Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

غامدیت و قادیانیت (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 505 - Mudassir Jamal Taunsavi - Ghamdiyat wa Qadiyaniyat

 غامدیت و قادیانیت

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 505)

فتنۂ قادیانیت کس مردود بلا کانام ہے؟ اس سے تو تقریباً ہر مسلمان ہی واقف ہے مگر کچھ ابھرتے ہوئے نئے فتنے بھی ہیں جن میں سے ایک ’’فتنۂ غامدیت‘‘ ہے۔ یہ فتنہ یوں تو کافی عرصے سے سرگرم ہے مگر جب سے ننگ زمانہ پرویز مشرف کی بدولت ٹی وی سکرین پر اس فتنے کو رونمائی کا کھلا موقع میسر آیا ہے تب سے اب تک اس کے برگ وبار زیادہ نکھر کر سامنے آئے ہیں اور آرہے ہیں۔ ایک صاحب جاویداحمد غامدی اس نئے فتنے کے سربراہ ہیں جو ’’مسلمانوں کی متفقہ راہ‘‘ سے ہٹ کرچلنے میں ہی اپنا نمائش سمجھتے ہیں اور وقتا فوقتا اس نمائش کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

جن مسائل میں ان صاحب نے ’’مسلمانوں کی متفقہ راہ‘‘ سے انحراف کرکے اپنی نئی راہ بنائی ہے اس میں ایک ’’مسئلہ قادیانیت‘‘ بھی ہے۔اس بارے میں ان کے جو فرمودات ہیں انہیں درج ذیل تین نکات میں سمویاجاتا ہے۔ یہ صاحب فرماتے ہیں کہ:

 قادیانی مردود نے اپنی ’’نبوت‘‘ اور ’’نبی‘‘ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا(اس لیے انہیں کافر کہنے کی بنیادی وجہ جو علماء اسلام پیش کرتے ہیں وہ ہی ختم ہوجاتی ہے)

اگر مرزا قادیانی یا کسی اور خود کو مسلمان کہلوانے والے شخص کا کوئی نظریہ علمائِ اسلام کے ہاں کفریہ نظریہ ہے تو بھی اس کی بنیاد پر اسے کافر نہیں کہہ سکتے(اس لیے بھی مرزا قادیانی کو کافر کہنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی)

مرزا قادیانی نے جو کچھ دعوے کیے ہیں وہ سب اسی طرح کے دعوے ہیں جیسے ان سے پہلے متعدد صوفیا بھی کرچکے ہیں(اس لیے علماء اسلام کو چاہئے کہ جو چھوٹ انہوں نے صوفیا کو دی ہے وہ مرزا قادیانی کو بھی دیں یا جو حکم مرزا قادیانی پر لگایا ہے وہ صوفیا پر بھی لگائیں)

حقیقت یہ ہے کہ غامدی صاحب کے یہ تینوں نظریات جہالت کا بھی مرقع ہیں اور اُن کی تلبیس و دجل کا بھی شاہکار ہیں۔

قارئین کرام !اب ذرا خود مرزاقادیانی کی اپنے متعلق رائے ملاحظہ فرمائیں جس سے معلوم ہوگا کہ شاید غامدی صاحب نے مرزا کی کتب کامطالعہ کیے بنا ہی رائے قائم کی ہے یا پھر جان بوجھ کر کسی مشن پر چلائے گئے ہیں جیسا کہ خود مرزا قادیانی بھی انگریزوں کی پیداوار تھا۔

 لیجئے اب مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی نبوت کے متعلق دعوے ملاحظہ فرمائیں..

1 میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس طرح میں قرآن کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو جو میرے اوپر نازل ہوا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں" (حقیقۃالوحی)

2 مجھے اپنی وحی پر ویسا ہی یقین ہے جیسا تورات، انجیل اور قرآن پر (اربعین 4)

3 اس امت میں نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا، باقی کوئی اسکا مستحق نہیں" (حقیقۃ الوحی)

4 سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا (دافع البلا)

5 قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا ای مرسل من اللہ… "اور کہہ دو کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں…" (اشتہار معیار الاخیار ص 3 مجموعہ اشتہارات ج3 ص 270)

6 خدا نے الہام کیا ہے"جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہیگا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے(تذکرہ ,طبع جدید)

7 خداتعالی نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہرایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔(مرزا کاخط بنام ڈاکٹر عبدالحکیم)

8"جوشخص مجھ میں اور محمد مصطفی میں تفریق کرتاہے اس نے مجھ کو نہیں دیکھا اور نہیں پہچانا(خطبہ الہامیہ)

9"میں بیت اللہ میں کھڑے ہوکر قسم کھاسکتاہوں کہ وہ پاک وحی جومیرے پرنازل ہوتی ہے وہ اسی خداکاکلام ہے جس نے حضر ت موسی حضرت عیسی اور حضرت محمد مصطفی صلعم پراپنا کلام نازل کیاتھا.."(ایک غلطی کاازالہ,روحانی خزائن")

10"مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیساکہ تورات انجیل اور قرآن کریم پر...(اربعین)

11"ہم خداتعالی کی قسم کھاکر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعوی کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وحی ہے جومیرے اوپر نازل ہوئی ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جوقرآن شریف کے مطابق ہوں اور "میری وحی کے معارض نہیں" اور دوسری حدیثوں کوہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں"(اعجاز احمد,روحانی خزائن")

12"سچا خداوہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا...یہ اس کے رسول کی تخت گاہ ہے اور تمام امتوں کیلیے نشان ہے..(دافع البلاء)

13"ہمارا دعوی ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں(بدر,5مارچ 1908)

14"انہی امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرانام نبی رکھا,"سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں"اگر میں اس سے انکار کروں تومیراگناہ ہوگا"(مرزا صاحب کاآخری خط جووفات سے تین قبل کاہے)

15"پس اس میں کیا شک کہ میری پشین گوئیوں کے بعد دنیا میں زلزلوں اور دوسری آفات کاشروع ہوجانا میری سچائی کیلیے ایک نشان ہے یادرہے کہ "خدا کے رسول کی خواہ کسی حصۂ زمین میں تکذیب ہو مگر اس کی تکذیب کے وقت دوسرے مجرم بھی پکڑے جاتے ہیں.."(حقیقت الوحی)

یہ محض چند حوالہ جات ہیں جن میں مرزاقادیانی نے اپنے نبی ہونے اوراپنی نبوت کا صاف اقرار کیا ہے ورنہ تمام حوالہ جات کی ایک لمبی فہرست ہے جو اس موضوع پر لکھی گئی کتابوں میں باحوالہ یکجاکردی گئی ہیں۔ اس لیے یہ غامدی صاحب محض مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے یا کسی اورمذموم مقصد کے لیے اس قسم کا شوشا چھوڑتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے تو خود کی نبوت اور نبی ہونے کاصریح دعویٰ کیا ہی نہیں۔

دوسری بات یہ کہی گئی کہ جب مرزائی خود کو مسلمان کہلواتے ہیں بلکہ اس پر اصراربھی کرتے ہیں تو ان کے کسی ایسے نظریہ کی وجہ سے جو علماء اسلام کے ہاں کفر شمار ہوتا ہے تب بھی اس کفریہ نظریہ کی وجہ سے انہیں کافر نہیں کہا جائے گا۔ یہ بھی محض مغالطہ بازی اورفریب دہی ہے۔ اسی قسم کی بات خود مرزائی بھی اپنے بارے میں کہتے ہیں اورایسی ہی باتوں سے سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ ایسی ہی ایک بات شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی قدس سرہ کے پاس بھیجی گئی تو انہوں نے اس کا جو جواب دیا وہ مختصرہونے کے ساتھ ساتھ جامع اور واضح بھی ہے اسے ملاحظہ فرمائیے۔ مرزائی سائل کو جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’میرے محترم! یہ تو آپ کو بھی معلوم ہے کہ آپ کے اور مسلمانوں کے درمیان بہت سی باتوں میں اختلاف ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کو نبی مانتے ہیں اور مسلمان اس کے منکر ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ مرزا صاحب اگر واقعتا نبی ہیں تو ان کا انکار کرنے والے کافر ہوئے، اور اگر نبی نہیں تو ان کو ماننے والے کافر۔ اس لئے آپ کا یہ اصرار تو صحیح نہیں کہ آپ کے عقائد ٹھیک وہی ہیں

جو مسلمانوں کے ہیں، جبکہ دونوں کے درمیان کفر و اسلام کا فرق موجود ہے، آپ ہمارے عقائد کو غلط سمجھتے ہیں اس لئے ہمیں کافر قرار دیتے ہیں، جیسا کہ مرزا غلام احمد صاحب، حکیم نور دین صاحب، مرزا محمود صاحب اور مرزا بشیر احمد صاحب، نیز دیگر قادیانی اکابر کی تحریروں سے واضح ہے اور اس پر بہت سی کتابیں اور مقالے لکھے جاچکے ہیں۔

اس کے برعکس ہم لوگ آپ کی جماعت کے عقائد کو غلط اور موجب کفر سمجھتے ہیں، اس لئے آپ کی یہ بحث تو بالکل ہی بے جا ہے کہ مسلمان، آپ کی جماعت کو دائرۂ اسلام سے خارج کیوں کہتے ہیں؟ البتہ یہ نکتہ ضرور قابل لحاظ ہے کہ آدمی کن باتوں سے کافر ہوجاتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ تمام باتیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ منقول چلی آتی ہیں اور جن کو گزشتہ صدیوں کے اکابر مجددین بلااختلاف و نزاع، ہمیشہ مانتے چلے آئے ہیں (ان کو ضروریاتِ دین کہا جاتا ہے) ان میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے اور منکر کافر ہے۔ کیونکہ ‘‘ضروریاتِ دین’’ میں سے کسی ایک کا انکار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب اور پورے دین کے انکار کو مستلزم ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی ایک آیت کا انکار پورے قرآن مجید کا انکار ہے، اور یہ اصول کسی آج کے مُلَّا، مولوی کا نہیں بلکہ خدا اور رسول کا ارشاد فرمودہ ہے اور بزرگانِ سلف ہمیشہ اس کو لکھتے آئے ہیں۔ چونکہ مرزا صاحب کے عقائد میں بہت سی ‘‘ضروریاتِ دین’’ کا انکار پایا جاتا ہے، اس لئے خدا اور رسول کے حکم کے تحت مسلمان ان کو کافر سمجھنے پر مجبور ہیں‘‘(آپ کے مسائل اوران کاحل)

الغرض ایک ایسے وقت میں جب کہ امت مسلمہ متفقہ طور پر قادیانیوں کو کافر قراردے چکی ہے اورصرف کفریہ دنیا ہی کھلے عام ان مرتد قادیانیوں کو پشت پناہی بھی کررہی ہے اورانہیں ہر قسم کا تعاون بھی فراہم کررہی ہے تو غامدی صاحب کے چھوڑے ہوئے یہ شوشے محض ایک سادہ سی بات نہیں بلکہ اس کے پس پردہ نہایت مذموم مقاصد کی آبیاری نظر آتی ہے اور قادیانیوں کے سرپرست انگریز ہر حال میں اس مرتدوزندیق فرقہ قادیانیت کو مسلمانوں کے ہاں ’’مسلمان‘‘ باور کرانا چاہتے ہیں تاکہ جس مقصد کے لیے اس فرقے کو کھڑا گیا ہے وہ حاصل ہو اور وہ جہاد کمزور ہو جس نے کافروں کی کمر توڑ کررکھی دی ہے ۔ اس لیے وقتا فوقتا قادیانیت نوازی کی مختلف سازشیں منظر عام پر آتی ہیں مگر جھوٹے نبی اوراس کی جھوٹی امت نہ پہلے کبھی کامیاب ہوئے ہیں اور نہ آئندہ ہوں گے۔ ہاں جو ان کی حمایت کریں گے وہ بھی دنیا وآخرت میں ذلت کے لیے تیار رہیں!!

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor