اَنمول موقع (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 503 - Mudassir Jamal Taunsavi - Anmol Moqa

اَنمول موقع

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 503)

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا نام تو آپ نے سنا ہوگا۔ بڑی فضیلت والے مشہور صحابی ہیں۔ ان کے بارے میں آتا ہے کہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں بے انتہاء عبادت وریاضت شروع فرمادی تھی۔ کسی نے پوچھ لیا: حضرت! اگر آپ اس قدر زیادہ عبادت میں کچھ کمی کردیں تو بہتر ہے کہ آپ کو اس عمر میں توسکون اورراحت کی زیادہ ضرورت ہے؟ مگر انہوں نے فرمایا: جانتے ہو کہ جب گھوڑے کو گھڑدوڑ کے میدان میں ڈالا جاتا ہے تو وہ جوں جوں ہدف کے قریب پہنچتا ہے اسی قدر زیادہ طاقت اور قوت سے بھاگنا شروع کردیتا ہے یہاں تک کہ ہدف کے بالکل قریب پہنچ کرتو مقابلہ جیتنے کے لیے اپنی ساری توانائی خرچ کرڈالتا ہے

اندازہ لگائیں ایک صحابی کی معرفت اور ایمانی فراست کا ۔ کتنا بڑی حقیقت ایک مثال سے سمجھادی کہ انسان اس دنیا میں مقابلے کے لیے آیا ہے۔ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی پکار ہے جو اپنے بندوں کو اپنی رضا اورجنت کی طرف بلارہے ہیں اور دوسری جانب شیطان اوراس کے کارندوں کی پکار ہے جو بندوں کو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور جہنم کے دردناک عذاب کی طرف بلارہے ہیں۔ اب ایمان والا دوڑتا ہے تاکہ اپنے رب کی رضا حاصل کرسکے، اس کی جنت میں داخل ہوسکے، شیطان کی پکار سے بچ سکے، جہنم سے نجات پاسکے، ان سب باتوں کے لیے وہ دوڑتا ہے اور اس دوڑنے کا میدان یہی زندگی ہے جو ہمیں ملی ہے، یہی دنیا ہے جو عمل کی جگہ ہے، اس دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی کامیابی والے مقابلے کو جیتنا ہے۔ پھر جوں جوں زندگی گزرتی جاتی ہے تو مقابلہ کا وقت گزرتا جاتا ہے اور ہرگزرتے دن کے ساتھ آخرت جو ہدف ہے وہ قریب آتی رہتی ہے۔ اس لیے سمجھدار آدمی وہی ہے کہ جوں جوں ہدف کے قریب جائے اس کی کوششیں تیز ہوجائیں، اس کی رفتار بڑھ جائے اور یوں سمجھ لے کہ بس اب جتنی بھی طاقت سب اسی میں خرچ کرنی ہے۔ یہی راز ہمیں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے سمجھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوں اورہم سے بھی!

اسی حقیقت کو ایک اور زاوئیے سے دیکھئے۔ اس وقت رمضان المبارک کا انمول مہینہ چل رہا ہے، اور اس کے بھی دو عشرے ختم ہورہے ہیں اور تیسرا عشرہ شروع ہوا چاہتا ہے جو اس مبارک ماہ کی آخری عشرہ ہے۔ اس مبارک مہینے میں بھی ایک مقابلہ ہوتا ہے۔ حدیث میں کہاگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مہینے میں تمہاری مقابلہ بازی کو دیکھتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ اس کے بندے اس مہینے میں مقابلہ بازی والی عبادت کریں، ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لیے اپنی توانائی خرچ کریں، اسی لیے کہا گیا ہے کہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کو اپنی نیکی دکھاؤ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت محض ایک عام معمول والی نہ ہوبلکہ خاص شوق اور محبت والی عبادت ہو، پورے ذوق اور رغبت سے عبادت کی جائے، خود کو تھکایا جائے، اپنی لگن کا مظاہرہ کیاجائے، جیسے ہم اپنے معاشرے میں جب کسی کو دوسروں سے بڑھ چڑھ کر کوئی کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ توفلاں کے سامنے نمبر بنانے کے لیے ایسا کررہا ہے۔

پس اسی طرح اس مبارک مہینے میں دوسروں سے بڑھ چڑھ کر نیکی کی دوڑ لگائی جائے تاکہ اگر دیکھنے والا یہ محسوس کرے کہ یہ بندہ تو اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا نمبر بنانے کے لیے ایسا کررہا ہے تو وہ یہ محسوس کرنے میں حق بجانب ہو۔ ویسے بھی ہمیں عبادت اللہ تعالیٰ ہی کی رضا کے لیے کرنی چاہئے ، ایسی ہی عبادت مقبول ہوتی ہے ، اسی کو اخلاص کہتے ہیں، جس میںاللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔

اس وقت رمضان کا یہ آخری عشرہ ہمارے سامنے ہے۔ وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، فرصت وغنیمت والی گھڑیاں بہت جلد ہم سے رخصت ہونے والی ہیں، ایسے میں ہمیں چاہئے کہ مقابلہ بازی کو سنجیدگی سے لیں، دائیں بائیں سے توجہ ہٹا کراپنی ساری توجہ اپنے اہداف پر مرکوز کرلیں، جسم وجان میں جتنی طاقت ہے وہ سب یکجا کرکے اللہ تعالیٰ سے مغفرت اوراس کی رضا پانے لیے خرچ کرڈالیں۔

اعتکاف اسی لیے تو ہے، سب سے یکسو ہوکر، سب کے دروازے چھوڑ کر ایک اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرنے کے لیے اس کے گھر میں ڈیرہ ڈال دیاجائے اور بزبان حال یہ پکار ہو:

بابا رِشتہ سب سے توڑ

بابا رِشتہ رَب سے جوڑ

بخاری اورمسلم دونوں میں یہ روایت موجود ہے کہ جس وقت رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی کریمﷺ اپنی چادر مبارک کو کَس لیتے تھے، پھر ساری رات خود بھی جاگتے تھے اور گھروالوں کو بھی جگاتے تھے۔ مسلم شریف کی روایت کی مطابق ہماری پیاری ایمانی ماں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: رسول اللہﷺ رمضان کے آخری عشرے میں جس قدر محنت اٹھاتے تھے کسی اوروقت میں اتنی محنت نہیں اٹھاتے تھے۔

رمضان کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر ہے اوراسے تلاش کرنے اور حاصل کرنے کے لیے اعتکاف سب سے آسان اور مسنون طریقہ ہے۔ اس رات کی فضیلت اور عظمت کے کیا کہنے؟ قرآن کریم کی ایک پوری سورت مبارکہ اسی رات کو فضیلت اور عظمت کو بیان کررہی ہے اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئے؟ اسی لیے نبی کریمﷺ نے فرمارہے ہیں: یہ (رمضان کا) مہینہ تمہارے پاس آچکا ہے، اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے، جو اس سے بھی محروم رہ گیا پس وہ تو پوری خیر سے ہی محروم رہ گیااورحقیقت یہ ہے کہ محروم ہے ہی وہ انسان جو اس رات کی خیر سے محروم رہے

اس آخری عشرے کو جو مقابلے کا گویا آخری لمحہ ہے ، قیمتی بنانے کے لیے چند ہدایات ہیں اگر ان پر عمل کرلیاجائے تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے پورا یقین ہے کہ وہ اس کی خیر سے محروم نہیں فرمائیں گے:

نیند کم کردیں:

آخری عشرے کی راتوں میں نبی کریمﷺ کا واضح معمول موجود ہے کہ آپ رات بھر خود بھی جاگتے تھے اور گھروالوں کو بھی جگاتے تھے۔ اس لیے ہمیں بھی چاہئے کہ اس نبوی معمول پر جس قدر عمل ہوسکے اس سے گریز نہ کیاجائے۔ کوشش کریں کہ اس عشرے کی راتوں میں چاہے وہ جفت ہوں یا طاق، زیادہ سے زیادہ وقت جاگیں اور جاگ کر اس وقت کو عبادت میں خرچ کریں نہ کہ فضولیات میں۔ اگر فضولیات میں خرچ کیا تو یہ بجائے نفع کے وبال بن جائے گا۔

گھر والوں کی معاونت:

بہت سے لوگ اس عشرے میں خود تو اکثر وقت مسجد میں گزارتے ہیں تاکہ وہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت سکون سے کرسکیں ، مگر گھروالوں کے لیے اس بارے میں کوئی خاص اہتمام نہیں کرتے، حالانکہ چاہئے کہ گھروالوں کو اس جانب متوجہ کریں، اپنی نگرانی میں ان سے فضول کام چھڑوا کرانہیں عبادت کی طرف لائیں، حتیٰ کہ اگر اسی مقصد کے لیے فرائض کے علاوہ مسجد کے بجائے گھر میں عبادت کی جائے تاکہ گھروالے بھی اس وقت ماحول بن جانے کی وجہ سے عبادت کرسکیںتو یہ یقینابہت بڑی فضیلت اور نفع کی بات ہے۔ قرآن کریم نے حکم دیا ہے: اپنے آپ کو بھی جہنم کی آگ سے بچاؤ اوراپنے گھروالوں کو بھی!!

حضرت سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں: مجھے یہ بات پسند ہے کہ جب رمضان کاآخری عشرہ شروع ہو توانسان کو چاہئے کہ وہ خود بھی اس کی راتوں میں جاگے اور عبادت میں خوب محنت اٹھائے، اور گھر والوں کی بھی ان کی ہمت کے بقدر نماز اور دیگر عبادات کے لیے جگائے۔

دعاء کی کثرت:

اس عشرے کی راتوں میں عموماً اور طاق راتوں میں خصوصاً دعاء بہت زیادہ کرنی چاہئے ۔ خود نبی کریمﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اس کے لیے جو دعا سکھلائی ہے درج ذیل ہے:

اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی

اس دعا کا اور دیگر جو دعائیں ہوں ان کاخوب اہتمام کرنا چاہئے

ظاہر وباطن کی طہارت:

بہت سے اسلاف کی یہ عادت تھی کہ وہ عشرہ اخیرہ کی ہر رات میں اہتمام سے غسل فرماتے اور عمدہ خوشبو لگاتے تاکہ خاص وقت میں اللہ تعالیٰ سے مناجات کے لیے حاضری ہو تو ظاہر وباطن ہر قسم کی کدورت سے پاک ہو۔

الغرض اس عشرہ اخیرہ کو فرصت کا لمحہ جانئے اور مقابلہ جیتنے کے لیے جان توڑ محنت کی جیے۔ خوش نصیب ہے وہ مسلمان جس نے رمضان پایا پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت پالی، اپنی مغفرت کرالی اور جہنم سے نجات کا پروانہ حاصل کرلیا!!

٭…٭…٭