Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مسئلہ کشمیر…ایک مسنون عمل (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 515 - Mudassir Jamal Taunsavi - Masla Kashmir Aik Masnoon Amal

مسئلہ کشمیر…ایک مسنون عمل

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 515)

ہماری قوم فکری طور پر کس قدر تنزلی کاشکار ہوچکی ہے کہ اسے ’’مسئلہ کشمیر‘‘ کی اہمیت کا اندازہ سرے سے رہا نہیں اور ’’مکمل آزادی‘‘ کا مفہوم بھی اس کی نظروں سے اوجھل ہوچکا ہے۔ آج کی نسلِ نو تو یہ باور کرچکی کہ شاید مسئلہ کسی جہادی جماعت یا مولانا محمد مسعودازہرصاحب وغیرہ کا اٹھایا ہوا ہے، اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو شاید مسئلہ کشمیر ہوتا ہی نہ اور ہرطرف امن وسکون ہوتا۔

مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ آج کی نسل نو کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے ، جب تک کشمیر کو ہندوستان کے چنگل سے آزادی نہیں مل جاتی تب تک صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ملت اسلامیہ کی آزادی ادھوری رہتی ہے۔ کشمیری مسلمانوں کا یہ بڑا احسان ہے کہ وہ بغیر کسی لالچ اور بیرونی بڑھاوے کے ملت اسلامیہ کی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے اوراس کی یہ جنگ خود ملک پاکستان کے تحفظ کی بھی جنگ ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستانی قوم اور ارباب اختیار کو اس جنگ میں ان کا بھرپور ساتھ دینا چاہئے جو ایک ایمانی تقاضا بھی ہے اور جغرافیائی ضرورت بھی! یہ بات آج ہم نہیں کہہ رہے ، بہت پہلے سے ہمارے اکابر بھی کہتے چلے آرہے ہیں اور حسب ضرورت وموقع اس میں حصہ بھی ڈالتے رہے ہیں۔

مولانا انوارالحسن شیرکوٹی ، دارالعلوم دیوبند کے قدیم اورمایہ نازفضلاء میں سے ہیں، تحریک آزادی پاکستان میں بذات خود حصہ لینے والے ان معاملات کے بڑی حدتک چشم دیدگواہوں میں سے ہیں۔ آپ کی زندگی کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی ذاتی، علمی ، دینی اور سیاسی خدمات کوقلمبند کرکے اگلی نسلوں تک پہنچانے کے لیے متعدد مفید کتابیں تحریرفرمائیں جو ایک عظیم شخصیت کا بھرپورتعارف بھی کراتی ہیں اور اس دور کی تاریخ کو بھی واضح کرتی ہیں۔

موصوف نے ایک کتاب ’’خطبات عثمانی‘‘ کے نام سے مرتب فرمائی ہے جس میں حضرت علامہ شبیراحمد عثمانیؒ کے وہ خطبات جمع کیے ہیں جوانہوں نے تحریک آزادی کے حوالے سے مختلف مواقع پر ارشاد فرمائے۔ اس کتاب کے مقدمے میں موصوف نے درج ذیل تین باتوں کو بڑے واشگاف الفاظ میں بیان کیا ہے :

۱: تحریک پاکستان کامقصد

۲: پاکستان کی مکمل آزادی

۳: مسئلہ کشمیر کی اہمیت

چنانچہ ان کی درج ذیل عبارت دیکھئے جوایک آئینہ ہے جس میں ہمیں اپنے کردار اور مقاصد کاجائزہ لینا تاکہ محسوس ہو کہ ہماری قوم کس سمت جارہی ہے؟ اور جانا کس سمت چاہئے!

’’پاکستان کے لیے یہ جدوجہد اور یہ تگ ودو محض اس مقصد کے لیے کی گئی تھی کہ اس خطۂ زمین میں پاکستانی مسلمان قرآن وسنت کے قوانین کو نافذ کریں گے اور اپنی تہذیب، اپنی ثقافت، اپنے علوم وفنون اور اپنی زبان اردو کو فروغ دینے کے لیے کسی کے تابع اور محتاج نہ رہیں گے۔

شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد صاحب عثمانیؒ نے اسی مقصد عظیم کی خاطر اپنی زندگی کے آخری سال قربان کیے، ان کے دل میں یہ تڑپ تھی کہ پاکستان میں اِسلامی اَحکام و قوانین کا اِجراء اپنی آنکھوں سے دیکھوں مگر قدرت نے جس سے جتنا کام لینا مقدر کیا ہے اس قدر خدمت لے کر اس کی زندگی کا پیمانہ لبریز کردیتی ہے۔ قائد پاکستان کی زندگی کا مشن پاکستان کا وجود تھا اور شیخ الاسلام کی زندگی کا مطمح نظر قدرت کے نزدیک قرار داد مقاصد کی تجویز کو پاس کرانا تھا تاکہ پاکستان کا آئندہ قانون قرآن وسنت پر رکھا جائے۔ یہی سر دست قدرت کا منشا ان دونوں شخصیتوں کے بارے میں معلوم ہوتا ہے۔

ہمارے نزدیک پاکستان کی صورت میں ہندوستان کے ایک چوتھائی حصے کو مسلمانوں کے لیے قدرت کا تجویز کرنا ایک جزئی تجویز ہے، ورنہ مسلمانانِ ہندوستان کا کلی مطالبہ تمام ہندوستان کو زیر نگین لاکر ہندوئوں پر اپنی بالادستی قائم کرنا تھا جیسا کہ شاہ ولی اللہ(دہلویؒ) سے لے کر ۱۸۵۷ء؁ کے جہادِ آزادی تک مسلمانانِ ہندوستان کا نظریہ رہا یہی مولانا سید احمد شہیدؒ کی تحریک کا مقصد اور یہی شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحب اسیر مالٹاؒ کا نظریہ تھا مگر حکومت برطانیہ کے دور میں حالات قطعاً بدل چکے تھے، اب نہ باہر کے مسلمان ممالک میں وہ جذبہ تھا جو محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، محمد بن قاسم اور بابر میں تھا اور نہ ہندوئوں میں وہ طوائف الملو کی اور قوت کا انتشار تھا جو مسلمان فاتحین کے دور میں تھا، اب اس کے سوا اور چارہ ہی کیا تھا کہ جس علاقے اور جن صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہو وہاں کے حصے میں پاکستان کو منوالیا جائے اور بنوالیا جائے۔

اب یہ موجودہ دور کے مسلمان ممالک کے اتحاد اور جذبۂ ایمانی پر موقوف ہے کہ وہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے نقش پر قدم چل کر ہندوستان پر اپنا اقتدار قائم کریں، ہمارے نزدیک دہلی کے شاہجہانی قلعے پر پاکستانی جھنڈا لہرائے بغیر پاکستان نامکمل ہے لیکن ابھی تو ہمارے اقتدار سے کشمیر بھی باہر ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کی سرحدوں کو مضبوط بنانے کے لیے کشمیر کا حاصل کرنا ضروری ہے، یہ کام ۱۹۶۵ء؁ کی جنگ میں قریب تھا کہ قدرت نے کچھ اور ہی سوچا اور پاکستان کی فاتح افواج کو چھمب اور جوڑیاں کو فتح کرانے کے بعد پسپا کردیا، ورنہ اکھنور کی منزل سامنے تھی اور اس کو فتح کرنے کے بعد کشمیر ہمارے قدموں میں پڑا تھا۔بہرحال پاکستان کی منزل مقصود اتنے ہی قطعۂ ارضی پر بس کرنا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ بقول اقبال:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

قناعت نہ کر عالم رنگ وبوپر

چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

اسی روز وشب میں اُلجھ کر نہ رہ جا

کہ تیرے زمان ومکاں اور بھی ہیں

قدرت نے پاکستان کو، بھارت پر ایک زبردست اور کاری ضرب کے لیے بنایا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ سعادت کس مرد مجاہد کے حصے میں آئیگی کہ وہ دلی کے شاہجہانی قلعے پر پاکستانی جھنڈا لہرائے گا، دہلی کی شاہجہانی مسجد کے منبرومحراب اور اس کے سربفلک مینار، قطب کی لاٹ، لال قلعہ، نظام الدین اولیاء کا مزار اور ہمایوں کا مقبرہ کسی مرد مجاہد کے لیے چشم براہ ہیں!‘‘ (بحوالہ: خطبات عثمانی)

٭…٭…٭

محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی اسلامی سال نوکا آغاز ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے گزشتہ تمام گناہوں کو معاف فرمائے، نیکیوں کو اپنے فضل سے قبول فرمائے اور آئندہ گناہوں نے بچنے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ ماہِ محرم میں ہمارے ہاں مختلف بدعات ورسومات کا رواج زیادہ ہے جبکہ اس میں جو عمل مسنون ہے اسے بالکل ہی بھلادیا گیا ہے اور حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ اس مسنون عمل کی کوئی لمبی چوڑی فہرست بھی نہیں ہے کہ جس پر عمل کرنامشکل ہوبلکہ وہ ایک ہی عمل ہے اور وہ ہے: ’’روزہ‘‘

نبی کریمﷺ کا معمول تھا کہ آپ ماہ محرم میں بکثرت روزے رکھتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس مہینے میں روزے رکھنے کی ترغیب دِلاتے جیسا کہ حدیث نبوی میںرمضان کے علاوہ نفلی روزوں میں محرم کے روزوں کو افضل قرار دیا گیاہے۔ فرمان نبوی ہے:

افضل الصیام بعد رمضان شھر اللہ المحرم ۔ ماہ رمضان کے بعد افضل ترین روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔ ( صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل صوم المحرم)

پھر خاص طور سے دس محرم کا روزہ تو بڑی ہی فضیلت اور درجہ رکھتا ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں ایسے رسوم رائج ہوچکے ہیں جس میں روزے کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ :

’’نبی کریمﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہود کو عاشورا ء ( دس محرم ) کا روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ آپ نے ان سے کہا :یہ کونسا دن ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: یہ بڑا عظیم دن ہے۔ اللہ نے اس دن موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی۔ فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیاتو موسی علیہ السلام نے شکرانے کے طورپر روزہ رکھا۔ اس لیے ہم بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں اور موسی  علیہ السلام کے زیادہ قریب ہیں۔ لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم فرمایا‘‘۔( صحیح مسلم – مسند احمد)

بالخصوص یوم عاشوراء کی فضیلت بتلاتے ہوئے فرمایا :

یکفر السنۃ الماضیۃ ۔  پچھلے ایک سال کے گناہوں کو مٹادیتاہے۔ ( صحیح مسلم)

لیکن بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوخبر ملی کہ یہود اب بھی اس دن کی تعظیم میں روزہ رکھتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

لئن بقیت الی قابل لاصومن التاسع ۔ ’’اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو میں ضرور 9 تاریخ کاروزہ رکھوںگا‘‘(صحیح مسلم 1134)

لیکن آئندہ محرم سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

 حدیث لئن بقیت الی قابل کے راوی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول مصنف عبد الرزاق اور بیہقی میں موجود ہے جس سے یہی مفہوم بنتا ہے کہ 9اور 10 محرم دونوں روزے رکھنے چاہئیں۔

اس تفصیل کی روشنی میں عاشوراء محرم(یعنی دس محرم) کے روزے سے فیضیاب ہونے والے کے لیے درج ذیل صورت قابل عمل ہے۔ عاشوراء (دس محرم) کے روزے سے پہلے 9 محرم کا روزہ۔ یہ افضل صورت ہے یا 10 محرم کے ساتھ 11 محرم کا روزہ یا 9۔ 10 اور 11 محرم پے در پے تین روزے رکھ لیے جائیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor