Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

علمائِ حق اور آزمائشیں(۱) (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 521 - Mudassir Jamal Taunsavi - Ulama Haq aur Azmaish

علمائِ حق اور آزمائشیں(۱)

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 521)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو فتنوں سے بچا کر سعادت مند لوگوں میں شامل فرمادے۔ نبی کریمﷺ نے ایک بار تین مرتبہ تکرار کے ساتھ یہ جملہ ارشاد فرمایا:

ان السعید لمن جنت الفتن(الحدیث)

بلاشبہ بڑا ہی سعادت مند ہے وہ انسان جو فتنوں سے بچالیاجائے

کیوں کہ فتنہ آزمائش کانام ہے اور یہ آزمائش مختلف طریقوں سے ہوتی ہے ، محبوب چیزدے کر بھی آزمایا جاتا ہے اور مرغوب چیز دور کر کے بھی آزمایا جاتا ہے ، اور اس آزمائش میں ہر شخص پورا اتر جائے یہ مشکل ہوتا ہے کیوں کہ ہر انسان کی طبیعت ، مزاج اور برداشت کی حد الگ الگ ہوتی ہے ۔ اب نہیں معلوم کہ کون شخص اپنی دنیوی محبوب چیز کے ملنے پر اسی میں کھو جائے اورا س نعمت کے دینے والے رب تعالیٰ کو فراموش کر بیٹھے جس کانتیجہ یہ ہوا کہ وہ محبوب چیز ملنے کی آزمائش میں پورا نہیں اترا کیوں کہ اس نے اپنے رب کو بھلا دیا اوراس کے رضامندی والے کاموں کو پس پشت ڈال دیا ، اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ کسی شخص سے اس کی پسندیدہ چیز دور کردی جائے اوروہ اس پر صبر نہ کرپائے اوربے صبری میں اللہ تعالیٰ سے ناراض ہوکر اس سے روگردانی کر بیٹھے اورظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ بھی ہلاکت کے سوا کیا ہوسکتا ہے؟

اس لیے نبی کریمﷺ نے یہ فرمایا کہ وہ تو بڑا ہی سعادت مند انسان ہے جو فتنوں سے بچالیاجائے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان پر آزمائش آئے گی ہی نہیں، یا یہ کہ جس پر آزمائش آجائے تو وہ سعادت مندنہیں ہوگا، ایسا ہرگز نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو آزمائش مانگنی نہیں چاہئے ۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش آجائے چاہے بندوں کے ہی واسطے سے ہو مثلا کسی پر کوئی براحکمران مسلط کردیا گیا ، کسی کو ناحق جیل میں ڈال دیا گیا، کسی پر ناحق ظلم کیا گیا، کسی کی جان ومال میں کوئی زیادتی کی گئی وغیرہ تو اس پرصبر واستقامت کامظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھی جائے، یہ اسلام کی تعلیم ہے جس میں بندے کے لیے سراپا خیر ہی خیر ہے۔

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ استقامت کامعنیٰ فقط ’’ڈٹ جانا‘‘ نہیں ہے بلکہ اس کا معنیٰ ہے: ’’سیدھی راہ پر قائم رہنا‘‘ ۔ چنانچہ اگر کوئی باطل پرستی پر پکا ہوجائے توجیسا کہ دنیا میں کتنے ہی لوگ ہیں وہ نہ صرف باطل پرست ہوتے ہیں بلکہ باطل پرستی کے علم برداربھی ہوتے ہیں اور اس باطل کو عروج دلانے کے لیے اپنی جان تک خطرات میں ڈال دیتے ہیں لیکن ان کے اس طرزعمل کو استقامت نہیں کہاجائے گا اور نہ ہی یہ بات اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ پسندیدہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کے ہاں تو ’’سیدھی راہ پر قائم رہنا‘‘ مطلوب اور پسندیدہ ہے ۔ اسی پر ان کی تعریف کی گئی ہے اور اسی سیدھی راہ میں انہیں آزمائے جانے کی خبر بھی دی گئی ہے ۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: کیا لوگ خیال کرتے ہیں یہ کہنے سیکہ ہم ایمان لائے ہیں چھوڑ دیئے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی ؟ اور جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ہم نے انہیں بھی آزمایا تھا سو اللہ انہیں ضرور معلوم کرے گا جو سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں ۔ کیا وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے برا ہے جو فیصلہ کرتے ہیں ۔ جو شخص اللہ سے ملنے کی امید رکھتا ہو سو اللہ کا وعدہ آ رہا ہے اور وہ سننے والا جاننے والا ہے ۔ اور جو شخص کوشش کرتا ہے تو اپنے ہی بھلے کے لیے کرتا ہے بے شک اللہ سارے جہان سے بے نیاز ہے ۔ (سورۃ العنکوت)

اس آیت مبارکہ میں غور کیا جائے تو ہر اُس شخص کے لیے تسلی اور سکون کا پورا پورا سامان موجود ہے جو دین اسلام اور راہ حق میں آزمائشوں سے گھرا ہوا ہے، اور مظالم وحوادث نے اس کے سامنے دنیا کو گویا اندھیر بنادیا ہے۔ ذیل میں وہ نکات نمبروار واضح کرتا ہوں تاکہ اس آیت مبارکہ کا پیغام اچھی طرح ہمارے ذہنوں میں بیٹھ جائے:

۱: لوگ سمجھتے ہیں کہ ایمان لانے کے بعد مزے ہی مزے ہوں گے ، یہ درست نہیں (اگرچہ آخرت کے اعتبار سے درست ہومگر دنیا میں الگ معاملہ ہوتا ہے)

۲: ایمان لانے کے بعد اہل ایمان پر آزمائش ضرور آتی ہے

۳: یہ سخت آزمائشیں صرف اس امت محمدیہ پر ہی نہیں آئیں گے بلکہ ان سے پہلے کی تمام امتوں پر اوران کے تمام طبقات پر بھی آزمائشیں آچکی ہیں

۴: یہ آزمائشیں کھرے اور کھوٹے مدعیان ایمان کی تمیز کے لیے ہیں۔ تاکہ ظاہر ہوجائے کہ کون ایمان میں سچا ہے اور کون کھوٹا؟

۵: اہل ایمان ، برے لوگوں کی طرف سے آنے والی آزمائشوں پر مایوس نہ ہوں اور نہ ہی وہ برے لوگ بے فکر ہوں بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے قابو میں ہے ، صرف چند روزہ چھوٹ ہے اس کے بعد جب حساب کا وقت آئے گا تو انہیں اس پر بڑا پچھتانا پڑے گا مگر وہ پچھتاوا کچھ کام نہ آئے گا

۶: جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ایمان لایا اور اسی سے ملاقات کی تمنا میں اس کی راہ میں آزمائشیں جھیل رہا ہے وہ زیادہ پریشان نہ ہو کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی وعدۂ ملاقات بہت جلد اور یقینی طور پر آنے والا ہے۔ اس لیے مختصر سی زندگی میں مشکلات کے آگے سرنہ جھکائے بلکہ ایمان پر ثابت قدم رہے۔ اللہ تعالیٰ سب کی دعائیں اورباتیں سن بھی رہے ہیں اور سب کے کاموں کو جانتے بھی ہیں ۔

۷: جو شخص نیکی کی راہ میں کوششیں کررہا ہے وہ یہ بھی ذہن میں رکھے کہ وہ اپنے ہی نفع کے لیے یہ سب کچھ کررہاہے اور وہ نفع آخرت کی دائمی راحت ہے ورنہ اللہ تعالیٰ تو بالکل بے نیاز ہیں اسے کسی کے کسی نیک عمل کی کوئی حاجت اورضرورت نہیں۔ اس لیے نیکی کرتے وقت اور نیکی کی راہ میں مشکلات کے وقت ثابت قدم رہتے ہوئے یہ مت جتلاؤ کہ اللہ تعالیٰ پر کچھ احسان کررہے ہوبلکہ یہ سمجھو کہ اس نے احسان کیا اور مجھے اس رحمت کا مستحق بننے کے لیے تیار کیا۔ اسی کو ایک فارسی شاعر نے اپنے شعر میں بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: اپنے آقا پر احسان مت جتلاؤ کہ تم اس کی خدمت کرتے ہو بلکہ اس کا احسان مانو کہ اس نے تمہیں اپنی خدمت کے لیے منتخب کیا ہے!!

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor