Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

غیبت سے بچئے (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 516 - Mudassir Jamal Taunsavi - Gheebat se Bachiye

غیبت سے بچئے

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 516)

اللہ تعالی نے ہمیں جو بے شمار نعمتیں ہماری طلب کے بغیر ہمیں دی ہیں انہی میں سے ’’زبان‘‘ بھی ہے جو بلاشبہ ایک عظیم نعمت ہے اور دل کی سچائی کے ساتھ زبان سے ایمان کا اقرار کرنا اس زبان کی سب سے بڑی سعادت بھی ہے اور زبان کی عظمت کی دلیل بھی۔ ہر مسلمان کو اپنی زبان کے بارے میں توجہ دینا بے حد ضروری ہے۔ مشہور کہاوت ہے کہ :

انما الانسان باصغریہ:اللسان والقلب

انسان کی قدر وقیمت اس کی دو چھوٹی چیزوں یعنی زبان اور دل سے وابستہ ہے۔

اس زبان کوباوقعت بنانے اوراپنی قدر وقیمت بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے شریعت کی لگام ڈالی جائے،یہ وہ گوشت کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے جس کا ایک جملہ انسان کو یاتو سعادت کی بلند ترین چوٹی تک پہنچا دیتا ہے اوراسی کا ایک جملہ جہنم کا بھی مستحق بنادیتا ہے۔ دنیا میں جس قدر خیرپھیلتی ہے اس میں بھی زبان کا پورا پورا حصہ شامل ہوتا ہے اور جس قدر فساد پھیلتا ہے اس میں بھی یہ زبان بڑے حصے کی مالک ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ: لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ گرانے والی چیز ان کی زبان اوراس کی حرکتیں ہی ہوں گی۔ عربی زبان کا مشہور شعرہے:

جراحات السنان لہاالتیام

ولایلتام ماجرح اللسان

نیزوں کے زخم تو بھر جاتے ہیں لیکن زبان سے لگے زخم نہیں بھرا کرتے۔

حضرت سفیان بن عبداللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں، فرمایا: ربی اللہ (میرا رب تو صرف اللہ ہی ہے) کہو، اور اس پر ثابت قدم رہو، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کونسی چیز ہے جس کا میرے بارے میں آپ کو سب سے زیادہ خوف ہے؟ تو آپﷺ  نے اپنی زبان مبارک کو ہاتھ لگاکر اس کی طرف اشارہ کیا(جس کا مطلب یہ تھا کہ زبان کو سب سے زیادہ سنبھالنے کی ضرورت ہے)۔

الغرض زبان جہاں ایک نعمتِ عظمیٰ ہے وہیں یہ ایک آفت اور آزمائش بھی ہے،اور اس زبان سے بے شمار آفتیں بھی جڑی ہوئی ہیں جن میں سے ایک بڑی آفت ’’غیبت‘‘ ہے جو ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم لوگ اپنی زبان کو قابو نہیں رکھتے۔ حالانکہ حکم یہ ہے کہ اسے قابو میں رکھا جائے۔ حضرت عطیہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے جب نبی کریمﷺ  سے نجات کے بارے میں سوال کیا تو آپ  نے انہیں نصیحت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: اپنی زبان کو روکے رکھو، اللہ نے جو مقدر کیا ہے اس پر راضی ہو جاؤ اور اپنی خطا پر رویا کرو۔

 ایک حکیم کا قول ہے: چھ عادتوں سے جاہل کو پہچانا جاتا ہے: ۱۔ بے وجہ غصہ ہونا ۲۔ راز افشاء کرنا ۳۔لوگوں سے لڑائی جھگڑے کرنا ۴۔بے موقع ہدیہ دینا ۵۔دشمن اور دوست کو نہ پہچاننا ۶۔بے فائدہ بات کرنا۔

جبکہ اس کے مقابلے میں علماء نے یہ بتایا ہے کہ خاموشی درج ذیل سات وجوہات سے بہتر اورخیر ہے: ۱۔ خاموشی بغیر تھکن کی ایک عبادت ہے۔ ۲۔ خاموشی بغیر زیور کی زینت ہے۔ ۳۔ خاموشی سلطان و حاکم کے درجے پر نہ ہونے کے باوجود رعب کا باعث ہے۔ ۴۔ اظہار معذرت سے بے نیازی کا ذریعہ ہے۔ ۵۔ خاموشی بغیر دیوار کا ایک قلعہ ہے۔ ۶۔ کراماً کاتبین کے لئے باعث راحت ہے۔ ۷۔ متکلم یعنی بات کرنے والے کے عیوب کو چھپاتی ہے۔ لقمان حکیم کا قول ہے: ‘‘خاموشی ایک حکمت ہے لیکن اس پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں‘‘۔

انسان غور کرے تو اسے زبان سے غیبت کرنے کی نوبت آنی ہی نہیں چاہئے کیوں کہ زبان کے صحیح استعمال کے لیے اطاعت باری تعالیٰ اور اْس کا ذکر و شکر ایک وسیع میدان موجودہے، اور یہ بات انسان کے بس میں ہے کہ وہ اپنی زبان کو معاصی اور نافرمانیوں میں استعمال کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے ذکر میں استعمال کرے اور زبان کے ذریعے اپنے درجات کو بلند کرنے کی کوشش کرے، قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام کرے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔

 غیبت کیا ہے؟ یہ ایک خطرناک آفت اور عظیم آزمائش ہے، نبی کریمﷺ  نے اپنے اس قول سے غیبت کا مطلب بیان فرمایا: تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں، آپ  نے فرمایا: اپنے بھائی کے بارے میں وہ بات کرنا جو اسے ناپسند ہو، دریافت کیا گیا: آپ کیا فرماتے ہیں اُس قول کے بارے میں جو میرے بھائی میں موجود ہو، (اور اسے بیان کیا جائے) آپ  نے فرمایا: جو بات تم کہہ رہے ہو وہ اس میں موجود ہو تو تم نے غیبت کی، اور اگر اُس میں وہ بات نہ ہو جو تم کہہ رہے ہو تو پھر تم نے اُس پر بہتان لگایا۔

اس بات کو ہم چند مثالوں سے سمجھ سکتے ہیں کہ کس طرح ہم لوگ ایک دوسرے کی غیبت کر کے اپنے سر ایک بڑا گناہ لے رہے ہوتے ہیں:

۱۔ انسان کے جسم کی بناوٹ کے سلسلے میں ناگوار بات کرنا، جیسے کسی بھائی کو چڑانے اور اس کی تحقیر کے لیے اسے نابینا، اندھا ، کالا اور ٹھگنا کہنا۔

۲۔ انسان کے حسب ونسب پر طعن  کرنا جیسے غلام ،یا نچلی ذات سے کسی کو یاد کرنا۔

۳۔ کسی کے پیشے کو حقیر جانتے ہوئے یاد کرنا جیسے فراش، حجام اور قصاب کہنا۔

۴۔ شرعی امور سے متعلق کسی پر کوئی ناحق بات کرنا، جیسے کسی کو چور، جھوٹا اور شرابی وغیرہ کہنا۔

۵۔انسان کے ظاہری وضع قطع سے متعلق حقارت آمیز بات کہنا جیسے کسی کو لمبی آستین والا ، لمبے کپڑوں والا یا اس طرح کے الفاظ سے یاد کرنا۔

مذکورہ تمام باتیں غیبت کے باب سے تعلق رکھتی ہیں، اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے والا اپنے مرداربھائی کا گوشت کھانے والے کے مترادف ہے۔

غیبت کی قسمیں: غیبت زبان سے کسی ناپسندیدہ بات کے ادا کرنے سے ہی نہیں ہوتی بلکہ ہروہ حرکت، اشارہ یا نقل اور ہر وہ عمل جس سے کسی کی عدم موجودگی میں تقصیر اور تحقیر مقصود ہو حرام عمل اور غیبت میں شامل ہے۔

غیبت میں شرکت: غیبت کی باتیں سننا، غیبت کی مجالس میں موجود رہنا، غیبت کرنے والے کو اس کے عمل سے منع نہ کرنا یہ سب غیبت میں شرکت کرنے کے مترادف ہے۔ ارشاد نبوی  ہے:جس نے اپنے بھائی کی (عدم موجودگی میں) اْس کی جانب سے دفاع کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے سے آگ یعنی جہنم کو ہٹائیں گے۔(ترمذی)

عام طور سے انسان جو غیبت کرتا ہے اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے ۔ ان حالات میں انسان کو اپنے دل کی طرف جھانکنا چاہئے اور ان اسباب کو دور کرنا چاہئے جن کی وجہ سے وہ دوسروں کی غیبت کرتا ہے۔ چنانچہ بعض اہل علم کے مطابق غیبت کے اہم اسباب درج ذیل ہیں: ۱۔ کسی سے کراہت اور نفرت ۲۔حسد جو صاحب غیبت کے دل کو کھا جاتا ہے۔ ۳۔ فتنہ وفساد کا ارادہ رکھنا۔ ۴۔ قابل احترام شخصیات کی تنقیص کرنا۔ ۵۔ برے ہم نشینوں کی صحبت اور ان کی ہر صحیح و غلط بات میں ہاں ہاں سے ملانا ۔

البتہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بعض باتیں ظاہر میں تو غیبت نظر آتی ہیں لیکن شریعت پھر بھی انہیں جائز قرار دیتی ہے ۔ ایسی چند صورتیں یہ ہیں:

۱۔ ظلم: مظلوم قاضی کے سامنے ظالم کے ظلم اور خائن کی خیانت کے بارے میں شکایت کرسکتا ہے۔ ۲۔ کسی کی برائی کا اُس شخص کے سامنے ذکر کرنا جو اس کے اصلاح کی طاقت رکھتا ہو، اس ارادے سے کہ نافرمان راہ راست پر آ جائے۔ ۳۔ مفتی کے سامنے فتوی معلوم کرنے کے لئے صورتحال بیان کرنا، مثال کے طور پر بیوی کا اپنے شوہر سے متعلق بات کرنا۔ ۴۔ مسلمان کو کسی کے شر سے محفوظ رکھنے کے لئے۔ غیبت کا شرعی حکم اور اس کے دلائل: کتاب وسنت اور اجماع امت سے غیبت کا حرام اور گناہ کبیرہ ہونا ثابت ہے، قرآن نے غیبت سے نفرت دلانے کے لئے صاحب غیبت کو اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانے والے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ: اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟تو تم ضرور نفرت کرو گے۔ (تو غیبت نہ کرو) [الحجرات:12]

صاحب غیبت اپنی نیکیوں اور حسنات کو برباد کرنے والا ہے، نیز وہ غیبت کے ذریعے اپنی نیکیوں کو جس کی غیبت کر رہا ہے ، اس کے کھاتے میں منتقل کرنے والا ہے، غیبت کرنے والے کا حال ایسا ہے کہ وہ بیک وقت گناہ بھی کرتا ہے اور اپنی نیکیوں کو ضائع کر کے اپنے محسود کا فائدہ بھی کرتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اگر میں کسی کی غیبت کرتا تو اپنے والد کی ہی غیبت کر لیتا’’

اللہ تعالی ہمیں غیبت سے توبہ کرنے والا بنائے۔ دیکھا جائے تو یہ ایک گناہ نہیں بلکہ غیبت کرنے والا دوقسم کے جرائم کا مرتکب ہوتا ہے: ایک جرم تو اللہ تعالیٰ کے حق میں کرتا ہے،کیوں کہ اس سے اللہ تعالی نے منع کیا ہے اور بندہ اللہ تعالی کے حکم کو نہ مان کراس کے حق کو ضائع کرتاہے، اس کا کفارہ یہ ہے کہ بندہ اپنے جرم پر ندامت کا اظہار کرے، اللہ تعالی سے معافی مانگے، جبکہ دوسرا جرم بندے کے حق میں کرتا ہے ، جس کا کفارہ یہ ہے کہ جس کی غیبت کی ہے ،اگر اُس شخص کو غیبت کا علم ہوا ہو تو اس سے معذرت کا اظہار کرے، اور اگر اس کو غیبت کا علم نہ ہوا ہو تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرے اور اُس بندے کے حق میں نیک دعا کرے،نیز یہ یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے اور اللہ کے فرشتے اس کے ایک ایک عمل کو قلمبند کر رہے ہیں۔اگر یہ احساس پیدا ہوجائے تو گزشتہ پر ندامت اور معافی مانگنے کا راستہ کھل جاتا ہے اور آئندہ بچنا آسان ہو جاتاہے!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor