Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

دینی مدارس پر چند اعتراضات کے جوابات(نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 439 - Mudassir Jamal Taunsavi - deni madaris

دینی مدارس پر چند اعتراضات کے جوابات

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 439)

 ایک معاصر روزنامے میں ایک معروف(بلکہ مذہب پسند) کالم نگار نے ’’قومی سلامتی پالیسی اور دینی مدارس‘‘ کو موضوع گفتگو بناتے ہوئے، دینی مدارس پر چند تحفظات اور قابل اصلاح پہلووں کی نشاندھی کی ہے۔ ان صاحب کا کہنا ہے کہ ہمارا معاشرہ آج جس فرقہ واریت اور انتہاء پسندی کا شکار ہے، اس کا بڑا سبب دینی مدارس ہیں اور پھر اس کی چار وجوہات ذکر کی ہیں۔ ذیل میں ہم ان کی ذکر کردہ چاروں وجوہات کا نمبروار جائزہ پیش کرتے ہیں:

الزام(۱): پاکستان میں مدارس کی تنظیم مسلک کی بنیاد پر ہوئی، یہاں دین نہیں، مسلک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یوں سماج (معاشرے) میں مسلکی تقسیم کا سب سے بڑا ماخذ دینی مدارس ہیں۔

جواب: یہ الزام اس قدر سطحی اور غیرمعقول ہے جس کی کسی بھی صاحب نظر سے توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس کی وضاحت کے لیے دو باتیں پیش نظر رکھی جائیں: ایک تو یہ کہ پاکستان میںاس وقت جو مسالک موجود ہیں ، کیا یہ موجودہ دینی مدارس کی پیداوار ہیں یا یہ مسالک پہلے سے چلے آرہے ہیں؟ اگر تو یہ صرف ان مدارس کی پیداوار ہیں پھر تو اس کی ذمہ داری انہیں پر عائد کرنے کی بات ہوسکتی ہے لیکن اگر یہ مسالک بہت پہلے سے چلے آرہے ہیں تو پھر کس طرح اس مسلکی تقسیم کا ذمہ داران دینی مدارس کو بنایا جاسکتا ہے؟

دوسری بات جسے اصولی طور پر جاننا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ان مسالک کے وجود میں آنے کا سبب کیا ہے؟اس سبب کو جاننے سے پہلے تین باتوں کا جانناضروری ہے :

(۱) دین اسلام میں بنیادی طور پر دو قسم کے احکامات ہیں: (۱) عقائد ونظریات (۲) اعمال، خواہ ان کا تعلق معاشرت سے ہویا ملکی سیاست سے وغیرہ وغیرہ… اسلام نے عقائد ونظریات کے اختلاف کو مذموم اور فقہی اور فروعی اختلاف کو محمود قراردیا ہے۔ اس لیے ہر اختلاف کو مذمو م سمجھنا یہ کم فہم لوگوں کو شیوہ ہے۔

(۲) دین اسلام قیامت تک باقی رہنے والا آخری دین ہے اور ہر زمانے میں حالات میں تغیر وتبدل ایک فطری امر ہے، اس لیے اسلام نے کچھ ایسی اصولی ہدایات دیدی ہیں جن کی روشنی میں ہر زمانے کی مشکلات کاحل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ تمام مشکلات کے حل کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ لوگ پہلے خود کو کسی صریح حرام اورناجائز کام میں مشغول کر لیں اورپھر اہل علم کے پاس جائیں ، انہیں اپنی صورتحال بتائیں اوروہ جب یہ کہیں کہ یہ تو صریح حرام ہے تو پھر کہنے لگیں کہ اس کی کوئی جائز صورت بنا کر دیں! اب ظاہر ہے کہ اس صورت میں علماء کرام اس صریح حرام اورناجائز کو کیسے حلال یا جائز بنا سکتے ہیں؟ ایسے میں پھر وہ لوگ اپنے حرام کام کو بدلنے کی بجائے یہ راگ الاپانا شروع کردیتے ہیں کہ دیکھو جی اب ان حالات میں اسلام ہماری رہنمائی نہیں کرتا یا جورہنمائی کرتا ہے وہ ان حالات میں چل نہیں سکتی… تو یہ خود لوگوں کے غلط طرز عمل کا نتیجہ ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ اسلام کی تعلیمات میں کوئی نقص ہے۔

(۳) اس دنیا میں ہر انسان ایک آزمائش کے لیے ہے ، اور وہ آزمائش یہ ہے کہ کون اللہ تعالی کے نازل کردہ دین کو صحیح طریقے سے مان کر چلتا ہے اور آخرت کو مدنظر رکھتا ہے اور کون اس کے برخلاف راہ چلتا ہے۔ دین کے برخلاف راہ چلنے کی دو صورتیں ہیں: ایک تو یہ کوئی شخص دین کو سرے سے مانے ہی نہیں جیسا کہ ہندو، یہودی، عیسائی، بدھ مت وغیرہ کفار کہ انہوں نے دین محمدی کو سرے سے قبول ہی نہیں کیا، اورغلط روی کی دوسری صورت یہ ہے کہ دین اسلام کو قبول کرکے اس کی تشریحات وتعبیرات میں ایسے رُخ اختیار کرنا جو اس معیار کے خلاف ہوں جو معیار خود اس دین کے لانے والے پیغمبرﷺ نے مقرر فرما کر تعلیم فرمائے ہیں ۔

اب سنئے! ہوتا یوں ہے اور ایسا ہونا ناگزیز بھی ہے کہ لوگوں نے دین کے مختلف عقائد ونظریات کے بارے میں اپنی غلط روش کے باعث کوئی ایسی چیز پیش کردی جو دین کے معیار کے خلاف ہے تو اس طرح وہ شخص دین کے اندر رہتے ہوئے ایک نئے مسلک کی بنیاد ڈالنے والا ہوگیا۔ جیسا کہ خود متذکرہ بالا کالم نگار کے استاذ جناب غامدی صاحب نے باوجود اس کے کہ وہ کسی دینی مدرسے سے تعلق نہیں رکھتے ، ایک نئے مسلک کی بنیاد رکھ دی ہے، جسے اس وقت اہل علم کے حلقے میں’’غامدی فرقہ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے اور خود یہ حضرات اپنے طرز کو ’’امام فراہی‘‘ کی طرف منسوب کر کے اپنے لیے جداگانہ تشخص کا استعارہ بناتے ہیں۔ بلکہ اگر خود غامدی صاحب کے اس  طرز عمل کو دیکھا جائے تو خورشید ندیم صاحب کا یہ الزام باطل کرنے کے لیے ان کے اپنے گھر کی یہی مثال کافی ہوجاتی ہے اور پتہ چل جاتا ہے کہ مسلکی تقسیم کا سبب دینی مدارس نہیں ہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو دینی مدارس سے کٹ کر اپنے لیے جداگانہ دینی،مذہبی اورمسلکی تشخص قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب کچھ قوت پکڑ لیتے ہیں تو ان کی وہی حلقہ اثر ایک مستقل نئے مسلک کو وجود دیدیتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں معتزلہ ایک معروف ترین قدیم فرقہ ہے، یہ فرقہ بھی اسی طرح پید اہوا کہ بصرہ میں حضرت حسن بصری رحمہ اللہ دینی تعلیم دیا کرتے تھے ، مگر ایک صاحب کو حضرت حسن بصری کی تعلیم اورفکر وعقیدے سے اختلاف پیدا ہوا اوروہ ان سے الگ ہوگئے ، اسی بنیاد پران کا نام بھی معتزلہ(الگ ہوجانے والے) پڑگیااورپھر اسی نے جوایک نیا حلقہ قائم کیا وہ ایک مستقل فرقہ اورمسلک بن گیا۔

الغرض جو اختلاف پید اہوتا ہے وہ دینی تعبیرات میں پیدا ہوتا ہے ،اوران صاحب نے جس طرز پردینی مدارس کو مسلکی تقسیم کا بنیادی سبب قراردیا ہے، تو اس منطق کی رو سے دینی مدارس سے پہلے خود اس دین کو ان اختلافات کا ذمہ دارقراردیناچاہئے؟ لیکن ظاہر ہے کہ جس طرح خود دین کو ان اختلافات کا ذمہ دار قراردینا انتہائی حماقت کی نشانی ہے اسی طرح بلاتفریق دینی مدارس کو مسلکی تقسیم کا سبب قراردینا کم فہمی کی نشانی ہے۔

الزام(۲): پاکستان میں دوسرے مذہبی مسالک کے خلاف تکفیر سمت جو بھی انتہاء پسندانہ رجحانات اٹھے، ان سب کا سرچشمہ دینی مدارس اوران کے فارغ التحصیل لوگ ہیں۔

جواب: یہ الزام پہلے الزام سے بھی زیادہ گھٹیا اور نرا بے بنیاد ہے۔ پاکستان میں جن لوگوں کے خلاف پرزور طور پر تکفیر کی مہم چلی وہ دوگروہ ہیں: (۱)قادیانی (۲) رافضی… ان میں سے اول الذکر کی تکفیر کو انتہاء پسندی کہنے یا اس کے بارے میں دینی مدارس کو مطعون کرنے والوں کو تو ہم کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے۔ کیوں کہ انہیں تو حکومتی سطح پر کافر قراردے کر یہ معاملہ نمٹاجاچکا ہے اوراب اگر کسی کو اس پر تکلیف ہے تو وہ خود اپنے ایمان کی فکر کرے۔

رہا دوسرارافضیوں کاگروہ ، جن کے خلاف تکفیر کی بات ملک پاکستان میں پوری قوت سے اٹھی، تو اس میں بھی دینی مدارس کو الزام دینا انتہائی گھٹیا سوچ اور انتہائی گھٹیا پروگیگنڈہ ہے جو ان صاحب نے دینی مدارس کے خلاف کیا ہے۔ ورنہ یہ حقیقت کون نہیں جانتا کہ رافضی وہ گروہ ہے جو آج نہیں بلکہ گزشتہ کئی صدیوں سے اسلام کی اولین جماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تکفیر کرتا ہوا آرہا ہے، یہ الگ بات ہے کہ کسی زمانے میں ان کی طرف سے یہ تکفیر چھپ چھپا کر ہوتی تھی اور کبھی علیٰ الاعلان، اسی نہج پر جب ان رافضیوں کو ایران میں کھلی حکومت ملی تو ان کا یہ تکفیری مسلک بھی نمایاں ہوگیا، اوران کی طرف یہ تکفیری لٹریچر ایران کے علاوہ پاکستان میں بھی منظم منصوبہ بندی کے ساتھ پھیلایا اوران رافضیوں کے مدارس میں پڑھاپڑھایا جانے لگا تب علماء وقت کے لیے خاموش رہنا مشکل ہوگیا اورانہوںنے قوم کو یہ پیغام دیا کہ جو لوگ صحابہ کرام کو کافر کہتے ہیں اورقرآن کوتحریف شدہ کہتے ہیں آیا انہیں اپنے ساتھ مسلمانوں کی صف میں شامل رکھنا چاہتے ہویا صحابہ کرام کو مسلمان مان کو ان کے ساتھ رہنا چاہتے ہو؟ کیوں کہ اب دو ہی راستے تھے یاتو ان رافضیوں کو مسلمان مان کر صحابہ کرام کو (معاذ اللہ) کافر سمجھا جائے یا پھر صحابہ کرام کو مسلمان سمجھ کر خود ان رافضیوں کو کافر قراردیدجائے ؟اب خود ہی ظاہر ہے کہ ہم تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہی مسلمان سمجھیں گے بلکہ اعلی ترین مسلمان سمجھیں گے اورہر حال میں سمجھیں گے ، اگر کسی کو اس پر تکلیف ہے تو سو بار ہوتی رہے بلکہ وہ جہنم کی آگ میں جلتا رہے، اور خود کو ہی ملامت کرتا رہے۔

ان دوگروں (قادیانیوں اور رافضیوں) کے علاوہ جو کسی بھی بڑے مسلک یا فرقے کی پرزور اورعلی الاعلان تکفیر کی کوئی مہم نہیں چلائی گئی، دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث مسالک کااختلاف ایک معروف سی بات ہے مگر میرے ناقص علم کے مطابق ابھی تک ان میں سے کسی نے بھی کسی کے خلاف تکفیر کی مہم نہیں چلائی اگرچہ بعض افراد نے دوسروں کی تکفیر بازی کی بھی ہو مگر بحیثیت مسلک کے کسی نے بھی دوسرے مسلک کو قابل تکفیر سمجھ کر اس کے خلا ف مہم نہیں چلائی، تو پھر کس طرح دینی مدارس کو اس کا ذمہ دار قراردیا جاسکتا ہے؟

اور پھر اہم ترین قابل غور بات تو یہ بھی ہے کہ کسی کی ’’تکفیر‘‘ کا معاملہ سراردینی معاملہ ہے اور دینی معاملات کا سرچشمہ ومرکز دینی مدارس ہی ہیں تو ظاہر ہے کہ اگر کوئی کافر بنے گا تو اس کی تکفیر کی آواز بھی دینی مدارس سے ہی اٹھے گی، اب یہ تو ہو نہیں سکتا ہے کہ تکفیر جیسا اہم دینی معاملہ ہو اوراس کے حل کے لیے مسلمان کسی اسپتال کا رخ کریں گے یا کسی انجینئرنگ کالج اورسائنس ومیڈیکل یونیورسٹی کارخ کریں گے اورہاں جاکر ڈاکٹر صاحب سے پوچھیں : جناب ڈاکٹرصاب! فلاں شخص ایسے ایسے عقائد رکھتا تو وہ کافر ہے یا نہیں؟ اب وہ ڈاکٹر صاحب ’’میڈیکل بُکس‘‘ اٹھا کر فورا اس مسئلے کو حل کرنے میں لگ جائیں گے؟ جب ظاہر ایسا نہیں ہوتا تو پھر ایسا بے تکا الزام دینی مدارس کو دینا کہاں کی عقل مندی ہے؟

الزام(۳):’’ طالبان پاکستان میں جس دینی تعبیر کی بنیاد پر مسلح جدوجہد کررہے ہیں اس کا دینی استدلال بھی ان لوگوں نے فراہم کیا جن کا تعلق دینی مدارس سے تھا…‘‘

جواب: یہاں دوباتیں : اول تو یہ کہ طالبان پاکستان کی جدوجہد شریعت کے مطابق ہے یا نہیں؟ کیوں کہ اگر شریعت کے مطابق ہے تو پھر تو خود ان طالبان کو ہی الزام دینے کا کئی مطلب نہیں بنتا چہ جائے کہ ان کی وجہ سے دینی مدارس کو الزام دیا جائے اور اگر ان کی جدوجہد کو غیر شرعی مان لیا جائے تو پھر بھی ان کی وجہ سے دینی مدارس کو الزام دینا سراسرغلط ہے،کیوں کہ کسی مسلمانوں کی کسی بھی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد محض آج کے طالبان پاکستان کا کوئی پہلا اقدام نہیں ہے، بلکہ اس طرح کے اقدامات تو شروع اسلام کے زمانے میںبھی ہوچکے ہیں، اور اس نوع کے درست اورغلط دونوں قسم کے اقدامات کی مثالیں موجود ہیں، ایک طرف حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بنوامیہ کے خلاف مسلح جدوجہد بھی موجود ہے اوردوسری طرف خوارج کی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف مسلح جدوجہد بھی موجود ہے، تو ان دونوں کی مسلح جد وجہد کے وقت کون سے یہ دینی مدارس موجود تھے؟

(بقیہ صفحہ۶ پر)

جب یہ دینی مدارس موجود نہیں تھے تب بھی ایسا ہوا اورصرف مسلمانوں میں نہیں بلکہ کفار کے ملکوں میں بھی ایسا ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا۔ اس معاملے کو فی الوقت دینی مدارس سے جوڑنا انتہاء درجے کی کم عقلی ہے یا پھر یہ بات وہی شخص کرسکتا ہے جسے دینی مدارس کا وجود ہی برداشت نہیں ہے اوراب وہ اس آڑ میں دینی مدارس کے خلاف اپنے مذموم مقاصد کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔

الزام(۴): مدارس کا یہ نظام ریاست کے قانون سے نہیں چلتا۔ اس کے نصاب میں حکومت کا کوئی حصہ ہے نہ انتظام میں……‘‘

جواب: اس الزام کے تفصیلی جوابات ایک بار نہیں ، کئی بار دیئے جاچکے ہیں، اورہم جانتے ہیں کہ دینی مدارس کے بارے میں یہ کوئی نیا شکوہ نہیں ہے بلکہ یہ شکوہ اس وقت سے چلا آرہا ہے جب بھی کسی آمر یا جمہوری صاحب اقتدارکو اپنے غلط روش کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی دینی مدارس نظر آتے ہیں تو اس کے پاوں پھول جاتے ہیں اور اس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح دینی مدارس کو اپنی مٹھی میں بند کرلوں … مگر یاد رکھنا ایسا نہ پہلے کبھی تاریخ میں ہو اہے اورنہ ہی آئندہ ہونے والا ہے، اس لیے اس بارے میں سوچنا بھی فضول ہے ، ہاں اگر مشق آزمائی کا شوق ہے تو آئیے: ہمیں میداں، ہمیں چوغاں!

پھر یہ بات تو ہر آدمی کھلی آنکھوں دیکھ رہا ہے کہ ہماری حکومتوں کی ترجیحات کیسی ہیں؟ ان سے ابھی تک صرف عصری تعلیمی درسگاہیں نہیں سُدھر سکیں، پہلے ان کو تو سدھار لیں پھر دینی مدارس کی بات کریں۔ عصری تعلیمی اداروں کی تعلیمی، تربیتی، معاشی، معاشرتی اوراخلاقی کیفیات کیا ہیں ؟ وہ ہم بھی جانتے ہیں مگر خاموش ہیں…ورنہ کون نہیں جانتا کہ آج ہمارے معاشرے میں معاشی لوٹ کھسوٹ میں کون ملوث ہیں؟ تعلیم کو کاربار بنا کر کو بیچ رہے ہیں؟ تمام سرکاری اداروں کی تباہ حالی کن لوگوں کو نظرکرم کا نتیجہ ہے؟ عدالتوں میں فیصلے کون بیچتے ہیں؟ اسپتالوں میں دم توڑتے مریض کس کو بددعائیں دیتے ہیں؟ تھانوں میں ناحق سزائیں دینے والے کون ہیں؟

حیرت ہوتی ہے ان کم فہم لوگوں کی تضاد بیانی پر : ایک طرف کہتے ہیں کہ دینی مدارس قومی دھارے سے کٹے ہوئے ہیں اور دوسری طرف پاکستان کی تمام تباہیوں کا ذمہ دار بھی دینی مدارس کو ٹھہراتے ہیں؟

الغرض حکومت اگر مخلصانہ طور پر اصلاح احوال چاہتی ہے تواس کو چاہئے کہ سب سے پہلے اپنے اندر تبدیلی لائے اور خود کو اللہ تعالی کے نازل کردہ دین کے تابع کرے تب نیچے بھی معاملات سدھر جائیں گے، ورنہ ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ حکومت خود بے دینی پر قائم ہو اور چل پڑے دینی مدارس کی اصلاح کرنے؟ مشہور عالم مقولہ ہے:

الناس علی دین ملوکہم

لوگ بادشاہوں کے دین اوربادشاہوں کے طرز پر ہوتے ہیں

اگر معاشرے میں انتہاء پسندی اور بے دینی ہے تو اس کاسبب دینی مدارس ہرگز نہیں بلکہ خووحکومتی رویے ہیں۔ کاش کہ کوئی سمجھے!!!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online