Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

6روزہ دروسِ قرآن (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی

Naqsh-e-Jamal 543 - Mudassir Jamal Taunsavi - aitedal pasand america 1

6روزہ دروسِ قرآن

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 543)

وہ بظاہر ایک آزاد منش نوجوان تھا

عصری تعلیم خوب حاصل کی تھی، اور جدید ایجادات کی وجہ سے مغرب کی مادی برتری کا پورا نقشہ اس کے سامنے تھا

مگر اسی کے ساتھ وہ اندر سے پکا مسلمان تھا

یہی اسلامی جذبہ اس میں ایک کڑھن پیدا کیے ہوئے تھا

وہ مسلمانوں کا عروج دیکھنا چاہتا تھا

وہ مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وستم پر دل سے کڑھتا تھا

وہ اس راز کو پانا چاہتا تھا جس کی و جہ سے پہلے زمانے کے مسلمانوں نے دنیا بھر میں روم کی عیسائی سلطنت اور ایران کی مجوسی سلطنت پاش پاش کر کے عرب وعجم کے وسیع وعریض علاقوں پر اسلام کے پرچم لہرا دیئے تھے

آخر وہ کون سی طاقت تھی؟ جو ان کے ساتھ تھی ، جس کے ہوتے ہوئے بڑی بڑی سلطنتیں اور ان کی بے پناہ فوجی وعسکری طاقت اُن مسلمانوں کے سامنے ٹھہر نہ سکیں

یہ اس نوجوان کا درد تھا، اور شاید یہ اس اکیلے کا درد نہیں تھا، بلاشبہ اس وقت بہت سے نوجوانوں کے ذہنوں میں یہی سوالات گردش کرتے ہیں اور وہ ان کا جواب حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ صحیح راہ عمل تلاش کرنا چاہتے ہیں، منزل پر پہنچ پائیں یا نہ؟ یہ الگ بات ہے مگر اتنا تو ضرور ہونا چاہئے کہ راستہ درست ہو، منزل متعین ہو، رہنمائی کامل ہو

انسان کے بس میں تو اتنا ہی ہے کہ وہ درست راستے پر چل پڑے، پھر وہ کہاں تک پہنچ پاتا ہے اور کہاں بے بس ہوجاتا ہے؟ یہ اس کے اختیار میں نہیں اور اس بارے میں اس پر کوئی گناہ بھی نہیں

قرآن کریم میں کہہ دیا گیا ہے:

’’انسان کو اس کی کاوش کا ہی اجر ملتا ہے‘‘

پھر اس نوجوان کا 6روزہ درس قرآن کی مجالس میں حاضر ہونے کا موقع ملا

یہ درس قرآن ، قرآن کریم کی اُن آیات مبارکہ کے ترجمہ وتفسیر پر مشتمل ہوتا ہے جو جہاد و قتال فی سبیل اللہ سے تعلق رکھتی ہیں

ان آیات کی تعداد تقریباً 600کے قریب ہے

ان دروس قرآن میں شرکت انسان کے لیے فہمِ قرآن کی راہیں آسان بناتی ہے

اس وقت امت مسلمہ کا یہ بڑا المیہ ہے کہ اس نے دینی رہنمائی کے لیے قرآن کریم کو وہ مقام نہیں دیا جا اس کا حق تھا

نتیجہ یہ ہے کہ جہاد جیسے اہم ترین فرض کے بارے میں بھی اتنے شکوک وشبہات ذہنوں میں بیٹھ گئے ہیں کہ کوئی حد نہیں اور اس پر المیہ یہ ہے کہ ان شکوک وشبہات کو دور کرنے کے لیے قرآنی ہدایات کو اہمیت دینے کے بجائے مغربی اسلام دشمن لوگوں کی باتوں اور رپورٹوں کو درجہ سند دیا جاتا ہے جو بجائے خود مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور فکری انتشار میں مبتلا کرنے کے لیے گھڑی جاتی ہیں۔

الغرض جب وہ نوجوان ان دروس میں شریک ہوا تب اس پر جہاد کے ابواب و مسائل روشن ہونا شروع ہوئے

دل و دماغ کے بند دریچے کھلنے لگے

ذہن میں مسلط بہت سے سوالات کا جواب ملنا شروع ہوگیا

مسلمانوں کے لیے جہاد کی اہمیت واضح ہونے لگی

جہاد کا درست راستہ اور صحیح مقاصد سامنے آنے لگے

جہاد کی فرضیت کا مسئلہ روز روشن کی طرح آشکارا ہوگیا

جہاد کے اہداف نے آنکھیں کھول دیں

جہاد کے مقاصد نے دل میں ایک جذبہ و ولولہ پیدا کردیا

قدم قدم پر یہ احساس اجاگر ہونے لگا کا ش ہر مسلمان تک اس کی دعوت پہنچ جائے

کاش ہر مسلمان ان دروس سے مستفید ہو

کاش ہر مسلمان جہاد کو قرآن کریم کی روشنی میں سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بن جائے

مسلمانوں کے ملکوں کے حکمران ہوں یا وہاں کی افواج جب تک وہ بھی قرآن کریم کی روشنی میں فلسفہ جہاد اور فلسفہ جنگ کو نہیں اپنائیں گے تب تک وہ بھی اپنی حیثیت سے بہت نیچے رہیں گے

ورنہ کیا وجہ ہے کہ آج مسلمانوں کے ملکوں میں جتنی افواج اور جتنے اسلحاتی وسائل موجود ہیں پہلے مسلمانوں کے پاس اس کا بہت کم حصہ تھا مگر پھر بھی وہ کفار پر حاوی تھی، اسلام اور مسلمانوں کے محافظ تھے، اسلامی سرزمین کے بارے میں غیرت مند تھے، اسلامی سرزمین کی حفاظت کرنے میں انہیں خاص دلچسپی تھی اور اپنی مقبوضہ سرزمین کو چھڑانے کے لیے انہوں نے حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیے ہیں جو آج بھی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں

لیکن آج ایسا ماحول نظر نہیں آتا تو کیوں؟ اس کی ایک بڑی وجہ بہر حال یہی ہے کہ مسلم قوم میں جنگ کا وہ نظریہ رائج کردیا گیا ہے جو دنیوی جنگ سے تعلق رکھتا ہے چنانچہ مسلم ممالک میں عموماً وہاں کی مسلح افواج عام دنیاوی افواج کی طرز پر مرتب کی گئی ہیں حالانکہ اسلام کا نظریہ جہاد عام جنگ سے یکسر اور بالکل ہی مختلف ہے۔

اسلامی نظریہ جنگ یعنی جہاد کا آغاز بھی الگ نوعیت رکھتا ہے اور طریقہ کار بھی، اس کے اہداف بھی الگ ہیں اوراس کے مقاصد بھی، اس جہادسے وابستہ ہونے والوں کے لیے قواعد وضوابط بھی عام فوجیوں سے بالکل الگ ہوتے ہیں

دنیا میں عام طرز رائج ہے کہ فوجیوں کے حوصلے بڑھانے کے لیے ملی ترانے اور قومی نغمے گائے جاتے ہیں

لیکن اسلامی نظریہ جہاد یہ ہے کہ:

اے ایمان والو! جب کسی دشمن قوم سے تمہارا مقابلہ تو ثابت قدم رہو اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو، تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ!(الانفال)

یہ ایک بات نمونے کے طور پر عرض کی ہے اسی طرز پر دیگر چیزوں کا معائنہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

وہ نوجوان جب ان دروس میں شریک ہوا تب اسے احساس ہوا کہ واقعی ان حالات میں ضرورت ہے اس بات کی کہ امت مسلمہ ایسی مجالس آباد کرے، ان دروس قرآن میں شرکت کرے جن میں پوری یکسوئی اور کامل توجہ سے قرآن کریم کے جہادی مضامین کو اپنی استطاعت کے موافق سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے

عزت کی راہیں اسی قرآن سے ملتی ہیں ، جہاد کے مسائل اسی قرآن سے حل ہوتے ہیں اور جو جہاد کو قرآن کی روشنی اور اکابر امت کی تعلیمات وتحقیقات کی روشنی میں سمجھتا ہے تب وہ جہاد کو افضل ترین عبادت کا درجہ دیتا ہے اورجب کسی عبادت کا افضل ترین درجہ سمجھ میں آجائے تو اسے پر عمل کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے اور اس کی راہ میں پیش آنے والی صعوبتوں کو برداشت کرنا بھی!

سات مئی سے ان دورات تفسیر کا پہلا شروع ہورہا ہے اور چودہ مئی سے دوسرا مرحلہ شروع ہوگا۔ خوش نصیب ہیں وہ مسلمان جو ان دورات کی محنت میں لگے ہیں اور خوش نصیب ہوں گے وہ مسلمان بھی جو اس میں شرکت کریں گے۔یہ بھی تعلیم قرآن کا حصہ ہے اور فرمان یہ ہے کہ:

تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں جو قرآن پڑھتے اور پڑھاتے ہیں(الحدیث)

 

٭…٭…٭

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor