Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

پیغامِ محبت (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 524 - Mudassir Jamal Taunsavi - Paigham e Muhabbat

پیغامِ محبت

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 524)

ہمارے معاشرے میں یہ کتنا بڑا عذاب ہے کہ انسانوں سے ’’یقین‘‘ اٹھ چکا ہے، ہر انسان دوسرے کو ’’شک‘‘ کی نگاہ سے دیکھتا ہے، گھروں میں کتنی ہی لڑائیں محض ’’شک‘‘ کی وجہ سے ہوتی ہیں، ایک ہی محلے کے رہائشی لوگ اسی ’’شک‘‘ کی وجہ سے ایک دوسرے سے دور رہتے ہیں، سلام کرنے سے کتراتے ہیں، حال احوال پوچھتے ہوئے کانپتے ہیں، اسی ’’شک‘‘ کی وجہ سے دوران سفر ہر مسافر دوسرے سے کنی کترا کر بیٹھتا ہے۔

آخر یہ سب کیوں؟ ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے اس قدر بدظن کیوں ہوگیا؟ اس قدر خوف کا ماحول کیوں بن گیا؟ در اصل ہماری عقلوں پر سے سلامتی کا پردہ ہٹا لیاگیا ہے، اور ایسا کیوں نہ ہو؟ جب کہ ہم مسلمان اس سلامتی والی باہمی دعا کو ترک کرچکے ہیں جس کاہمیں حکم ہے کہ جب بھی دو مسلمان بھائی آپس میں لیں تو’’السلام علیکم‘‘ کہیں ، مگر ہماری حالت کیا ہے؟ یا تو سرے سے سلام کہتے ہی نہیں اور اگر سلام کرنے کی کچھ عادت ہے بھی تو محض جان پہچان والے لوگوں کو ، حالانکہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہ مسلمانوں کا معاشرہ ہے تو پھر ہر ملنے والے شخص کو سلام کہنے سے گریز کیوں؟

اس عذاب سے نکلنے کا راستہ یہی ہے کہ ہم دوسرے ہر مسلمان کے بارے میں اپنے دل کو صاف کر لیں، کسی کو بھی شک کی نگاہ سے نہ دیکھیں، ہر ملنے والے کو سلام کریں چاہے دن میں دس بار بھی ملاقات ہو تو سلام کہیں۔

اس طرح امید ہے کہ ہمارے معاشرے میں باہمی امن و امان کی فضا لوٹ آئے گی ۔ ورنہ آج ہمارا معاشرہ پوری طرح اس نبوی پیش گوئی کا مصداق بنا ہوا ہے جو مسند احمد میں موجود ہے۔ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :

رسول اللہ ﷺ ہمیں یہ بتایا کرتے تھے کہ قیامت سے پہلے ’’ہرج‘‘ ہوگا۔۔ پھر آپ سے پوچھا گیا : ’’ہرج‘‘ کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : جھوٹ اور قتل

صحابہ کرام نے پوچھا : ہمارے آج کے قتال سے بھی زیادہ قتال ہوگا ؟

آپ نے فرمایا : یہ جو تم کافروں سے قتال کرتے ہو۔میں اس قتال کی بات نہیں کر رہا۔ بلکہ ’’ہرج‘‘ تو وہ ہے قتال ہے جس میں تم مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو گے۔یہاں تک ہوگا کہ لوگ اپنے پڑوسی کو قتل کریں گے ، کوئی اپنے بھائی کو قتل کرے گا ، کوئی اپنے چچا کو قتل کرے گا اور کوئی اپنے بھتیجے کو مار ڈالے گا۔

یہ سن کر صحابہ کرام کہنے لگے : سبحان اللہ! کیا ہماری عقلیں سلامت ہوں گی ؟ ( یعنی کوئی عقل مند انسان بھلا ایسا کیوں کر سکتا ہے ؟ )

آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں(یعنی لوگوں کی عقلیں تو ہوں گی مگر سلامتی سے عاری ہوں گی)! اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں چھین لی جائیں گی اور لوگ سمجھیں گے کہ وہ بڑے عقل مند ہیں حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں ہوں گے۔(مسند احمد)

٭…٭…٭

نبی کریم ﷺ کی بارگاہ مقدس میں حاضر ہونا کس قدر سعادت مندی ہے ؟ یقینا اس کا کوئی اندازہ نہیں ہو سکتا۔۔ حضرات صحابہ کرام کو بلاشبہ نبی کریم ﷺکی صحبت کی بدولت وہ نعمتیں حاصل ہوئیں جو بعد والوں کے لیے ممکن نہیں۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بعد والوں کے لیے بھی بعض ایسی نعمتیں ہیں جو شاید آپ ﷺ کی حیات دنیاوی میں حاضری دینے والوں کو حاصل ہونا مشکل تھیں۔یہ اللہ تعالی کا کس قدر بڑا کرم ہے ، نبی کریم کو قبر مبارک میں خاص حیات عطا فرمائی اور امت کے درود و سلام کو آپ تک پہنچانے کی بشارت بھی سنائی۔ اب یہ کس قدر سعادت مندی ہے کہ انسان قبر مبارک کے پاس حاضر ہو کر بے شمار درود و سلام عرض خدمت کرتا رہے اور آپ کی تعریف مبارک میں جو کچھ کہنا چاہے وہ بے دریغ کہتا رہے حتی کہ اگر موقع ہو تو گھنٹوں بھی اس سعادت کو حاصل کر سکتا ہے۔ وگرنہ ہم جیسے گناہ گاروں کی حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ ناز میں لب کشائی کی ہمت ہی کہاں تھی۔۔

لیکن اب آپ وہاں حاضر ہوں اور دل کھول کر حضور اکرم ﷺ کی تعریف و توصیف میں جس فصاحت و بلاغت کے اعلی معیار کے ساتھ کچھ بھی عرض کر سکتے ہیں تو نہایت ادب و احترام کے ساتھ عرض کرتے رہیے اور اس تصور کے ساتھ لطف لیتے رہیے کہ میری یہ ناقص ترجمانی حضور اکرم ﷺ خود سماعت فرما رہے ہیں اور یہ کیا بڑی ہی خوش نصیبی ہے کہ انسان دنیا میں حضور ﷺ کے سامنے ان کی تعریف اور شہادت توحید و رسالت پیش کر جائے۔ کیوں کہ اس کے بعد بھلا اسے کیا غم ہو سکتا ہے ؟

اس موقع پر بے اختیار دل چاہتا ہے کہ اس قصیدے کا کچھ مفہوم عرض کردیاجائے جو خانوادہ نبوت کے گل سرسبد سید زین العابدین رحمہ اللہ تعالی کی طرف منسوب ہے جس کا مطلع کچھ یوں ہے :

اِنْ نِلْتِ یَا رِیحَ الصَّبَا یَومًا اِلی اَرْضِ الْحَرَم

بَلِّغْ سَلاَمِی رَوْضَۃً فِیْہَاا النَّبِیّ الْمُحْتَرَم

اے بادِ صبا، اگر تیرا گزر سرزمینِ حرم تک ہو،تو میرا سلام اس روضہ کو پہنچانا جس میں نبیِ محترم تشریف فرما ہیں

اب اس قصیدے کے باقی چند منتخب اشعار کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

وہ جن کا چہرۂ انور مہرِ نیمروز ہے اور جن کے رخسارتاباں ماہِ کامل کی مانند روشن ہیں۔جن کی ذات نورِ ہدایت، جن کی ہتھیلی سخاوت میں دریا

اُن کا (لایا ہوا) قرآن ہمارے لئے واضح دلیل ہے جس نے ماضی کے تمام دینوں کو منسوخ کر دیا۔جب اس کے احکام ہمارے پاس آئے تو (پچھلے) سارے صحیفے معدوم ہو گئے

ہمارے جگر زخمی ہیں فراقِ مصطفیٰ کی تلوار سے، اور خوش نصیبی تو اُس شہر کے لوگوں کی ہے جس میں نبیِ محتشم آرام فرما ہیں۔

کاش میں اس شخص کی طرح ہوتا جو نبی کی پیروی علم کی روشنی کے ساتھ کرتا ہے، دن اور رات ہمیشہ یہی صورت اپنے کرم سے عطا فرما

اے رحمتِ عالم آپ گناہ گاروں کے شفیع ہیں۔ ہمیں قیامت کے دن فضل و سخاوت اور کرم سے عزت بخش دیجئے گا۔

بعض اہل علم نے درود وسلام کے بارے میں ایک عجیب ہی بات کہی ہے، جسے دیکھنے کے بعد بلااختیار دل یہ چاہتا ہے کہ کم از کم اس عبادت میں کوئی سستی نہیں ہونی چاہئے جس کی قبولیت میں کوئی شک ہی نہیں ہے۔ چنانچہ شعر کی زبان میں اس حقیقت کو یوں بیان کیا گیا ہے:

اَدمِ الصلاۃَ علی النبیِّ محمدِ ** فقبولہا حتماً بغیرِ ترددِ

اعمالنا بین القبول ورَدِّہا** الاَّ الصلاۃَ علی النبیِّ محمدِ

نبی کریم محمد (ﷺ) پر ہمیشہ درود پڑھتے رہو کیوں کہ اس کی قبولیت یقینی ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ہمارے دیگر اعمال میں یہ ہو سکتا ہے کہ وہ قبول ہوں یا نہ ہوں لیکن نبی کریم محمدﷺ پر درود کا معاملہ ہی دوسرا ہے کہ وہ قبول ہی قبول ہے۔

آئیے ایک بار وہ درود پڑھ لیں جسے ہم ’’درودِ رحمت‘‘ کا نام دے سکتے ہیں۔ یہ درود حضرت شیخ محترم مولانا محمد مسعودازہرحفظہ اللہ تعالیٰ نے ’’شانِ رحمۃ للعالمینﷺ‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے مضمون میں تحریر فرمایا تھا جسے پڑھ کر بلامبالغہ ایک وجد کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اورزبان ودل اس کے ورد کے وقت کیف و سرور میں ڈوب جاتے ہیں۔

یَا اَللّٰہُ ، یَا رَحْمٰنُ ، یَا رَحِیْمُ ، یَا اَرْحَمَ الرّاحِمِیْن

صَلِّ عَلٰی مَنْ اَرْسَلْتَہُ رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِینْ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor