Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قرآن سے تعلق مضبوط کیجئے! (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 501 - Mudassir Jamal Taunsavi - Quran se Taaluq

قرآن سے تعلق مضبوط کیجئے!

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 501)

رمضان المبارک کو قرآن مجید کے ساتھ خصوصی تعلق اور نسبت ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

’’مہینہ رمضان کا ہے جس میں نازل ہوا قرآن‘‘(البقرۃ)

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں: قرآن پاک لوحِ محفوظ سے لیلۃ القدر میں ایک ہی رات میں بیت العزت کی طرف نازل کیا گیا ہے۔ اسی بات کی طرف قرآن کریم نے بھی رہنمائی کی ہے:

’’ہم نے اس(کتاب، قرآن کریم) کو اتارا شب قدر میں‘‘(سورۃ القدر)

’’ہم نے اس(قرآن) کو اتارا ایک برکت کی رات میں‘‘(سورۃ الدخان)

حضرت عبید بن عمیر نے نبی کریمﷺ سے روایت فرمائی ہے کہ: وحی کی ابتدا ء اور نزولِ قرآن ماہ رمضان میں ہوا۔

مسند میں واثلہ بن اسقع حضوراکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے رمضان کی پہلی رات میں اتارے گئے اور تورات چھ رمضان کو نازل ہوئی، انجیل تیرہ رمضان کو اور قرآن پاک چوبیس رمضان کو نازل ہوا۔

اس لیے ہمیں چاہیے کہ رمضان المبارک میں قرآن مجید کی تلاوت اور اسے سمجھنے کا خصوصیت کے ساتھ اہتمام کریں۔خود نبی کریمﷺ، آپ کے پیارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ہمارے دیگر اسلاف و اکابر کا یہی معمول تھا کہ وہ اس مہینے میں باقی ہر قسم کے معمولات تقریباً ختم فرمادیتے تھے اور صرف قرآن پا کی تلاوت اور اس میں غور وفکر کرنے میں مشغول رہتے تھے۔

حضرت فاطمہؓ روایت کرتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ اور حضرت جبرئیل علیہ السلام ہر سال رمضان المبارک میں قرآن پاک کا ایک دور کرتے تھے اور جس سال حضورﷺکی وفات ہوئی اس سال آپﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے قرآن پاک کے دو دور مکمل فرمائے۔

حضورﷺماہِ رمضان کی راتوں میں دوسرے مہینوں کی راتوں کی نسبت طویل قراء ت فرمایا کرتے تھے۔ حضرت حذیفہ نے ماہِ رمضان کی ایک رات میں آنحضرتﷺ کے ساتھ نماز ادا فرمائی تو آپﷺنے اپنی اس نماز میں سورہ بقرہ، سورہ نسائ، سورہ آل عمران تلاوت فرمائی اورحال یہ تھا کہ جب کوئی خوف اور عذاب والی آیت پڑھتے تو رُک جاتے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے پناہ مانگتے۔ حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ دو رکعتیں پڑھی گئی تھیں کہ حضرت بلال تشریف لائے اور نماز کے لیے اذان دی یہ روایت امام احمد کی تھی۔ نسائی میں ہے کہ انہوں نے چار رکعت پڑھی تھیں۔

حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت اُبی بن کعب اور تمیم داری کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو ماہِ رمضان میں نماز پڑھایا کریں تو پڑھانے والا ایک رکعت میں دو سو آیتیں تلاوت کیا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ لوگ قیام کے لمبا ہونے کی وجہ سے اپنی لاٹھیوں پر سہارا لیا کرتے تھے اور ان کی واپسی فجر کے وقت ہوا کرتی تھی جبکہ ایک روایت میں ہے کہ لوگ ستونوں کے درمیان رسیاں باندھ لیتے تھے پھر ان سے سہارا لیے رہتے تھے۔

کچھ ایسا ہی حال ہمارے اسلاف کرام کاتھا۔ وہ قرآن کریم سے بے پناہ شغف رکھتے تھے اور رمضان المبارک میں تلاوت خوب بڑھا دیا کرتے تھے۔

حضرت قتادہؒ سات راتوں میں قرآن پورا کیا کرتے تھے۔ ابو رجاء عطاردیؒ ہر دس راتوں میں رمضان کی نماز میں قرآن پاک پورا کیا کرتے تھے۔ اسودؒ پورے قرآن پاک کور مضان کی دو راتوں میں پڑھا کرتے تھے۔ امام نخعیؒ رمضان المبارک کی تین راتوں میں قرآن پاک مکمل کیا کرتے تھے اور آخری عشرے میں ہر دو رات میں قرآن پاک مکمل کرتے تھے۔ قتادہؒ یوں تو ہمیشہ سات راتوں میں قرآن پاک پورا کرتے تھے لیکن رمضان میں تین راتوں میں قرآن پاک ختم کرنے کا معمول تھا جبکہ آخری عشرے کی راتوں میں ہر رات ایک ایک قرآن پاک پڑھا کرتے تھے۔

امام شافعیؒ رمضان کے مہینے میں نماز کے علاوہ ساٹھ قرآن پاک پورے کر لیتے تھے۔ امام ابو حنیفہؒ سے بھی یہی معمول منقول ہے۔ قتادہؒ رمضان کے مہینے میں قرآن پاک کا دور بھی فرمایا کرتے تھے۔امام زہریؒ رمضان المبارک کی آمد پر فرماتے کہ سوائے تلاوتِ قرآن اور کھانا کھلانے کے کوئی اور کام نہیں ہوگا۔ ابن عبدالحکم فرماتے ہیں کہ جب رمضان آتا تو امام مالکؒ حدیث کی قراء ت اور مجالس ِعلم چھوڑ کر قرآن پاک کو سامنے رکھ کر تلاوت میں مصروف ہو جاتے۔عبدالرزاق بیان فرماتے ہیں جب رمضان آتا تو حضرت سفیان ثوریؒ تمام عبادتوں کو چھوڑ کر تلاوتِ قرآن میں لگ جاتے۔

ایک طرف رمضان اور قرآن مجید کا یہ گہرا تعلق دیکھئے اور پھر قرآن کریم کی تلاوت کا اجروثواب دیکھئے تو پکی بات ہے کہ دل یہی چاہے گا کہ اس ماہ میں تو بس قرآن کریم کی تلاوت ہی کرتا رہوں، باقی سب مشاغل ختم کردوں جو ختم ہوسکتے ہیں اور جو ختم نہیں ہوسکتے انہیں جتنا کم کیا جاسکے کم کرلوں تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت تلاوت کے لیے بچ جائے۔

امام احمدؒ نے حضرت بریدہ کی مرفوع حدیث ذکر کی ہے کہ:

 قیامت کے دن جب قرآن پڑھنے والے کی قبر کھلے گی تو قرآن پاک اس بندے کے سامنے ایک آدمی کی شکل میں آئے گا جس کا خوبصورت سا رنگ ہوگا۔ قرآن کہے گا: کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟ میں تیرا ساتھی ہوں، جس نے تجھ کو گرمیوں کی دوپہر میں پیاسا رکھا اور تیری راتوں میں تجھے بیدار رکھا اور ہر تاجر کو اس کی تجارت سے دور رکھا۔ پھر وہ قرآن اس کے دائیں ہاتھ میں بادشاہت دے گا اور بائیں ہاتھ میں ہمیشہ کی زندگی اور اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا پھر اس سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور جنت کے درجوں اور بالا خانوں میں چڑھتا جا۔ جب تک وہ پڑھتا رہے گا اوپر چڑھتا رہے گا وہ تیزی سے پڑھے چاہے ترتیل سے پڑھے۔

حضرت عبادہ بن صامتؓ سے ایک لمبی حدیث میں ہے کہ:

 قرآن پڑھنے والے کے پاس قبر میں قرآن مجید آکر کہے گا کہ: میں وہی ہوں جو تجھ کو راتوں میں جگایا کرتا تھا اور دن کے وقت تجھے پیاسا رکھتا تھا اور تجھ کو تیری خواہش پوری کرنے سے روکتا تھا اور تجھے کوئی دوسری باتیں سننے اور دیکھنے سے روکتا تھا۔ پس تو نے اپنی زندگی میں مجھ کو اپنا سچا دوست بنایا تھا۔ یہ کہہ کر وہ اوپر جائے گا اور صاحب قرآن کے لیے اوڑھنے بچھونے کے لیے انتظام کرے گا۔ پس صاحب قرآن کے لیے جنت کا بستر، جنت کی قندیلیں، جنت کے پھول عطا کرنے کا حکم دیا جائے گا پھر قرآن پاک قبر کی دیواروں کو پیچھے ہٹائے گا اور اپنے صاحب کے لیے جتنا اللہ تعالیٰ چاہیں گے قبر کو کشادہ کرائے گا۔(لطائف المعارف لابن رجب)

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے قرآن کریم کے بارے میں کیا ہی خوب فرمایا ہے:

’’یہ قرآن اللہ تعالی کا دستر خوان ہے، چنانچہ جو شخص اس کا کچھ بھی حصہ سیکھ سکتا ہے تو ضرور سیکھ لے، کیوں کہ وہ گھر خیر سے بالکل ہی خالی ہوتا ہے جس میں قرآن نہ ہو، بلکہ وہ گھر جس میں قرآن نہ ہو اس ویران گھر کی طرح ہے جس کو کوئی بھی آباد کرنے والا نہ ہو، جبکہ اس گھر سے تو شیطان بھاگ ہی جاتا ہے جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے ۔غور سے سنو! تمہارے یہ دل ایک برتن ہیں، لہٰذا ان میں قرآن کریم بھرو، کسی اور چیز سے انہیں مت بھرو‘‘

قارئین کرام! اگر آپ اس رمضان میں قرآن کریم کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں تو دو کام کر لیجئے:

(۱)تلاوت کا وقت پہلے سے بہت زیادہ بڑھا دیجئے

(۲)قرآن کریم میں غور وفکر شروع کردیجئے

دوسرے کام کے لیے بہتر یہ ہے کہ آپ درج ذیل تراجم و تفاسیر سے اس کام کو شروع کردیجئے:

تفسیرعثمانی، آسان ترجمہ قرآن، ترجمہ حضرت مولانا احمد علی لاہوری، ترجمہ حضرت مولانا فتح محمد جالندھری، ترجمہ حضرت مولانا شاہ عبدالقادر دہلوی

یہ سب وہ تراجم ہیں جو انتہائی مستند بھی ہیں اور آسان بھی اور سب کے ساتھ مختصر تشریحی نوٹس بھی موجود ہیں جن کے ذریعے بعض مشکل مقامات حل ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی مشکل مقام ان سے حل نہ ہو تو کسی عالم سے پوچھ لیا جائے

اس طرح ان دو کاموں کے ذریعے ہمارا تعلق قرآن کریم کے ساتھ مضبوط ہو جائے گا اور یہی تعلق سعادت کی منزل تک پہنچادے گا۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor