Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

عالم ربانی کی رحلت اورجہاد کی حقانیت (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 518 - Mudassir Jamal Taunsavi - Alam rabbani ki rehlat

عالم ربانی کی رحلت اورجہاد کی حقانیت

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 518)

لوگ پوچھتے ہیں کہ اس زمانے میںجہاد کرنا چاہئے یا نہیں؟ کرنا چاہئے تو کہاں؟ کشمیر کے جہادکی شرعی حیثیت کیا ہے؟ بعض لوگوں کی تو یہ عادت بن چکی ہے کہ کسی مجاہد کو دیکھتے ہیں سب سے پہلے جہاد کشمیر بارے شکوک وشبہات کی پوٹلی کھول کر بیٹھ جائیں گے ۔اس وقت حیرت مزید بڑھ جاتی ہے جب جہاد چھوڑنے اور خاص کر کشمیر کے جہاد سے الگ ہونے کی ترغیب دینے کے لیے علماء سے وابستگی کی بات کرتے ہیں مگر کون ہے جو انہیں سمجھائے کہ محترم! حضرت مولانا سیدشیر علی شاہ جیسے مفسرقرآن اور وقت کے عظیم المرتبت مسلم شیخ الحدیث جیسے علماکو دیکھ کر ہی تو یہ جہاد تقویت پکڑ رہا ہے جو وقت کے عظیم عالم ہونے کے ساتھ ایک عظیم عملی مجاہد اور مجاہدین کے لیے مشفق سرپرست بھی تھے۔

ڈاکٹر سید شیر علی شاہ صاحب نے طویل لیکن بھرپور نیک سیرت زندگی گزاری اور قابل رشک نمونہ چھوڑ کر اس دارفانی سے کوچ فرمایااور گویااس حدیث کا عملی نمونہ دکھلادیا کہ :

’’سعادت مند انسان وہ ہے جس کی زندگی لمبی اور اعمال نیک ہوں‘‘

ڈاکٹر صاحب نوراللہ مرقدہ میں سعادت کے آثار تو شروع سے ہی آشکارا تھے۔ آپ نے زمانہ طالب علمی میں وقت کے عظیم شیخ الحدیث اور مایہ ناز شیخ التفسیر مولاناعبد اللہ درخواستی نور اللہ مرقدہ سے دورہ تفسیر پڑھا اور وہاں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس سے صاف اندازہ لگالیا گیا کہ یہ طالب علم آنے والے وقت میں اونچے مقام پر فائز ہوگا۔ چنانچہ واقف احباب نے لکھا ہے کہ حضرت درخواستی رح کا دورہ تفسیر چل رہا تھا،کسی طالب علم نے کوئی چٹ بھیجی جس میں غالباً امام ابوحنیفہ کی شان رفیع میں سوء ادب کا پہلو نکل رہا تھا۔حضرت اس گستاخی پر سخت ناراض ہوئے اور اعلان کردیا کہ بس آیندہ سبق نہیں ہوگا۔طلبہ میں یہ اعلان سنتے ہی تشویش کی لہر دوڑ گئی۔اب کیا کیا جائے؟ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والی کیفیت ہوگئی۔طلبہ نے مشورہ کرکے اپنے میں سے ایک ذہین اور ہونہار ساتھی کا انتخاب کیا کہ وہ عربی میں معافی نامہ لکھ کر حضرت کی خدمت میں پیش کرے۔طالب علم نے عربی میں درخواست لکھی،معافی کی التجا کی اور قرآن کریم کی آیت سے اقتباس کرتے ہوے اختتام یوں کیا:

''اتھلکنا بما فعل السفھاء منا''الآیۃ

کیا آپ ہمیں ہمارے کسی بے وقوف کی وجہ سے ہلاک کردیں گے؟

حضرت نے اگلے دن درس شروع کرتے ہوے فرمایا بھائی کھتا ہے کہ سبق شروع کردو ۔

یہ نوخیز طالب علم وہی تھے جس کو بعد میں دنیا نے شیخ الحدیث ڈاکٹر شیر علی شاہ کے نام سے پہچانا اور اب وہ لاکھوں دلوں کو سوگوار چھوڑ کر اپنے اس رب کے ہاں پہنچ چکے ہیں جس کے دین کی سربلندی کے لیے تمام عمر خندہ پیشانی سے تمام مشکلات برداشت کررہے ہیں اور ہمیشہ منزل کی طرف ہی بڑھتے رہے۔ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ و اسعۃ

حضرت ڈاکٹر صاحب نوراللہ مرقدہ بہت ہی خوبیوں والے انسان تھے، سچے اور پورے مسلمان والی شان ان میں نمایاں تھی۔ مولانا محمد فیاض خان سواتی مدظلہ نے اپنے تاثرات میں بجا لکھا ہے کہ ’’ڈاکٹر صاحب گوناگوں صفات کے حامل انسان تھے، وہ مدینہ یونیورسٹی کے ان فضلاء میں شامل تھے جنہوں نے اس کے قیام کے بعد سب سے پہلے وہاں تعلیم حاصل کر کے سند فراغت حاصل کی تھی اور پھر مدت العمر اپنے مادر علمی دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، وہ بیک وقت ایک کہنہ مشق مدرس، حق گو خطیب اور عربی، فارسی، پشتو، اردو اور دیگر بعض زبانوں پر عبور رکھنے والے مایہ ناز عالم دین تھے، تحریکی اور مجاہدانہ ذوق کے حامل ہونے کے ساتھ تصوف سے بھی گہرا لگاؤ رکھتے تھے، ان کی سب سے نمایاں صفت جس نے احقر کو متاثر کیا وہ ان کی طبعی سادگی تھی، میں نے انہیں تین بار جامعہ نصرۃ العلوم کے پروگراموں میں دعوت دی جو انہوں نے بخوشی قبول فرمائی، اس سلسلہ میں ان سے گزارش کی گئی کہ ہم آمد و رفت کیلئے سواری کا بند وبست کریں گے لیکن انہوں نے ہر بار صاف انکار کر دیا اور فرمایا میں خود ہی آجاؤں گا، چنانچہ ایک بار بخاری شریف کے آخری سبق کیلئے، دوسری مرتبہ جامعہ کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد کے موقع پر اور پھر تیسری مرتبہ میرے والد ماجدؒ کی وفات کے بعد انکے تعزیتی جلسہ میں تشریف لائے، اور بہت علمی اور عمدہ بیانات سے بہرہ ور فرمایا، ان کی آواز میں ایک قدرتی کڑک تھی جو عمر رسیدگی میں بھی قائم رہی، جب وہ جامعہ نصرۃالعلوم کے پہلے پروگرام میں تشریف لائے تو انکی کیفیت قابل دید تھے، جامعہ کے گیٹ سے ایک بابا اپنے کندھے پر ایک گٹھڑی اٹھائے ہوئے اندر داخل ہوا، ہم میں سے کسی نے ان کو نہ پہچانا تو انہوں نے والد صاحب ؒکے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو خود آکر بتایا کہ میں ’’شیر علی‘‘ ہوں، اللہ اکبر۔ ایسے لوگ اب کہاں میسر آئیں گے؟‘‘

اس دور میں جہاد اور مجاہدین کی خوش بختی کی یہ بڑی دلیل ہے کہ انہیں ایسے بلند پایہ عالم دین کی سرپرستی اور دعائیں حاصل رہیں۔ آپ افغانستان کے جہاد میں بھرپور تعاون کرتے رہے اور جس طریقے سے بھی ممکن ہوا اس میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ آپ ان سعادت مند علماء میں سے تھے جنہوں نے جہاد کی آبیاری میں اپناخون جگر پیش کیا، اسی لیے افغانستان کے مجاہدین ہوں یا کشمیر کے سب ہی آپ کو نہایت عزت کا مقام دیتے تھے اور آپ بھی سب کی بے لوث خدمت اور سرپرستی فرمایا کرتے تھے۔

بندہ ناچیز جب دو سال قبل دورہ تفسیر آیات جہاد کے سلسلے میں پشاور گیا تو اس موقع پر حضرت ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں اکوڑہ خٹک جانے کا بھی موقع میسر آیا۔ بندہ کے ساتھ المرابطون کے ذمہ دار اور بعض دیگر مقامی ساتھی بھی تھے۔ ہم مغرب کی نماز کے وقت حضرت کی خدمت میں پہنچے ، آپ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے، ہم بھی حضرت کے پیچھے دوسری صف میں بیٹھ گئے۔ نماز کے بعد ہمارے پختون رہبر ساتھی نے آگے بڑھ کر تعارف کرایا ،بندہ نے اجازت حدیث کی درخواشت پیش کی تو فوراً راضی ہوگئے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر بخاری شریک کی پہلی اور آخری حدیث پڑھا کر اجازت مرحمت فرمائی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیئے۔ اچھی مفصل دعا فرمانے کے بعد پھر پختون ساتھی نے دوبارہ قدرے مفصل تعارف کرایا، دورہ تفسیر آیات جہاد اور حضرت امیر محترم مولانا محمد مسعودازہرحفظہ اللہ تعالیٰ کا بھی تذکرہ فرمایا تو حضرت نے دوبارہ گفتگو شروع فرمادی، دورہ تفسیر کا حال پوچھا، حضرت امیر محترم کی خیریت دریافت کی اور چند باتوں کے بعد دوبارہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیئے اوراس بار دعازیادہ تر مجاہدین کے حق میں جاری رہی جو مجاہدین کے ساتھ ان کی بے پناہ محبت کا منہ بولتا ثبوت تھی۔

اس موقع پر راقم نے حضرت سے ان کے اپنے قلم سے کچھ ناصحانہ ودعائیہ کلمات لکھنے کی فرمائش کی تو حضرت نے بخوشی اس پر آمادگی ظاہر فرمادی ۔ بندہ نے اپنے پاس موجود شمائل ترمذی کا نسخہ آگے بڑھا دیا اور حضرت نے اس پر ایسے القاب کے ساتھ دعائیہ کلمات تحریر فرمادیئے جو یقینا میری حیثیت سے زیادہ تھے مگر اللہ تعالیٰ سے حسن ظن ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں سچا فرمادیں گے۔ ان شاء اللہ

عرض یہ کررہا تھا کہ حضرت نے اس خطے میں جہاد افغانستان اور جہاد کشمیر کی سرپرستی فرمائی اور کھل کر فرمائی، کسی لگی لپٹی کے بغیر ہر موقع پر ان مجاہدین کے سروںپر ہاتھ رکھا، ان کی علمی وعملی رہنمائی فرمائی، آپ کی یہ سرپرستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے جسے ثابت کیاجائے

 لیکن اس میں سبق ضرور ہے، جب ان جیسے جلیل القدر علماء جہاد کے سرپرست ہوں تو یہ اس جہادکی حقانیت کی بڑی دلیل ہے۔ آپ کے ساتھ اس زمانے میں جن دیگر علماء نے اپنے علم وعمل سمیت مجاہدین کی سرپرستی فرمائی اور ان کا ساتھ دیا وہ بھی اس زمانے کے علماء میں نمایاں شان رکھنے والے ہیں جن میں سرفہرست مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب، مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب، مولانا محمدسرفراز خان صفدرصاحب، مولانا مفتی عبدالستار صاحب، مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید، مولانا مفتی نظام الدین شہید، مولانا مفتی محمدجمیل خان شہید، مولانا محمد ضیاء الحق قاسمی صاحب، مولانا محمد شریف اللہ مولویانوی صاحب اور دیگر بھی بے شمار نام ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کو اپنی بارگاہ عالی سے بہترین بدلہ عطافرمائے

ان حالات میں جب کہ جہاد اورمجاہدین کے خاتمے کے لیے عالم کفر کا ہرطرف وارجاری ہے اور اسلام کے نام پر بننے والے ملک کو اس کے حکمران لبرل بنانے کا عندیہ علی الاعلان دے رہے ہیں اور ہر مکروہ حربہ اختیار کرکے جہاد کا دروازہ بندکرنے پرتلے ہیں تو وہ تمام مسلمان جو دین کے احکامات اہل علم کی رہنمائی میں سیکھتے اوران پر عمل کرتے ہیں ان کے لیے ان اکابر علماء کی زندگی بہترین نمونہ عمل ہے جو اس راہ پر اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک قائم رہے، تمام عمر جہاد سے وابستہ رہے کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ جہاد ایمان کاحصہ ہے اور جہاد چھوڑ کر جہاد سے روگردانی کرکے اور جہاد جیسے فرض کو معطل کرکے کس طرح ایمان کو بچایا جاسکتا ہے؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor