Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

دِل کا سوداکرو!(نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 440 - Mudassir Jamal Taunsavi - Dil ka soda karo

دِل کا سوداکرو!

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 440)

نہ ابوالکلام جیسا قلم جو سوئے ہوؤں کو جگادے، جاگنے والوں کو دوڑادے اوردوڑنے والوں کو منزل کی سمت دکھا دے، اور نہ ہی شاہ جی والی خطابت کا تصور جو کفر کے ایونوں کو لرزہ براندام کردے اور نہ ہی خالد جیسی للکار جو دشمن کے برج زمین بوس کردے… ایک ایسا موضوع پر جس پر لکھتے ہوئے قلم لڑکھڑاجاتا ہے، بولتے ہوئے زبان گنگ ہونے لگتی ہے، سوچتے ہوئے دماغ آتش فشاں بن جاتا ہے، جسم کے روئیں روئیں سے دردکی ٹیسیں اٹھنے لگتی ہیں، زبان شعلے اُگلناچاہتی ہے مگر دل بیٹھ جاتا ہے، آنکھیں آنسو بہانا چاہتی ہیں مگر ضمیر کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں، بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں لیکن وہ دردوبے کلی کانٹا بن کر دل میں یوں چبھ جاتی ہے کہ سانس ہی حلق میں آکر اٹک جاتا ہے، پھر اچانک بہادر شاہ ظفر یاد آجاتے ہیں جو کچھ ایسی ہی بے بسی اوربے کسی کے عالم میں کہہ گئے ہیں:

جا کہیو اُن سے نسیم سحر، میرا چین گیا میری نیند گئی

تمہیں میری، نہ مجھ کو تمہاری خبر، میرا چین گیا میری نیند گئی

اے برق بجلی، بہارِ خدا، نہ جلا مجھے، ہجر میں شمع سا

میری زیست ہے مثل چراغ سحر، میرا چین گیا میری نیند گئی

کہتا ہے یہی رو رو کے ظفر ، میری آہ رسا کا ہوا نہ اثر

تیرے ہجر میں موت نہ آئے مگر، میرا چین گیا میری نیند گئی

جس قوم کی ’’عافیہ بہن‘‘ کافروں، ظالموں، سرکشوں، بدمعاشوں، اور عالمی دہشت گردوں کے شکنجے میں جکڑی ہو اور وہ قوم اپنی رنگ رلیوں میں مگن ہوتو پھر بھلا اُس قوم پر آفتیں کیوں نہ آئیںگیں؟ جب ’’عافیہ‘‘ روٹھ گئی تو پھر’’آفت‘‘ ہی آکر ڈیرے ڈالے گی؟

 اللہ تعالی رحمت فرمائے حضرت عبداللہ بن مبارک پر ، کیسے دردناک اشعار کہہ کر امت کو جہاد کی طرف بلا رہے ہیں اور کس پُرسوز انداز سے اپنے قیدیوں اور خاص کر مسلمان عورتوں کو دشمن کے ہاتھوں سے چھڑانے کے لیے پکار رہے ہیں:

کیف القرار و کیف یہدأ مسلم

والمسلمات مع العدو المعتدی

الضاربات خدودھن برنۃ

الداعیات نبیھن محمد

القائلات اذا خشین فضیحۃ

جھد المقالۃ لیتنا لم نولد

ماتستطیع ومالھا من حیلۃ

الا التستر من اخیھا بالید

کوئی مسلمان کیسے پُرسکون ہوسکتا ہے اور کیسے قرارمل سکتا ہے؟ حالانکہ مسلمان بہنیں ، ظالم دشمنوں کی قید میں ہیں!وہ بہنیں چیخ وپکار کرتے ہوئے اپنے چہروں کو پیٹتی ہیں، شدت غم سے اپنے نبی محمدﷺ کو صدائیں دیتی ہیں، جب انہیں اپنی عزت پر خوف محسوس ہوتا ہے تو وہ بے چین اور بے بس ہو کر یہ تمنا کرتی ہیں کہ: کاش ہم پیدا ہی نہ ہوئی ہوتیں!، وہ اس قدر بے بس ہوتی ہیںاور لاچار ہوتی ہیں کہ ان کے پاس اپنے بھائیوں سے پردہ کرنے کے لیے سوائے ہاتھوں کے کچھ نہیں ہوتا!!

آہ!اس دور میں مسلمانوں کی عزت کانشان، عافیہ صدیقی بہن، دشمن نے یوںتواور بھی مسلمان خواتین کو قید کیا ہوگا مگر کچھ واقعات اپنی الگ ہی پہچان بنالیتے ہیں، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری اوردشمن کی قید وبند کچھ ایسا ہی واقعہ ہے جو اب صرف ایک مسلمان بہن کا نام نہیں، بلکہ ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے لیے عزت اورذلت کا معیار بن چکا ہے، یہ وہ مظلوم بہن ہے جسے دشمن نے عالمی سطح پر متعارف کرویا، عالمی سطح پر اسے مجرم قراردیا، گویا عالمی سطح پر مسلمانوں کو چیلنج کیا گیااور عرب وعجم کے مسلمانوں کو للکارا گیا:

اے مسلمانو! یہ دیکھو ، یہ تمہاری مسلمان بہن ہے؟ یہ تمہاری عزت اورآبرو ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو لو ہم اسے علی الاعلان مجرم قراردیتے ہیں، ہم اس پر علی الاعلان سزا کے نفاذ کا فیصلہ سناتے ہیں،ہم نے اسے تم سے چھین لیا ہے، یہ ہماری جیلوں میں رہے گی، یہ ہماری فوجیوں کے بوٹوں کی دھمک سنے گی، یہ ہمارے منحوس قہقہے سنے گی، ہم نے اسے اپنی ماں، بہن اور اولاد سے جدا کردیا، ہم نے اس پر فردجرم عائد کی، ہم نے ہی اسے سزا سنادی، اب مسلمانوں میں کوئی ہے مائی کا لال جو ہمیں چیلنج کرسکے؟ کوئی ہے جو ہم سے اس کا حساب مانگ سکے؟ کوئی ہے جو اس کو رہاء کرواسکے؟ کوئی ہے جو ہمارے خلاف کوئی محاذ کھڑا کرسکے؟

آہ! ہر طرف سناٹا ہے، ہر طرف خاموشی ہے، ہر طرف اندھیرا ہے، امریکہ کی طرف دوڑنے والے بہت ہیں مگر اس کے سامنے ڈٹ جانے والے بہت تھوڑے، امریکہ سے بھیک مانگنے والے بہت ہیں مگر امریکہ کے سامنے سراٹھانے والے بہت تھوڑے، امریکہ کو دوست قراردینے والے بہت ہیں مگر امریکہ کی دشمنی کا صحیح ادراک رکھنے والے بہت تھوڑے، امریکی دولت پر جان ومال اورعزت نچھاور کرنے والے بہت ہیں مگر امریکہ کی عزت کو خاک میں ملانے والے بہت تھوڑے، مسلم ممالک کی فوجی قوت بہت ہے مگر وہ خود امریکی گرانٹ پر پلنے والی پھر بھلا وہ کسی ’’عافیہ‘‘ کے لیے امریکہ سے پنگا کیوں لے؟ عرب بادشاہوں کی تجوریاں لبالب بھری ہوئی ہیں مگر وہ تو خود امریکی وبرطانوی تجارتی کمپنیوں میں شراکت دار ہیں پھر بھلا کون اپنا مال دے کر کسی ’’عافیہ‘‘ کی رہائی کے لیے قدم بڑھائے؟ مسلمانوں کے حکمران خود امریکی چھتری تلے سایہ گزیں ہیں پھر بھلا کسی ’’عافیہ‘‘ کے لیے وہ کیوں کڑکتی دھوپ کی جلن برداشت کریں؟ گیارہ سال کی طویل مدت بیت گئی، مگرکہیں سے کوئی طوفان نہ اٹھا؟

مسلمانو! سوچو تو سہی تمہاری یہ بہنیں آخر کب تک تمہیں بیدار کرنے کیلیے ’’قربانی‘‘ دیتی رہیں گی؟ قرآن نے جہاد کے لیے پکارا مگر ہم غفلت میں پڑے ہیں، نبی کریمﷺ کی سیرت کے جہادی زمزمے اور غیرت مندانہ غلغلے تمہیں جہادکا راستہ دکھارہے ہیں تو پھر دیر کیسی؟ ایک یہودی نے ایک مسلمان عورت کو تھپڑ مارا تو اس وقت کی پوری اسلامی ریاست یکدم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان یہودیوں کو سبق سکھانے کے لیے چل پڑتی ہے، مگر آج ایسی ریاست کہاں ہے؟ افغانستان کی امارت اسلامیہ نے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے قربانی کی اعلیٰ مثال قائم کردی مگرمسلمانوں نے ان کا ساتھ دینے کے بجائے انہی کو تنہاء کھڑا کردیا۔

سیاست دانو! اگر تمہاری سیاست سے عافیہ واپس آسکتی ہے تو آج موقع ہے اسے لے آو شاید یہی عمل تمہاری نجات کا سبب بن جائے

وکیلو! اگر تمہاری وکالت سے عافیہ پر تنے ہوئے کفریہ جالے ٹوٹ سکتے ہیں توآج سے اپنی وکالت کی شعبدہ بازیاں اسی کے لیے وقف کردو

عالمی تجارت کے گن گانے والو! اگر تمہارے پیسے سے عافیہ کے مجرم اس کی بیڑیاں کھول دیتے ہیں تو آج سے یہی تجارت شروع کردو

قلم کارو! اگر تمہارا قلم عافیہ کادرد امت میں جگا سکتا ہے تو اسی راہ میں اپنے قلم کی سیاہی خشک کرڈالو

مسجد ومحراب میں رونے والو! اگر تمہارے آنسو اورنالہائے نیم شبی کوئی کرامت دکھا سکتے ہیں تو اپنے آنسوؤں کا رُخ اسی سمت میں موڑ دو

اے مجاہدو! تمہیں میں کیا کہوں؟ تم تو اپنی جان سب سے پہلے رب کے ہاں فروخت کرچکے ہو، پھر دنیا کی طرف کیوں دیکھتے ہو؟ پھر واپسی کے راستے کیوں یاد رکھتے ہو؟ تو آگے بڑھو، بڑھتے چلے جاؤ، قربان ہوتے چلے جاؤ آخر کسی کے خون کے چھینٹے اس درودیوار سے ٹکرائیں گے اور کوئی مجاہد برق وباراں بن کر وہاں برسے گا اور ان جیلوں کے رکھوالوں کے چیتھڑے اڑیں گے، ان کی مائیں بھی روئیں گی، ان کے گھروں میں بھی ماتم برپاہوگا، تب انہیں پتہ چلے گا کہ ’’اسلام‘‘ کے فداکار کیسے ہوتے ہیں؟

اورسنو! ایسے قافلے چل پڑے ہیں، ایسے نوجوان گھروں کو الوداعی سلام کرچکے ہیں، اب ان کا اوڑھنا بچھونااوران کی زندگی اورموت یہی مشن بن چکا ہے، اب اپنا تن قربان ہوتب بھی کامیابی ہے اوردشمن کا خون فوارے کی دھاریں مارے، اُن کا کام تب بھی پورا ہے، یہاں تو مشن پر فداء ہوجانا ہی کامیابی ہے:

قدم ہے راہِ اُلفت میں تو منزل کی ہوس کیسی؟

یہاں تو عین منزل ہے، تھکن سے چورہوجانا

یہاں تو سرسے پہلے، دل کا سودا شرط ہے یارو!

کوئی آسان ہے کیا؟ سرمد ومنصور ہوجانا؟

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online