ابن جُزَیْ شہیدؒ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 523 - Mudassir Jamal Taunsavi - Ibn Juzi Shaheed

ابن جُزَیْ شہیدؒ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 523)

آج آپ حضرات کو اندلس کی سرزمین کے ایک مایہ ناز ، باکمال مجاہد اور شہید عالم دین سے متعارف کراتے ہیں۔ یہ وہ جلیل القدر عالم دین ہیں جو کم عمری میں غرناطہ جیسے شہر کی جامع مسجد کے خطیب بن کر ابھرے اور وقت کے تمام اکابر علماء و مشائخ نے ان کی جلالت علمی اور کمالات عملی کا اعتراف کیا۔

چونکہ آپ کا تعلق اندلس کے معروف شہر ’’غرناطہ‘‘ سے ہے تو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اولا اس شہر کا بھی مختصر سا تعارف کرادیا جائے۔غرناطہ جسے انگلش میں (Granada) ،کہتے ہیں ، ہسپانیہ (Spain) کے جنوب میں ایک تاریخی شہر کا نام ہے۔ اسکی وجہ شہرت یہاں مسلمانوں کے دور کا عظیم الشان ’’محل الحمرا‘‘ ہے۔ 1492 تک غرناطہ سپین میں آخری اسلامی ریاست کا مرکز تھا۔ عیسائی حکمرانوں کی وعدہ خلافی (جسے ہسپانوی احتساب کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے) نے1610 تک مسلمانوں کو اس علاقے میں بالکل ختم کر دیاتھا۔غرناطہ کے ساتھ ہی سپین کا سب سے اونچا پہاڑ ’’ملحسن‘‘ واقع ہے۔ جو سپین کے آخری سے پہلے مسلمان حکمران مولائے حسن کے نام پر ہے۔

علامہ ابن جزی شہید کا اسی شہر میں سنہ 693ہجری میں ایک علمی و دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نام’’محمد‘‘ اور کنیت ’’ابو القاسم‘‘ ہے۔ جُزَیْ آپ کے ایک پڑدادا کا نام ہے اور اسی کی طرف نسبت سے آپ کو ’’ابن جزی‘‘ کہاجاتا ہے اور یہی نام زیادہ معروف بھی ہے۔

 آپ عمر بھر دینی علوم کی تعلیم، تدریس، تصنیف اور تحقیق و مطالعہ میں مشغول رہے۔ فقہ میں حضرت امام مالک بن انس رحمہ اللہ تعالیٰ کے مسلک سے وابستہ تھے۔ نہایت نیک سیرت اور خوش اخلاق انسان تھے۔ بیان میں بڑی شیرینی اور اثر تھا، قرآن کریم کے متعلق تمام اہم علوم سے کامل مناسبت اور مہارت حاصل تھی، فقہ و حدیث میں بھی اونچا درجہ رکھتے تھے، علوم قراء ات اور ادب و عقائد پر مضبوط گرفت رکھتے تھے۔ آپ نے سرزمین اندلس کے متعدد کبار شیوخ علماء سے استفادہ کیا، جن میں چند اہم مشہور اساتذہ یہ ہیں:

استاذ ابو جعفر بن زبیرؒ، ان سے علوم عربیت، فقہ،  حدیث اور قرآن کریم کا علم حاصل کیا۔ شیخ ابوعبداللہ بن کمادؒ۔خطیب ابو عبداللہ بن رُشیدؒ، ان کی خدمت میں طویل عرصہ تک رہ کر استفادہ کرتے رہے۔قاضی ابو عبداللہ بن بُرطالؒ۔استاذ ابو القاسم بن عبداللہ بن شاطؒ

علاوہ ازیں خود موصوف بھی چونکہ عمر کا اکثر حصہ دینی علوم کی تعلیم و تدریس میں مصروف رہے تھے اس لیے آپ سے بھی علم حاصل کرنے والوں کی بھی بڑی تعداد ہے اور ان میں سے بعض وہ بھی جو آگے چل کر نامور علماء میں شامل ہوئے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین بیٹے دیئے تھے اور تینوں کو ہی آپ نے علم دین پڑھایا اور وہ بھی علوم دینیہ کے باکمال علماء بن کر خدمت دین میں مشغول رہے۔ بیٹوں کی تعلیم و تربیت کا اتنا اہتمام تھا کہ جب ایک بیٹے نے قرآن کریم حفظ مکمل کر لیا تو خاص اسی کی تعلیم کے لیے احادیث نبویہ کا ایک مجموعہ مرتب کیا تاکہ اپنے بیٹے کو وہ احادیث بھی حفظ کراسکیں ، اس کتاب کا نام ’’الانوار السنیۃ فی الکلمات السنیۃ‘‘ ہے جو علوم حدیث کی اہم کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پہلے مسلمان علماء کو اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت کی کس قدر فکر ہوتی تھی اور وہ اپنی نگرانی میں ان کی مکمل تعلیم کا نظام مرتب فرمایا کرتے تھے اور ضرورت محسوس ہوتی تو خاص اپنی اولاد کے لیے کتاب تک لکھ دیتے تھے تاکہ اسے اپنی نگرانی میں وہ کتاب پڑھا دی جائے ۔ بچوں کی تعلیم وتربیت کا یہ انداز بڑا مفید بھی ہے اور موثر بھی ۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس طرح وعظ و ارشاد میں میں بڑا کمال اور تاثیر عطاء کی تھی اسی طرح تالیف و تصنیف سے بھی آپ کو بڑی مناسبت اور تعلق تھاچنانچہ متعدد مفید ترین کتابیں آپ نے تحریر کیں جو آج بھی اپنے موضوع پر اہل علم کے ہاں مستند شمار ہوتی ہیں اور آج بھی علماء ان کی تالیفات دیکھ کر ان کے کمال علمی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ خود آپ کو کتابیں جمع کرنے کا بے حد شوق تھا حتی کہ ’’ملوکی الخزانۃ‘‘کہا جتا تھا یعنی آپ کتابیں جمع کرنے کے بادشاہ تھے۔

آپ کی چند اہم تالیفات کے نام درج ذیل ہیں:

التسہیل لعلوم التنزیل : یہ قرآن کریم کی عام فہم، مستند و قابل اعتماد، اور معارف علمیہ و نکات تحقیقیہ سے بھرپور کتاب ہے، اس کامقدمہ علوم قرآن میں ایک اہم ترین معلوماتی ذخیرہ شمار ہوتا ہے۔

الانوار السنیۃ فی الکلمات السنیۃ: یہ کتاب منتخب اور صحیح احادیث پر مشتمل ایک نادر خزانہ ہے، جسے بنیادی طور پر تو آپ نے اپنے بیٹے کو حفظ کرانے کے لیے مرتب فرمایا تھا مگر مفید عام ہونے کی بناء پر ہمیشہ اہل علم اس سے استفادہ کرتے آ رہے ہیں۔

النور المبین فی قواعد عقائد الدین: یہ کتاب دین اسلام کے بنیادی اور اساسی عقائد کے موضوع پر تحریر کی گئی ہے۔ اس کتاب کی تین خصوصیات ہیں:(۱) اس میںدین اسلام کے صرف بنیادی اور اساسی عقائد کو ذکر کیا گیا ہے اور اختلافی مباحث اس کتاب میں شامل نہیں کی گئیں۔ (۲)دین اسلام کے تمام بنیادی عقائد کو واضح اور آسان دلائل کے ساتھ بیان کیاگیا ہے تاکہ اس کتاب کو پڑھنے والا عقائد اسلام کے دلائل سے بھی واقف ہوجائے ۔ (۳) پھر تقریبا تمام دلائل قرآن کریم سے ہی پیش کئے گئے ہیں کیوں کہ یہی کتاب اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی حجت اور دلیل ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کی وہ رسی ہے جسے مضبوط تھامنے کا حکم ہے ۔

القوانین الفقہیۃ : اس کتاب میں امام مالک رحمہ اللہ کے مسلک کے موافق فقہ کے اصول اور فقہی مسائل کو بیان کیا گیا ہے اور ساتھ ہی اختصار کے ساتھ حنفیہ اور شافعیہ کے مسلک کو بھی بیان کیا ہے۔ اس کتاب میں جہاد کے مسائل اور احکام کو بھی بڑی عمدگی کے ساتھ بیان فرمایا ہے جس میں یہ بھی واضح فرمایا ہے کہ : جہاد تین صورتوں میں فرض عین ہوتا ہے: (۱) امام کی طرف سے کسی کو جہاد کا حکم مل جائے تو اس کے لیے جہاد میں نکلنا فرض ہوگا(۲) دشمنِ اسلام مسلمانوں کے کسی علاقہ پر حملہ آور ہوجائے تو اس کو دفع کرنے کے لیے اس علاقے والوں پر جہاد فرض عین ہوگا، اگر ان میں قدرت نہ ہوتوان کے ساتھ والوں پر اس جہاد میں تعاون کرنا فرض عین ہوگا اور اگر ان کے لیے بھی دشمن کو دفع کرنا آسان نہ ہوتو سب مسلمانوں پر ان مسلمانوں کا ساتھ دینا فرض عین ہوگا تاکہ دشمن کو وہاں سے دفع کیا جائے۔(۳) مسلمان قیدیوں کو کافروں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے بھی جہاد فرض عین ہے ۔ یہ ایک مسئلہ بطور نمونہ تحریر کر دیا ہے وگرنہ اس کتاب میں دیگر احکام بھی اچھے اور واضح انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔

ان تین کتابوں کے علاوہ بھی آپ نے دیگر متعدد اہم اور مفید کتابیں تالیف فرمائیں، جن میں سے کچھ تو فی الحال نایاب ہیں اور کچھ محققین اہل علم کی توجہ سے شائع ہو چکی ہیں اور مزید کی تلاش جاری ہے تاکہ اسلامی تاریخ کے ایسے باکمال عالم کے قلم سے جو علوم و معارف تحریر میں آئے ہیں وہ شائع ہوں تاکہ امت ان سے مستفید ہوسکے۔

آپ کو شعرگوئی میں بھی اچھا کمال حاصل تھا۔ آپ کے متعدد اشعار کتابوں میں محفوظ ہیں جس سے ان کے اعلی اخلاق کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور ساتھ میں محبت نبوی اور شوق شہادت بھی واضح دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ بدنظری سے حفاظت کے بارے میں فرماتے ہیں:

و کم من صفحۃ کالشمس تبدو

فیسلی حسنھا قلب الحزین

غضضت الطرف عن نظری الیھا

محافظۃ علی عرضی و دینی

کتنے ہی ایسے حسین چہرے ہیں جنہیں دیکھ کر غم کے مارے ہوئے تسلی حاصل کرتے ہیں مگر میں اپنی نظروں کو وہاں سے ہٹا لیتا ہوں تاکہ میری عزت اور میرا دین سلامت رہے۔

اسی طرح بعض اشعار میں اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں:

یا رب ان ذنوبی الیوم قد کثرت

فما اطیق لھا حصراو لا عددا

و لیس لی بعذاب النار من قبل

و لا اطیق لھا صبرا و لا جلدا

فانظر الہی الی ضعفی و مسکنتی

و لا تذیقننی حرا لجحیم غدا

اے میرے رب! اب تو میرے گناہ اتنے زیادہ ہوچکے ہیں کہ میں انہیں گننے اور شمار کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتا، اور مجھے جہنم کے عذاب کو برداشت کرنے کی بھی کچھ طاقت اور ہمت نہیں ہے۔ پس اے میرے معبود! میری کمزوری اور میری بے چارگی پر نظر فرما اور مجھے کل (مرنے کے بعد اور قیامت کے دن) جہنم کی گرمی اور آگ چکھنے سے بھی بچا لیجئے!

آپ کے زمانے میں عیسائی انگریزوں کی طرف سے اندلس کے خلاف سازشیں اور مسلمانوں کے خاتمے کی تدابیر زور پکڑے ہوئے تھیں۔ چنانچہ آپ کی زندگی میں طریف نامی شہر میں مسلمانوں اور انگریزوں کا ایک زبردست معرکہ ہوا۔ یہ طریف نامی شہر اندلس میں اس مسلمان سپہ سالار کے نام پر آباد کیا گیا تھا جس نے موسی بن نصیر کے حکم سے اسبانیا پر جہاد کیا تھا۔ یہ شہر بحرمحیط کے کنارے واقع ہے۔

چنانچہ آپ بھی اس جہاد میں نہایت جذبے اور شوق شہادت سے شریک ہوئے۔ اور جس دن شہید ہوئے اس دن شوق شہادت کے مضمون پر مشتمل کچھ ایمان افروز اشعار بھی کہے اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ میں نے ان اشعار میں اللہ تعالیٰ سے جو شہادت مانگی ہے وہ مجھے آج کے دن ہی مل جائے گی چنانچہ آپ اسی دن یعنی سات جمادی الاولی سنہ741ہجری میں انگریزوں سے جہاد کرتے ہوئے اور مسلمانوں کے حوصلے بڑھاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کی آپ پر بے شمار رحمتیں ہوں۔ آپ کے وہ اشعار درج ذیل ہیں:

قصدی المؤمل فی جہری و اسراری

ومطلبی من الہی الواحد الباری

شہادۃ فی سبیل اللہ خالصۃ

تمحوذنوبی و تنجینی من النار

ان المعاصی رجس لایطھرھا

الا الصوارم من اَیمان کفار

خالص اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہادت پانا میری زبانی اور قلبی چاہت ، آرزو اور اللہ تعالیٰ سے مطلوب چیز ہے ، ایسی شہادت جو میرے گناہوں کو مٹادے اور مجھے جہنم کی آگ سے نجات دلادے۔ کیوں کہ میرے گناہ ایسی ناپاکی ہیں جنہیں کافروں کی تیز دھار تلواروں کا وار ہی پاک کرسکتا ہے۔

٭…٭…٭