Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

علماء حق اور آزمائشیں(۲) (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 522 - Mudassir Jamal Taunsavi - Ulama Haq aur Azmaish

علمائِ حق اور آزمائشیں(۲)

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 522)

انسانی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ اس دنیا میں سب سے زیادہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر آئیں تاکہ اصلی نیک بندوں میں اور مفادات کی خاطر نیک بننے والوں میں امتیاز ہوجائے اور اس لیے بھی کہ جو جس قدر مشکلات برداشت کر کے اللہ تعالیٰ کے اکرام والے مہمان خانے جنت میں پہنچے گا تو اسی قدر لطف و لذت بھی اسے زیادہ ملے گی۔

اسلامی تاریخ کے ہر دور میں علمائے حق کو مختلف آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب بھی علمائے حق کسی نہ کسی روپ میں آزمائش سے دوچار رہتے ہیں۔ یہ آزمائشیں بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتی ہیں کہ کائنات میں سب کچھ اس کے حکم اور مشیت سے ہی چل رہا ہے لیکن اسباب کے درجے میں بہر حال کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ہر دور میں علمائے حق مشکلات کا سامنے کرتے ہیں ۔ ان چیزوں میں سے چند اہم امور درج ذیل ہیں:

۱: علمائے دین ، علوم نبوت کے وارث اور اس کے نگہبان ہوتے ہیں۔ معاشرے میں نیکی کی ترویج اور برائی کے خاتمے اور روک تھام کے لیے امر بالمعروف اورنہی عن المنکر ضروری ہوتا ہے اور چونکہ معروفات اور منکرات کی درست پہچان علمائے کرام کو ہی ہوتی ہے تو وہ اسی علم کی روشنی میں معاشرے میں سیاسی، معاشی ، معاشرتی اور تعلیمی وتربیتی امور میں جو بڑائیاں جگہ بنا چکی ہوتی ہیں ان کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور ان کی جگہ اچھائیوں کو رائج کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس مرحلے میں برائی کی قوتیں اور ان کے سپورٹر پوری قوت سے ان علماء کے مدمقابل بن جاتے ہیں اور خاص کر اگر علمائے کرام سیاسی خرابیوں کی نشاندھی کریں اور ان کے ازالے کے لیے کوئی تدبیر کریں تو سیاسی قوتیں اپنی کرسی و اقتدار اور اس سے وابستہ عیش و عشرت کو خطرے میں سمجھ کر ان علماء کے درپئے ہوجاتی ہیں اور انہیں مختلف اذیتوں اور مشکلات میں مبتلا کرتی کے ان کی آواز دبانے اور ان کے پیغام کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

۲: ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ سیاسی قوتوں سے ناجائز مفادات اٹھانے والی قوتیں اپنی سیاسی اور بااختیارزعماء کے پاس علمائے کرام کے بارے میں جھوٹی باتیں پہنچاتے ہیں اور اسی طرح بعض لوگ علماء کی مخالفت میں ان پر جھوٹے الزامات گھڑ کر اوران کے موقف کو غلط رنگ دے کر پیش کرتے ہیں تاکہ حکمرانوں کی سیاسی قوت کے بل بوتے پر ان علماء کو کچلا جائے اور اس طرح ان مفاداتی ٹولوں کا راستہ صاف ہو جائے

۳: ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض علمائے کرام کو بے پناہ اور ظاہری حالات کی توقعات سے زیادہ شہرت و مقبولیت عطا فرماتے ہیں اور حاکم وقت اس کی شہرت و مقبولیت کو اپنی راہ میں رکاوٹ محسوس کرنے لگتا ہے اور اسی وقت وہ اس عالم کو اذیت پہنچانے اور اس کی شہرت ومقبولیت کو داغدار کرنے کی فکر میں لگ جاتا ہے اور پھر اس کے کارندے اس مشن کو پوراکرنے میں جت جاتے ہیں اور مختلف حیلوں بہانوں سے اور اپنے قانونی اختیارات کا ناجائزفائدہ اٹھا کر اس عالم کو اوراس کے متعلقین کو اذیت پہنچاتے ہیں تاکہ اس عالم کی شہرت سے ان کے حاکم کی کرسی کو کوئی خطرہ نہ رہے ۔

۴: بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی نیا حاکم کچھ ایسے سیاسی یا فکری نظریات کاحامل ہوتا ہے جو عمومی طور پر اس معاشرے اوروہاں کے اہل علم کے ہاں قابل قبول نہیں ہوتے لیکن وہ حاکم اپنے اختیارات کی طاقت سے چاہتا ہے کہ سب لوگ اس کے ان سیاسی اور فکری نظریات کے قائل ہوجائیں یا سب کے سب خاموش ہوجائیں اور کوئی بھی اس کے خلاف آواز بلند نہ کرے لیکن اس موقع پر بھی کچھ اہل عزیمت پوری علمی وفکری قوت کے ساتھ اس حاکم کے غلط سیاسی اور فکری نظریات کا مقابلہ کرنے پر کمربستہ ہوجاتے ہیں تو اس صورت میں بھی یہ علمائے کرام ان حاکموں اوران کے کارندوں کی طرف سے ستائے جاتے ہیں ۔

۵: ایک بڑا سبب یہ ہے کہ کافر قوتیں مسلمانوں کے کسی ایک یا متعدد شہروں اور ملکوں پر جارحیت کردیتی ہیں اور مسلمانوں کی سیاسی قوتیں اپنی بزدلی یاان کافروں سے مفادات کی وابستگی کی وجہ سے ان کی جارحیت کا نہ صرف یہ کہ کوئی مقابلہ نہیں کرتیں بلکہ کسی نہ کسی درجے میں الٹاان کے ساتھ تعاون کرتی ہیں اورظاہرسی بات ہے کہ یہ صریح بے غیرتی علمائے حق کے لیے قابل برداشت نہیں ہوتی تو وہ اس وقت کلمہ حق بلند کرتے ہیں ، ان مسلمان حکمرانوں کو بھی راہ رست پر آنے کی صدا لگاتے ہیں اور عام مسلمانوں کو بھی ان جارحیت زدہ مظلوم مسلمانوں کی ہر ممکنہ مدد ونصرت کے لیے تیار کرتے ہیں اور یہ باتیں اس وقت حکمرانوں کے لیے قابل برداشت نہیں ہوتیں تو وہ لامحالہ ان علمائے حق کو قتل کرنے یا پابند سلاسل کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ تاریخ میں ایسے کتنے ہی واقعات موجود ہیں کہ علمائے حق کو محض جارح دشمن کا مقابلہ کرنے اور اس کے لیے آمادہ کرنے پر قید و بند اور صعوبتوں میں مبتلا کیا گیا۔

عصر حاضر میں کون نہیں جانتا کہ شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید، امام المجاہدین حضرت مفتی نظام الدین شامزئی شہید اور خادم العلماء مفتی محمد جمیل خان شہید کو ایک ایسے وقت میں پئے درپئے کیوں شہید کیا گیا جب کہ امریکہ کی سربراہی میں عالمی کفریہ طاقتوں اور اس کے حواریوں کا اتحاد ایک مثالی اسلامی حکومت کے خاتمے کے لیے صلیبی جنگ شروع کیے ہوئے تھا تب ایسے میں ان علمائے حق کو راستے سے ہٹایا گیا کیوں کہ وہ اس صلیبی جنگ کے خلاف ایک بڑی رکاوٹ تھے …اللہ تعالیٰ ان علمائے ربانیین پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے جنہوں نے اس خوف بھرے ماحول میں جہاد کی بیعت کو زندہ کیا اور جہاد کی بنیادوں میں اپنا خون شامل کیا۔

۶: حکومتی مناصب اور عہدوں کو قبول نہ کرنا۔ علمائے حق کا یہ عمل بھی حاکمین وقت کی طرف سے ان کے لیے آزمائش اور تکالیف کا سبب بنتا ہے۔ کیوں کہ بسااوقات یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومتی منصب قبول کرنے میں اس عالم کے دین اور امت کاواضح نقصان ہے تو وہ اس وقت اس منصب کو قبول کرنے سے صاف انکار کردیتے ہیں جبکہ حاکم وقت یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اس طرح منصب دے کر اس عالم کو رام کر لیاجائے گا اور لوگوں کی اس کے ساتھ جذباتی وابستگی کو اپنے حق میں استعمال کرسکے گا مگر اس عالم کے انکار سے اسے وہ مفادات خطرے میں دکھائی دیتے ہیں یا پھر اسے وہ انکار اپنی حاکمانہ قوت کی سبکی اور شرمساری محسوس ہوتی ہے تب وہ ذاتی انتقام اور غصے کی آگ میں جل کر اس عالم کو ستاتا ہے اور تاریخ اسلام میں ایسے واقعات بھی بکثرت موجود ہیں۔

۷:ایک قوی سبب یہ بھی ہے کہ بسا اوقات عالم دین کو اپنے دشمنوں کی مکارانہ چالوں کا اندازہ نہیں ہوتا ، اور دشمن کسی بھی بہانے سے اس عالم کو ایسے طریقے سے بدنامی اور آزمائش میں ڈال دیتا ہے جس کی وجہ سے فقط وہ عالم متاثر نہیں ہوتا بلکہ اس کے پس پردہ بڑے اہم اور نازک دینی مسائل اور دینی معاملات کی بیخ کنی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس لیے عالم دین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دشمن کی چالوں سے ہوشیار اور بیدار ہو کر رہے۔ یہاں مثال میں یہ واقعہ پیش کرنا مفید ہوگا کہ جس وقت امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہرحفظہ اللہ تعالیٰ انڈیا کی جیل میں تھے تو ان سے ایک بار ہندوں نے تفتیش کے دوران بریلویوں اور اہل حدیث حضرات کے بارے میں بھی سوال کیا کیوںکہ وہ جانتے تھے کہ مولانا دیوبندی ہیں اور دیوبندیوں کے ان دونوں مسلمان مکاتب فکر سے واضح اختلافات ہیں، اور یوں اگر مولانا نے ان کے بارے میں کچھ بھی ایسی بات کہہ دی جو ان مکاتب والوں کے لیے ناگوار ہوگی تو اسے وہ ایک مضبوط ہتھیار کے طور پر مسلمانوں کے باہمی اختلافات کو ہوا دینے کے لیے بھی استعمال کریں گے اور اس بیان کے ذریعے خود مولانا کی کردار کشی بھی کی جاسکے گی مگر اللہ تعالیٰ نے مولانا کو جو فراست عطا فرمائی ہے وہ اس سازش کو بھانپ گئے اور انہیں ایسے جوابات دیئے کہ انہیں ایسی کسی بھی نفرت انگیز مہم کھڑی کرنے کا کچھ موقع ہی نہیں مل سکا۔

اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی درجے میں جو عالم دین مقتدا اور کسی ادارے یاجماعت کی سربراہی کے منصب پر فائز ہو، اسے چوکنا اور ہوشیار ہونا چاہئے اور دشمن کی چالوں پر مستقل نظر رکھنی چاہئے، ان کے ہتھکنڈوں کا احسن انداز سے توڑ کرنا چاہئے۔ عصرحاضر میں تو اس کی افادیت مزید بڑھ چکی ہے کیوں کہ اس دور میں پروپیگنڈے اور ہتھکنڈے کاوار سب سے زیادہ کیاجاتا ہے اس لیے اس بارے میں غفلت بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor