Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

(نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی) جہاد اور ائمۂ کفر سے قتال

Naqsh-e-Jamal 546 - Mudassir Jamal Taunsavi - aitedal pasand america 1

جہاد اور ائمۂ کفر سے قتال

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 546)

 

’’دیکھو اگر تم جہاد میں صبر اختیار کرو اور کافروں کی یاری ودوستی سے اجتناب کرو تو یقین کروکہ تمہارے دشمن کافروں کی سازشیں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی‘‘

یہ مفہوم ہے ایک قرآنی آیت کا جو سورۃ آل عمران، چوتھے سیپارے میں ہے۔

اس میں وضاحت سے بالکل دو ٹوک انداز میں سمجھا دیا گیا ہے کہ دو کام کرلو تب اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے ضمانت ہے کہ دشمنوں کی سازشیں اور لڑائیاں ناکام ہوں گی:

۱: جہاد میں صبر کرو

۲: کافروں کی یاری سے اجتناب کرو

جو لوگ زبان سے کلمہ طیبہ ’’لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھتے ہیں ، وہ کئی مراحل پر آزمائے جاتے ہیں۔

ان مراحل میں تین مرحلے نہایت اہم ہیں، قرآن کریم نے ان تین مراحل کو بڑے اہتمام اور تاکید کے ساتھ بیان کردیا ہے:

۱: دعویٔ ایمان کرنے کے بعد کون جہاد کرتا ہے اور کون جہاد نہیں کرتا؟

۲: دعویٔ ایمان کرنے کے بعد جہاد سے پہلے یا جہاد کے دوران کون یہود ونصاری یا مشرکین وغیرہ کفار سے دوستی اور یاری لگاتا ہے اور کون ان کو یار اور دوست بنانے سے اجتناب کرتا ہے؟

۳: دعویٔ ایمان کرنے کے بعد جہاد میں شریک ہونے والوں میں سے کون اُس جہاد میں پیش آنے والی تکلیفوں، مشقتوں اور سخت ترین آزمائشوں پر صبر کرتا ہے اور کون صبر نہیں کرتا؟

خوش نصیب وہ مسلمان ہوتا ہے جو ان مراحل میں کامیاب ہوجائے، ورنہ جو ان مراحل میں سے کسی بھی مرحلے میں اٹک جائے تو اس کامعاملہ بگڑ جاتا ہے، قرآن کریم اسے سخت ترین ڈانٹ پلاتا ہے، ایسے لوگوں کو باربار متنبہ کرتا ہے اور خود مسلمانوں کو بھی ایسے لوگوں سے ہوشیار ہو کررہنے کی ترغیب دیتا ہے۔

یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان کی ہیں کہ کوئی بھی عقل مند انسان ان میں کوئی شک نہیں کرسکتا ، وہ اگر غور کرے تو یہ سب احکام محض اسی کی بھلائی کا پیغام لئے ہوئے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھو یہ بڑی واضح اور کھلی ہوئی باتیں جو ہم تمہارے لیے بیان کررہے ہیں کاش تم کچھ عقل سے کام لو، کاش تم کچھ سمجھ سے کام لو اور کاش تم کچھ بھی صحیح علم رکھتے تو ان باتوں کو دل سے تسلیم کرتے اور ان پر عمل پیرا ہوجاتے۔

گویا صاف کردیا گیا کہ کامیاب وہ مسلمان ہیں جو :

جہاد کرتے ہیں

جہاد میں صبر کرتے ہیں

جہاد سے پہلے یا دوران میں کافروں کو یار نہیں بناتے

اس کے برعکس جو لوگ ان تین باتوں سے کنی کتراتے ہیں، وہ جہاد سے بھی رو گردانی کرتے ہیں، کبھی جہاد میں نکلنا ہی پڑ جائے تو آزمائشیں آتے ہیں جہاد کا میدان چھوڑ کر اس سے الگ ہو جاتے ہیں اور موقع ملے تو اپنی جان ومال کے مفادات کی خاطر دشمنانِ اسلام کافروں سے یاریاں لگانے سے بھی احتراز نہیں کرتے بلکہ ایسے مواقع پر تو وہ دوڑ کر ان کافروں کے پاس پہنچتے ہیں تاکہ مسلمانوں پرآنے والی آزمائشوں سے خود کو بچا سکیں تو ایسے لوگوں کو قرآن کریم ’’منافق‘‘ اوران کے طرز عمل کو ’’نفاق‘‘ سے تعبیر کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہ قرآنی پیغام سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

آج کے مسلمانوں میں یقینا اس بارے میں بہت کوتاہی ہورہی ہے، جہاد سے روگردانی اور لاتعلقی کا مرض عام ہے، جہاد میں چند دن گزارے نہیں کہ بے صبر کا شیطانی حملہ پریشان کردیتا ہے اور بہت سوں کو اپنا بچاؤ کافروں کو یار بنانے میں نظر آرہاہے اس لیے کتنے ہی مسلمان ہیں جو دوڑ دوڑ کر کافروں سے یاریاں گانٹھتے ہیں اور مسلمانوں کے راز ان کافروں کے گوش گزار کرتے ہیں

بہر کیف مخلص مسلمانوں کو اور جو اپنے ایمان کو خالص بنانے چاہتے ہیں انہیں تو چاہئے کہ وہ اس حکم پر لبیک کہیں، ان صفات کو اپنے اندر پیداکریں، آخر ایسے مواقع پر زبردست صبر کی ضرورت پڑتی ہے تبھی تو قرآن نے متعدد بار صبر والی آزمائش کا مستقل تذکرہ کیا ہے ، اگر یہ معمولی اورنارم سامعاملہ ہوتا ہے تو اس قدر اہمیت شاید اسے نہ دی جاتی اور نہ ہی اسے مخلص مومن اور منافق کو پرکھنے کے لیے کسوٹی اورمعیار قراردیاجاتا۔

سورۃ آل عمران، سورۃ التوبۃ اور سورۃ محمد(ﷺ) میں جابجا ان حقائق کا مفصل بیان موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو دورہ تفسیر آیات جہاد پڑھنے یا فتح الجواد کے مطالعے کی توفیق عطافرمائیں تو آپ ان باتوں کو بہت تفصیل کے ساتھ سمجھ پائیں گے۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

وہ جو کافروں کے مرنے پر ’’انسانیت‘‘ کا قتل یاددلاتے اور مسلمانوں کو شیم شیم کرتے نہیں تھکتے مگر اب امیر المومنین ملااختر محمد منصور صاحب پر ہونے والے مبینہ امریکی ڈرون حملے پر کچھ اس طرح سے پھولے نہیں سمارہے جیسے کہ خود ان کی سب سے بڑی آرزو یہی ہو

امریکی بیان جاری کرتے ہیں کہ یہ حملہ نواز شریف کو ٹیلی فون اطلاع کرنے کے بعد کیاگیا، گویا امریکہ نے واضح کرنے کی کوشش کی شاید جذباتی مسلمان اب کی بار پھر ہمیں ملامت کا نشانہ بنائیں لیکن وہ ایسا کرنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ خود ان کے حکمران اور دیگر مقتدر طبقے اس بارے میں وہی جذبات و احساسات رکھتے ہیں جو خود امریکہ بہادر ہیں۔

اس وقت صاف محسوس ہورہا ہے کہ امریکہ اوراس کے حواریوں کو شکست دینے والے مجاہدین اسلام طالبان کو یہ پیغام دیاجارہا ہے کہ ٹھیک ہے قربانیاں آپ نے دی ہیں مگر اب آپ کو ہماری بات مان کر چلنا ہوگی، جیسا ہم چاہتے ہیں ویسا ہی کرنا ہوگا، اور اگر ایسا نہیں کیاجاتا تو پھر تمہاری قیادت کو چن چن کو نشانہ بنا کر مٹا دیاجائے گا تاآنکہ تم لوگ بکھر جاؤ ، تمہاری ہوا اکھڑ جائے، اور تمہاری قوت بکھرکر بے قیمت ہوجائے۔

جبکہ یہ وہ تکنیک ہے جو قرآن کریم نے مسلمانوں کو سکھائی ہے کہ جو لوگ تمہارے ساتھ وعدوں کی خلاف ورزی کریں، تمہارے دین پر طعنہ زنی کریں تو:

’’ایسے کفر کے سرداروں کی گردنیں مارو‘‘

کفر کے سرداروں کو قتل کرنے سے کفر کی طاقت ٹوٹتی ہے ، ان کی سرکشی دم توڑتی ہے، مسلمانوں کے لئے راستے صاف ہوتے ہیں، کافروں کی طرف سے مسلمانوں کے معاملات میں جو دخل اندازی ہوتی ہے اس کا سدباب ہوتا ہے۔

کاش مسلمان اس طرف توجہ کرتے اور کفرکے سرداروں کو نشانہ بنانے کی پالیسی بناتے مگر فی الحال تو اپنے ان کافروں کے ساتھ مل کرمسلمانوں کے مجاہدقائدین کو نشانہ بنانے میں لگے ہیں۔ اگرچہ وہ خود کو کامیاب سمجھ لیں مگر بہر حال کامیابی تو ایمان اورجہاد والوں کا مقدر ہے۔ جو لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ اس طرح جہادی تحریک دب جائے گی تو یہ اس کی بھول ہے ۔ شاعر سے قدرے معذرت کے ساتھ تبدیلی کرکے یہی کہاجاسکتا ہے:

جہاد کی فطرت میں قدرت نے لچک رکھی ہے

اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دباؤ گے

٭…٭…٭

 

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor