Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

عید الفطر… ایک اسلامی تہوار (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 504 - Mudassir Jamal Taunsavi - Eid aik Islami Tehwar

عید الفطر… ایک اسلامی تہوار

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 504)

اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو رمضان کا مقبول اور حسین اختتام نصیب فرمائے۔ یہ اللہ کا بڑا کرم ہے کہ اس نے ہمیں اس مبارک موقع پر عید جیسا پر مسرت اور مغفرت بھرا تحفہ عطا کیا۔ عید الفطر کیا ہے؟ اور اس کے آداب کون سے ہیں؟ اور ایک مسلمان کو یہ عید کس طرح گزارنی چاہیے؟ اس حوالے سے شریعت نے مکمل رہنمائی فرمائی ہے۔چنانچہ انہی راہنما ہدایات پر مشتمل ایک مضمون کافی عرصہ قبل استا د محترم مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے تحریر فرمایا تھا جو بے حد مفید اور موقع محل کے عین مطابق ہے۔اس مناسبت سے اس مضمون کا انتخاب پیش خدمت ہے:

اللہ تعالیٰ جل شانہ کا اس پر جتنا شکر کیا جائے کم ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں رمضان المبارک عطا فرمایا اور اس مہینہ کی برکتوں سے ہمیں نوازا، اور اس میں روزہ رکھنے اور تراویح پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی، اور پھر اس مبارک مہینہ کے اختتام پر اس مہینے کی انوار و برکات سے مستفید ہونے کی خوشی میں ’’عید الفطر‘‘ عطا فرمائی۔ حدیث شریف میں جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’یعنی اللہ تعالیٰ نے روزہ دار کے لئے دو خوشیاں رکھی ہیں، ایک خوشی وہ ہے جو افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اس وقت حاصل ہو گی جب وہ قیامت کے روز اپنے پروردگار سے جا کر ملاقات کرے گا۔‘‘

اصل خوشی تو وہی ہے جو آخرت میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت حاصل ہو گی ان شاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ ہر صاحب ایمان کو یہ خوشی نصیب فرمائیں۔ آمین

لیکن اس آخرت کی خوشی کی تھوڑی سی جھلک اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی رکھ دی ہے، یہ وہ خوشی ہے جو افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے۔ پھر یہ افطار دو قسم کے ہیں: ایک افطار وہ ہے جو روزانہ رمضان میں روزہ کھولتے وقت ہوتا ہے، اس افطار کے وقت ہر روزہ دار کو خوشی حاصل ہوتی ہے۔ دیکھئے! سارے سال کھانے پینے میں اتنا لطف اور اتنی خوشی حاصل نہیں ہوتی جو لطف اور خوشی رمضان المبارک میں افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے، ہر شخص اس کا تجربہ کرتا ہے۔ علماء کرام روزانہ کے اس افطار کو ’’افطار اصغر‘‘ کہتے ہیں اور دوسرا افطار وہ ہے جو رمضان المبارک کے ختم پر ہوتا ہے جس کے بعد عید الفطر کی خوشی ہوتی ہے، اس کو ’’افطار اکبر‘‘ کہتے ہیں۔ اس لئے کہ سارے مہینے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں روزے رکھنے اور اس کی بندگی اور عبادت کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ عید کے دن خوشی اور مسرت عطا فرماتے ہیں۔ یہ خوشی آخرت میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت حاصل ہونے والی خوشی کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے جو اللہ تعالیٰ نے عید کی شکل میں بندوں کو عطا فرمائی ہے۔

اور یہ بھی اسلام کا نرالا انداز ہے کہ پورے سال میں صرف دو تہوار اور دو عیدیں مقرر کی گئی ہیں، جبکہ دنیا کے دوسرے مذاہب اور ملتوں میں سال کے دوران بہت سے تہوار منائے جاتے ہیں۔ عیسائیوں کے تہوار الگ ہیں، یہودیوں کے الگ اور ہندوؤں کے الگ تہوار ہیں۔

لیکن اسلام نے صرف دو تہوار مقرر کیے ہیں، ایک عید الفطر اور دوسرا عید الاضحیٰ۔ اور ان دونوں تہواروں کو منانے کے لئے جن دنوں کا انتخاب کیا گیا وہ بھی دنیا سے نرالے ہیں۔ اگر آپ دوسرے مذاہب کے تہواروں پر غور کریں تو نظر یہ آئے گا کہ وہ لوگ ماضی میں پیش آنے والے کسی اہم واقعہ کی یادگار میں تہوار مناتے ہیں۔

مثلاً عسیائی ۲۵ دسمبر کو کرسمس کا تہوار مناتے ہیں اور بقول ان کے یہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش کا دن ہے، حالانکہ تاریخی اعتبار سے یہ بات درست نہیں لیکن انہوں نے اپنے طور پر یہ سمجھ لیا کہ ۲۵ دسمبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے تھے چنانچہ آپ کی پیدائش کی یاد میں انہوں نے کرسمس کے دن تہوار مقرر کر لیا۔

جس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات ملی اور فرعون غرق ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چلے گئے اس دن کی یاد میں یہودی اپنا تہوار مناتے ہیں۔ ہندوؤں کے یہاں بھی جو تہوار ہیں وہ بھی ماضی کے کسی نہ کسی واقعہ کی یاد میں منائے جاتے ہیں۔

جبکہ اسلام نے جو دو تہوار مقرر کیے، ماضی کا کوئی واقعہ اس دن کے ساتھ وابستہ نہیں، یکم شوال کو عید الفطر منائی جاتی ہے اور دس ذوالحجہ کو عید الاضحی منائی جاتی ہے۔ ان دونوں تاریخوں میں کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اسلام نہ تو حضور اقدسﷺکی ولادت کے دن کو عید قرار دیتا ہے نہ ہجرت کے دن کو عید کا دن قرار دیا، نہ ہی غزوہ احد اور غزوہ احزاب کے دن کو عید کا دن قرار دیا اور جس دن مکہ فتح ہوا اور بیت اللہ کی چھت سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان گونجی اس دن کو بھی عید نہیں قرار دیا گیا۔ اسلام کی پوری تاریخ ایسے واقعات سے مالا مال ہے لیکن اسلام نے ان میں سے کسی واقعہ کو عید کا موقع قرار نہیں دیا۔

جن ایام کو اسلام نے تہوار کے لئے مقرر فرمایا، ان کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ وابستہ نہیں جو ماضی میں ایک مرتبہ آ کر ختم ہو چکا ہو، بلکہ اس کی بجائے ایسے خوشی کے واقعات کو تہوار کی بنیاد قرار دیا جو ہر سال پیش آتے ہیں اور ان کی خوشی میں عید منائی جاتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دونوں عیدیں ایسے موقع پر مقرر فرمائی ہیں جب مسلمان کسی عبادت کی تکمیل سے فارغ ہوتے ہیں۔ چنانچہ عید الفطر رمضان گزارنے کے بعد رکھی گئی کہ میرے بندے پورا مہینہ عبادت میں مشغول رہے…

 پورے مہینے انہوں نے میری خاطر کھانا پینا چھوڑے رکھا، نفسانی خواہشات کو چھوڑے رکھا، اور پورا مہینہ عبادت کے اندر گذارا، اس کی خوشی اور انعام میں یہ عید الفطر مقرر فرمائی۔

ایسے ہی عید الاضحی ایسے موقع پر مقرر فرمائی جب مسلمان عظیم عبادت یعنی حج کی تکمیل کرتے ہیں اس لئے حج کا سب سے بڑا رکن وقوف عرفہ ۹ ذی الحجہ کو ادا کیا جاتا ہے۔ اس تاریخ کو پوری دنیا سے آئے ہوئے لاکھوں مسلمان میدان عرفات میں جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی عظیم عبادت کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس عبادت کے اگلے دن یعنی ۱۰ ذی الحجہ کو اللہ تعالیٰ نے دوسری عید مقرر فرمائی۔

لہذا محض پرانے واقعات پر خوشی مناتے رہنا، صاحب ایمان ہونے کے لئے کافی نہیں بلکہ خود تمہیں اپنے عمل کو دیکھنا ہے اگر تمہارے اپنے عمل کے اندر اچھائی ہے تو خوشی منانی ہے اور اگر برائی ہے تو رنج کرنا ہے اور ندامت کا اظہار کرنا ہے۔

بہرحال! یہ عید الفطر خوشی منانے کا اور اسلامی تہوار کا پہلا دن ہے۔ حدیث میں اس کو یوم الجائزہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے پورے مہینے کی عبادتوں پر انعام دئیے جانے کا دن ہے جو مغفرت کی شکل میں دیا جاتا ہے۔

عید الفطر کے دن جب مسلمان عید گاہ میں جمع ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’یہ ہیں میرے وہ بندے جو عبادت میں لگے ہوئے ہیں اور بتاؤ کہ جو مزدور اپنا کام پورا کر لے اس کا کیا صلہ ملنا چاہیے؟ جواب میں فرشتے فرماتے ہیں کہ جو مزدور اپنا کام پورا کر لے اس کا صلہ یہ ہے کہ اسے اس کی پوری پوری مزدوری دے دی جائے۔ اس میں کوئی کمی نہ کی جائے۔ اللہ تعالیٰ پھر فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ یہ میرے بندے ہیں، میں نے رمضان کے مہینے میں ان کے ذمے ایک کام لگایا تھا کہ روزہ رکھیں اور میری خاطر کھانا پینا چھوڑ دیں اور اپنی خواہشات کو ترک کر دیں، آج انہوں نے اپنا فریضہ مکمل کر دیا۔ اب یہ اس میدان کے اندر جمع ہیں اور مجھ سے دعا مانگ رہے ہیں۔ میں اپنی عزت و جلال کی قسم کھاتا ہوں، اپنے علو مکان کی قسم کھاتا ہوں کہ آج میںسب کی دعاؤں کو قبول کروں گا اور میں ان گناہوں کی مغفرت کروں گا اور ان کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دوں گا۔‘‘

چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ:

’’جب روزہ دار عید گاہ سے واپس جاتے ہیں تو اس حالت میں جاتے ہیں کہ ان کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے۔‘‘

بہرحال شکر گزار بننے کا راستہ یہی ہے کہ جس ذات نے تمہاری برائیوں کو حسنات میں بدل دیا ہے اس کی نافرمانی سے اور گناہوں سے اور معصیتوں سے آئندہ زندگی کو بچانے کی فکر کرو۔

عید کا یہ دن ہمارے اور آپ کے لئے خوشی کا دن بھی ہے اور فرحت کا دن بھی۔ اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی امید رکھنے کا دن بھی۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس فریضے کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے اور آئندہ زندگی گناہوں اور معصیتوں سے اور نافرمانیوں سے بچائے۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor