Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

موتی چن لیے! (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی

Naqsh-e-Jamal 542 - Mudassir Jamal Taunsavi - aitedal pasand america 1

موتی چن لیے!

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 542)

سیاست کی گرما گرمی، دھرنوں کا شور، نئی دھڑا بندیاں اور پرانے لیڈر نئے لباس میں، کہیں کراچی کے جلسے اور کہیں اسلام آباد کی مخلوط نمائش، یہ سب کچھ ایسا ہے کہ اس نے انسانی فکر کو پراگندہ کردیا ہے، ذہن کی یکسوئی اور اطمینان تباہ کردیا ہے، صبح و شام کی بدلتی خبروں نے انسانی زندگی کو بے چینی کا گڑھ بنادیا ہے۔

اللہ والوں اور امت کے خیر خواہوں کی سوچ کیا ہوتی ہے؟ یہ دیکھئے شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ تعالی مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہیں ہیں:

’’لوگوں میں سپہ گری پھیلاؤ ، بانک ، پٹا ، لکڑی ، تلوار ، گھوڑے کی سواری وغیرہ جو ہمارے بزرگوں کا طریقہ تھا ، جس کا تمام شریف خاندان کے لوگ سیکھنا فخر سمجھتے تھے۔ اس کی طرف لوگوں کو ترغیب دیں۔

کم از کم روزانہ ایک آدھ گھنٹہ اگر یہ عمل جاری رہے تو ہم خرما و ہم ثواب کا کام دے۔ جسمانی صحت حاصل ہو۔۔ ایک فن ہاتھ میں رہے۔۔ وقت بے وقت کام آئے۔ اپنی اور مال و اولاد کی حفاظت ہو‘‘(ملفوظات حضرت مدنی۔ 25)

یہ تو عملی اور جہادی تیاری کا پہلو ہے۔ دوسرا اہم پہلو علم اور علم کی فضیلت کا ہے۔

اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کو یہ حکم دیا :

آپ یوں دعا کیجیے کہ : اے میرے رب ! میرے علم میں اضافہ فرما(سورۃ طہ)

علم کی فضیلت اور قدر و منزلت کے بارے میں شاید یہ آیت سب سے زیادہ جامعیت اور فوقیت کی حامل ہے کہ اس جیسی بات کسی اور میں دلیل میں نہیں،کیوں کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی کو اور کسی چیز میں اضافے کی دعا کرنے کا حکم نہیں دیا۔ اگر دیا ہے تو وہ علم ہے۔ معلوم ہوا کہ خود اللہ تعالی بھی یہ چاہتے ہیں کہ اس کے بندوں کے علم میں اضافہ ہو اور وہ اس اضافے کے لیے اللہ العلیم جل جلالہ سے دعا کیا کریں۔

یہاں ایک اہم بات جو قابل غور ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کو کون سا علم دیا ؟ آپﷺکی زندگی میں مسلسل کون سے علم کا اضافہ ہوتا رہا ؟

ظاہر ہے کہ اس سے مراد قرآن و سنت کا علم ہے جو نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو پہنچایا اور امت نسل در نسل اسے علم کو آگے منتقل کرتی چلی آ رہی ہے۔۔

اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ علم دین اور علم قرآن و سنت کی قدر و منزلت کس قدر بڑھی ہوئی ہے!

اگرچہ یہ بات مطلقاً کہی جاتی ہے کہ : علم بڑی دولت ہے۔ لیکن بہر حال ہم اپنے معاشرے میں خود اس کا تجربہ رکھتے ہیں کہ بہت سے باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم جاننا چاہیں تو با آسان جان سکتے ہیں لیکن کسی بھی وجہ سے ان کا نہ جاننا ہی ہمیں بھلا معلوم ہوتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ علم سب بہرحال یکساں نہیں ہوتے۔

پس افضل ترین علم وہی ہے جسے کے اضافے کے لیے دعا کا حکم خود اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کو دیا اور نبی کریم ﷺ نے وہ علم اپنی امت کو پہنچایا اور امت کو یہ بشارت سنائی :

اللہ تعالی شاداب رکھے اس شخص کو جس نے میری باتوں کو سنا ، انہیں یاد رکھا اور پھر ان لوگوں تک پہنچا دیا جنہوں نے اسے نہیں سنا تھا(الحدیث)

ایک مومن کا اصلی زیور ہی علم اور اعلی اخلاق ہیں۔ جو ان سے آراستہ ہے وہی اللہ تعالی اور اس کے بندوں کے ہاں محبوب ٹھہرتا ہے۔ جو ان سے جتنا دور ہوتا ہے وہ انسانیت سے اسی قدر دور ہوتا ہے۔ حضرت وھب بن منبہ رحمہ اللہ تعالی جو تابعین میں سے ہیں فرماتے ہیں :

العلم خلیل المومن : علم مومن کا دوست ہے

الحلم وزیرہ : حلم بردباری مومن کے لیے وزیر ہے

العقل دلیلہ : عقل مومن کے لیے رہنما ہے

العمل قیمہ : عمل مومن کو سنبھالنے والا ہے

الصبر امیر جنودہ : صبر مومن کے لشکروں کا سردار ہے

الرفق ابوہ : باوقار اور پرسکون طبیعت اس کے لیے شفیق والد کی مانند ہے

اللین اخوہ : نرم روی اس کے لیے بھائی کا درجہ رکھتی ہے

(سیر اعلام النبلاء للعلامۃ شمس الدین محمد الذھبی رحمہ اللہ)

اب دوسری طرف ہمارے علمائے کرام ، خصوصا نوجوان فضلاء جن کے ہاتھوں میں ٹچ اسکرین موبائل اور فیس بک کے اکاونٹس ہیں ان کی توجہ اس طرف دلانا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ تصویر سازی اور فضول تصویربازی سے دور رہیں جس کی وبا اتنی عام ہوچلی ہے کہ الامان!

محدث العصر مولانا سید یوسف بنوری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

’’آج اسی مصوری ( تصویر سازی ) کی وجہ سے حسن و جمال کی نمائش ہوتی ہے اور اسی تصویر سازی کی وجہ سے بے حیاء قوموں کی عورتوں کے عریاں فوٹو ، بداخلاقی ، بد اطواری اور خدا فراموشی زندگی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔۔ یہی لعنت شہوانی و حیوانی جذبات بھڑکانے کا سبب ہے۔۔ اسی لعنت کی وجہ سے کتنے معصوموں کا کون بہہ رہا ہے اور کتنی جانیں تلف ہو رہی ہیں اور خود کشی کی کتنی وارداتیں ہو رہی ہیں‘‘(بصائر وعبر)

یہ بالکل حقیقت ہے جو ایک اللہ والے نے بیان کی ہے۔ کاش اس پر غور کیا جائے!

چلتے چلتے ایک مفید دعاء ہاتھ لگی تو سوچا وہ بھی آپ کے سامنے رکھ دوں، شاید کسی کو بھی اس سے نفع مل جائے اور اس طرح میرے لیے اس میں نفع کی راہ کھل جائے۔ ھمام بن حارث کوفہ کے رہنے والے معروف فقیہ ہیں اور نخعی خاندان سے ان کا تعلق تھا۔ ان کی ایک معروف اور مستقل دعا ہے کہ :

’’ اے اللہ ! میرے لیے تھوڑی نیند کافی فرما دیجئے اور مجھے اپنی طاعت میں رات کا جاگنا نصیب فرما دیجئے ‘‘

چنانچہ ان کی یہ دعا ایسی قبول ہوئی کہ موصوف رات کا اکثر حصہ جاگتے تھے اور کچھ دیر نیند کرتے اور وہ بھی بیٹھ کر اور یہی نیند ان کے آرام کے لیے کافی ہو جایا کرتی تھی۔ (سیر اعلام النبلاء للذھبی۔ المجلد الرابع)

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor