Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

روئیدادتقریری مقابلہ و طلبہ اجتماع (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی

Naqsh-e-Jamal 537 - Mudassir Jamal Taunsavi - aitedal pasand america 1

روئیدادتقریری مقابلہ و طلبہ اجتماع

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 537)

الحمد للہ ! کہ مرکز عثمان وعلی میں ایک بار پھر طلبہ دین کا عظیم الشان اجتماع ہوا اور غزوہ بدر کے عنوان سے دعو ت جہاد کی ولولہ انگیز صدائیں بلند ہوئیں۔ جی ہاں!۱۷مارچ بروز جمعرات مرکز عثمان و علی بہاولپور میں آل پاکستان طلبۂ مدارس کے مابین تقریری مقابلہ منعقد ہوا جس کا موضوع ’’غزوہ بدر معارف واسباق‘‘ متعین تھا۔ اس حتمی تقریب سے پہلے تقریباً تین چار ماہ قبل سے ہی ملک میں ڈویژنل سطح ’’غزوہ احد ،معارف واسباق‘‘  کے عنوان سے تقریبات منعقد ہوئیں اور انہی مقابلوں میں پوزیشن لینے والے طلبہ حتمی مقابلے میں شریک ہوئے۔ یہ سلسلہ گزشتہ چند سالوں سے بحسن وخوبی جاری ہے اور طلبہ کا اس کی طرف رجحان قابل تحسین ہے۔

لیکن اس سال کے حتمی تقریری مقابلے کے ساتھ المرابطون کے زیر اہتمام ملک بھر کے طلبہ کے لیے ’’طلبہ اجتماع‘‘ کے نام سے بھی ایک تقریب کااہتمام کیا گیا تھا جو اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام تھا۔ اس اجتماع کے مقاصد میںیہ بات شامل تھی کہ وہ اس مرکز میں آکر اپنے منصب کو سمجھیں اور اس منصب کا ایک خاص پہلو کہ طالب علم کو صرف طالب علم نہیں بلکہ ایک اچھا سچا، پکا اور مخلص مجاھد، سپہ سالار اور کمانڈر بھی ہونا چاہیے، حاصل کریں۔

تقریب کے شرکاء میں دور کے علاقے مثلا کراچی، بالاکوٹ وغیرہ سے آنے والے قافلوںنے ۱۶مارچ کو ہی بہاولپور کا سفر شروع کردیا تھا اور ادھر خود مرکز شریف میں میزبان طلباء اور اساتذہ کی چہل پہل شروع ہوچکی تھی۔ ۱۷مارچ کی صبح تک جو مہمان تشریف لاچکے تھے ان کو بوقت صبح نا شتہ کرایا گیا۔ ناشتہ کے بعد کچھ نے پروگرام کی تیاری شروع کردی۔ مقررین خطباء اپنی تقاریر میں بہتری پیدا کرنے میں مصروف ہوگئے اور دیگر مہمانان گرامی محو استراحت ہوگئے۔

مرکز شریف میں رونق بڑھتی ہی جارہی تھی ہر طرف سے آنے والے مہمانوں کا خیر مقدم کیا جارہا تھا، انکا ہر لحاظ سے خیال رکھنے کی کوشش کی رہی تھی۔ ادھر مرکز شریف کے درو دیوار کو اشتہارات اور بینر سے سجایا جا رہا تھا۔ سب سے پہلے مین گیٹ پر جو جملہ مہمانوں کی توجہ کا مرکز بنتا وہ یہ تھا۔

’’ہم آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں‘‘

اس کے علاوہ المرابطون کا خاص رسالہ جو ابھی زیر اشاعت ہے اس کاخوبصورت بینر بھی مہمانوں کے لیے باعث توجہ بناہوا تھا۔ مرکز کی ایک دیوار پر یوں دعوتی پیغام درج تھا:’’ آؤ طلباء بھائیوں جیش محمد کے پر چم تلے کفر کے ایوانوں کو ڈھانے چلیں‘‘۔اس کے علاوہ دیگر اشعار و اقوال سے مزین یہ چاردیواری ہر فرد کی نظروں کو اپنی طرف کھینچ رہی تھیں۔ تقریری مقابلے کے لیے نماز مغرب کے بعد خطباء میں رولنمبرز تقسیم کئے گئے اور ساتھ ساتھ دیگر مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا ۔بعد از عشاء سب سے پہلے حسب معمول درس قرآن دیا گیا ۔ مدرس حضرت اقدس استاذ محترم مولانا قاری صادق صاحب مدظلہ تھے انکے درس کے بعد اسٹیج سیکٹری صاحب نے باقاعدہ طور پر مقابلے کا آغازکرتے ہوئے کلام پاک کے لیے قاری محمد فیاض صاحب کو دعوت دی۔

تلاوت کے بعد حضرت مفتی محمد اکرم صاحب نے اسٹیج سیکٹری کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے تقریب کا آغاز کیا۔ حمد باری تعالی، نعت رسول مقبولﷺ اور نظموں کے بعد تقریری مقابلے کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

اس تقریری مقابلے میں منصفین درج ذیل تھے:

٭ حضرت مفتی مظہر اسعدی صاحب (مدیر اسعد بن زرارہ، بہاولپور)

٭حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب (استاذ الحدیث جامعہ قادریہ ملتان)

٭ حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب (ناظم اعلیٰ باب العلوم کہروڑ پکا )

 

تقریری مقابلے کے دوران لاہور سے آئے ہوئے بھائی عثمان صاحب جو پنجاب یونیورسٹی لاہور میں زیر تعلیم ہیں انہوںنے اعزازی بیان کیااور انہی کے ساتھ جامعہ الصابر کے ایک طالب علم نے عربی زبان میں اپنی خطابت کے جوہر دکھائے۔

تقریبا ۳۷ کل خطباء کی تقریروں کے بعد آخر میں مہمان خصوصی امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کے برادر صغیر مولانا محمد عمار صاحب نے مفصل، ولولہ انگیز، موثر علمی، اور فکری بیان فرمایا جس میں جہاد کی اہمیت، جہادکی ابدیت ، غزوہ بدر کا دل افروز تذکرہ ، شہدائے اسلام کی مثالی قربانیوں اور امت مسلمہ کے جسد واحد میں زہر قاتل بن کر رہنے والے طبقہ منافقین کے خوب پردے چاک کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غزوہ بدر کل بھی مسلمانوں کے لیے حجت تھا ، آج بھی حجت ہے اور قیامت تک لیے حجت رہے گا۔ کل بھی غزوہ بدر میں ابوجہل مارا گیا تھا اور آج کے ابو جہل بھی جہاد کے سامنے خاک چاٹ رہے ہیں۔ کل بھی ابوجہل جہاد اورمجاہدین کے روکنے کے لیے تمام تر کوششوں کے باوجود ناکام ہوااور آج کے جہاد دشمن بھی ناکام ونامراد ہو رہے ہیں اور پوری دنیا ان کی ذلت اور رسوائی کا تماشا کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔

اس کے بعدمفتی محمد مظہر اسعدی صاحب نے تقریری مقابلے کے نتائج کا اعلان کیا۔ جس کے مطابق پوزیشن لینے والے طلبہ درج ذیل ہیں :

اول انعام : عطاء اللہ ( مرکز الجمیل الاسلامی اسلام آباد)

دوسرا انعام: محمد حذیفہ ( جامعہ الصابر بہاولپور)

سوم انعام : عمر فاروق ( تعلیم القرآن جابہ بالاکوٹ)

سوم انعام : ولی حسن ( جامعۃ الصابر بہاولپور)

اول انعام تقریباً گیارہ ہزار پر مشتمل تھا۔ دوسرا انعام ۷ ہزار اور تیسرا انعام پانچ ہزار پر مشتمل تھا۔ اس کے علاوہ ہر خطیب کو اعزازی انعام دیا گیا جو تین ہزار کی مالیت پر مشتمل تھا۔ اعزازی انعام میں سے ایک عدد کلاک ( گھڑی) اسی مقابلے کے لئے خاص بنوائی گئی تھی اور ’’منتخب جواہر ‘‘ کتاب دی گئی تھی۔

اسی اعلان کے بعد حضرت اقدس مولنا حبیب الرحمن صاحب نے اختتامی دعا فرمائی اور یہ نشست اختتام پذیر ہوئی، نشست کے آخر میں یہ اعلان کیا گیا کہ فجر کی نماز کا اہتمام کیا جائے۔اس کے ساتھ ہی تقریری مقابلے اور طلبہ اجتماع کی پہلی نشست اختتام پذیر ہوگئی ۔

دوسری نشست کا آغاز صبح نو بجے ہوا جس میں اسٹیج سیکریڑی مولانا عامر صاحب تھے۔تلاوت قرآن پاک کے لئے عبد اللہ بھائی کو دعوت دی گئی اس کے بعد نعت شریف پیش کی گئی۔ بعد ازاں شعبہ المرابطون کے صوبائی منتظمین کے بیانات ہوئے جن میں مولانا عامر صاحب، مولانا جمال الدین صاحب اور مولانا کلیم اللہ صاحب شامل تھے۔ جنہوں نے اپنے اپنے انداز میں نظریہ جہاد کی طرف طلباء کو بلایا اور سمجھایا۔

 ان کے بعدغازی ہند مولانا الیاس قاسمی صاحب نے غزوہ بدر کے اسباق اور جیل میں پیش آنے والے اپنے بعض سبق آموز واقعات سے مجلس کو تر وتازہ کیا۔

اسی کے ساتھ ساتھ ترانے اور جہادی نظمیں بھی چلتی رہیں۔نظمیں پڑھنے والوں میں قاری رفیع صاحب، بھائی عدنان صاحب وغیرہ موجود تھے۔ پھر حضرت اقدس مفتی منصور صاحب کا بیان ہوا جنہوں نے غزوہ بدر کی روشنی میں طلباء کو جہاد سکھایا، سمجھایا اور اس کی طرف بلایا۔

اب پروگرام اختتامی مراحل پر پہنچ چکا تھا۔ انعامات کی تقسیم ہوئی اور اس کے بعد چونکہ نماز جمعہ کا وقت بھی قریب ہوا جاتا تھا لہذا لوگوں کو نماز کی تیاری کا وقت دیا گیا۔ تیاری کر کے تمام حضرات صفوں کی ترتیب میں بیٹھ گئے اور آخری بیان کا انتظار ہونے لگا۔ اسی دوران ایک صاحب نے نعت اور نظم پیش کی۔ نظم کا ایک فقرہ کچھ یوں تھا:

اللہ کے رستے میں جو جان لٹاتے ہیں

وہ مرتے نہیں ، مرکر زندہ ہو جاتے ہیں

اس کے بعد طلباء اجتماع اور تقریری مقابلے کا آخری بیان حضرت اقدس مولنا طلحہ السیف صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے شروع فرمایا اور ورثۃ الانبیاء کے سامنے ورثۃ الابیاء کی تصویر کشی فرمائی، ورثۃ الانبیاء کا معنی، منصب اور مقام بیان فرمایا، ورثۃ الانبیاء کے سامنے خود جہاد اور قربانی کا جذبہ بھر دیا، ہمت، خود اعتمادی ، سینہ سپر ہو کر کھڑے ہونا، بہادر بن کر زندگی گزارنا اور اپنے نبی اور اسلاف کا نقشہ اپنے سامنے رکھ کر زندگی گزار نا ہمارے منشور ہونا چاہئے تبھی علمائے کرام اور طلبہ عظام ورثۃ الانبیاء کے عظیم منصب کے حقدار ہوسکتے ہیں۔

الغرض ایک ایسا بیان تھا جس نے دلوں میں ہمت، عزائم میں ولولے اور نظریات میں پختگی بھر دی اور دنیا کے ظالم و جابروں کی بے وقعتی اور بے حمیتی طشت از بام کردی۔

اس بیان کے بعد نماز جمعہ اداء کی گئی اور اسی کے ساتھ یہ تقریری مقابلہ اور طلبہ اجتماع کی تقریب اختتام پذیر ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ شعبہ المرابطون اور جماعت کی تمام محنتوں کو قبول فرمائے ۔آمین

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor