Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

شام سے روس کا اِنخلاء (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی

Naqsh-e-Jamal 536 - Mudassir Jamal Taunsavi - aitedal pasand america 1

شام سے روس کا اِنخلاء

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 536)

شام کی مبارک سرزمین اس وقت عالمی طاقتوں کی درندگی کا ویسے ہی شکار بنی ہوئی ہے جیساکہ کچھ عرصہ قبل افغانستان کی سرزمین تھی بلکہ شام کے مسلمانوںپر تو آزمائش زیادہ سخت ہے کہ وہاں روس اور امریکہ بظاہر ایک دوسرے کے مخالف نظرآنے کے باوجود اندرون خانہ گٹھ جوڑ کیے ہوئے ہیں اور دونوں ہی ملکوں کے استبدادی اقدامات سے وہاں کے سنی مسلمانوں کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جارہی تھی جو اس جنگ کا سب سے خطرناک پہلو تھا ۔

دونوں ملک بظاہر اس قضیے کو حل کرانے کے لیے میدان میں اترنے کا اعلان کیے ہوئے ہیں لیکن درحقیقت دونوں ہی اپنے اپنے مفادات کے حصول اور بشار الاسد کی ڈکٹیٹر شپ کی تحفظ فراہم کررہے ہیں۔

ان حالات میں یہ نئی خبر بہرحال ایک اچھا پہلو لے کر سامنے آئی ہے کہ روسی افواج کا ایک حصہ شام سے واپس جارہاہے۔ چنانچہ ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق’’روس کے صدر ولادی میر پوتن نے اپنی فوج کے ’مرکزی حصے‘ کو شام سے انخلا کا حکم دیا ہے اور اسے ایک غیرمتوقع اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔انخلا کا یہ عمل منگل(۱۵مارچ) سے شروع ہوگا اور روسی صدر کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے شام میں اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں۔امریکی حکام نے روس کے اس اعلان کا محتاط انداز میں خیرمقدم کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ روس کی جانب سے اس فیصلے کے بارے میں امریکہ کو قبل از وقت مطلع نہیں کیا گیا تھا۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا ہے کہ’ہمیں دیکھنا ہوگا کہ روس کے اصل ارادے کیا ہیں۔‘امریکی صدر براک اوباما نے اس سلسلے میں روسی صدر سے فون پر بات بھی کی ہے تاہم امریکی یا روسی حکام کی جانب سے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔روسی صدر کی جانب سے شام سے افواج کے انخلا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت جنیوا میں شام میں جاری پانچ سالہ خانہ جنگی کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔

روس شام کے صدر بشار الاسد کا اہم اتحادی ہے اور شامی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے سے متفق ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجوں کا انخلا ’زمینی صورتحال سے مطابقت رکھتا ہے۔‘ستمبر 2015 میں روس کی شام کی خانہ جنگی میں مداخلت سے اس جنگ میں شامی حکومت کا پلڑا بھاری ہوگیا تھا اور اس کے بعد حکومتی افواج نے باغیوں کے قبضے سے کئی علاقے چھڑوائے تھے۔کریملین میں ایک اجلاس کے دوران روسی صدر پوتن کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں وزارت دفاع اور مسلح افواج کو جو مشن سونپا گیا تھا وہ مکمل کر لیا گیا ہے۔‘’چنانچہ میں وزارت دفاع کو حکم دیتا ہوں کہ وہ کل سے فوج کے مرکزی حصے کو عرب جمہوریہ شام سے واپس بلانا شروع کر دیں۔‘تاہم ان کا کہنا تھا کہ شامی صوبے لاذقیہ میں روس کے ہمیمم ایئربیس اور بحیرۂ روم میں طرطوس میں اس کا بحری اڈے پر سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں اثاثوں کی ’زمین، فضا اور سمندر‘ سے تحفظ کیا جائے۔روس شام میں اپنی فوجی کارروائیوں کے بارے میں دعویٰ کرتا رہا ہے کہ وہ صرف دہشت گرد تنظیموں کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ مغربی طاقتیں یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ روس بشارالاسد کے مخالفین کو نشانہ بنا رہا ہے۔شام کی حزبِ اختلاف نے روس کے اس اعلان کا محتاط انداز میں خیرمقدم کا ہے۔ حزبِ مخالف کی جماعتوں کے گروپ کے ترجمان سلیم المصلات نے کہا ہے کہ ’اگر انخلا کے اعلان پر عمل درآمد میں سنجیدگی پائی جاتی ہے تو یہ مذاکرات کے لیے مثبت ہوگا۔‘ روس شام میں اپنی فوجی کارروائیوں کے بارے میں دعویٰ کرتا رہا ہے کہ وہ صرف دہشت گرد تنظیموں کو نشانہ بنا رہا ہے ۔سفارتی امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ روس شام میں فوجی مداخلت کے ذریعے صدر بشار الاسد کی پوزیشن مضبوط کرنا، سٹریٹیجک اہمیت کے علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا اور یہ یقینی بنانا چاہتا تھا کہ شام کے مستقبل میں بشار الاسد کا کردار ہو اور اس نے یہ سب اہداف حاصل کر لیے ہیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے ایلچی برائے شام سٹیفن ڈی میستورا نے حالیہ امن مذاکرات کو ’سچ کا لمحہ‘ قرار دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوجاتے ہیں تو کوئی ’پلان بی‘ نہیں ہے اور جنگ کی جانب واپس لوٹنا ہی اس کا متبادل ہوگا۔‘‘

اس سے پہلے امریکی اور مغربی حکومتیں روسی مداخلت کو اپنے مفادات کے لیے تو خطرناک قرار دے چکے ہیں لیکن وہاں کے مسلمانوں پر آنے والی سخت آزمائش سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوا۔

چنانچہ اگر انہوں نے کچھ بیانات دیئے بھی تھے تو بالکل بے ضرر سے بیانات تھے اور دونوں کے لب ولہجے میں اس کا اظہارتھا کہ گویا ملک شام کی سرزمین ان دونوں عالمی طاقتوں کی چراگاہ ہے اور جب وہ چاہیں وہاں شکار کے لیے آسکتے ہیں۔ چنانچہ کچھ عرصہ قبل یورپی حکومتوں کی طرف سے یہ بیانات دیئے گئے تھے کہ ’’مغرب کی نظر میں ولادی میر پوتن نے شام کے جھگڑے میں الجھ کر اپنے آپ کو ایک سفارتی مصیبت میں مبتلا کر لیا ہے۔ولادی میر پوتن کی مشرقی یوکرین میں فوجی کارروائی نیسرد جنگ کے خاتمے کے بعد کی صورت حال کو تبدیل کر دیا ہے۔ روسی فوجوں کی نیٹو ممالک کی سرحدوں کے قریب روز بروز جارحانہ مشقوں نے یورپ کی اس سوچ پر شکوک بڑھا دیے ہیں کہ اب یورپ اور روس کے مابین تصادم کیامکانات ختم ہو چکے ہیں۔نیٹو ممالک بھی باامرِمجبوری اپنی دفاعی اخراجات کو آہستہ آہستہ بڑھا رہے ہیں اور امریکہ بھی یورپ میں اپنی اگلی فوجی پوزیشنوں کو مضبوط کر رہا ہے۔دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ یہ نیٹو ممالک کا رویہ ہی ہے جو اسے پھر سے فوجی تیاریوں پر مجبور کر رہا ہے۔ یہی روسی حکومت ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے اپنے ایجنٹوں کو لندن میں اپنے ایک مخالف کو زہر دینے کے لیے بھیجا جواپنے پیچھے تابکار زہر کے شواہد چھوڑ گئے۔‘‘

روس کی طرف سے شام میں مداخلت کا بنیادی مقصد بشار الاسد اوراس کی حکومت کو تحفظ فراہم کرنا تھا لیکن وہاں کے مسلمانوں کی مزاحمت اس قدر شدید تھی کہ بشار الاسد کے لیے وہاں رہنا کافی مشکل دکھائی دے رہا تھا ایسے میں اسے تحفظ دینے کے لیے یہ روسی اور امریکہ مداخلت بڑھی اور ساتھ ہی روس کی طرف سے یہ اعلان کردیا گیا کہ اگر بشارالاسد کو پناہ فراہم کرنی پڑی تو ہم اسے اپنے ملک میں پناہ بھی دیدیں گے۔ چنانچہ ’’روسی صدر ولادمیر پوتن نے کہاتھا کہ وہ اپنے دیرینہ اتحادی بشار الاسد کو سیاسی پناہ دینے کا امکان رد نہیں کر رہے ہیں۔جرمنی کے اخبار بلڈ کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، جس میں نیا آئین بھی شامل ہے۔انھوں نے کہا کہ ’اگر اگلے انتخابات جمہوری ہوں گے تو مسٹر اسد کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں، چاہے وہ صدر منتخب ہوتے ہیں یا نہیں۔‘لیکن اگر وہ ہار جاتے ہیں تو پوتن انھیں سیاسی پناہ دے سکتے ہیں۔امریکہ کے ایڈورڈ سنوڈن کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم نے سنوڈن کو سیاسی پناہ دی۔ وہ اسد کو پناہ دینے سے زیادہ مشکل تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ شام میں مقصد آئینی اصلاحات لانا ہے۔ ’یہ ایک پیچیدہ عمل ہے۔‘’اس کے بعد جلد نئے آئین کے تحت صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہونے چاہیں۔ اس کا فیصلہ شامی عوام کو ہی کرنا ہے کہ ان کا ملک کون اور کیسے چلائے۔’استحکام اور سکیورٹی اور اقتصادی ترقی اور خوشحالی لانے کا صرف یہی واحد طریقہ ہے، تاکہ لوگ یورپ بھاگنے کی بجائے اپنے گھروں، اور اپنے ملک میں رہ سکیں۔‘صدر پوتن نے ستمبر میں صدر اسد کی فوج کی حمایت کے لیے جنگ زدہ ملک میں بمباری کی مہم شروع کی تھی، اور اب وہاں سے انخلاء شروع کرچکا ہے۔

یہ انخلاء کا اقدام مسلمانوں کے لیے نہایت مسرت کا مقام ہے، اور امید ہے کہ وہاں کے مسلمانوں کی قربانیاں اوران کی پرزور مزاحمت مزید طاقت ورہوگی اور دیگر جارح طاقتیں بھی آہستہ آہستہ مکمل ناکامی کا منہ دیکھتے ہوئے انخلاء پر مجبور ہوں گی۔

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor