Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ماہِ رمضان اور اِنفاق (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 500 - Mudassir Jamal Taunsavi - Mah e ramazan aur infaq

ماہِ رمضان اور اِنفاق

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 500)

اِنفاق کا مطلب ہے: مال خرچ کرنا

اورعام طور سے شریعت کی زبان میں نیکی کے کاموں میں مال خرچ کرنے کے لیے یہ لفظ بولا جاتا ہے اوراسی کی وضاحت کے لیے اس کے ساتھ ’’فی سبیل اللہ‘‘ لفظ بھی بڑھادیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے: انفاق فی سبیل اللہ یعنی: اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنا

درحقیقت یہ انفاق ایک بہت بڑی عبادت ہے۔ قرآن کریم اوراحادیث نبویہ میں اس کی اتنی ترغیب موجود ہے کہ بلامبالغہ اس موضوع پر سینکڑوںآیات واحادیث موجود ہیں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاصاحبؓ نے فضائل صدقات میں اس موضوع پر گراں قدر ذخیرہ جمع فرمادیا ہے اور جو سینکڑوں صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔

جس طرح ہم مال خرچ کرکے اپنے دنیوی مستقبل کو بہتر بناتے ہیں اسی طرح مال خرچ کرنے سے ہماری آخرت بہتر بنتی ہے

اب خود اندازہ لگالیں کہ آخرت کو بہتر بنانے کے لیے کس قدر مال خرچ کرنا چاہئے؟

بات کو ایک اور زاوئیے سے دیکھیں

بتایاگیا ہے کہ : ایمان اوربخل ایک دل میں جمع نہیں ہوتے

اوربخل ہی کے علاج کے لیے انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیاگیا ہے، یہ بخل نکلے گا تو ایمان دل میں جگہ بنائے گا

اب ایمان کی قیمت کس سے مخفی ہے؟ اور جب ایمان ایک واسطے سے موقوف ہورہاہے انفاق فی سبیل اللہ پرتو انفاق کی اہمیت سمجھنے کے لیے کیا یہ بات کافی نہیں ہے؟

رمضان المبارک کے ساتھ ’’انفاق‘‘ کاخصوصی تعلق کیسے ہے؟

نبی کریمﷺ کی زندگی مبارک کا طرز دیکھئے، صحابی رسول فرماتے ہیں:

’’حضوراکرمﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے، اور آپ کی یہ سخاوت رمضان مبارک میں تو اس وقت عروج کو پہنچ جاتی تھی جب کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آکر آپ سے ملا کرتے تھے، رمضان مبارک کی ہررات حضوراکرمﷺ انہیں قرآن سناتے تھے اوراس زمانے میں حضوراکرمﷺ کی سخاوت تیز آندھی سے بھی زیادہ بڑھ جاتی تھی‘‘

جی دیکھا آپ نے؟

دینی نعمت بڑھی، رمضان المبارک نصیب ہو، قرآن کریم کی دولت سے مزید قرب ہوا، اسے سننے اورسنانے کا وقت آیا، اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے خصوصی ملاقات ہوئی تو حضوراکرمﷺ کی سخاوت بڑھ گئی، قرآن سننے اورسنانے کا موقع آیا تو حضوراکرمﷺ کی سخاوت بڑھ گئی اور ایسی بڑھ گئی کہ تیز آندھی بھی اس کامقابلہ نہ کرسکے

تیز آندھی چلتی ہے تو بہت کچھ اڑا کر لے جاتی ہے،

اسی طرح حضوراکرمﷺ کی سخاوت میں بھی بہت سامال خرچ کیا جاتا تھا

تیزآندھی چلتی ہے بہت سی ان چیزوں کو بھی اڑا لے جاتی ہے جن کو روکنے کی خواہش ہوتی ہے

اسی طرح سخاوت ایسی ہونی چاہئے کہ وہ مال جس کو خرچ کرنا گراں لگتا ہے اس میں سے بھی خرچ کیا جائے

’’تم نیکی کو اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے خرچ نہ کرو‘‘

قرآن کریم کا یہ پیغام اسی حقیقت کی نشاندھی کررہا ہے

جس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی، ایک صحابی حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ حضوراکرمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اورعرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا یہ باغ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے اور یہ آیت نازل ہوچکی ہے کہ نبی تو اسی وقت ملے گی جب محبوب چیزمیں سے خرچ کروگے، لہٰذا میں اسے وقف کرتا ہوں۔امیر المومنین حضرت عمررضی اللہ عنہ کو ایک غزوے میں مال غنیمت کے حصے میں سے عمدہ مال ملا تو حضوراکرمﷺ کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا مجھے اب تک جو مال ملا ہے یہ اس میں سب سے زیادہ عمدہ اورمجھے محبوب ہے مگر میں اس آیت کو دیکھ رہا ہوں کہ کامل نیکی حاصل کرنے کے لیے تو محبوب چیز خرچ کرنا پڑے گی اس لیے میں اپنا یہ محبوب مال وقف کرتا ہوں

یہ دو واقعات تو بطور مثال ہیں ورنہ اس طرح کے دیگر بھی متعدد واقعات ہیں

٭…٭…٭

’’الرحمت‘‘ کے زیرانتظام اس وقت ’’انفاق مہم‘‘ جاری ہے اور یہ مہم پورا رمضان جاری رہے گی

یہ ’’دعوت دین‘‘ پر اجر مانگنے والی بات نہیں ہے

بلکہ مسلمانوں کو ایک فرض اور ایک نیکی کی یاددھانی ہے،

قرآن وسنت میں باربار مال خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی

اس کے مصارف بیان کیے گئے ہیں

خرچ نہ کرنے والوں کو مختلف وعیدات سنائی گئی ہیں

خرچ کرنے والوں کو مختلف انعامات کی بشارتیں دی گئی ہیں

صرف اسی ایک آیت کو دیکھ لیں:

’’بے شک اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے اُن کی جان اوراُن کے مال کوخرید لیا ہے اوران کے لیے بدلے میں جنت ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہیں، پھر قتل کرتے ہیں اور خود بھی قتل ہوتے ہیں‘‘

جب ایک مسلمان کی جان اورمال کو اللہ تعالیٰ خرید چکے تو اب ہم پابند ہیں کہ اس مال کو اس کے مالک کی مرضی کے مطابق خرچ کریں، اس کی راہ میں خرچ کریں، اس کے بتائے ہوئے مصارف میں خرچ کریں،کیوں کہ جس کی راہ میں خرچ کرنے کا کہا جارہا ہے وہ تو پہلے بھی اس کامالک تھا اورایمان والوں کا اختیار برائے نام تھا مگر اصلی مالک کی طرف سے خرید لینے کے بعد تو ایمان والوں کا اختیار اور بھی ہاتھ سے نکل گیاایسے میں ایمان والے تو محض وکیل ہیں جیسے وکیل موکل کا پابند ہوتا ہے ایسے ہی ہم بھی اللہ تعالیٰ کے پابند ہیں جہاں وہ فرمائیں گے وہاں خرچ کرنا ہوگا اورجہاں سے وہ روکیں گے وہاں رکنا ہوگا

بس اسی فرض اورحقیقت ایمانی کی یاددھانی کے لیے اور اس پر عمل کی راہیں دکھانے کے لیے

’’الرحمت انفاق مہم‘‘جاری ہے

رمضان سخاوت کا مہینہ ہے اس کا تقاضا بھی یہ ہے کہ ہم خوب انفاق کریں، اللہ تعالیٰ کی راہ میں خوب مال کرچ کریں

رمضان جہاد کا مہینہ ہے اس کا تقاضا بھی یہ ہے کہ ہم اپنی جان کے علاوہ اپنے مال سے بھی جہاد کریں اوریہ مال جہادی امور میں ڈھیروں ڈھیر خرچ کریں

یاد رکھئے

ہمارا مال وہی ہے جسے ہم اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرکے آگے بھیج دیں

اوریہی ہمارا مال ہی ہمارے کام آئے گا

اس کے برعکس جو مال ہم نے آگے نہ بھیجا وہ ہمارا نہیں بلکہ اوروں کا ہے

اس میں جو ورثاء کے قبضے میں آئے گا وہ ان کے کام آئے گا

اور جس پر دوسرے لوگ قابض ہوجائیںگے وہ اس سے نفع اٹھائیں گے

لیکن ہم بہر حال اس سے محروم ہوگئے

اس لیے جو وقت ہے جو زندگی کے سانس ابھی باقی ہیں ان کی قیمت پہچانیں اور انہی سانسوں کے باقی رہنے تک نیکیاں کرلیں، اپنا مال خرچ کرکے نیکیاں کما لیں، نیکی کی ترقی میں اپناحصہ ڈال لیں

’’مال اور اولاد کی محبت تمہیں ’’انفاق‘‘ سے روک نہ دے ۔ اگر ایسا ہوا تو مرتے وقت تمنا ہوگی کہ کاش کچھ مہلت مل جائے تاکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ لوں مگر اس وقت کوئی مہلت نہیں دی جائے گی‘‘

یہ قرآن کا پیغام ہے

کاش ہم اس پر عمل کرنے والے بن جائیںاور جو ہمیں سمجھارہے ہیں ان کی قدر کرنے والے بن جائیں، جو ہمیں تعاون کی راہیں دکھارہے ہیں ہم اس پر چلنے والے بن جائیں

الرحمت کا میدانِ خدمت بہت وسیع ہے جس میں امیرالمجاہدین حضرت مولانا محمد مسعودازہرحفظہ اللہ تعالیٰ کی زیرامارت کام ہورہا ہے…اس وسیع میدان میں خدمت کی راہیں آپ کی منتظر ہیںجہاں آپ کا خرچ کیا ہوا مال لگے گا اورآپ کے لیے ذخیرۂ آخرت بن کر محفوظ ہوگا۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor