Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

عالمی گیم چینجر (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی

Naqsh-e-Jamal 540 - Mudassir Jamal Taunsavi - aitedal pasand america 1

عالمی گیم چینجر

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 540)

عالمی طاقتوں کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور وہ ان مفادات کو حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی گیم کسی کے ساتھ بھی کھیلنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ وہی لوگ جو کبھی ان کے دشمن رہے ہوں انہیں اپنے مفادات کے لیے دوست بنانے میں ذرا بھی دیر نہیں کی جاتی اور حالات کا تقاضا بدل جائے تو انہیں سے بے رُخی برتنے میں بھی انہیں کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔

یہ عصر حاضر میں جاری عالمی طاقتوں کی سیاست کا بنیادی نکتہ ہے جس پر سب متفق اور پوری تندہی سے اسی پر عمل پیرا ہیں۔

ان عالمی طاقتوں کی گیم سمجھنے کے لیے ہم مثال کے طور پر روس اور امریکہ یا ایران اور اسرائیل کا ایک مختصر ساجائزہ پیش کرتے ہیں۔ان کی مثال سمجھنا اس لیے بھی آسان ہوگا کہ یہ دو دو فریق بظاہر آپس میں ایک دوسرے کے سخت ترین دشمن شمار ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں ان کے بارے میں یہی تاثر عام ہے لیکن قدرے گہرائی سے جائزہ لیں تو صاف واضح ہوگا کہ ایک جگہ اگر یہ دشمنی ہیں تو دوسری جگہ دوست بن کر اکٹھے اپنے مفادات کو محفوظ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

ایران کو ہی دیکھ لیجئے ۔ مدت تک مرگ بر امریکہ کے نعرے پر دنیا بھر میں ان کی سیاست چمکتی رہی لیکن جب ضرورت محسوس ہوئی تو اسی امریکہ کی سرپرستی میں اس ایران سے تمام اہم پابندیاں ہٹا لی گئیں اور اس کے لیے میدان صاف کردیا گیا اور اسی کے ساتھ امریکہ کے نظر آنے والے دشمن روس نے بھی سرپرستی کا مکمل ہاتھ ایران پر رکھ دیا۔ اب یہ باہمی تعاون کیا گل کھلا رہا ہے ؟ اس کے لیے یہ خبر دیکھئے:

’’روس نے جدید میزائل دفاعی نظام ایس-300 کی پہلی کھیپ اپنے اتحادی ملک ایران کے حوالے کردی ہے اور اس کے بعض حصے ایران میں پہنچ گئے ہیں۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابر انصاری نے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والی نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ ''میں آج (سوموار کو) یہ اعلان کررہا ہوں کہ تاخیر کا شکار(میزائل دفاعی نظام سے متعلق) معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد ہوگیا ہے''۔وہ سوشل میڈیا پرپھیلائی گئی ان ویڈیوز کے بارے میں صحافیوں کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے جن میں ایران کے شمالی علاقے میں ٹرکوں پر ایس-300 میزائل نظام کے حصے لدے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

روس نے ایس-300 زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل دفاعی نظام پہلی مرتبہ سرد جنگ کے زمانے میں 1979ء میں نصب کیا تھا۔اس کے بعد اس نے اس کو جدید بنایا ہے اور برطانیہ کے ایک سکیورٹی تھنک ٹینک ''روسی'' کے مطابق یہ میزائل مختلف قسم کے طیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کو ڈیڑھ سو کلومیٹر دور سے بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔یادرہے کہ روس نے امریکا،اسرائیل اور دوسرے مغربی ممالک کے دباؤ پر 2010ء میں ایران کے ساتھ اس جدید میزائل شکن نظام کی فروخت سے متعلق معاہدے کو منسوخ کردیا تھا۔اس نے یہ اقدام ایران پر جوہری پروگرام کے تنازعے کی وجہ سے عالمی پابندیاں عائد ہونے کے بعد کیا تھا۔تاہم اپریل 2015 ء میں روسی صدر ولادی میر پوتین نے ایران کے ساتھ چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ عبوری سمجھوتے کے بعد اس خودساختہ پابندی کو ختم کردیا تھا۔اس سال جنوری میں ایران پر عاید عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد روس نے یہ میزائل نظام اس کو دوبارہ فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا۔واضح رہے کہ ایران روس کا قریبی اتحادی ہے اور وہ اس کے اسلحے کا بھی بڑا خریدار ملک ہے۔ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان گذشتہ سال جولائی میں طویل مذاکرات کے بعد تاریخی جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔اس کے تحت امریکا ،یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے ایران پر عاید پابندیاں ختم کردی ہیںاور ایران نے اپنے میزائل پروگرام اور دفاعی صلاحیت کو ترقی دینے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔‘‘

آگے بڑھنے سے قبل ایک نظر دوبارہ اس پورے واقعے پر ڈالئے کہ ایک طرف امریکہ ہے جو ایران سے پابندیاں ہٹوا رہا ہے ، دوسری جانب ہے روس ہے جو ایران کو اسلحہ بیچ رہاہے اور اپنے میزائل پروگراموں سے اس کی مدد کر رہا ہے اور تیسرا ایران ہے جوگویا ان دونوں عالمی طاقتوں کے بغل بچے کا کردار اداء کرتا ہوا نظر آ رہا ہے اور اس بغل بچے کی شرارتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ اس نے عراق، شام ، لبنان، یمن وغیرہ کو اپنی جارحیت سے ہلا کر رکھا ہوا ہے۔ اب سوچئے کہ یہ سب کچھ کیوں؟ جی اس لیے کہ مسلم امت کی دشمنی میں امریکہ اور روس دونوں ایران کی پشت پناہی کررہے ہیں اور ایران کمر ٹھونک کر عالم اسلام کے قلب وجگر کو چیرنے میں لگا ہوا ہے تو یہ ہے وہ بات کہ : الکفرملۃ واحدۃ یعنی مسلمانوں کے مقابلے میں کافر سب ایک ہی ملت کے ہوتے ہیں ۔

ایران نے ملک شام کے معاملے کو اس قدر اہمیت دی ہوئی ہے گویا کہ وہ اسی کا ایک حصہ ہے اور یقینا وہ اسے ایسا ہی سمجھتا ہے کیونکہ بشار الاسد اور ایران کے اہداف اور نظریات ایک ہیں اور یہ دونوں ہی اسلام اور عرب دشمنی میں ایک پیج پر ہیں۔ چنانچہ حال ہی سامنے آنے والی درج ذیل خبر اس کے خدو خال واضح کررہی ہے۔

’’ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر برائے عالمی امور نے کہا ہے کہ بشار الاسد شام کے آئینی صدر ہیں اور صدر اسد کی مدت صدارت کے اختتام تک تہران ان کی حمایت اور مدد جاری رکھے گا۔خبر رساں ایجنسی ’’فارس‘‘ کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے کا امریکی خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔ صدر اسد اس وقت تک منصب صدارت پر فائز رہیں گے جب تک آئین اس کی اجازت دیتا ہے، ان کا دفاع ایران کی ذمہ داری ہے ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ علی اکبر ولایتی کا یہ بیان اس بات کا بین ثبوت ہے کہ تہران شام میں پُرامن انتقال اقتدار اور پانچ سال سے مصیبت کا شکار شامی عوام کو بحران سے نکالنے میں مدد دینے کے بجائے بشارالاسد کی آمریت برقرا رکھنے پر مصر ہے۔شامی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ تہران سرکار نے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی انقلاب کی تحریک کچلنے کے لیے عملی طور پر بھرپور تعاون اور مدد کی ہے۔ اسد رجیم کو سقوط سے بچانے کے لیے ایران کی جانب سے پاسداران انقلاب کی ایلیٹ فورسز کے کمانڈوز تک بھیجے جا چکے ہیں۔شام میں روس اور ایران کے موقف میں ہم آہنگی سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مسٹر ولایتی کا کہنا تھا کہ جو ملک بھی ایران کے مفادات کے تحفظ کے مطابق ڈیل کرے گا تہران بھی اس کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔خیال رہے کہ ایرانی سیاست دان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شام میں حکومت اور اپوزیشن گروپوں کے درمیان عارضی جنگ بندی قائم ہے۔ شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی دی میستورا کل منگل کو دمشق کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ بشارالاسد کے وزیرخارجہ ولید المعلم اور دمشق میں متعین روسی سفیر سے بھی بات چیت کریں گے۔خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق ’یو این‘ ایلچی دو روز تک شام میں قیام کریں گے اور حکومتی عہدیداروں سے 13 اپریل سے شروع ہونے والے جنیوا مذاکرات سے قبل شام کے تنازع کے حل کے سلسلے میں بات چیت کریں گے۔‘‘

ان تمام پہلؤوں کو دیکھنے کے بعد اپنے ملک پاکستان ، ایران اور ہندوستان کے معاملات پر ایک نظر ڈالئے۔ انڈین خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے جاسوس کل بھوشن یادو کی گرفتاری، ایران کا پاسپورٹ ، ایران میں موجود اس کے خفیہ ٹھکانے اور بلوچستان وکراچی وغیرہ کا امن تباہ کرنے کی مکمل سازش، فرقہ وارانہ جنگ کو بھڑکانے جیسی سازشیں سب کچھ آشکارکررہی ہیں اور دشمن کے چہرے پر پڑے جھوٹ کے نقاب نوچ کر ان کی اصلیت سامنے کررہے ہیں۔

مگر کیا پاکستان اس سے کچھ سبق لینے پر آمادہ ہے؟ کیا پاکستان نے اس پر غور کیا کہ اس وقت امریکہ بھارت کے ساتھ فوجی اڈوں کے باہمی استعمال کے معاہدے کرنے کیوں جارہا ہے؟ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ عالمی طاقتیں چھوٹی طاقتوں کو محض اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں اور ہمارا ملک استعمال ہوتے ہوتے اب اپنی سلامتی اور بقاء کے لیے تگ و دو کرنے میں بے بس سا ہوا جارہا ہے تو کیوں؟ اور آخرکب تک ایسا ہوتا رہے گا؟

اگر اس وقت ایک تجارت پیشہ طبقہ ملک کے اقتدار پر قابض ہوچکا ہے اور اس نے اپنے دشمنوں کی تمام دشمنیاں بھلا کر بلکہ ان سے آنکھیں بند کرکے محض تجارت کو بڑھانے کی خاطر اپنے ملک کی سلامتی وبقاء کو داؤ پرلگانے کا طرز شروع کررکھا ہے تو کیا باقی پوری قوم اور تمام بااختیار طبقات بھی اس سے غافل ہوچکے ہیں؟ ملک کو لبرازم اور سیکولرازم کی راہ پر ڈالنے کا جو عمل شروع ہوچکا ہے ، ضرورت ہے اس امر کی ہے کہ اس کے آگے بند باندھنے کے لیے مذہبی قوتیں متحد ہوں ، نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان ’’لاالہ الا اللہ‘‘ کا خوب پرچار کیاجائے اور اس ملک کو لبرل ازم کی راہ پر ڈالنے والے حکمرانوں کا کڑا احتساب کیاجائے اور ان کے عزائم کو ناکام بنانے میں ہر ممکن کوشش کی جائے۔ عالمی گیم چینجرز کے مفادات بدل چکے ہیں، دوستی اور دشمنی کے خول بھی بدلے جارہے ہیں۔ ہمیں اسلام کے نام پر یکجاہوئے ہیں اور اسلام ہی کے نام پر اس ملک کو حاصل کیا گیا تھا ،اس لیے ہمیں اسلام کے ہی نام پر جمع ہونا ہوگا ، اسی میں ہماری سلامتی اور بقاء مضمر ہے اور بس!

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor