Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

(نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)سرکٹا کر سربلند ہوئے!

Naqsh-e-Jamal 547 - Mudassir Jamal Taunsavi - aitedal pasand america 1

سرکٹا کر سربلند ہوئے!

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 547)

 

فارسی کے نامور شاعر حافظ شیرازی بھی عجیب بات کہہ گئے :

عجب راہیست ، راہِ عشق کانجا

کسے سر برکند کش سر نباشد

زمن بنیوش و دل در شاہدے بند

کہ حسنش بستۂ زیور نباشد

عشق کا راستہ بھی عجیب راستہ ہے ، یہاں ’’سر‘‘ کٹانے والا، ’’سربلند‘‘ ہوجاتا ہے۔

اگر میری بات سنتے ہو تو سنو! اپنا دے ایسے محبوب سے لگاؤ جس کا حسن و جمال اور کمال و شان زیورات اور ظاہری و مادی چیزوں کا محتاج نہ ہو۔

ہوئے کوئے تو از سر نمیرود مارا

غریب را دلِ آوارہ در وطن باشد

اے محبوب! تیرے کوچے کی محبت ہمارے دل و دماغ سے نکل ہی نہیں سکتی، کیوں کہ مسافر کا آوارہ دل ہمیشہ وطن کا ہی مشتاق رہتا ہے ( اور ہمارے لیے محبوب کا کوچہ ہی وطن کی حیثیت رکھتا ہے)

آہ! کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین وملت اسلامیہ کی خدمت و نصرت پر ایک اور غریب مسافر اپنی جان وار گیا ، وہ اپنے لہو میں نہاکر پاک ہوگیا، اور اپنا سر کٹا کر ہمیشہ کے لیے سربلند ہوگیا، وہ جب اس عشق ومحبت کی راہ پر چلے تو پھر واپسی کا راستہ بھلا دیا اور اسی راہ پر چلتے رہے، آگے بڑھتے رہے، کفر و نفاق کی بے شمار آندھیاں چلیں مگر ان کے پائے استقامت میں لغزش نہ آئی، وہ ایک چٹان بن کر راہِ حق پر ڈٹ گئے، دینِ حق کی نصرت وحمایت کے لیے ہمیشہ کمربستہ رہے، فتنہ کفر کے خاتمے اور کفریہ جارحیت کے دفاع کے لیے انہوں نے اپنی پوری دنیا اور دنیاوی اسباب ومتاع سب کچھ داؤ پر لگا دیا ، ان کی تمنا رہی تو یہی کہ دین اسلام سربلند ہو، شریعت اسلامیہ کو غلبہ ونفاذ کا نظارہ نصیب ہو، اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہوں، ملت اسلامیہ پر سے ظلم وستم کے بادل چھٹ جائیں، وہ چاہتے تھے کہ تمام عمر اس قرآنی حکم پر عمل پیرا رہیں کہ’’ تم ان کافروں سے لڑتے رہو جب تک ان کا فتنہ ختم نہیں ہوجاتا‘‘ اور وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ اسلام کا حسن و جمال اوراسلامی نظام کی برکات وخیرات ہمیشہ بڑھتی رہیں اور دنیا کے ہر کونے میں ان برکات کو پہنچادیاجائے۔

حافظ شیرزای پھر سامنے آگئے اور اپنے انداز میں امیر المؤمنین ملا اختر محمد منصور شہید نور اللہ مرقدہ کے جذبات و احساسات کو گویا یوں بیان کرنے لگے:

حسن تو ہمیشہ در فزوں باد

رویت ہمہ سال لالہ گوںباد

اندر سرمن ہوائے عشقست

ہر روز کہ ہست در فزوں باد

قد ہمہ دلبرانِ عالم

در خدمت قامتت نگوں باد

لعل تو کہ ہست جانِ حافظ

دور از لبِ ہر خسیس دوں باد

میرے محبوب تیرا حسن ہمیشہ بڑھتا رہے، تیرا چہرہ پورا سال لالہ گل کی طرح مہکتا اور مسکراتا رہے( یعنی اے اللہ! تیرے دین اور اہل دین کا غلبہ وقوت ہمیشہ بڑھتے رہیں اور شریعت اسلامیہ کا عروج و غلبہ تاقیامت قائم و دائم رہے)

میرے سر میں تیری محبت کا سودا سما گیا ہے، اب جتنے دن زندگی کے باقی ہیں یہ جذبہ محبت بڑھتا ہی رہے( یعنی اے اللہ! میرے دل و دماغ میں تیرے دین اورجہاد کی محبت سما چکی ہے، اب جب تک زندگی باقی ہے یہ محبت اور دین و جہاد سے لگاؤ بڑھتا ہی رہے۔ کبھی بھی دنیا کی چکا چوند دھوکہ باز روشنی مجھے اس راہ سے ہٹا نہ دے)

تمام عالَم کے حسینوں کا قد تیرے قد کے سامنے پست اور جھکا رہے( یعنی اے اللہ! دنیا کے دیگر تمام اَدیان ، آپ کے منتخب کردہ آخری وکامل دین اسلام کے سامنے سرنِگوں اور پست ہو کر رہیں کہ ’’لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ میں اسی کا پیغام تو چھپا ہو اہے اور یہی پیغام ہمیں اس راہ میں گامزن کیے ہوئے ہے)

تیرا وہ ہونٹ جو حافظ کی جان ہے، ہر کمینے کے ہونٹ سے دور رہے( یعنی دین اسلام اور شریعت اسلامیہ وجہاد کی محبت جو میرے رگ وپئے میں سما چکی ہے اور میری زندگی کی مٹھاس انہی سے جڑ چکی ہے تو اے اللہ! تو اس دین اور ملت کو ہر بدخواہ اور کمینے کافر کی جارحیت و دشمنی سے بچا لے)

٭…٭…٭

نبی کریمﷺ کی وفات کی خبر سننا حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے بے حد گراں تھا جس کا تصور بھی مشکل ہے اور سچ یہ ہے کہ ہمارے دور میں اُس نبی کے سچے وارث امیر المؤمنین ملا محمد عمر نور اللہ مرقدہ کی وفات کی خبر بھی اہل ایمان پر کچھ ایسی ہی بجلی بن کرگری تھی

پھر نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہنگامی حالات میں خلیفہ نامزد کر دیئے گئے تو ہنگامی حالات کی وجہ سے دو دشواریاں پیش آئیں:

کچھ اپنے مخلص دوست بعض مجبوریوں کی وجہ سے فوراً بیعت نہ کرسکے

اپنے ہی حلقوں میں سے شمار ہونے والے بہت سے لوگ اسلام سے منہ موڑ گئے اور بہت سوں نے ان کی خلافت سے بغاوت کی راہ اختیار کی

مگر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی خلافت کے مختصر دورانیے کے باوجود ان دونوں حالات پر بہت عمدگی اور مضبوطی و استقامت و استقلال کے ساتھ قابو پایا یہاں تک کہ دین اسلام کو مٹانے کا خواب دیکھنے والوں کے خواب چکنا چور ہوگئے اور بعد ازاں انہیں امیر المومنین سیدنا عمر الفاروق رضی اللہ عنہ جیسا صاحب علم اور صاحبِ جلال و ہیبت خلیفہ میسر آگیاجس نے دشمن کے دلوں پر مونگ دلے اور فتوحات کے دائرہ کار کو بے حد وسیع کردیا

امارت اسلامیہ افغانستان کو بھی کچھ ایسی ہی صورت حال کا سامناکرنا پڑا، ہنگامی حالات نے کچھ ایسی دھند پیدا کی کہ بعض اپنے مخلص احباب بھی امیر المؤمنین ملا اختر محمد منصورشہید قدس سرہ کی بیعت کرنے میں کچھ تاخیر کرگئے ، اگرچہ آخر کار وہ اس طرف بہر حال واپس لوٹ آئے تھے اور انہوںنے اخلاص و وفاء کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے ہاتھ پر بیعت کرکے جہادی وحدت میں پیدا ہونے والے خلاء کو پُر کر دیا اور اس طرح دشمنوں کو رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ دوسری جانب کچھ لوگ جہاد و خلافت ہی کے نام پر ایک فتنہ بن کر اُن کے سامنے اُبھر آئے مگر شانِ صدیقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے اپنی مختصر سی امارت کے زمانے میں مجاہدین کی وحدت کو بھی قائم کردیا اور جہاد کے نام پر فتنہ بننے والوں کی فتنہ پروری کو بھی’’ کند‘‘ کردیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کے بعد اہل ایمان کو شیخ الحدیث مولانا ہیبت اللہ اخونزادہ کی صورت میں ایک جلیل القدر صاحب علم اور بارُعب ’’امیر‘‘ نصیب فرمادیا ۔ اللہ تعالی ان کی ہیبت و جلال میں اضافہ فرمائے اور کافروں کی ذلت ورسوائی مزید بڑھ جائے! آمین

قرآن کریم نے ایسے ہی مواقع کے لیے غزوہ احد میں پیش آنے والے واقعے کو قرآن کریم کا حصہ بنا کر اہل ایمان کے لیے رہنمائی لینے کا پورا سامان فراہم کردیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ:

’’محمد(ﷺ) اللہ تعالیٰ کے ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں، پس اگر وہ فوت ہوجاتے ہیں یا قتل ہوجاتے ہیں تو کیا تم الٹے پاؤں واپس پِھر جاؤ گے؟ جو الٹے پاؤں واپس پِھر جائے گا وہ اللہ تعالیٰ کا تو کچھ بھی نقصان نہیں کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ تو شکر گزار بندوں کو ہی اچھا بدلہ عطاء فرماتے ہیں‘‘

شکر گزاروہ بندے ہیں جو ایسے مشکل اور مایوس کن حالات میں بھی ایمان اور جہاد پر قائم رہتے ہیں، جیسا کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غزوہ احد میں پیش آنے والے مشکل اور مایوس کن حالات میں بھی سنبھال لیے گئے اور ایمان و جہاد پر قائم کردیئے گئے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں بھی اپنے انہی شگر گزار بندوںمیں شامل فرمائے !

٭…٭…٭

اللہ تعالیٰ نے امیر المؤمنین حضرت ملا اختر محمد منصورشہید قدس سرہ کو مثالی صفات و خصائل اور کمالات و امتیازات عطاء فرمائے تھے ، اور یہ اللہ تعالیٰ کا ضابطہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے مخلص اور جفاکش ’’حکام و اُمرائ‘‘ ایسی عمدہ اور قابل تعریف صفات سے نوازتا ہے۔

سادگی: بعض روایات سے معلو م ہوتا ہے کہ ’’سادگی ایمان ہی کا ایک شعبہ ہے‘‘ ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس دور میں اپنے دین متین کے ان خادموں کو عموماً سادگی کا پیکر بنایا ہے مگر ان کے اُمراء اور امیر المومنین تو خاص سادگی کا ہی پیکر تھے ، چنانچہ ان کی شہادت کا واقعہ اور اس کی تفصیلات ہی اس پر سب سے بڑی گواہ ہیں کہ کس طرح ایک پوری ’’امارت و حکومت‘‘ کا سربراہ کس طرح نہایت سادگی اور پروٹوکول سے آزادنہ زندگی بسر کررہا تھا

استقامت: دین حق پر اخلاص کے ساتھ کاربند رہنا اور خواہشات کے ہاتھوں مغلوب ہو کر یا مشکلات کے سامنے گھٹنے ٹیک کر راہ حق سے منحرف نہ ہونا یہ استقامت کی حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ملا اختر محمد منصورشہید کو گویا استقامت کا پہاڑ بنایا تھا۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ ایسی پُرخار وادیوں میں گزرا جہاں سے اپنا دین اور اپنا ایمان سلامت لے جانا بے حد مشکل تھا، اس راہ میں مشکلات ساتھ ساتھ تھیں تو خواہشات ہر طرف سے پُرتعیش آفرز کے ساتھ فریب میں ڈالنے کے لیے صبح و شام آتی تھیں، اگر وہ اس راہ حق کو چھوڑ دیتے تو دنیا پر مرنے والے کتے ان کے سامنے دنیا کے ڈھیر لگانے کو تیار تھے مگر وہ نہ تو ان دنیوی مکرو فریب اور کافروں کی طر ف سے پیش کردہ آفرز کے سامنے دل ہار کو راہ حق سے ہٹے اور نہ ہی انہوں نے کئی درجن ممالک کی افواج اور منافقین کی سازشوں سے گھبرا کر راہ حق سے منہ موڑا، بلکہ وہ پورے استقلال اور استقامت کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے ۔

عزیمت وہمت: بہت سے لوگ اپنی ذات کی حد تک صاحب استقامت ہوتے ہیں، وہ خود کو مشکلات میں یا خواہشات کے سمندر میں سنبھال لیتے ہیں لیکن دوسروں کو تھامنا، اپنے رفقاء کو اپنے ساتھ بڑھائے رکھنا اوران کے عزائم و حوصلوں کو بلند رکھنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہوتی، اس کے لیے استقامت کے علاوہ عزم و ہمت بھی مطلوب ہوتی ہے جو نہ صرف خود بندے کو راہ حق پر گامزن رکھے بلکہ دوسروں کے عزائم میں بھی ایک قوت اور حوصلوں میں ایک بجلی دوڑا دے۔ چنانچہ حضرت ملا اختر محمد منصورشہیدقدس سرہ نے اس میدان کو بھی پورے عزم اور ہمت سے طئے فرمایا اور نہ صرف خود جہاد و نفاذشریعت کی راہ پر چلے بلکہ تنگی و آسانی ہر حال میں اپنے رفقاء اورمجاہدین کو بھی سنبھال سنبھال کر اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھاتے رہے۔ بقول شاعر:

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے

مزہ تو تب ہے کہ گِرتوں کو تھام لے ساقی

جرأت و شجاعت: نبی کریمﷺ کے اوصاف میں سے ایک وصف یہ بھی تھا کہ آپ ’’اشجع الناس‘‘ یعنی لوگوں میں سب سے زیادہ بہادرتھے۔ چناچہ ہر صاحب ایمان میں اس کے ایمان و یقین کے بقدر اس میں شجاعت و بہادری موجود ہوتی ہے۔ حضرت امیر المومنین شہید قدس سرہ اس وصف سے بھی وافر حصہ لیے ہوئے تھے۔ آپ نے جس طرح قلیل عرصے میں فتوحات کے ریلے چلائے اور دشمنوں کو بھاگم بھاگ شکست پر مجبور کیا اس پر قندوز وغیرہ کی فتوحات اور اقدامات شاہد عدل ہیں اور آپ کی یہی جرات وشجاعت تھی کہ امریکہ بہادر نام نہاد مذاکرات کے لیے سو جتن کرنے کے باوجود آپ کو اپنے سامنے جھکانے میں ذرہ برابر کامیابی بھی حاصل نہیں کرسکا۔ بقول شاعر:

وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونیں منظر سے

جس دور میں جینا مشکل ہو، اس دور میں جینا لازم ہے

اس جینے سے یہ مراد نہیں کہ موت ہی نہ آئے گی بلکہ مقصد یہ ہے کہ جن حالات میں دین حق پر قائم رہ کر جینا مشکل ہو تب مرد وہی ہوتا ہے جو دین حق پر قائم ہوجاتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ جب تک جان ہے میں دین حق پر قائم رہوں گا ، اب موت ہی مجھے اس دنیاسے کاٹ سکتی ہے ، دشمن اس میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔

حکمت وبصیرت: وہ حکمت و بصیرت جو مومنانہ فراست کا خاصہ ہے آپ میں بھی موجود تھی۔ ہاں وہ بزدلی جسے حکمت کا نام دیدیاجائے اس سے آپ کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس وقت جب چند مجاہدین نے انڈیا کا طیارہ ہائی جیک کیا تب بڑے بڑے اسلام کے قلعے کہلانے والے ملک بھی اس طیارے کو اپنی سرزمین پر اتارنے سے کترانے اور کپکپانے لگے مگر اس وقت امیر المومنین حضرت ملا محمد عمر قدس سرہ نے اسے سرزمین امارت اسلامیہ افغانستان پر اتارنے کی اجازت دی اور اس کے معاملات سنبھالنے کے لیے ایک یہی امیر المومنین ملا اختر محمد منصورصاحب اور دوسرے ملا اختر عثمانی صاحب کو ذمہ داریاں سونپیں اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ان سادہ مگر ایمانی حکمت سے لبریز درویشوں نے اس معاملے کو نمٹایا اور ساری دنیا کا کفر اپنے منہ پر ذلت و رسوائی کی کالک مَل کر ناکام و نامراد ہوگیا۔

باتیں تو اور بھی بہت ہیں مگر قلم کہہ رہا ہے کہ فی الحال اسی پر بس کردیاجائے ، وہ اس زمانے میں اسلام او رجہاد کی شان تھے، استقامت اور بصیرت کیا ہوتی ہے ؟ انہوں نے اپنے طرز عمل سے سمجھایا ، وہ جس راہ کے راہی تھے وہاں شہادت ہی سب سے بڑی آرزو ہوتی ہے سو انہوں نے وہ آرزو پالی ۔ ان کی تمام عمر کا قصہ حافظ شیرازی کے اس شعر میں سمٹ آیا ہے کہ:

دست از طلب ندارم تا کامِ من برآید

یا جاںرسد بجاناں یا جاں زِ تن بر آید

میں اپنے دوست اور محبوب کی رضاء مندی کی طلب سے اس وقت تک باز نہیں آؤں گا جب کہ میرا کام ہو نہ جائے، یامیری جان محبوب کی محبت میں فناء ہوجائے یا پھر یہ جان جسم سے ہی نکل جائے !

اور اردو شاعر کے بقول حضرت امیر المومنین ملا اختر محمد منصور شہید قدس سرہ یہ پیغام دے گئے ہیں کہ:

فناء فی اللہ کی تہہ میں بقاء کا راز مضمرہے

جسے مرنا نہیں آیا، اُسے جینا نہیں آیا

 

٭…٭…٭

 

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor