Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ایمان اور کفر (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 519 - Mudassir Jamal Taunsavi - Imaan aur Kufr

ایمان اور کفر

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 519)

لیکن اس زمانے میں کچھ گمراہ کن مفکرین اور مدعیان علم نے اس باب میں صریح غلط بیانی اور تلبیس کا طرز عمل اختیار کرلیا ہے اور وہ کفر واسلام کی حدود کو پامال کرکے مسلمان اور کافر کی امتیاز مٹانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ واضح سی بات ہے کہ مسلمان اور کافر کے درمیان فرق مٹنے کی دو ہی صورتیں ہیں:

یا تو مسلمان اپنی پہچان چھوڑ کر کافر ہو جائے

یا پھر کافر اپنی پہچان چھوڑ کر مسلمان ہو جائے

اول صورت تو ناممکن ہے کیوں کہ اسلام آخری دین ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہے اس دھرتی پر مسلمان باقی رہیں گے اگرچہ کبھی کبھار بعض افراد اپنی بدبختی کی وجہ سے اسلام لانے کے بعدبھی اس سے محروم ہو جائیں جبکہ دوسری صورت بھی ناممکن ہے کیوں کہ اگر ایسا ہوجائے اور سب مسلمان ہی ہو جائیں تو انسانیت کو بھیجنے کا جو مقصد آزمائش ہے وہی فوت ہوجاتا ہے علاوہ ازیں خود قرآن کریم نے تووضاحت کر ہی دی ہے کہ :’’ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو زمین پر رہنے والے سب لوگ ایمان لے آتے تو کیا اب تم لوگ سب کو مجبور کرکے مومن بناسکتے ہو؟‘‘

الغرض کفر واسلام کی حدود مٹانے اور کافر و مسلم کی پہچان ختم کرنے کی کوشش کرنے والے لوگ صریحاً گمراہ اور اس باب میں حد سے تجاوز کرنے والے اور کفر کو اسلام باور کراتے کراتے خود ہی اسلام کو چھوڑ بیٹھتے ہیں جنہیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔

اہل علم محققین کا ہمیشہ سے یہ اتفاق چلا آرہا ہے کہ ’’کفر‘‘ کا خلاصہ کیاجائے تو اس کاعنوان بنتا ہے :’’تکذیب رسول‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے رسولﷺکو جھٹلانا اوران کا انکار کردینا۔ اس تکذیب اور انکار کی چند معروف شکلیں ہیں جن سے کافروں کی پہچان کی جاسکتی ہے۔ عصرحاضر کے مایہ ناز عالم دین مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب نوراللہ مرقدہ نے اپنے رسالے ’’ایمان اورکفر :قرآن کی روشنی میں‘‘ اس بارے میں جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ اہل علم اور اہل دین کو ضرور ملاحظہ فرمانا چاہئے۔ فی الوقت اس کے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں جو ہمارے موضوع کی وضاحت کے لیے نہایت مفید ہیں۔

کفر اور کافر کی اقسام:

(۱) ایک تکذیب کی صورت تو یہ ہے کہ کوئی شخص صراحتاً رسول اللہﷺکو اللہ تعالیٰ کا رسول ہی تسلیم نہ کرے، جیسے بت پرست، یہود اور نصاریٰ۔

(۲) دوسری یہ ہے کہ رسول تسلیم کرنے کے بعد آپﷺکے کسی قول کو صراحتاً غلط یا جھوٹ قرار دے یعنی آپﷺکی بعض ہدایات پر ایمان رکھے اور بعض کی تکذیب کرے۔

(۳) تیسری یہ کہ کسی قطعی الثبوت قول یا فعلِ رسول کو یہ کہہ کر رد کردے کہ یہ آنحضرتﷺکا قول یافعل نہیں ہے، یہ بھی در حقیقت رسول کی تکذیب ہے۔

(۴) چوتھی صورت یہ ہے کہ قول وفعل کو تسلم کرتے ہوئے اس کے مفہوم کی تاویل کرکے قرآن وحدیث کی قطعی تصریحات کے خلاف کسی خود ساختہ مفہوم پر محمول کرے۔ کفر وتکذیب کی یہ صورت چونکہ دعوائے اسلام اور ادائیگی شعائرِ اسلام کے ساتھ ہوتی ہے، اس لیے اس میں اکثر لوگوں کو بہت مغالطہ پیش آتا ہے، خصوصاً جب اس پر نظر کی جائے کہ تاویل کے ساتھ انکار کرنا باتفاق علماء تکذیب میں داخل نہیں اور ایسے شخص کو کافر نہیں کہا جاسکتا اور ظاہر ہے کہ ملحدین بھی کسی تاویل کا سہارا ضرور لیتے ہیں، اس لیے ا س قسم کی تشریح وتوضیح زیادہ ضروری ہے تاکہ تاویل اور الحاد میں فرق معلوم ہوسکے اور معلوم ہوجائے کہ تاویل کے محل میں تاویل موجبِ کفر نہیں مگر الحاد وزندقہ کی تاویل بالا جماع موجبِ کفر ہے ۔

کفر، زندقہ والحاد

تکذیب کی چوتھی صورت قرآن کی اصطلاح میں ’’الحاد‘‘ اور حدیث میں ’’الحاد‘‘اور ’’زندقہ‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔

(قرآن کریم میں ہے)’’جو لوگ ہماری آیات میں الحاد کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں، کیا وہ شخص جو جہنم میں ڈالا جائے گا بہتر ہے یا وہ جو امن کے ساتھ آئے گا قیامت کے دن؟‘‘۔ حضرت ابنِ عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺسے سنا ہے کہ فرماتے تھے کہ عنقریب اس امت میں مسخ ہوگا اور سن رکھو! کہ وہ تقدیر کو جھٹلانے والوں میں ہوگا اور زندیقین میں(ہوگا)۔ اس کو امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اور خصائص میں کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے اور منتخب کنزالعمال میں مرفوعاً ایک روایت ہے جو اس کی تفسیر کرتی ہے۔ … حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی قدس سرہ نے مسویٰ شرح مؤطا میں اس قسم کی تکذیب کے متعلق لکھا ہے:

اور اگر دین کی تمام ضروریات کا ظاہری طور پر اقرار کرے لیکن دین کی بعض ثابت شدہ چیزوں کی ایسی تفسیر بیان کرے جو صحابہؓ اور تابعین اور اجماعِ امت کے خلاف ہو تو وہ زندیق ہے۔ مثلاً یہ تو اقرار کرے کہ قرآن حق ہے اور جو اس میں جنت و دوزخ کا ذکر ہے وہ بھی ٹھیک ہے لیکن جنت سے مراد وہ خوشی وفرحت ہے جو اخلاقِ حمیدہ سے پیدا ہوتی ہے اور دوزخ سے مراد وہ ندامت ہے جو اخلاق مذمومہ کے سبب حاصل ہوتی ہے ویسے کوئی نہ جنت ہے نہ دوزخ،پس یہ شخص ’’زندیق‘‘ ہے۔

تاویل اور تحریف میں فرق

پھر تاویل کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تاویل تو وہ ہے جو کتاب وسنت اور اتفاقِ اُمت کی کسی قطعی بات کی مخالف نہیں اور ایک تاویل وہ ہے جو ان مذکورہ چیزوں سے ثابت شدہ کسی حکمِ قطعی کی مصادم(مخالف) ہو، پس یہ شکل ثانی ’’زندقہ‘‘ ہے پس جو شخص اللہ تعالیٰ کی رؤیت کا منکر ہو یا قیامت کے روز یا عذابِ قبر کا منکر ہو اور منکر اور نکیز کے سوال کا منکر ہو یا پل صراط اور حساب کا منکر ہو، خواہ وہ یوں کہے کہ مجھے ان راویوں پر اعتبار نہیں۔ اور یا یوں کہے کہ ان راویوں کا تو اعتبار ہے مگر حدیث کے معنی دوسرے ہیں اور یہ کہہ کر ایسی تاویل بیان کرے جو اس سے پہلے نہیں سنی گئی پس وہ ’’زندیق‘‘ ہے۔ یا یوں کہے کہ نبی اکرمﷺخاتم النبوۃ ہیں لیکن اس کے معنی یہ ہیں کہ آپﷺکے بعد کسی شخص کا نام ’’نبی‘‘ رکھنا جائز نہیں، مگر نبوۃ کے معنی اور مصداق، یعنی انسان کا خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونا مخلوق کی طرف کہ اس کی اطاعت فرض اور وہ گناہوں سے معصوم ہو، اور اس بات سے معصوم ہو کہ اگر اس کی رائے میں غلطی ہوتو وہ اس پر باقی رہے، تو یہ معنی اور مصداق آپﷺکے بعد ائمہ میں موجود ہیں، پس یہ شخص ’’زندیق‘‘ ہے۔ (مفہوم تحریر حضرت مفتی شفیع صاحب)

الغرض اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل کتاب خواہ یہود ہوں یاعیسائی وہ باوجود اپنے زعم میں آسمانی مذہب کو ماننے کے کافر ہیں کیوں کہ وہ اللہ تعالی کے آخری رسولﷺ جو نہ صرف رسول ہیں بلکہ سب رسولوں سے افضل اوران کے خاتم ہیں ان پر ایمان نہیں لاتے اور اسی طرح جو بت پرست اور مجوس وغیرہ ہیں وہ سب کافر ہیں اور ان پر کفر کے احکام لاگو ہوں گے جس میں سرفہرست یہ ہے کہ انہیں اسلام کی دعوت دی جائے اگر وہ قبول کر لیں تو بہتر ورنہ انہیں جزیہ دینے پر آمادہ کیا جائے اگر ایسا ہو جائے تو بہتر ورنہ ان کے خلاف قتال ہوگا اور اگر کافرمسلمانوں پر لڑائی مسلط کر چکے ہوں تو پھر ایک ہی حکم ہے کہ ان کی لڑائی کا زور توڑا جائے اور ان کے خلاف بھرپور جہاد کیاجائے اور اس میںہرمسلمان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جس قدر حصہ لے سکے اس سے گریزنہ کرے!!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor