Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سیدنا صدیق اکبرؓ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی

Naqsh-e-Jamal 539 - Mudassir Jamal Taunsavi - aitedal pasand america 1

سیدنا صدیق اکبرؓ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 539)

آج سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی محبت وعقیدت سے اپنے وقت کو قیمتی بناتے ہیں۔ ایسی مبارک ہستی کہ جن کے تذکرے پر رحمت نازل ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت نصیب فرمادے اس سے بڑھ کر کیا چاہئے؟

نبی کریمﷺ نے فرمادیا ہے:

آدمی کا حشر انہی کے ساتھ ہوگا جن کے ساتھ اسے محبت ہوگی(الحدیث)

پھر یہ شخصیت تو وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے بھی محبت فرمائی ہے، خاتم النبیین محمد مصطفی سرورکونینﷺ نے بھی محبت فرمائی ہے، پھر اب کسی اور کو کیا دیکھنا؟ اگرچہ ان سے محبت کرنے والوں کی بہت لمبی لائن ہے اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان لوگوں کی محبت اور نسبت عطاء فرمائی ہے جن سے وہ خود محبت فرماتے ہیں بلکہ ان سے محبت رکھنے کا حکم دیتے ہیں۔

امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے منقول ہے کہ :

’’اہل سنت کی علامات میں سے ایک بڑی علامت یہ ہے کہ : وہ ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالی عنہما کی اَفضلیت کے قائل ہیں، عثمان وعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں سے محبت وعقیدت رکھتے ہیں اور موزوں پر مسح کرنا درست سمجھتے ہیں‘‘

اس با ت پر تمام اہل سنت والجماعت کے اتفاق ہے اورسب نے ہر دور میں اس کی وضاحت و اشاعت کی ہے کیوں کہ اسلام کی تعلیمات اور تاریخ کی درستی اس سے جڑی ہوئی ہے اور مسلمانوں کے عقائد ونظریات میں اس کا بہت بڑا عمل دخل ہے۔

چوتھی صدی ہجری کے نامور اورباکمال عالم دین،امام باقلانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے عقائد پر لکھی کتاب ’’الانصاف فیما یجب اعتقادہ و لایجوز الجہل بہ‘‘ میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے مقام ومرتبے کے بارے میں جو کچھ اشارات کی شکل میں تحریر کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ امام باقلانی کا نام محمد بن طیب ہے، منصب قضاء پر بھی فائز رہے ، فقہ میں مالکی مسلک سے منسلک تھے۔ ۳۳۸ہجری میں پیدا ہوئے اور سنہ۴۰۳ہجری میں وفات پائی۔ مصر میں قائم فاطمی حکومت کے خاتمے میں آپ کی تحریرات کا بہت بڑا اثر تھا۔ اپنے دور میں مسلمانوں کے بہت بڑے ترجمان اور مناظر تھے۔ ایک بار روم کے بادشاہ نے مسلمانوں کے بادشاہ کے پاس پیغام بھیجا کہ اپنے کسی سب سے بڑے عالم کو بھیجو جو ہمارے اصحاب علم کے ساتھ مناظرہ کرسکے۔ چنانچہ بادشاہ وقت نے آپ کو رومیوں کے پاس ان سے مناظرہ کرنے بھیج دیا۔ اس مناظرے کی تفصیلات تو کتابوں میں بہت کچھ موجود ہیں۔ فی الوقت ایک بات کا تذکرہ فائدے سے خالی نہ ہوگا۔ م

روم کے بادشاہ نے ان پر اعتراضات کرتے ہوئے سیدہ عائشہ ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا پر منافقین کی طرف سے لگائی جانے والی تہمت کا تذکرہ کیا جس سے ان کی طرف برائی کا اشارہ کرنا تھا۔ امام باقلانی نے فرمایا: دیکھو! دو عورتیں ہیں ، ہمارے نبی کی بیوی سیدہ عائشہ اور عمران کی بیٹی مریم (جو ان اہل کتاب کے ہاں بھی مقدس شخصیت شمارہوتی ہیں)دونوں کے بارے میں ہی ایسی تہمت لگائی گئی۔ اب صورتحال یہ دیکھئے کہ ہمارے نبی کی بیوی کے بطن سے کسی چیز نے جنم نہیں لیا حالانکہ اگر لے بھی لیتا تب بھی کوئی اعتراض کی بات نہیں تھی کہ ان کے شوہر نبی کریمﷺ موجود تھے جبکہ مریم کے تو کوئی شوہر بھی نہیں تھے اس کے باوجود ان کے بطن سے بچے نے جنم لیالیکن ہمارا عقیدہ تو یہی ہے کہ دونوں خواتین مقدس تھیں اور دونوں کے بارے میں جو تہمت لگی تھی وہ جھوٹی تھی۔ جب رومی بادشاہ نے یہ جواب سنا توشرمندہ اور مبہوت رہ گیا۔

علمی شغف کا یہ حال تھا کہ ہر رات جب تک بیس صفحات نہیں لکھ لیتے تھے تب تک سوتے نہیں تھے۔ قرآن کریم کے معجزانہ پہلو پر ’’اعجاز القرآن‘‘ کے نام سے کتاب لکھی جو آج تک اس موضوع کی بنیادی کتابوں میں شمار ہوتی ہے اور منکرین قرآن کی طرف سے قرآن پر جو بھی اعتراضات کیے گئے ہیں ان کے جواب میں ’’الانتصارللقرآن‘‘ کے نام سے شہرہ آفاق کتب تحریرکی۔

اب ہم واپس آتے ہیں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے تذکرے کی طرف۔ امام باقلانی نے ان کے بارے میں جو کچھ تحریر کیا ہے اسے اردو ترجمانی میں پیش خدمت کیے دیتا ہوں۔

’’یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ انبیاء ومرسلین کے بعد تمام انسانوں اورمہاجرین وانصار میں سب سے مقدم امام المسلمین ، امیر المومنین ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں‘‘

آپ کی اس افضلیت کے دلائل درج ذیل ہیں:

اللہ تبارک وتعالی نے آپ کا اور نبی کریمﷺ کا یکجا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے(سورۃ التوبۃ)

یہ آیت ہجرت کے موقع کی یاددھانی کے لیے نازل ہوئی ہے۔ اس میں ایک نبی کریم ﷺ کا تذکرہ ہے اور ثانی کہہ کر جناب سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہے اور ساتھ میںیہ بھی بتایاگیا ہے کہ ان دو کے ساتھ تیسری ذات اللہ تعالیٰ کی مددونصرت خاص بھی شامل حال تھی۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان دوشخصیات کا مقام ومرتبہ کیا ہے؟ اور جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبیﷺ کا ثانی قراردیا اس کے مرتبے کا ٹھکانہ کیا ہوگا؟ یقینا وہ انبیاء ومرسلین کے بعد دوسرے نمبر ہیں لیکن انبیاء ومرسلین کے بعد سب سے پہلے نمبر پر ہیں۔

دوسری دلیل: اللہ تعالی نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ایک کچھ خاص لوگوں کے بارے میں بتایا ہے کہ :

’’اے ایمان والو! تم میں سے جو کوئی شخص دین سے پھر گیا تو اللہ تعالی ایسی جماعت کو لائیں گے کہ خود اللہ تعالی بھی ان سے محبت رکھتے ہوں گے اور وہ بھی اللہ تعالی سے محبت رکھتے ہوں‘‘(المائدۃ)

سب جانتے ہیں کہ جب نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد ارتداد کے فتنے نے سر اٹھایا تو سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ ہی وہ مرد جری تھے جنہوں نے اس فتنے کے خاتمے کے لیے آہنی قدم اٹھایا اور ان کے رفقاء صحابہ نے ان کی امارت وقیادت میں اس فتنے کے خلاف جہاد کرکے اسے تہہ خاک سلادیا۔ معلوم ہوا کہ اُس آیت میں جس قوم سے اللہ تعالی نے اپنی محبت کا بے پناہ اظہار فرمایا اس میں سیدنا صدیق اکبر اوران کے رفقاء صحابہ شامل ہیں اور چونکہ اس جماعت کے سرخیل سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ تھے تو لامحالہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس محبت کا اعزاز پانے میں بھی سب سے اول ہیں۔

تیسری دلیل: اللہ تعالی نے ارشادفرمایا:

’’وہ بندہ جو سچی بات لے کر آیااور وہ بندہ جس نے اس سچائی کی تصدیق کی‘‘(پارہ :۲۴)

یہاں سچائی لانے والے سے مراد سرورکونین محمدﷺ ہیں اور سچائی کی تصدیق کرنے والے سے مراد جناب سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ ہیں اور یہ اعزاز اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاص عطاء فرمایا ہے حالانکہ نبی کریمﷺ کی تصدیق کرنے والے اور بھی تو بہت تھے مگر جو تصدیق سرفہرست اور سب سے نمایاں شمار کی گئی اسے اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمایا اور یہ تصدیق کرنے والے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں اس لیے وہ اہل ایمان کے سرخیل اور ان میں سب سے افضل قرار پائے۔

چوتھی دلیل: اللہ تعالیٰ نے حضرات صحابہ کرام کے درجات میں تفاوت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:

’’تم میں سے وہ لوگ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے مال خرچ کیا اور جہاد کیا ، اِن لوگوں کی برابری وہ لوگ نہیں کرسکتے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد مال خرچ کیااور جہاد کیا ہے۔ ہاں اچھائی کا وعدہ دونوں سے ہے‘‘ّ(سورۃ الحدید)

اس آیت میں فتح مکہ سے پہلے مال خرچ کرنے اور جہاد کرنے والوں کو مجموعی طور پر بعد والوں سے فضیلت دی گئی ہے اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ فتح مکہ سے پہلے مال خرچ کرنے والوں میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ مال خرچ کرنے والے بلکہ سب سے پہلے اللہ تعالی کی راہ میں مال خرچ کرنے والے تھے۔ خود نبی کریمﷺ نے واضح فرمادیا ہے کہ:

’’اپنی جان اور اپنے مال کے ذریعے مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے ابوبکر ہیں۔ ابوبکر کے مال نے مجھے جتنا نفع دیا ہے اتنا نفع کسی اور کے مال نے نہیں دیا‘‘(الحدیث)

خود سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : جسے خود نبی کریمﷺ نے ہم پر مقدم فرمایا ہے اور جسے خود نبی کریمﷺ نے ہمارے دین کے معاملے میںپسند فرمایا ہے(حضور اکرمﷺ نے اپنی زندگی کے آخری میں ایام میں امامت کے لیے سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ کو متعین فرمایاتھاتو یہ بات اسی کی طرف اشارہ ہے) تو ہم بھی ایسے ہی شخص کومقدم رکھیں گے اور دین کے ساتھ دنیا کے معاملات میں بھی اسے ہی اپنا سردار بنائیں گے

الغرض سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ پوری امت میں سب سے افضل، ایمان میں سب سے بڑھ کر، فہم وبصیرت میں سب سے کامل، علم ومعرفت میں سے زیادہ، اور حلم وبردباری میں سب پر فوقیت لیے ہوئے ہیں۔ اسی بات کو نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ: اگر اہل زمین کے ایمان کو ابوبکر کے ایمان کے مقابلے میں تولا جائے تو ان سب کے مقابلے میں ابوبکر کا ایمان بڑھ جائے گا۔

اے اللہ! آپ سیدنا ابوبکر کو اپنی رضاء کا بلند مقام عطاء فرمادیجئے اور ہمیں بھی ان کی محبت کے طفیل اپنی رضاء نصیب فرمادیجئے!

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor