Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ہمارے نبیﷺ کی پسند (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 520 - Mudassir Jamal Taunsavi - Hamare Nabi ki Pasand

ہمارے نبیﷺ کی پسند

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 520)

فرانس جیسے اسلام دشمن ملک پر ایک آفت کیا ٹوٹی کہ بعض مغرب زدہ مسلمان قلم کاروں نے فرانس اور دیگر اسلام دشمن یورپین ممالک کی تعریفات کے گن گانا شروع کردیے اوران کے شہروں وملکوں کو ظاہری عیش پرستی کی بنیاد پر خوشبووں کا شہر قراردینا شروع کردیا اور یہ بالکل بھی نہ سوچا کہ ہمیں تو اسلام دشمن کی مشابہت سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے ایسے میں ان کی عیش پرستی کو کامیابی کامعیار قرار دیدینا کیسے درست ہوسکتا ہے؟

 اللہ تعالی نے تو اس چیزکوبھی نا پسند فرمایا کہ کوئی شخص دین اسلام پر مکمل عمل پیرا ہوتے ہوئے یہودیت کی بعض چیزوں پرعمل کرلے،جیسا کہ کتب تفاسیر میں ہے ، حضرت عبداللہ بن سلام (جو قبول اسلام سے قبل یہودیوں کے زبردست عالم تھے) اورآپ کے بعض (یہودی)ساتھی اسلام میں داخل ہونے کے بعد بھی یوم السبت(ہفتہ کے دن) کی تعظیم کرتے تھے،اور اونٹ کے گوشت اور اس کے دودھ کو مکروہ گردانتے تھے،انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا :یا رسول اللہ! ہمیں اجازت دیں کہ ہم (احکامات اسلام کے ساتھ ساتھ)قیام لیل (تہجد)میں تورات کی تلاوت کریں کہ وہ بھی تو کتاب اللہ ہے۔ اس پر قرآن پاک کی اِس آیت کا نزول ہوا۔

ترجمہ: اے ایمان والو!اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ،اورشیطان کے نقش قدم ہر نہ چلو، یقین جانو وہ تمہارا کھلادشمن ہے۔(البقرہ:۲۰۸)

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں مکمل وسراپا داخل ہوجاؤ،تمہارے لیے احکامات اسلام ہی کافی وشافی ہیں، اب تمہیں کسی اور شریعت پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے،سابق مذہب کی بعض باتوں پر عمل کا خیال شیطانی کارستانی ہے؛اس لیے یہ خیال دل سے نکال دو،اور سابق مذہب کی بعض باتوں پر عمل کرنے سے ان کی مشابہت ہوجائے گی جو مذموم ہے۔ (البغوی: ۱ / ۲۴۰)

سنت نبویہ میں متعدد ایسی تصریحات موجود ہیں جن میں بڑی وضاحت کے یہودونصاریٰ کی مشابہت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بعض اہل علم نے ایسے دس احادیث جمع فرمائی ہیں جو آپ کے سامنے پیش خدمت ہیں ۔

خضاب میں یہود ونصاریٰ  کی مخالفت

(۱)یہود ونصاری بالوں میں خضاب نہیں لگاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت میں خضاب کاحکم دیا،جیساکہ کتب احادیث میں ہے،حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:بیشک یہود ونصاری خضاب نہیں لگاتے ہیں، لہٰذا تم ان کی مخالفت کیا کرو، یعنی خضا ب لگایا کرو۔(بخاری)

اس سے اندازہ لگائیں کہ کس طرح نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو یہود کے طرز سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے کیوں کہ ایسے ہی ملے جلے کام اتنا قریب بنادیتے ہیں کہ پھر ایمان ودین کا معاملہ بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے ۔

طریقہ سلام میں یہود ونصاریٰ  کی مخالفت

(۲) یہود انگلیوں کے اشارہ سے اور نصاریٰ ہتھیلیوں کے اشارہ سے سلام کرتے تھے، آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کاحکم دیا،جیساکہ کتبِ احادیث میں ہے،حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص راوی ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

ترجمہ: یہود کی مشابہت نہ کرو اور نہ نصاری کی مشابہت کرو، یہود کا سلام انگلیوں کا اشارہ ہے اور نصاری کا سلام ہتھیلی کا اشارہ ہے۔(الترمذی)

یعنی زبان سے کلمات سلام اداکیے بغیر صرف انگلیوں سے اور ہتھیلی سے اشارہ کرنا،یہود ونصاریٰ کے سلام کا طریقہ ہے ، ہاں اگر کوئی دو رفاصلے پر ہوتوزبان سے کلمات سلام ادا کرتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ بھی کردے تو کوئی مضایقہ نہیں ہے۔

سحری سے امتیاز

(۳) اہلِ کتاب (یہود ونصاریٰ) کے روزوں میں سحری نہیں تھی،اور ہمیں سحری کا حکم ہے اور ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے اور ہمارے روزوں میں فرق وامتیاز سحری ہے۔ جیساکہ کتب احادیث میں ہے،حضرت عمر وبن العاص راوی ہیں،آپﷺ کا فرمان ہے:

ترجمہ:ہمارے روزوں اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کھانا ہے ، یعنی شریعت نے ہمارے روزں کو بھی ان سے ممتاز وجداگانہ رکھا ہے۔(مسلم)

عجلت افطار کے ذریعہ یہود ونصاریٰ کی مخالفت

(۴) اہل کتاب افطار میں تاخیر کیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ یہ اہل کتاب(یہود ونصاریٰ) کا طریقہ ہے۔

ترجمہ: دین ہمیشہ غالب رہے گا؛ جب تک کہ لوگ افطار میں جلدی کریں گے،بیشک یہود ونصاریٰ افطار میں تاخیر کرتے ہیں۔(سنن ابو داؤد)

یہ یہودیت کاشیوہ ہے

(۵)ابتدا ء میں باجماعت نماز کے لیے مسلمانوں کو جمع کرنے کا کوئی خاص طریقہ مقررنہ تھا، مسلمان ازخود وقت کااندازہ کر کے جمع ہوجاتے تھے ،پھرآ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ کیاکہ لوگوں کو نماز کے لیے کیسے جمع کیا جائے؟کسی نے مشورہ دیا کہ ناقوس بجا یا جائے،آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مشورہ کو رد کرتے ہو ئے فرمایا :یہ نصاری کاطریقہ ہے،اور کسی نے یہ رائے پیش کی کہ’’بوق‘‘ نرسنگھا پھونکا جائے، اسے بھی رد کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فریا: یہ یہود کا طرز ہے،اور کسی نے کہا کہ آ گ جلائی جا ئے، مجوس کا طریقہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی رد کردیا۔ پھرجب عبد اللہ بن زید نے( اور دیگر بعض صحابہ نے) اذان والا خواب دیکھا،اور آپﷺ کوسنایاتوآپﷺ نے اس خواب کو سچا اور منجانب اللہ قرار دیا اوراس کے مطابق اذان کوجاری فرمایا۔(سنن ابوداؤد)

صوم عاشوراء میں یہود و نصاریٰ کی مخالفت

(۶) جب مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہواکہ یہودی عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم یہ روزہ کیوں رکھتے ہو ؟ تو انھوں نے جواب دیا،یہ ہمار ا بہترین اور مبارک دن ہے ، اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کوفرعون کے ظلم سے بچایا اور فرعون اور اس کی قوم کو اسی دن بحرِقلزم میں غرقاب کیا تھا، تو آپﷺ نے فرمایا ہم تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کے حق دار ہیں۔

 اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورا ء کے روزہ کا وجوبی یاتاکیدی حکم دیا۔پھر جب اہل کتاب (یہود ونصاریٰ) کی عیاری ومکاری اور ان کی اسلامی عداوت ظاہر ہوگئی تو صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا:یارسول اللہ! یہ وہ دن ہے کہ جس کی تعظیم و تکریم یہود (بھی) کرتے ہیں،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ان شا ء اللہ اگر میں آئند ہ سال زندہ رہا تو (دسویں کے ساتھ) نویں کا بھی روزہ رکھوں گا‘‘، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم عاشورا ء میں ان سے یگانگت اور یکسانیت کی روش بدل دی؛مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر نے وفانہ کی اورآ پ صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ سال ماہ محرم کے آنے سے پہلے ہی رفیق اعلیٰ سے جاملے۔

یہود ونصاریٰ کی مخالفت میں ہفتہ اور اتوار کو روزہ

(۷)آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخالفتِ اہل کتاب میں شنبہ اور یکشنبہ(یعنی ہفتہ اور اتوار) کا روزہ رکھا کرتے تھے؛ جیسا کہ کتب احادیث میں ہے، حضرت ام سلمیٰ فرماتی ہیں:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنوں میں اکثرہفتہ اور اتوار کو روزہ رکھا کرتے ،اور فرماتے کہ یہ دونوں دن مشرکوں کے عید کے ہیں،مجھے پسند ہے کہ میں ان کی مخالفت کروں۔(مسند) یعنی شنبہ یہود کی عید کادن اور یکشنبہ نصاری کی عید کادن ہے اور ظاہر ہے کہ عید کے دن وہ کسی بھی حال میں روزہ نہ رکھیں گے، اور ان دنوں میں روزہ رکھنے سے مخالفتِ اہل کتاب ظاہر ہوتی ہے،اور اسی کا اظہارمطلوب و مقصودہے۔

نصاریٰ کی مخالفت میں  صوم وصال کی ممانعت

(۸) حضرت لیلیٰ فرماتی ہیں: میں نے ارادہ کیا کہ (بغیر سحری کے)مسلسل دو دن روزہ رکھوں، میرے شوہر بشیر نے مجھے منع کیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺنے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے : نصاریٰ اس طرح کرتے ہیں،یعنی وہ بغیر سحری کے مسلسل روزے رکھتے ہیں؛اس لیے ہمیں یہ عمل نہیں کرناہے۔ (مسند احمد )

یہود ونصاریٰ کے برخلاف اسلام میں عورت اچھوت نہیں ہے

(۹)اہل کتاب عورت کوحالتِ حیض میں بالکل اچھوت سمجھتے تھے، قربت ومجامعت سے اجتناب و احتراز کے ساتھ ساتھ نہ کھاتے پیتے نہ اٹھتے بیٹھتے اورنہ بات چیت کرتے؛بلکہ اسے خود سے بالکل الگ کردیتے تھے،اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم بستری ومجامعت تو ممنوع ہے، اس کے علاوہ تناول طعام، نشست و برخواست،گفتار وتکلم؛ بلکہ ساتھ لیٹنے کی بھی اجازت ہے، یعنی اہل کتاب کی طرح ہمیں مبالغہ آمیزرویہ اپنانے کی ضرورت نہیں ہے،اس طرح اس معاملہ میں بھی ان سے ہماری جداگانہ شناخت رکھی گئی۔

اور جب اہل کتاب کو اس جدا گانہ طرز کی اوران کی محالفت کی اطلاع ہوئی تو انھوں نے کہا:لگتاہے کہ اس آدمی (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم)نے ہمارے ہر امر کی مخالفت کا ارادہ کرلیا ہے۔(مسلم)

قبرستان میں مخالفت

(۱۰)ابتداء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازہ کے ساتھ چلتے تو جب تک میت کو قبر میں نہ رکھاجاتا بیٹھتے نہ تھے،اس پر ایک یہودی عالم نے کہا:اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) ہم بھی اسی طرح کرتے ہیں،اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے، اورفرمایا: کہ ان کی مخالفت کرو!(ترمذی)یعنی یہودکہ وہ جنازہ کے ساتھ بیٹھتے ہی نہیں ہیں، ان کی مخالفت اس طرح کرو کہ جب تک جنازہ گردنوں سے نیچے نہ رکھا جائے، نہ بیٹھو،پھر جب جنازہ گردنوں سے نیچے رکھ دیا جائے تو بیٹھ سکتے ہو۔

کتب احادیث میں موجود متعدد مثالوں میں سے میں نے آ پ کے سامنے دس مثالوں کو رکھا ہے،جن سے روزروشن کی طرح یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اہل کتاب (یہود ونصاری) کا اور ہمارا راستہ الگ الگ ہے،ان کی اور ہماری شناخت جدا جدا ہے،اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادات ہو یامعاشرت ہر جگہ ہمیں ان کی راہ و روش سے بچنے اوران کی امتیازی پہچان والے امور کی مشابہت سے دور رہنے کی تاکید فرمائی۔

کتنی سخت بات ہے ، کتنی بڑی وعید ہے اور کس قدر اظہارِ ناراضگی ہے، العیاذ باللہ! اگر کوئی مومن ومسلمان کفار یایہود ونصاریٰ کی مشابہت اختیار کرے گا، عبادات میں ہو یا معاشرت میں، عادات و اطوار میں ہو یا ظاہری ہیئت وانداز میں ہو،ان کے مخصوص اعمال اور رسوم ورواج کو اپنائے گا تواس کا شمار بھی انھیں میں ہوگا۔ ایک روایت میں ہے: جو غیروں کی مشابہت اختیار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

 ایک طرف یہ شرعی ہدایات ہیں، جن میں اغیا ر کی مشابہت اور مماثلت پر سخت زجر وتوبیخ اور ڈانٹ ڈپٹ کی گئی ہے،اور دوسری طرف ہمارے سامنے امت کا ایک بڑا طبقہ ہے جو بے باکی کے ساتھ اغیار کے طوروطریق کو فخریہ اپنا رہا ہے،اوراس پر نازاں بھی ہے۔

اللہ کے لیے ہم اپنا جائزہ لیں،اوراپنا محاسبہ کریں، اور ان قلم کاروں کے فتنے سے بھی بچیں جو ہمارے سامنے اللہ تعالی کے دشمنوں کی تعریفات کے پل باندھتے اوران کے رنگ میں رنگے جا نے کی ترغیب دیتے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor