Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سوچئے (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 514 - Mudassir Jamal Taunsavi - Sochiye

سوچئے

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 514)

یہ مقابلہ بازی تو ہلاک کرنے والی ہے :

آہ ! رونا ہے رونا۔ ہر طرف چیخ و پکار ہے۔ ہر طرف شکوہ و شکایت کا بازار گرم ہے۔ مسلمان پیچھے رہ گئے مسلمان غریب و فقیر ہیں کا شور ہی شور ہے

مگر آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں ؟

ہر گھر میں پنکھے ، کولر اور اے سی

ہر گھر میں بیڈ الگ چارپائیاں الگ

ہر گھر میں فریج ، فریزر

ہر گھر میں کار ، موٹر سائیکل ، سائیکل

ہر شخص کے پاس وافر کپڑے ، سردیوں کے الگ گرمیوں کے الگ

ہر بڑے شہر سے ہر وقت ہوائی جہازوں کی پروازیں اور ان پر رش ہی رش

ہر شہر میں حیرت انگیز ہوٹلوں کی بہتات اور ان پر کھانے والی بھیڑ

ہر شہر میں بلند و بالا کوٹھیوں کی بھرمار

دیہاتوں میں بھی ایسی کوٹھیاں کہ شہروں کو شرمائیں

گلی گلی میں بیٹھے ڈاکٹر اور ان کی مہنگی فیسیں اور مریضوں کا ہجوم

نت نئے کھانے… نت نئی سواریاں… نت نئے کھلونے… نت نئے کپڑے… نت نئی عمارتیں…

کل کا وہ زمانہ ابھی تو گزرا ہے کہ کپڑے دھونے کے لیے صابن تک نہ تھے اور اب ؟؟

کل کا وہ زمانہ ابھی تو گزرا ہے کہ کھٹارا گاڑیوں کے سوا دستیاب ہی کچھ نہ تھا اور اب ٹرانسپورٹ اور سواریوں کا کیا حال ہے ؟؟؟

کل کا وہ زمانہ ابھی تو گزرا ہے ملتان سے لاہور جانے والا بھی سال بعد ہی رابطہ کر پاتا تھا مگر اب بیرون ملک بیٹھے ہوئے بھی صبح و شام باتصویر ملاقات کر رہے ہیں !!!

چرب زبانی مجھے آتی نہیں… خلاصہ اتنا ہی ہے کہ انسان کی تین بنیادی ضرورتیں :

 کھانا… پہننا اور رہائش

ان میں کیسی کیسی ترقیات آچکی ہیں وہ کسی سے بھی مخفی نہیں ہیں !!

لیکن پھر بھی شور یہی ہے کہ غربت غربت غربت !!

نہیں آج کا مسئلہ غربت نہیں بلکہ حرص ، حرص اور فقط حرص اور یہی حرص ہلاکت کی طرف دوڑائے جا رہا ہے۔ کافر کو بھی دوڑا رہا ہے اور مسلمان کو بھی !!

 لیجئے اب ایک حدیث پڑھیے جس میں ہدایت بھی ہے اور وہ پیشین گوئی بھی جو آج پھر حرف بہ حرف سچی ثابت ہورہی ہے:

حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بدری صحابہ میں سے ہیں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک کام پر روانہ فرمایا چنانچہ وہ بحرین سے مال لے کر واپس آگئے۔

جب انصار صحابہ نے ان کی واپسی کی خبر سنی تو فجر کی نماز میں سب اکٹھے ہو کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھا لی تو سب ا?پ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ انہیں دیکھ کر مسکرائے پھر فرمایا : میرا خیال یہ ہے کہ تم ابو عبیدہ کا سن کر میرے پاس آئے ہو ؟

انہوں نے کہا : جی اللہ کے رسول ایسا ہی ہے !

آپ ﷺ نے فرمایا : تمہیں خوشی مبارک ہو اور تم اچھی امید رکھو !

اللہ تعالیٰ کی قسم ! مجھے تم پر فقر کا ڈر نہیں ہے بلکہ مجھے تو یہ ڈر ہے کہ تم پر دنیا ( کے دروازے ) کھول دیئے جائیں گے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر دنیا کشادہ کر دی گئی تھی۔ چنانچنہ پھر تم بھی اس میں مقابلہ بازی کرو گے جیسا کہ وہ اس میں مقابلہ بازی کرنے لگے تھے پھر یہ دنیا تمہیں بھی ویسے برباد کر ڈالے گی جیسا کہ انہیں برباد کر ڈالا تھا (ترمذی: حدیث صحیح)

٭…٭…٭

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی مایہ ناز کتاب ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ فتنے کی ایک خطرناک صورت وہ ہے جو خود انسان کی ذات میں پیدا ہوتی ہے۔ یہ وہ فتنہ ہے جو انسان کے دل ، دماغ اور نفس پر حاوی ہوتا ہے۔ اس فتنے کی علامت یہ ہے کہ انسان کے دل میں بے سکونی ، دماغ میں وساوس و شبہات اور نفس میں خواہشات کی فراوانی ہوتی ہے اور یوں انسان ایک ایسی الجھن کا شکار ہو جاتا ہے کہ مال و اسباب کی ریل پیل کے باوجود وہ قلبی سکون ، ذہنی یکسوئی اور اطمینان نفس سے محروم رہتا ہے…

اس الجھن سے نکلنے کا راستہ ہے : استغفار ، ڈھیر سارا استغفار ، آنسوؤں اور ندامت والا استغفار جو دل میں سکون ، ذہن میں یکسوئی اور نفس میں طمانیت پیدا کردے…

قرآن کریم نے کتنی خوبصورت اور نفع بخش بات کا حکم دیا ہے کہ : یوں کہتے رہا کرو :

رب اغفر وارحم وانت خیر الراحمین

اے میرے رب ! بخش دے اور رحم فرما دے کہ تو ہی سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor