Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ایک شام بزم یوسفی کے ساتھ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 441 - Mudassir Jamal Taunsavi - aik sham bazm e yousufi kay sath

ایک شام بزم یوسفی کے ساتھ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 441)

یہ ایک روح پرور اور معلومات افزاء دینی وعلمی مجلس تھی، جو مرکزعثمان وعلی رضی اللہ عنہما، بہاولپور میں منعقد ہورہی تھی۔ ملک بھر سے دینی مدارس کے طلبہ کرام اوران کے متعلقین اوردوست احباب اس میں شرکت کے لیے جوق درجوق پہنچ رہے تھے۔ یہ مجلس المرابطون کی کاوشوں سے بزم یوسفی کے زیراہتمام آل پاکستان فائنل تقریری مقابلے میں سلسلے میں منعقد ہورہی تھی، اور اس مقابلے میں تقریر کاعنوان تھا: علمائِ امت کی جہادی تصانیف۔

 بروز جمعرات (ستائیس مارچ)جامع مسجد عثمان وعلی اورجامعہ الصابر کے درودیوار خوبصورت بینرز اورپینافلیکس سے آراستہ تھے، اور پھر ان بینرز اور پینافلیکسز پر لکھی ہوئی فکرانگیز اور سبق آموز تحریریں تو ہر پڑھنے والے کو اپنی طرف متوجہ کرہی رہیں تھیں۔مقابلے کا آغاز جمعرات عشاء کے بعد ہونا تھا مگر بہت سے مہمان اور مقررین طلبہ اوران کے رفقاء کار کی آمد جمعرات ظہر کے وقت سے ہی شروع ہوچکی تھی۔بہت سے علاقوں کے محبین ومعاونین گاڑیوں پر قافلے کی شکل میں تشریف لائے تھے۔ کراچی کے مہمان تو ایک دن قبل ہی سفر پر نکل چکے تھے۔ مسجد کا اندرونی ہال میں موجود چاروں طرف قرآنی آیات، احادیث نبویہ اورامیرالمجاہدین حفظہ اللہ تعالی کے اقوال زریں پرمشتمل خوبصورت بینرز دعوت جہاد دے رہے تھے۔ مسجد کے محراب کے بالائی حصہ پرایک طویل وعریض پُررونق پینافلیکس ناظرین کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث بنا ہوا تھا۔ اسٹیج کے ایک جانب مہمان علماء کرام کے لیے اوردوسری جانب مقررین طلبہ کے لیے جگہ مقرر کی گئی تھی۔ آگے بڑھنے سے قبل مناسب ہے کہ ’’بزم یوسفی‘‘ کا مختصر تعارف کرادیا جائے۔

’’بزم یوسفی‘‘ ایک تربیتی فورم ہے، یہ فورم دینی مدارس میں سرگرم عمل ’’المرابطون‘‘ کی ایک ذیلی شاخ ہے ، جبکہ ’’المرابطون‘‘ امیرالمجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہرحفظہ اللہ تعالی کی زیرامارت کام کرنے والی ایک خالصتاً تربیتی واصلاحی تنظیم ہے۔

بزم یوسفی : محسن المجاہدین حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے نام نامی کی طرف منسوب ہے اور اس کے قیام  کا مقصد یہ ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ کرام کی طرف راغب کیاجائے اوران کو دینی موضوعات اور عصرحاضر کی ضروریات کو سامنے رکھ کر تقریر وخطابت کے سلسلے میں رہنمائی کی جائے اور انہیں اس مقصد کے لیے باقاعدہ مواقع مہیا کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے ہر سال ملک گیر سطح پر تقریری مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ تقریری مقابلے دو مرحلوں میں پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں: پہلے مرحلے میں ڈویژنز سطح پر ان مقابلوں کا انعقاد ہوتا ہے، جس میں اس ڈویژن کے دینی مدارس کے طلبہ کرام ذوق وشوق کے ساتھ حصہ لیتے ہیں، ان مقابلوں کے انعقاد کے سلسلے میں تمام انتظامات ہر علاقے کے المرابطون کے منتظمین حضرات ہی کرتے ہیں۔ جب ڈویژنز سطح کے مقابلے مکمل ہوجاتے ہیں تو جو طلبہ کرام ان میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہیں پوزیشن کے مستحق قرار پاتے ہیں تو بعدازاں ان کے لیے حتمی تقریری مقابلہ مرکزعثمان وعلی رضی اللہ عنہما، بہاولپور میں منعقد کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ دونوں مراحل کے تقریری مقابلوں کاعنوان الگ الگ ہوتا ہے اور بزم یوسفی کی طرف سے دونوں مراحل میں پوزیشن لینے والے طلبہ کو امتیازی انعامات جبکہ دیگر تمام شرکاء مقررین کو بھی اعزازی انعامات دیئے جاتے ہیں۔ ان انعامات میں نقد رقم، بیش قیمت علمی کتابیں، اور ایک عمدہ قسم کی شمشیر شامل ہوتی ہے، جس میں یہ پیغام ہوتا ہے کہ علوم نبوت کے وراث علماء وطلبہ کو علم وجہاد کی جامع نسبتوں کا حامل ہونا چاہئے۔

اس سال (۱۴۳۵ھ) میں فائنل تقریری مقابلے کا عنوان تھا: علمائِ امت کی جہادی تصانیف‘‘… اس فائنل مرحلے سے قبل تقریبا آٹھ ذیلی تقریری مقابلے منعقدہوچکے تھے اوران مقابلوں میں جو طلبہ اول، دوم اورسوم پوزیشن لے چکے تھے، وہ تمام اس فائنل تقریری مقابلے میں شرکت کے حق دار ٹھہرے۔ چنانچہ ستائیس مارچ بروز جمعرات مرکز عثمان وعلی رضی اللہ عنہما میں یہ فائنل مقابلہ ہوا، جس میں کل شرکاء مقابلہ ۳۱ طلبہ تھے، جس میں کراچی سے لے کر بالاکوٹ تک کے طلبہ شامل تھے۔ اس تقریری مقابلے کے مہمان خصوصی معروف جہادی قائد حضرت مفتی عبدالروف اصغر صاحب حفظہ اللہ تعالی تھے، جبکہ المرابطون کے مرکزی ناظم مولانا محمد خادم قاسمی صاحب بذات خود اس تقریب کی نگرانی اورانتظام میں برابر شریک رہے، ان کے ساتھ المرابطون کے دیگر ذمہ داران میں سے مولانا جمال الدین صاحب، مولانا محمد عامر صاحب، اورمولانا کلیم اللہ سیف صاحب بھی معاونت کرتے رہے۔ اس موقع پر جامعۃ الصابر کے طلبہ کرام نے بھی نہایت چستی اوربلند ہمتی کے ساتھ سیکیورٹی اور دیگر خدمات سرانجام دیں۔ کراچی سے تشریف لانے والے مہمان خصوی مولانا خالد الاسلام صاحب نے تقریری مقابلے میں نقابت کے فرائض احسن انداز میںسرانجام دیئے۔ اس تقریری مقابلے کے منصفین میں معروف جہادی رہنما مفتی اصغرخان کشمیری صاحب، امیرالمجاہدین کے برادرصغیر مولانا محمد عمارصاحب اور راقم السطور شامل تھے۔ علاوہ ازیں حسن اتفاق سے اس موقع پر کراچی سے تشریف لانے والے ایک اورمہمان، حضرت مولانا حکیم محمداخترصاحب رحمہ اللہ کے خلیفہ مجاز حافظ محمد نثارصاحب بھی اپنے چند رفقاء سمیت اس مجلس کی زینت بنے ہوئے تھے۔

تقریری مقابلے کا باقاعدہ آغاز جمعرات عشاء کی نماز کے بعد ہوا، اس موقع مقررین طلبہ کے علاوہ جماعت کے معروف جہادی نظم خواں جناب قاری غلام عباس صاحب نے پُرجوش جہادی نظموں سے ماحول کو خوب گرمائے رکھا۔مقررین طلبہ نے نہایت محنت اورلگن کے ساتھ موضوع کی تیاری کررکھی تھی، علماء امت کی جہادی تصانیف کے حوالے سے حیرت انگیز معلومات سامعین کے گوش گزار ہوتی رہیں، طلبہ کرام اس مشکل علمی اورتاریخی موضوع کو بہت خوبصورتی اورمحنت کے ساتھ دلچسپ اور پُرجوش موضوعات کی طرح نبھانے کی بھرپوش عمدہ کوشش کرتے رہے۔ سامعین کوحیرت اس بات پرتھی کہ وہ جہادی موضوع جو آج کے مصنفین کے ہاں ایک اجنبی موضوع ہے، مگر یہی موضوع ہمارے اکابر واسلاف کے ہاں بہت مرغوب اورپسندیدہ موضوعات کی فہرست میں شامل تھا، یہی وجہ ہے کہ اس مختصر سی نشست میں جن کتابوں اور مصنفین کا تذکرہ ہوا، اس میں ماضی کے تقریبا تمام ہی ائمہ کرام اور محدثین عظام شامل ہیں، اوراس موضوع پر لکھی گئی کتابیں اتنی کثیر تعداد میں ہیں کہ صرف ان مختصر سی تقاریر میںسینکڑوں کتابوں کے نام سننے کو مل گئے۔ اکابر واسلاف کی علمی کاوشوں کا یہ منظر دیکھ کر بلاشبہ زبان پر یہ شعر جاری ہوجاتا ہے:

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم

اذا جمعتنا یا جریر المجامع

اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ : اے جریر! یہ تھے ہمارے آباء واکابر، اورجب کبھی مقابلہ کا شوق ہو توہمارے ان اکابر جیسا تمہارے پاس کوئی تو اسے لاکر دکھانا

تقریری مقابلے کے اختتام پر مہمان خصوصی حضرت مفتی عبدالروف اصغرصاحب مدظلہ کا پُر سوز اورفکرانگیز بیان ہوا، انہوں نے اپنے بیان میں دینی مدارس کی عظمت اور دینی مدارس کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی، اوردینی مدارس کے ناقدین کو خود اپنے گریبانوں میں جھانکنے اور اپنے رویے پر نظر ثانی کا مشورہ دیا، اور خود اہل مدارس کو بھی اس جانب متوجہ کیا کہ ہمارے مدارس کی ترقی اوربقاء جدیدیت سے وابستہ ہونے میں نہیں، بلکہ ہماری ترقی اور بقاء سادہ مزاجی ، قناعت پسندی اوردینی اقدار کی پاسداری میں ہے، ہمارے اکابرکی یہی خصوصیات ہیں، انہوں نے خود کو حالات کے مطابق بنانے کی کوشش نہیں بلکہ وہ حالات کو دینی اقدار کے ڈھالنے والے باکمال لوگ تھے، اس لیے ہمیں بھی حالات کے رخ پر بہنے کی بجائے حالات کو دھارے کو بدلنا ہے۔ علماء امت کی جہادی تصانیف کی یہ فہرست ہمیں واضح طور پر بتارہی ہے کہ ہمارے اکابر جہاد سے کیسی پختہ وابستگی رکھتے تھے، اور پھر یہ بات اس سے بھی بڑھ کر حیران کن ہے کہ کئی اکابر نے جہادی کتابیں امن اورعافیت کے گوشے میں بیٹھ کر لکھنے کے بجائے بذات خود میدان جہاد میں اور صبرآزما حالات کا سامنا کرکے تحریر فرمائی ہیںاوراس طرح اپنی تحریر پر اپنے کردار کی صداقت کی مہر لگادی ہے، اور بزبان حال دنیا کو یہ پیغام دیا ہے:

وہ اور ہی ہوں گے، کم ہمت

جو ظلم وتشدد سہہ نہ سکے

شمشیر وسناں کی دھاروں پہ

روئیدادِ حقیقت کہہ نہ سکے

ایک جذبِ حصول مقصد نے

یوں حرص وہوس سے پاک کیا

ہم کفر کے ہاتھوں بِک نہ سکے

ہم وقت کی رَو میںبہہ نہ سکے

تھے ہم سے زیادہ طاقت ور

پر چشم فلک نے دیکھا ہے

توحید کا طوفاں جب بھی اُٹھا

وہ مدِمقابل رہ نہ سکے

حضرت مفتی صاحب حفظہ اللہ تعالی کے بیان کے بعد مولانا محمد عمار صاحب نے نتائج کا اعلان کیا ، نتائج کے مطابق پہلی پوزیشن جامعۃ الصابر، بہاولپور کے طالب علم محمد طیب سلیم درجہ رابعہ نے، دوسری پوزیشن لینے والے دو طالب علم : محمد حذیفہ مدرسہ علی المرتضی بہاولپور، محمد زاہد مدرسہ تعلیم القرآن بالاکوٹ، اور تیسری پوزیشن کراچی جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاون کے طالب علم محمد عابد درجہ دورہ حدیث نے حاصل کی۔ پوزیشن لینے والے طلبہ کو خصوصی نقد انعام، معارف القرآن اوررنگ ونور کتابوں کے مکمل سیٹ اور ایک عمدہ شمشیر عنایت کی گئی جبکہ عمومی تمام مقررین شرکاء کو بھی اعزازی انعامات دیئے گئے، اس موقع پر مجلس کے نقیب ، منصفین کرام، اور المرابطون کے صوبائی منتظمین کو حسن کارکردگی کی بناء پر شعبہ المرابطون ہی کی طرف سے اعزازی انعامات دیئے گئے۔ مجلس کا اختتام حضرت مفتی عبدالروف اصغرصاحب کی پُر سوز دعاء پر ہوا، اور یوں تقریبا رات دو بجے کے قریب یہ خوبصورت مجلس نہایت امن واطمینان اور خوشی ومسرت کے ساتھ برخاست ہوگئی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor