Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مال بڑھاؤ! (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی

Naqsh-e-Jamal 535 - Mudassir Jamal Taunsavi - aitedal pasand america 1

مال بڑھاؤ!

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 535)

مسلمانوں کو چاہئے کہ ’’سودی‘‘ لین دین سے خود کو دور رکھیں، حرام کمانے اور حرام میں خرچ کرنے سے اجتناب کریں، مال جمع کرنے کی بجائے مال خرچ کرنے کی عادت ڈالیں۔

یہ سودی اور بینکاری نظام اپنی بنیاد میں انسان کو مال کا حریص اورلالچی بناتا ہے، اس سسٹم سے وابستہ ہونے والوں میں ’’جمع‘‘ کرنے، ’’بچانے‘‘ اور دنیا بنانے کا ایسا جذبہ بن جاتا ہے کہ وہ انسان بے پناہ دولت کے باوجود ’’ہل من مزید‘‘ کی صدا لگائے رکھتا ہے۔

اس لیے اسلام اپنے ماننے والوں میں یہ مزاج بناتا ہے کہ مال زیادہ جمع کرنے کے بجائے زیادہ خرچ کرنے کی عادت ڈالی جائے، اس دنیا میں جو ملے اسے اِس دنیا میں بڑھانے کے بجائے آخرت کا سرمایہ بڑھانے میں لگایاجائے۔ اگر ایسا مزاج بن جائے تو بینکاری کے سسٹم کا رونا رونے کی بجائے ، انسان اپنے دل میں ایک فرحت اور مزاج میں ایک کشادگی و وسعت محسوس کرتا ہے۔ اس کا دل مال میں اٹکنے کے بجائے مال خرچ کرنے میں اٹکا رہتا ہے اور وہ ایک جگہ خرچ کرنے کے بعد دوسری خرچ کی جگہ سوچنے لگتا ہے۔

جس کا یہ مزاج بن جائے وہ بڑا ہی خوش نصیب ہے ۔ خوش نصیب لوگوں کا مال ہی اللہ تعالیٰ قبول فرماتے ہیں۔ پاک مال قبول فرماتے ہیں۔ پاک جذبے سے دیا گیا مال قبول فرماتے ہیں اور اگر وہ مال خاص کر جہاد اور مجاہدین کی اعانت میں خرچ کیاجائے تو یہ سونے پر سہاگا بن جاتا ہے۔ جہاد کا اپنا اجر اور فضیلت تو اپنا مقام الگ ہی رکھتے ہیں لیکن اگر جہاد میں جائے بغیر جہاد میں خرچ کیاجائے تو یہ بھی عام خرچ سے بہت افضل عمل ہے۔

حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص اﷲ(تعالیٰ) کے راستے میں مال بھجوادے اور خود گھر میں بیٹھا رہے تو ہر درہم پر سات سو درہم خرچ کرنے کا اجر ملتا ہے اور جو شخص خود اﷲ(تعالیٰ) کے راستے میں جہاد کے لئے نکل کر کچھ خرچ کرے، اسے ہر درہم پر سات لاکھ درہم خرچ کرنے کا اجر ملتا ہے ، پھر حضور اکرم ﷺ نے یہ آیت پڑھی : واﷲ یضاعف لمن یشآئ۔[اﷲ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے ] ۔(ابن ماجہ، بیہقی فی الشعب )(سورۃ البقرۃ)(پارہ نمبر (۳)

حضرت معاذ بن جبل ذسے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : [جنت کی] خوشخبری ہے اس شخص کے لئے، جس نے جہاد میں نکل کر اﷲ (تعالیٰ) کا زیادہ ذکر کیا، بیشک اسے ہر کلمہ کے بدلے ستر ہزار نیکیاں ملتی ہیں ان نیکیوں میں سے دس گنا بڑھائی جاتی ہیں ،اس زیادتی کے ساتھ جو اﷲ(تعالیٰ) اپنے فضل سے عطاء فرماتا ہے ۔ پوچھا گیا :اے اﷲ کے رسول! [جہاد میں] خرچ کرنے کاکیااجرہے ؟ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : خرچ کرنا بھی اسی قدر[یعنی ذکرکی طرح] بڑھتا ہے ۔ روای عبدالرحمنؒ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاذ  ذ سے عرض کیا اﷲ(تعالیٰ) کے راستے میں خرچ کرنے کا اجر سات سو گنا ہے [جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے ]۔ حضرت معاذ ذ نے فرمایا: تمہاری سمجھ بہت تھوڑی ہے،  سات سو گنا اجر تو تب ملتا ہے جب خرچ کرنے والا خود گھر میں بیٹھا رہے اور جہاد کے لئے نہ نکلے،  لیکن اگر کوئی جہاد میں نکل کر خرچ کرے تو اﷲ(تعالیٰ) نے اس کے لئے اپنی رحمت کے خزانے چھپا رکھے ہیںجن تک بندوں کا علم نہیں پہنچ سکتا اور ایسے لوگوں کی شان یہ ہے کہ وہ اﷲ(تعالیٰ) کی جماعت ہیں اور اﷲ(تعالیٰ)کی جماعت ہی غالب رہتی ہے ۔(الطبرانی، مجمع الزوائد، و فی اسنادہ راولم یسم)  

٭ حضرت ابو ہریرہ ذسے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے [کسی بھی چیزکا]جوڑ ا اﷲ(تعالیٰ) کے راستے میں خرچ کیاتو اسے جنت میں پکارا جائے گا کہ اے اﷲ کے بندے ! یہ خیروبھلائی ہے،تم آجاؤ اور جو شخص نماز والوں میں سے ہوگا، اسے نماز کے دروازے سے پکارا جائے گا اور جوجہاد والوں میں سے ہو گا،اسے باب الجہاد سے بلایا جائے گااور جو صدقے والا ہوگا، اسے صدقے کے دروازے سے پکارا جائے گا اور جو روزے والوں میں سے ہوگا ،اسے باب الریان سے بلایا جائے گا ۔ حضرت ابو بکر ذ نے عرض کیا :یا رسول اللہ !میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ان سب دروازوں سے پکارے جانے کی کیا ضرورت ہے  ؟ پس کوئی ایسا بھی ہوگا جس کو ان سب دروازوں سے بلایا جائے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں مجھے امید ہے کہ آپ ان میں سے ہوں گے ۔(بخاری ، مسلم ، مسند احمد )

٭ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اﷲ(تعالیٰ) کے راستے میں [کسی بھی چیز کا ] جوڑا خرچ کرے گا ،اسے جنت کا نگران فرشتہ پکارے گا: اے اﷲ کے فرمانبردار! یہ خیر و بھلائی ہے آو ٔاس کی طرف ۔ حضرت ابوبکر ذ نے یہ سن کر فرمایا:یہ شخص تو خسارے سے بچ گیا ۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:مجھے جتنا فائدہ ابو بکر کے مال نے پہنچایا ہے کسی مال نے کبھی نہیںپہنچایا ۔ یہ سن کر حضرت ابو بکر ذ رونے لگے اور کہنے لگے: مجھے تو اﷲ( تعالیٰ) نے آپ ہی کے ذریعے فائدہ پہنچایا ہے ۔ (مسند احمد )

حضرت عبداﷲ بن عباس ر سے روایت ہے کہ نجاشیس کے ساتھیوں میں سے چالیس افراد حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ کے ساتھ غزوہ احد میں شریک رہے، انہیں کچھ زخم بھی لگے، مگر ان میں سے کوئی شہید نہیںہوا ۔جب انہوں نے مسلمانوں کے زخم اور ضروریات دیکھیں ، تو کہنے لگے: اے اﷲ کے رسول! ہم مالدار لوگ ہیں، آپ ہمیں اجازت دیجئے تاکہ ہم اپنا مال لے آئیں اور (زخمی اور ضرورت مند) مسلمانوں کی مدد کریں ۔ حضور اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔ وہ اپنا مال لے آئے اور انہوں نے مسلمانوں کی مدد کی، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں :

  اَلَّذِیْنَ اتَیْنَھُمْ الْکِتٰبِ مِنْ قَبْلِہٖ ھُمْ   بِہ یُؤْمِنُوْنَ۔(جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی  تھی وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں)،(آگے فرمایا:) اُوْلئِکَ یُؤْتَوْنٗ اَجْرَہُمْ مَّرَّتَیْنَ بِمَاَ صَبَرُوْا۔  ( ان لوگوں کو دگنا بدلہ دیا جائے گا کیونکہ صبر کرتے رہے ہیں۔ )ارشاد فرمایا:اللہ( تعالیٰ) نے ان کے لیے دہرا اجر مقرر فرمایا۔ وَیَدْرَئُ وْنٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٖٗ بِالْحَسَنَۃِ السَّیَّئَۃَ وَمِمَّا  رَزَقْنٰہُمْ  یُنْفِقُوْنَ۔ (اور بھلائی کے ساتھ برائی کو دور کرتے ہیں اور جو (مال )ہم نے ان کو دیا ہے اس میںسے خرچ کرتے ہیں۔) ارشاد فرمایا : یہ وہ مال ہے جو انہوں نے مسلمانوں کی مدد کے لیے خرچ کیا۔مال خرچ کرنے سے وہی مال مرادہے جس کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں کی مدد کی تھی ۔ (ابن عساکر )

اسلم ابی بن عمران س فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ منورہ سے قسطنطنیہ پر حملے کے لئے روانہ ہوئے، ہمارے امیر لشکر حضرت عبدالرحمن بن خالد بن ولیدس تھے، [لڑائی کے وقت ]رومی لشکر اپنے شہر کی دیوار سے چپکا ہوا تھا ، مسلمانوں میں سے ایک مجاہد نے دشمنوں پر[ تنہا] حملہ کردیا، یہ دیکھ کر لوگ شور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ یہ شخص اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے، [حالانکہ قرآن مجید میں تو آیا ہے کہ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ   (پارہ نمبر(۲)(سورۃ بقرۃ(۱۹۵)[کہ اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو ]۔ حضرت ابو ایوب انصاری ذ نے فرمایا: یہ آیت تو ہم انصار کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی تھی، جب اﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی مدد فرمائی اور اسلام کو غالب فرمادیا تو ہم نے کہا کہ ہم [کچھ عرصہ ] اپنے مال اور کاروبار کی اصلاح کے لئے گھروں میں رک جاتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں بتادیا گیا کہ اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاک کرنایہ ہے کہ ہم جہاد چھوڑکر اپنے گھروںمیں بیٹھے رہیں اور اپنے اموال کی اصلاح کرتے رہیں ۔ ابو عمرانؒ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب انصاری ذ ہمیشہ جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ آپ قسطنطنیہ میں دفن ہوئے (ابو دائود ، ترمذی ، نسائی، ابن حبان ، حاکم )

اسلامی تعلیمات کا یہ انوکھا اور منفرد پہلو ہے کہ مال بڑھانا ہے تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت ڈالو۔ اس لیے اگر آپ نے مال بڑھانا ہے تو خرچ کرنے کی عادت ڈالیے، افضل اعمال میں خرچ کیجئے، اسی کے بقدر مال میں بڑھوتری اور برکت ہوگی۔ زندگی بھر کا معمول بنائیے۔ اگلی زندگی میں بھرپور کام آئے گا۔

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor