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھے اس لیے ان کا استغفار بھی اونچے درجے کا

اب ان کی اقتدا اور اتباع میں جو بھی ’’عبدیت‘‘ کی راہ پر چلے گا اسے استغفار کا دامن تھامنا ہوگا

٭…٭…٭

الیٰ مغفرۃ کتاب کیا ہے ؟

مغفرت کی طرف بلانے والی کتاب

استغفار کی اہمیت سمجھانے والی کتاب

توبہ کا سبق یاددلانے والی کتاب

قرآن کریم نے توبہ کے بارے میں کیا کچھ بیان کیا ہے؟ اس سوال کا جواب آپ کو اس کتاب میں مل جائے گا

قرآن کریم نے استغفار کے سلسلے میں کیا ہدایات دی ہیں؟ یہ کتاب ان تمام آیات کو آپ کے سامنے رکھ دے گی

قرآن کریم نے مغفرت پانے والوں کے لیے کیا انعامات بیان کیے ہیں؟ یہ کتاب ان تمام انعامات کی فہرست آپ کو سنا دے گی

قرآن کریم نے مغفرت پانے والوں کا کیسا تذکرہ کیا ہے؟ ان کے احوال بھی اس کتاب میں مل جائیں گے

قرآن کریم نے مغفرت سے دور بھاگنے والوں کا جو انجام بیان کیا ہے وہ بھی اس کتاب کے ذریعے آپ کے سامنے آجائے گا

الغرض اس کتاب میں مغفرت، توبہ ، استغفار اور معافی کے موضوع پر سینکڑوں آیات مبارکہ جمع کرکے ان کا بہترین خلاصہ پیش کردیا گیا ہے

پڑھتے جائیے اور اس قرآنی سوغات سے موتی چنتے جائیے

اس کتاب میں کہیں آپ کو دنیا کی طر ف نہیں بلایاگیا

حرص اور لالچ کی دعوت نہیں دی گئی

دنیاکا مال بنانے کی ترغیب نہیں دی گئی

کسی انسان کی پرستش کرنے کا کوئی سبق نہیں دیا گیا

بس ایک ہی سبق دیا گیا ہے کہ: اللہ تعالی ہمارا رب ہے اورہم اس کے بندے ہیں، ہمیں چاہئے اسی کے سامنے جھکیں، اسی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں

ہمارا رب راضی ہوگیا تو سب خیر ہی خیر

اگر رب تعالیٰ ناراض ہوگیا تو بچنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں

اس لیے کتاب کا نام ہی یہی رکھا گیاجس سے واضح ہوجائے کہ یہ دعوت کسی بندے کی پرستش کی نہیں ہے بلکہ:

اِلٰی مَغْفِرَۃٍ…

اپنے رب کی مغفرت کی طرف …جی ہاں!اس کتاب میں رب تعالی کی طرف دعوت دی گئی ہے اور یہی علماء ربانیین(اللہ والوں) کی علامت ہے کہ وہ لوگوں کو ’’رب والا، اللہ والا‘‘ بناتے ہیںاور ’’اللہ والا‘‘ وہی بنتا ہے جسے مغفرت مل جائے

کتاب کا پہلا سبق حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ کی شکل میں بیان کیا گیا ہے کیوں کہ وہ تمام انسانیت کے باپ ہیں اور اولاد کی ذمہ داری ہے وہ اپنے باپ کے نقش قدم پر چلے خاص کر جبکہ وہ باپ کامیاب ترین لوگوں میں سے ہو، اس لیے اے انسانو! تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام کو رب تعالیٰ نے کچھ کلمات سکھائے انہیں توبہ کی توفیق دی گئی اور رب تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرکے یہ پیغام دیاکہ وہ رب تعالیٰ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے …

کتاب کا آخری سبق یہ ہے کہ اے انسانو! دلوں پر زنگ لگ جاتا ہے اور یہ زنگ اترتا ہے کثرت استغفار سے، تم اپنے باپ کے زمانے سے بھی بہت دور ہوگئے ، خاتم النبیینﷺ کے مبارک دور حیات سے بھی کافی دور ہوگئے اس لیے دلوں کو زنگ لگنا لازمی ہے مگر اس کا علاج ہے استغفار… اسے لیے آؤ:

الی مغفرۃ

مغفرت کی طرف

جس سے دلوں کا زنگ اترے گا اور دل کا زنگ اترگیا تو پورا انسانی وجود خیر وصلاح کا پیکر بن گیا

اب یہ وجود دیکھنے میں انسانی وجود ہے مگر اس کا مرتبہ فرشتوں سے بھی بڑھ کر ہے ۔ بقول شاعر:

فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

ایک بار توجہ سے اس کتاب کو پڑھیے تو یہ محنت بھی آسان ہوجائے گی اور فرشتوں سے بہتر بننے والی راہ بھی مل جائے گی…شرط یہ ہے کہ مغفرت کی اہمیت سمجھنے اور مغفرت پانے کی نیت سے اس کو پڑھاجائے …تب محسوس ہوتا:

ہر کہ از دل خیزد بر دل ریزد

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پَر نہیں، طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor